Friday, 23 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Kpk: Pti Arkan Ko Wonderboy Ki Talash

Kpk: Pti Arkan Ko Wonderboy Ki Talash

جمعرات کی صبح چھپے کالم میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے لیے 2024ء میں عمران خان کے نام پر منتخب ہوئے اراکین اسمبلی کے دلوں میں جگائی امید کا ذکر کیا تھا۔ ان کی اکثریت یہ امید لگائے نظر آرہی ہے کہ اگروہ سہیل آفریدی کے بجائے کسی اور "ذمہ دار"رکن اسمبلی کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے پر متفق ہوجائیں تو 90دن گزرنے کے بعد صوبائی اسمبلی کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ ان کے دلوں میں فطری طورپر امڈی یا وطن عزیز میں سیاسی نقشے بنانے اور بگاڑنے والوں کی جانب سے ابھاری یہ امید میرے جھکی ذہن کو بچگانہ محسوس ہورہی ہے۔

12اکتوبر1999ء کی رات "ہیوی مینڈیٹ" سے منتخب ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے "برطرف" کئے جانے کے باوجود ان دنوں کے آرمی چیف سری لنکا سے پی ا ٓئی اے کی عام پرواز کے ذریعے پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ان کی آمد سے قبل ہی ان کے لگائے کمان داروں نے نواز شریف حکومت کو مفلوج بنادیا تھا۔ اپنی آمد کے بعد جنرل مشرف نے اقتدار سنبھال لیا۔ مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کرنے سے گریز کیا اور خود کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی ڈیکلیئر نہیں کیا۔ محض آئین کی معطلی کے بعد خود کو "چیف ایگزیکٹو" تعینات کردیا۔ نواز شریف کے نامزد کردہ صدر رفیق تارڑ اپنے عہدے پر برقرار رہے۔

نام نہاد پارلیمانی حکومت میں طاقت کا سرچشمہ قومی اسمبلی ہوا کرتی ہے۔ وزیر اعظم کو صرف وہ منتخب یا تحریک عدم اعتماد کے ذریعے برطرف کرسکتی ہے۔ ماضی کے فوجی آمروں کے برعکس جنرل مشرف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بجائے اسے معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بجائے معطلی ایک حیران کن مگر بہت کائیاں چال تھی۔ وہ اسے تحلیل کردیتے تو نئے انتخاب کی تاریخ دینا پڑتی اور نئے انتخاب جنرل مشرف کی ترجیح نہیں تھے۔

اقتدار سنبھالنے کے پانچ دن بعد 17 اکتوبر1999ء کی شام جنرل مشرف نے قوم سے خطاب کیا۔ اس کے دوران قوم کو "جعلی نہیں حقیقی جمہوریت" کی فراہمی کے لیے سات نکاتی ایجنڈے کا اعلان کیا۔ بدعنوان سیاستدانوں کا کڑا احتساب اپنی اولین ترجیح بتائی۔ کڑے احتساب کے ساتھ جمہوریت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لئے مقامی حکومتوں کے قیام کا وعدہ بھی ہوا۔

جنرل مشرف کا "سات نکاتی ایجنڈا" اس خواہش کا واضح اظہار تھا کہ ماضی کے ایوب خان جیسے "دیدہ وروں" کی طرح وہ ملک کو ایک نئی سمت کی جانب لے جانا چاہ رہے ہیں۔ اقتدار چھوڑنے کی انہیں جلدی نہیں تھی۔ ان کے ایجنڈے کے سادہ ترین الفاظ میں اظہار کے باوجود 12اکتوبر 1999ء کے دن "معطل" ہوئی قومی اسمبلی کے بے تحاشہ اراکین بضد رہے کہ کمیونزم کو شکست دینے والے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے "خوف" سے جنرل مشرف پاکستان کو مارشل لاء کے تحت چلانا نہیں چاہ رہے۔ انہیں "جمہوری اداروں " کا پردہ/چھتری درکار ہے۔ اسی باعث وہ معطل ہوئی قومی اسمبلی کو بحال کرنا چاہیں گے۔ مفروضہ بحالی یقینی بنانے کے لئے مگر معطل ہوئی اسمبلی کی "ہیوی مینڈیٹ" والی مسلم لیگ (نون) کے کسی رکن اسمبلی کو نواز شریف کی جگہ نیاقائد ڈھونڈنا ہوگا۔

اپنے دوسرے دورِ اقتدار کے آخری دنوں میں نوازشریف قوم کو "فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے"نظامِ شریعت"متعارف کروانے کو بھی بے تاب ہوگئے تھے۔ "نظامِ شریعت" کے نفاذ کی خواہش مجھ جھکی کی نگاہ میں ان کی جانب سے خود کو پاکستان کا "امیر ا لمومنین" ثابت کرنے کی کوشش تھی۔ مسلم لیگ (نون) کے چند روشن خیال تصور ہوتے اراکین اسمبلی بھی یہ ہی محسوس کرتے تھے۔ خورشید محمود قصوری ان میں نمایاں ترین تھے۔ پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس میں انہوں نے نفاذ شریعت کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا تو نواز شریف کے ساتھ تلخ کلامی ہوگئی۔ خورشید صاحب نے جلال سے مغلوب ہوکر اپنے ہاتھ سے استعفیٰ لکھنا شروع کردیا۔ انہیں کرنل سرورمرحوم جیسے دوستوں نے روکا۔

قومی اسمبلی کی بحالی کے امیدواروں کو امید تھی کہ خود کو پاکستان کا ممکنہ اتاترک بناکرپیش کرنے والے جنرل مشرف "روشن خیالی" کے اطلاق کے لئے خورشید قصوری صاحب کو وزیر اعظم کے منصب پر فائز دیکھنا چاہیں گے۔ مسلم لیگ (نون) کے اراکینِ اسمبلی کو مگر شکایت تھی کہ وہ "عوامی" بندے نہیں ہیں۔ ان کی نگاہ میں لاہور کے میاں اظہر نواز شریف کا مناسب متبادل ہوسکتے ہیں۔ میاں اظہر مرحوم کے نواز شریف کے ساتھ برسوں کے خاندانی مراسم تھے۔ ان مراسم کے باوجود میاں اظہر نواز شریف کے "آمرانہ رویے" سے دلبرداشتہ محسوس کرنا شروع ہوگئے تھے۔ ان کی ناامیدی کو بھانپتے ہوئے مسلم لیگ (نون) کے کئی اراکینِ اسمبلی نے ان سے 12اکتوبر 1999ء سے کئی ماہ قبل ہی خفیہ روابط شروع کردیے۔ نواز شریف کے والد کے احترام میں لیکن میاں اظہر نواز شریف کو کھل کر للکارنے سے گریز اختیار کرتے رہے۔

مسلم لیگ (نون) کے اراکینِ قومی اسمبلی کا گروہ اس گماں میں مبتلا ر ہا کہ 1985ء کے انتخابات کے بعدقومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے سید فخر امام اپنی اچھی شہرت اور اصول پسندی کی وجہ سے وزیر اعظم چنے جاسکتے ہیں۔ 1985ء کے انتخاب کے بعد مشہور ہوا تھا کہ سندھ کے الٰہی بخش سومروبھی وزیر اعظم نامزد ہوسکتے ہیں۔ انہیں نظرانداز کرتے ہوئے مگر محمد خان جونیجو کو پیرپگاڑا کی سفارش پر وزیر اعظم کے منصب کے لئے نامزد کردیا گیا تھا۔ 12اکتوبر1999ء کو معطل ہوئی اسمبلی کے الٰہی بخش سومرو سپیکر تھے۔ وہ مگر ہر حال میں خوش رہنے کے عادی تھے۔

جو داستان سنائی ہے مقصد اس کا یاد دلانا ہے کہ 12اکتوبر1999ء کے بعد "ہیوی مینڈیٹ" سے وزیر اعظم رہے نواز شریف کا مشکل کی گھڑی میں ساتھ دینے کے بجائے مسلم لیگ (نون) کے اراکین قومی اسمبلی کی بھاری بھر کم اکثریت "نئے وزیر اعظم" کی کھوج میں مصروف ہوگئی تھی تانکہ قومی اسمبلی بحال ہوجائے۔

اپنی جماعت کی اکثریت کی جانب سے بھلادینے کی وجہ سے نواز شریف آسانیوں کی تلاش میں غیر ملکی دوستوں سے روابط کو مجبور ہوئے اور بالآخر سعودی عرب جلاوطنی کی راہ نکالی۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کی معطلی کے بعد عمران خان کے نام پر مذکورہ اسمبلی کے فروری 2024ء کے انتخابات کے نتیجے میں رکن منتخب ہونے والے اراکینِ اسمبلی کی اکثریت بھی ان دنوں اپنے "قائد" کے بارے میں اسی انداز میں بیگانہ ہوئی نظر آرہی ہے۔ سہیل آفریدی کو اپنی مشکلات کا یک وتنہا ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد بے چینی سے اپنی صفوں میں سے ایسا شخص تلاش کررہی ہے جو "ان" کے لئے قابلِ قبول ہو۔ عمران خان کی مشکلات ان لوگوں کا دردِ سر نہیں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.