Thursday, 24 September 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Jamat e Islami Ka Populist Siasat Ka Andaz

Jamat e Islami Ka Populist Siasat Ka Andaz

جماعت اسلامی کے خلاف میرے دل میں جوانی کے آغاز ہی سے جو تعصبات جمع ہونا شروع ہوگئے تھے ان کے اعتراف کے بعد حیرت کا اظہار کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اسلام آباد پر دھاوے کو ہر صورت روکنے کو ڈٹی حکومت اس جماعت کے پٹرولیم لیوی کے خلاف دیے دھرنوں کی راہ میں حائل کیوں نہیں ہورہی۔ اس کے دیے دھرنوں کا بلکہ ٹھنڈے ذہن سے جائزہ لیا گیا۔ مسلم لیگ (نون) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کی قیادت میں سینئر وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی نے جماعت اسلامی کی قیادت سے مذاکرات بھی شروع کردیے۔

جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ مذکورہ مذاکرات کے دوران اس کے رہ نماؤں نے ٹھوس اعدادوشمار کی معاونت سے حکومت کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر عائد لیوی کے خاتمے کی راہ دکھائی۔ جو راہ بقول جماعت حکومت کو دکھائی گئی وہ ہم عامیوں کے سامنے نہیں آئی۔ اس کی تفصیلات پبلک ہونے کے باوجود کم ازکم مجھ جیسے علم معاشیات کی مبادیات سے لاعلم افراد ان پر تبصرہ آرائی کے قابل نہیں تھے۔

سادہ بات جو سمجھ میں آئی وہ یہ تھی کہ حکومت مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی کوسمجھاتی رہی کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی عائد کرنے کا تقاضا آئی ایم ایف نے کیا تھا۔ اس پر عمل درآمد سے انکار پاکستان کی معیشت کو ایک بار پھر دیوالیہ کی جانب دھکیل سکتا ہے۔ جماعت اس جواز سے مطمئن نہ ہوئی اور اس کے قائد حافظ نعیم الرحمن صاحب کی قیادت میں کارکنوں کا قافلہ ٹرین مارچ کی صورت کراچی سے ملتان پہنچ گیا۔ ملتان کے بعد ارادہ بذریعہ سڑک اسلام آباد آنے کا تھا۔

پیر کے روز مگر وزیر اعظم شہباز شریف صاحب نے بذریعہ ٹیلی فون حافظ صاحب سے براہ راست رابطہ کیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے وہ ان دنوں نیویارک میں ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سے درخواست ہوئی کہ ان کی پاکستان واپسی کا انتظار کیا جائے۔ حافظ صاحب نے وزیر اعظم کی استدعا کو اپنی جماعت کی مجلس شوریٰ کے روبرو رکھا جس نے اسلام آباد کی جانب مارچ کو اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مذکورہ فیصلے کا اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا پر چھائے پھکڑ باز یہ کہانی پھیلانا شروع ہوگئے کہ جماعت اسلامی اور 2024ء کے انتخابات کے بعد قائم ہوئے بندوبستِ حکومت کے مابین "نورا کشتی" ہورہی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد لوگوں کی توجہ تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد پر دھاوے کی تیاریوں سے ہٹاکر جماعت کے دیے دھرنوں کی جانب موڑنا تھا۔ وہ مقصد حل ہوگیا تو جماعت "بکری" ہوگئی۔ جان کی امان پاتے ہوئے یہ قلم گھسیٹ پھکڑ بازوں کی کہانی کو یکسر مسترد کرنے کو مجبور ہے۔

پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے پاکستان کے مختلف شہروں میں دیے دھرنوں کی چند جھلکیاں پیمرا کے لائسنس کے تحت چلائے 24/7چینلوں پر دکھائی گئی تھیں۔ تحریک انصاف کے اسلام آباد پر دھاوے کے ارادے کو اس کے برابر کوریج نہیں ملتی۔ سوشل میڈیا کی بدولت مگر لوگوں کے ذہنوں پر تحریک انصاف کا ارادہ ہی چھایا رہا۔ توجہ لہٰذا جماعت اسلامی کے دیے دھرنوں پر مبذول نہ ہوسکی۔

احتجاجی تحاریک سے ریاست کے چند دائمی اداروں کی جانب سے ڈیل کرنے والے چند تجربہ کار مگر ریٹائرڈ ہوئے افسروں سے ایک سماجی تقریب میں طویل گفتگو کا موقع فراہم ہوگیا۔ موجودہ بندوبست حکومت سے لاتعلق ہونے کے باوجود مجھے قائل کرتے رہے کہ حکومت نے جماعت اسلامی کو پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کو ریاستی جبر کے استعمال سے کچلنے سے اجتناب کرتے ہوئے ذہانت و بردباری کا مظاہر ہ کیا ہے۔ ان کی دانست میں پٹرولیم مصنوعات کے ایک لٹر پر بھاری بھرکم لیوی کا نفاذ ہر حوالے سے خلق خدا کو "جگا ٹیکس" محسوس ہوتا ہے۔ اس کے خلاف عوام کے دلوں میں جمع ہوتے غصے کو اظہار کے راستے نہ ملیں تو کسی بھی وقت کوئی برجستہ واقعہ وسیع تر عوامی تحریک کا باعث ہوسکتا ہے۔ رواں صدی کی پہلی دہائی کے اختتامی دنوں میں "اچانک" بھڑکی "عرب بہار" کا آغاز تیونس شہر کے بازار میں لگائی ریڑھی کے ایک مالک کی بدولت ہوا تھا جس نے پولیس کی مداخلت سے اکتاکر خود کو آگ لگادی تھی۔

مجھ سے گفتگو کرنے والے علمی انداز میں سمجھاتے رہے کہ جبر وتشدد ریاست کا آخری آپشن ہوتا ہے۔ حکومتوں کا استحکام یقینی بنانے کے لئے عوامی مسائل پر لوگوں کے دلوں میں جمع ہوتے غصے کے اظہار کے تمام راستوں کی ریاستی جبر کے ذریعے بندش زلزلوں جیسی حیرتوں کا سبب ہوسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کے پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کو غالباََ اسی باعث نظرانداز کردیا گیا ہوگا۔ جو گفتگو ہوئی اس کے دوران انگریزی کی ایک ترکیب -Regulated Chaos-بھی استعمال ہوئی۔ اسے ہمارے ہاں مستعمل "نوراکشتی" جیسے عامیانہ لفظ کا عالمانہ متبادل تصور کیا جاسکتا ہے۔

ریاستی اداروں سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوئے بزرگوں سے گفتگو کے بعد میں نے جماعت کے دیے دھرنوں پر ایک نئے زاویے سے توجہ دیتے ہوئے اپنے تئیں یہ محسوس کیا کہ حافظ نعیم کی قیادت میں جماعت اسلامی "نظریاتی سیاست" تک محدود رہنے کے بجائے ٹھوس عوامی مسائل کو منظم احتجاجی تحاریک کے ذریعے اجاگر کرتے ہوئے دورِ حاضر میں رائج (Populist)سیاست کا انداز اختیارکررہی ہے۔ عوامی غصے کے احتجاجی انداز میں اظہار نے نیویارک کو ممدانی جیسا میئر دیا ہے۔ یورپ میں یہ غصہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کی مقبولیت کی صورت نمایاں ہورہا ہے۔ اٹلی کی وزیر اعظم اس سیاست کی بھرپور نمائندہ ہے۔

حافظ نعیم جماعت اسلامی کی تاریخ کے غالباََ سب سے جواں سال امیر ہیں۔ طلبہ سیاست سے شروع ہوئے تھے۔ آبائی تعلق کراچی سے ہے اور کراچی وہ شہر تھا جو 1970ء کی دہائی میں جماعت اسلامی کے ذریعے پیپلز پارٹی کو پریشان کیے رکھتا تھا۔ اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے سازشی تھیوریوں کے مطابق ریاستی اداروں نے جنرل ضیاء دور میں ایم کیو ایم کی سرپرستی کی۔ ایم کیو ایم سے کراچی کی اکثریت کا جی اکتاگیا تو تحریک انصاف وہاں کی مقبول ترین جماعت بن گئی۔ تحریک انصاف کی مقبولیت کو لیکن اب ریاست کی قبولیت میسر نہیں رہی۔ حالات بے قابو ہونے سے روکنے کے لئے شاید جماعت اسلامی سے رجوع کرنے کی ضرورت چند ریاستی حلقوں میں محسوس کی جارہی ہوگی۔

جماعت اسلامی کے خلاف اپنے ذہن میں جمع ہوئے تعصبات کو بھلاتے ہوئے یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ہماری نمایاں سیاسی جماعتوں میں وہ واحد جماعت ثابت ہوئی ہے جس نے ایک ٹھوس عوامی مسئلہ -پٹرولیم مصنوعات پر "جگا ٹیکس" کو کامل توجہ کا مرکز بنایا۔ غربت کی لکیر تک پھسلتے لوگوں کی اکثریت کے لئے یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کی اکثریت مگر اس کے خلاف فقط لفاظی سے ڈنگ ٹپارہی ہے۔ تحریک انصاف کا احتجاج اس کے برعکس فقط اپنے قائد کی رہائی یا بطور قیدی ہسپتال منتقلی پر مبذول دکھائی دیتا ہے۔ "نظریاتی سیاست" سے بالاتر ہوکر جماعت اسلامی کی ٹھوس عوامی مسائل کے ساتھ اپنائی یگانگت اسے ایک نئی پہچان دے سکتی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.