تموز کے جھلسا دینے والے ایام میں، جب وادیِ سندھ کی زمین تپتی ہوئی کڑھائی کی مانند دہکتی ہے اور ہوائیں آتشِ سوزاں بن کر جاں و مال کا امتحان لیتی ہیں، تو قومی برقی شبکہ (گرڈ) ایک ایسی مضمحل اور نیم جاں ہستی کی تصویر پیش کرتا ہے جس کے اعصابِ کشیدہ زوال و اختلال کی آخری حدود کو چھو رہے ہوں۔ ایسے وقت میں جب گھروں اور ہسپتالوں کی سانسیں برقی رو کی بحالی سے مشروط ہوں، اربابِ اقتدار کی جانب سے بٹ کوائن کی معدن کاری اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی نذر دو ہزار میگاواٹ کی کثیر توانائی کرنے کا اعلان ایک نئے فکری محاذ کا فتح باب بنتا ہے۔ ہر سو سے یہ استفہام بلند ہو رہا ہے کہ کیا یہ معاشی اور تکنیکی بوجھ اٹھانے کی استطاعت ہماری مملکت میں موجود ہے؟ لیکن حقیقت شناسی کا تقاضا ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ یہ سوال بظاہر کتنا ہی سنگین کیوں نہ معلوم ہو، اصل قضیے کی کما حقہ، ترجمانی نہیں کرتا۔ مسئلہ محض یہ نہیں کہ ہمارے خزانہِ توانائی میں مجموعی طور پر کتنے میگاواٹ موجود ہیں، بلکہ اصل فکری الجھن یہ ہے کہ ہم نے اس نظام میں "نظمِ میزان" کو کس حد تک ملحوظ رکھا ہے۔
قرآنِ حکیم نے کائنات کی خلقت کا بنیادی راز یہی بیان فرمایا ہے کہ وَوَضَعَ الُمِيُزَانَ یعنی ہر شے کو ایک مقررہ وزن، توازن اور اندازے کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ جب انسان یا ریاستیں اس نظامِ توازن سے انحراف کرتی ہیں تو عدلِ عمرانی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ تاریخِ اندلس کا وہ الم ناک باب ہمارے سامنے ہے جب سقوطِ غرناطہ سے قبل والیانِ حکومت نے فاصلاتی ابلاغ کے طریقہ کار کی اصلاح اور ترسیلِ معلومات کی بنیادی حکمتِ عملی بدلنے کے بجائے صرف تیز رفتار قاصدوں اور اسباق کی تعداد بڑھانے پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رفتار کی افزائش نہ ہو سکی بلکہ خود ان کے نظام کی باطنی خرابی اور انتظامی کجی ایک منظم شکل اختیار کر گئی۔ آج پاکستان کا بساطِ سیاست و معیشت بھی بالکل اسی تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ ہم نے دو ہزار میگاواٹ کا ہندسہ تو کاغذ کی لوح پر ثبت کر دیا، مگر یہ درک کرنے سے قاصر رہے کہ تمام الگورتھمی سرگرمیوں کی برقی اشتہا اور تکنیکی نوعیت یکساں نہیں ہوتی۔
ڈیٹا سینٹر کوئی روایتی کاٹن مل یا سیمنٹ فیکٹری نہیں جس کی چمنیوں کو جب چاہا خاموش کر دیا اور جب چاہا رواں کر دیا۔ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع، اس کے سرد کنندہ (کولنگ) نظام کی ساخت، اس کے حسابی آلات کی ترتیب اور گرڈ کے ساتھ اس کا اتصال، اس کی سنگِ بنیاد رکھے جانے سے پہلے ہی اپنے حتمی قالب میں ڈھل چکا ہوتا ہے۔ لہٰذا، حکمتِ عملی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس نئی اور عظیم الجثہ برقی طلب کو گرڈ کی شریانوں میں داخل کرنے سے قبل ہی "تخلیق بر اساسِ تدبیر" کے اصول پر استوار کریں۔ کمپیوٹنگ کی دنیا کے شعبہ ہائے کار مختلف المناہج ہیں۔ کچھ خدمات تاخیر اور التوا کے معاملے میں اس قدر نازک مزاج اور حساس ہوتی ہیں کہ ان کے انقطاع سے مالیاتی اور مواصلاتی شریانیں فلج ہو کر رہ جاتی ہیں۔
صارفین سے براہِ راست مربوط اے آئی ایپلی کیشنز، بینکنگ نیٹ ورک اور ہنگامی ابلاغی نظام مسلسل اور بلا تعطل برقی رو کے طالب ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس، مصنوعی ذہانت کے پیچیدہ ماڈلز کی تربیت، وسیع ڈیٹا کی پروسیسنگ اور طویل حسابی مراحل میں حد درجے کی فکری و تکنیکی لچک پنہاں ہوتی ہے۔ ان مراحل کو زمانی اعتبار سے آگے پیچھے کیا جا سکتا ہے، انہیں شب کے ان اوقات میں منتقل کیا جا سکتا ہے جب گرڈ پر عام خلقِ خدا کا بوجھ کم ترین سطح پر ہو اور ضرورت پڑنے پر ان کے عمل کو عارضی طور پر موقوف بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ محض کسی فلسفیانہ خلوت گاہ کا نظریاتی قیاس نہیں بلکہ دنیا کی جدید ترین بصیرت کا نچوڑ ہے۔ اقوامِ متحدہ نے آئرلینڈ کی عبرت انگیز داستان کو عالمِ انسانیت کے لیے ایک "تنبیہی صحیفہ" قرار دیا ہے۔ وہاں ڈیٹا سینٹرز کی بے لگام افزائش نے یہ نوبت پہنچا دی کہ وہ ملک کی کل پیدا کردہ برقی توانائی کا تقریباً تئیس فیصد حصہ تنہا نگلنے لگے، یہ مقدار آئرلینڈ کے تمام رہائشی مکانات کی مجموعی کھپت کے مساوی تھی۔ اس بھیانک حقیقت نے آئرش گرڈ آپریٹر کی اکھڑی ہوئی سانسوں کو بحال کرنے کے لیے انہیں مجبور کیا کہ وہ نئے کنکشنز کا پروانہ عطا کرنے سے قبل درخواست دہندگان سے قانونی معاہدوں کے ذریعے "طلب میں لچک" اور توانائی کے ذخیرہ اندوزی کی لازمی شرائط مانگیں۔ پاکستان کو قدرت نے یہ نادر موقع عطا کیا ہے کہ وہ آئرلینڈ کی طرح حادثے کے وقوع پذیر ہونے اور گرڈ کے زمین بوس ہونے کا انتظار نہ کرے، بلکہ اول دن ہی سے اس نظم و ضبط اور شرائطِ ربط کو اپنی قومی پالیسی کا طرہءِ امتیاز بنائے۔
علمِ عمرانیات اور جدید نظمِ مملکت کا قاعدہ ہے کہ الَّذِيُ اَعُطٰى كُلَّ شَيُءٍ خَلُقَه، ثُمَّ هَدٰى، ہر شے کو اس کی ساخت کے مطابق قانون اور ہدایت کا پابند کیا جائے۔ پاکستان کو اس میدان میں ازسرِ نو کوئی پہیہ ایجاد کرنے کی بھی حاجت نہیں، کیونکہ ہمارے ہاں کلاؤڈ گورننس اور ایکریڈیٹیشن کا ایک بنیادی فریم ورک پہلے سے موجود ہے اور "کلاؤڈ آفس" کو خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر معیارات لاگو کرنے کا قانونی اختیار بھی حاصل ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے موجودہ ضوابط کی نظر صرف سائبر سیکیورٹی اور خدمات کی ظاہری دستیابی کے خول تک محدود ہے، اس میں اس امر کی بصیرت تاحال مفقود ہے کہ یہ ڈیٹا مراکز قدرت کی نعمتوں یعنی بجلی اور پانی کو کس سنگ دلی اور بے دردی سے استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ وزارتِ آئی ٹی کی مفاہمی دستاویزات میں ایک "قومی پائیداری فریم ورک" کی ضرورت کا اعتراف کیا گیا ہے، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فکر کو محض کاغذی خواہش کے طاق پر سجانے کے بجائے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو قومی توانائی اور واٹر مینجمنٹ کی منصوبہ بندی سے بائنڈنگ معاہدات کے ذریعے پیوست کر دیا جائے۔
سنجیدہ اور عالی مرتبت بین الاقوامی سرمایہ کار کبھی محض ارزاں اور مفت بجلی کی طمع میں نہیں آتے، وہ جس شے کی تلاش میں نکلتے ہیں وہ "استحکام، شفافیت اور قابلِ اعتماد نظام" ہے۔ جب ہم اپنے قانون اور کنکشن معاہدات میں توانائی کے مؤقر استعمال، مقامی سب اسٹیشنز کی حقیقی گنجائش، پانی کے تحفظ اور طلب کی زمانی لچک کو بنیادی شرط بنائیں گے تو یہ عمل سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا، بلکہ ملک کے اندر ایک محفوظ اور سنجیدہ سرمائے کے لیے پناہ گاہ فراہم کرے گا۔
مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کی جو پہلی اینٹ آج ہم رکھیں گے، وہی ہماری آنے والی نسلوں کی تکنیکی عمارت کے استحکام یا زوال کا فیصلہ کرے گی۔ اگر ہم نے آج سطحی سیاسی نعروں، ہندسوں کی نمائش اور وقتی تسکین کی خاطر قومی گرڈ کو بغیر تدبیر کے اس اژدہا کے منہ میں دے دیا، تو کل کو جب یہ نظام درہم برہم ہوگا تو اس کی ترمیم ناممکن ہو جائے گی۔ وقت کا حتمی تقاضا یہی ہے کہ ہم محض پیداواری صلاحیت کے واہموں سے باہر نکلیں، قدرت کے عطا کردہ نظمِ میزان کو اپنائیں اور برقی توانائی کی اس نئی لہر کو گرڈ پر مسلط ہونے سے قبل ہی بصیرت، عقلِ سلیم اور محکم قانون کی لگام دیں۔