Monday, 19 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Akhbarat Naguzeer, Inke Baghair Udasi Aur Adhoori Hayat

Akhbarat Naguzeer, Inke Baghair Udasi Aur Adhoori Hayat

میرے ہاتھ میں ذرا پرانا مگر آئی فون ہے۔ ایپل کا تین برس قبل تیار کردہ لیپ ٹاپ بھی خرید رکھا ہے۔ اس کے علاوہ گھر میں انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے پاکستان کی ایک بڑی کمپنی کے فراہم کردہ کیبل نصب ہے۔ اس کی بدولت میری بیٹی نے مجھے سمارٹ ٹیلی وڑن پر یوٹیوب کا استعمال سکھا رکھا ہے۔ قصہ مختصر دورِ حاضر میں خبروں تک رسائی کا ہر ذریعہ میسر ہے۔

مذکورہ بالا ذرائع کے باوجود جمعہ کی صبح سے اتوار کے دس بجے تک خود کو کسی ویران جزیرے میں تنہا بیٹھا دنیا سے کٹا ہوامحسوس کرتا رہا۔ وجہ میری تنہائی کی ایک قضیہ تھا جس کی وجہ سے اسلام آباد کے اخبار فروش جمعہ کی صبح سے گھروں کو ان کی ترجیح کے اخبار مہیا نہیں کر پائے تھے۔

جمعہ کو دوپہر تک اپنے تئیں یہ فرض کرلیا کہ شاید میرے ہاں اخبار پھینکنے والے صاحب کے ساتھ کوئی ذاتی مسئلہ ہوگیا ہے۔ جمعہ کی صبح یہ کالم بھی نہیں لکھنا تھا۔ دیر تک سویا اور اٹھنے کے بعد اخبارات کے پلندے کی عدم موجودگی سے جی گھبرا گیا تو لیپ ٹاپ آن کرکے ٹویٹر اکائونٹ پر چلا گیا۔ وہاں فقط ایک صارف اپنے گھر اخبار نہ آنے کے بارے میں متفکر نظر آئے۔ ان کے پیغام سے مگر حوصلہ ہوا اورا یکس پر اعترافی بیان لکھ ڈالا کہ گھر میں اخبار نہ آنے کی وجہ سے اداس اور بے خبر محسوس کررہا ہوں۔

وہ پیغام لکھتے ہی جوابی پیغامات کا طومار بندھ گیا۔ سوکے قریب پیغامات کی یک سطری تلخیص حیرت کا اظہار تھی کہ بڈھا ابھی تک انٹرنیٹ کے ذریعے اخبار نہیں پڑھ سکتا۔ سوشل میڈیا پر چھائے تلنگوں کے لئے بڑی عمر گناہ تصور ہوتی ہے۔ عمر کے آخری حصے میں پہنچا ہر صحافی ان کی نگاہ میں غلام اور بدعنوان ہے۔ اپنی گناہ آلود زندگی کے بارے میں شرمندہ محسوس کرنے کے بجائے قوم کو گمراہ کرنے کے جرم میں مصروف رہتا ہے۔ غالباََ ایسے پیغامات سے گھبرا کر بے شمار دوستوں نے واٹس ایپ کے ذریعے تصدیق چاہی کہ کیا میرے ہاں بھی اخبار ڈیلیور نہیں ہوا۔ میری "ہاں" کے بعد "کیوں" کا سوال اٹھایا جاتا۔ حیرت ہوئی کہ "ذات کا رپورٹر" ہونے کے مجھ جھوٹے دعوے دار نے اس سوال کا ازخود تعاقب نہیں کیا تھا۔

اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں میں آباد دوستوں کے اٹھائے سوالات نے مجبور کیا کہ اپنے ایک متحرک صحافی دوست سے معلوم کروں کہ اسلام آباد کے گھروں میں اخبارات مہیا نہ ہونے کی وجہ کیا ہے۔ جس دوست سے یہ سوال پوچھا وہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں کی رپورٹنگ میں مصروف تھا۔ ایکس کی بدولت تاہم خبر مل گئی کہ اخبار فروشوں کے ساتھ سی ڈی اے کا قضیہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس کی تفصیلات جاننے کا لیکن تردد نہیں کیا۔ اس تناظر میں جو کاہلی برتی اس نے اپنے لاہور کے ملامتی صوفی کا "بڈھا ہویوں شاہ حسیناں (شاہ حسین تم بوڑھے ہوگئے ہو)" یاد دلادیا۔ بڑھاپے کی بے بسی اور تنہائی دورِ حاضر کی نام نہاد جین-زی نے دریافت نہیں کی ہے۔ لاہور کے ٹیکسالی دروازے سے اٹھے جلاہے نے راوی دریا کے کنارے کئی دنوں کی ریاضت کے بعد اس کا سراغ لگالیا تھا اور جس زمانے میں وہ بڑھاپے کی کمزوری سے آگاہ ہوا وہ اکبر اعظم کا دور تھا۔

شاہ حسین اور اکبر اعظم اگر "دیسی" محسوس ہوں تو آئرلینڈ سے اٹھے سیموئل بیکٹ کا ذکر کردیتا ہوں۔ وہ آئرلینڈ میں پیدا ہونے کے باوجود فرانسیسی زبان میں لکھتاتھا۔ اپنی مادری زبان کے بجائے کسی اور زبان میں لکھنے کی وجہ یہ بتاتا کہ اجنبی زبان میں لکھنا لکھاری کو مجبور کردیتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کے اظہار کے لیے صرف وہی الفاظ استعمال کرے جو ان کے مفہوم واضح انداز میں بیان کریں۔ اس کا اختیار کردہ کلیہ مگر مجھ بدنصیب کے کام نہ آیا۔ مادری زبان پنجابی ہے۔ اردو میں لکھتا ہوں اور اکثر اس خوف میں مبتلا کہ سادہ ترین بات کرتے ہوئے بھی جو لفظ استعمال کئے ہیں درست ہیں یا نہیں۔ بہرحال بیکٹ کے تمام ڈراموں کی بنیادی تھیم بڑھاپے کی مسلط کردہ تنہائی اور بے بسی ہے۔ آج کی جین-زی نے گویا کوئی نئی حقیقت دریافت نہیں کی۔

دودنوں تک اخبارات کی عدم دستیابی مگر اس کالم کا اصل موضوع تھی۔ اہم خبر اس حوالے سے آپ کو یہ دینا ہے کہ واٹس ایپ کے ذریعے مجھ سے اخبارات میسر نہ ہونے کی وجہ معلوم کرنے والوں کی تعداد مجھے حوصلہ دینے کا سبب ہوئی۔ ان میں سے اکثر نے ہفتے کے روز بھی اطلاع دی کہ اخبار میسر نہ ہونے کی وجہ سے وہ روزمرہّ زندگی کے معمولات سے کٹا محسوس کررہے ہیں۔ واٹس ایپ کی سرگوشی کے ذریعے ہوئے یہ اعتراف بہت کچھ بیان کر گئے۔

تیسری جماعت کا طالب علم تھا تو سکول جاتے ہوئے مجھے تین سے چار دکانوں پر جمع ہوئے بزرگوں کو اخبار کے صفحہ اول پر چھپی سرخیاں سنانا پڑتی تھیں۔ سکول سے گھر لوٹتے ہوئے چند خبروں کی تفصیل سنانا لازمی تھا۔ اس کے عوض مجھے دکانوں سے باقر خانی یا پھلوں کے "خراج" مل جاتے۔ گھر لوٹنے کے بعد اپنے ہاں آئے اردو اور انگریزی کے دو اخبارات ختم کرتا۔ انہیں پڑھنے کی وجہ سے تقریری مقابلہ میں شرکت کیلئے مجھے لکھی ہوئی تقریر کو رٹے لگاکر یاد رکھنا نہیں پڑتا تھا۔ مباحثوں میں جو موضوع ملتا اس کے بارے میں فی البدیہہ خطاب فرمادیتا۔ اخبارات سے کشید کئے علم کی بدولت ریڈیو پاکستان لاہورکے سکول براڈ کاسٹ کے کوئز پروگرام میں میٹرک کا امتحان دینے تک چھٹی جماعت سے اول آتا رہا۔

خبر سے کہیں زیادہ اخبار کا مطالعہ آپ کو انہماک فراہم کرتا ہے۔ ارتکاز توجہ جس کے دوران آپ کسی دو ردراز ملک کے حالات پر غور کرتے ہوئے ذہن کی کشادگی کے حصول کے علاوہ وہاں اٹھے مسائل کا تعلق اپنے ہاں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہماک اور وسعتِ خیال کی مشق اخبارات کی بدولت روزانہ میسر ہوجاتی ہے۔ اس کی علت لاحق ہوجائے تو اخبار کے بغیر ذہن ویسے بھی تھکا محسوس کرتا ہے جیسے ورزش کا عادی ہوا جسم کسی روز ورزش نہ کرنے کی وجہ سے محسوس کرتا ہے۔

اخبار پڑھنے کی عادت کو علت بدشمار کرنے سے قبل یاد رکھیے کہ کوئی تو وجہ ہے کہ دورِ حاضر میں ابلاغ کے تیز ترین اور جدید ترین ذرائع میسر ہوجانے کے باوجود اہم ترین عالمی مسائل کے حوالے سے کسی نہ کسی کلیدی پہلو، بریک تھرو یا پریشان کن نتائج کا علم آپ کو عموماََ نیویارک ٹائمز یا فنانشل ٹائمز جیسے اخبارات کے ذریعے ہی میسر ہوتا ہے۔ کالم ختم کرنے سے قبل فقط یاد دلانا چاہوں گا کہ حال ہی میں ہمارے ہمسایے میں جین زی نے "ووٹ چوری" کے نام پر جو احتجاج شروع کیا ہے اس کی کلیدی وجہ سوشل میڈیا کے کسی پلیٹ فارم پر دی خبر نہیں تھی۔ بھارت کے معروف اخبار "انڈین ایکسپریس" کی ایک خاتون رپورٹر نے الیکشن کمیشن کے اندرونی مباحث کو بے نقاب کیا تو احتجاجی تحریک کو ٹھوس مواد ملا۔

پاکستان میں صحافت کے دیگر ذرائع کی طرح اخبارات بھی چند قواعد وضوابط اور محدودات کی بدولت غیر معمولی احتیاط برتنے کومجبور ہیں۔ اس کے باوجود ہنر مند ساتھی اخبارات کے لئے لکھتے ہوئے بہت کچھ کہہ جاتے ہیں اور غالب? کی طرح "فرشتوں کے لکھے پر" پکڑے نہیں جاتے۔ انہماک کی بدولت ارتکاز توجہ اور وسیع تر ذہنی افق کی تمنا ہے تو اخبار پڑھنے کی مشق سے گریز اختیار نہ کریں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.