طویل وقفے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس جب بھی شروع ہو تو اس کے پہلے دن دوسرے شہروں سے مذکورہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے آئے اراکین ایک دوسرے کے ساتھ گرم جوش مصافحوں کے بعد گپ شپ میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد بے فکر طالب علم اچھے دن گزارنے جمع ہورہے ہیں۔ منگل کی صبح "اچھے دنوں " کی امید مگر مفقود تھی۔ اراکین کی اکثریت سر جھکائے ایوان میں داخل ہونے کے بعد اپنے لئے مختص نشستوں پر بیٹھی رہی۔
وزیر اعظم اور سینئر وزراء کے لئے مختص پہلی قطار میں وزیر دفاع خواجہ آصف تنہا بیٹھے نظر آئے۔ اجلاس شروع ہوتے ہی حکومتی بنچوں کی دوسری صف سے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ایک طویل خطاب کے ذریعے یہ سمجھانے میں مصروف ہوگئے کہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات اور گورنر راج کے امتزاج کے ساتھ منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرتے ہوئے نیا انتظامی بندوبست متعارف کروانا کیوں ضروری ہے۔ ہنگامی حالات جمع گورنر راج کے نفاذ کے لئے جاری ہوئے صدارتی حکم کی تصدیق کے لئے اراکین اسمبلی کو راغب کرتے ہوئے وزیر قانون مختلف وزراء کی جانب سے بارہا سنائی کہانیاں دہراتے رہے۔ ان کے ذریعے یہ تاثر اجاگرکرنا مقصود رہا کہ حکومتی نمائندوں کے ساتھ ہنگامی حالات اور گورنر راج کو ٹالنے کی راہ ڈھونڈنے کی خاطر ہوئے مذاکرات میں شریک تحریک انصاف کے نمائندگان بے اختیار تھے۔ حکومت نے ہنگامی حالات کے نفاذ سے گریز کی خاطر ہر ممکن لچک دکھائی۔ خیبرپختونخوا کے جواں سال وزیر اعلیٰ مگر تحریک انصاف کے روپوش مگر انتہا پسند مراد سعید کے حکم پر حتمی معاہدے پر رضا مند نہ ہوئے۔
اعظم نذیر تارڑ کی سنائی داستان اکتادینے کی حد تک طویل تھی۔ اس کی طوالت سے بیزاری کا اظہار انتہائی مہذب انداز میں حکومت ہی کی حلیف پیپلز پارٹی کی جانب سے ہوا۔ ٹنڈو محمد خان سے 1990ء کی دہائی سے قومی اسمبلی کے لئے مسلسل منتخب ہونے والے سید نوید قمر اپنی نشست سے اٹھ کر حکومتی بنچوں کی جانب آئے اور ان سے تقریر مختصر کرنے کی درخواست کی۔ نوید قمر کی مداخلت کا مقصد اپنی جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کی گنجائش بھی نکالنا تھا۔
وزیر قانون نے تقریر ختم کی تو قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی انتہائی تلخ الفاظ کے ساتھ پاکستان کے سیاسی مسائل کے بارے میں اپنے خیالات دہراتے رہے۔ 1990ء کی دہائی سے ان خیالات کو قومی اسمبلی میں دہرائے چلے جارہے ہیں۔ شہباز حکومت کو انہوں نے "مینڈیٹ چوری" کے بعد مسلط ہوئی حکومت ٹھہرایا۔ اس کے باوجود بقول ان کے "مسلط کردہ وزیر اعظم" کو ان کی ایوان میں موجودگی کے دوران اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے "پارلیمان کو مضبوط" بنانے کی دعوت بھی دیتے رہے۔ کلیدی نکتہ ان کی تقریر کا یہ تھا کہ جیل میں قید عمران خان سے ہدایات لئے بغیر اپوزیشن حکومت سے مذاکرات کے ذریعے سمجھوتے کی راہ نکال نہیں سکتی۔ حکومت اگر ان کی قائد تحریک انصاف سے جیل میں ملاقات کروادے تو وہ انہیں جمہوری نظام کی بقا اور اسے توانا بنانے کی خاطر لچک دکھانے کو آمادہ کرسکتے ہیں۔ یک سطری پیغام اچکزئی صاحب کی طویل تقریر کا یہ تھا کہ ملک کی صورتحال کو معمول کی جانب لوٹانے کی کنجی عمران خان کے پاس ہے۔ انہیں آن بورڈ لئے بغیر حکومت اور اپوزیشن کے مابین سمجھوتا ناممکن ہے۔
ملکی سیاست کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے اچکزئی صاحب کے یک سطری پیغام سے اختلاف کی گنجائش میرے لئے ڈھونڈنا مشکل ہے۔ اسے تسلیم کرنے کے بعد برجستہ سوال مگر ذہن میں یہ اٹھتا ہے کہ جیل میں قید شخص کی جانب سے تحریک انصاف کے نامزد ہوئے چیئرمین بیرسٹرگوہر اپنے قائد سے ہدایات لئے بغیر حکومت سے پسِ پردہ اور کھلے مذاکرات کو آمادہ کیوں ہوجاتے ہیں۔ اپنی بے اختیاری کا کھل کر اعتراف کیوں نہیں کرتے۔ یہ سوال میرے ذہن میں گردش کررہا تھا تو بیرسٹرگوہر نے اپنی تقریر کے دوران سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے یہ انکشاف کردیا کہ جیل میں قید شخص کو ایک بار "ٹوتھ پیسٹ" فراہم کرنے کی خاطر بھی سپیکر ایاز صادق سے رجوع کرنا پڑا تھا۔ بانی تحریک انصاف کے لئے جیل میں سہولتوں اور آسانیوں میں اپنے کردار کی تصدیق کرتے ہوئے سپیکرنے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی بارہا تصدیق شدہ معلومات کے مطابق بانی تحریک انصاف کو مناسب سہولتیں فراہم ہورہی ہیں۔ غذا کی فراہمی بھی تسلی بخش ہے۔ بیرسٹرگوہر کے حکومتی نمائندوں سے رابطے گویا جیل میں قید بانی تحریک انصاف کے لئے آسانیاں اور سہولتیں یقینی بنانے کی خاطر ہوا کرتے ہیں۔ حکومت کے ساتھ وسیع تر بنیادوں پر کسی سمجھوتے کا حصول ان کے بس سے باہر ہے۔
مذکورہ پہلو پر غور کریں تو حکومت کا یہ مؤقف درست سنائی دیتا ہے کہ اس کی جانب سے تمام تر لچک دکھانے کے باوجود خیبرپختونخوا کے (اب معطل) وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی دو دن اور 18گھنٹوں تک پھیلے مذاکرات کے فیصلہ کن لمحات میں مبینہ طورپر مراد سعید کے ایما پر سمجھوتے کے لئے تیار ہوئے حتمی معاہدے کو مسترد کرتے رہے۔ پاکستان کی بے اختیار رعایا کا حصہ ہوتے ہوئے بطور صحافی میری خواہش تھی کہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات اور گورنر راج کے امتزاج کے ساتھ ایک غیر معمولی انتظامی بندوبست نافذ کرنے والے حکومتی نمائندے اس "حتمی مسودے" کو بھی قومی اسمبلی کے ریکارڈ پر رکھ دیتے جس کی بدولت وفاقی اور صوبائی حکومتیں یکسوہوکر دہشت گردی کے خلاف نبردآزما ہوسکتی تھیں۔ اس کی تفصیلات سے آگاہی ہمیں خیبرپختونخوا کو ہنگامی حالات کی جانب دھکیلنے کے اصل ذمہ داروں کا تعین کرنے میں آسانی فراہم کرسکتی تھی۔
بے بسی مگر ان دنوں رعایا ہی کا مقدر نہیں۔ بدھ کی صبح سے دوپہر تک پریس گیلری میں اپنی نشست پر مستقل براجمان رہتے ہوئے میں نے نام نہاد ریاست کے تمام اداروں پر "بالادست" پارلیمان کے عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوئی قومی اسمبلی کے ہر رکن کو اپنے ہی جیسا بے بس و بے اختیار محسوس کیا۔ بے اختیاری و بے بسی کے تناظر میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر کے آغاز ہی میں ا عتراف کیا کہ وہ بوجھل دل کے ساتھ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات اور گورنر راج کے نفاذ کی حمایت میں ووٹ دیں گے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین اس حقیقت سے آگاہ سنائی دیے کہ صدر زرداری کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات اور گورنر راج کے نفاذکے فرمان پر دستخط ملکی سیاست پر نگاہ رکھنے والوں کو اس جماعت کی جمہوری نظام سے وابستگی پر سوالات اٹھانے کو اکسارہے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی جمہوری نظام کے احیاء کی تحریک کی صف اول میں نمایاں ترین رہی تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نہایت ثابت قدمی سے اس پہچان کو برقرار رکھا۔ 2008ء سے 2013ء کے برس تک ایوان صدر میں مقیم رہے آصف علی زرداری بھی پارلیمان کی بالادستی، صوبائی خودمختاری، انسانی حقوق اور آزادیء صحافت کے محافظ دکھائی دیتے رہے۔
بدھ کے روز پارلیمان کی راہداریوں میں پیپلز پارٹی کے تین اراکین اسمبلی سے مختصرملاقات ہوئی تو وہ اس حقیقت کے بارے میں بددل محسوس کررہے تھے کہ مسلم لیگ (نون) کے صدر نواز شریف خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد لندن پرواز کرگئے۔ وہاں قیام کے دوران صحافیوں کی جانب سے مسلسل پوچھے سوالات کے جواب میں خاموش رہتے ہیں۔ پاکستان کے عوام کی اکثریت کے دلوں میں لیکن وہ تصویر نقش ہوچکی ہے جس میں آصف علی زرداری ہنگامی حالات جمع گورنر راج کے فرمان پر دستخط کررہے تھے۔ مذکورہ تصویر کے ذریعے کلیدی پیغام یہ ملا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی جماعت نہیں بلکہ صدر زرداری خیبرپختونخوا پر ہنگامی حالات جمع گورنر راج مسلط کرنے کے یک وتنہا طورپر ذمہ دار ہیں۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں ہوئے خطاب کے ذریعے بلاول بھٹو زرداری نے مذکورہ تاثر رد کرنے کے لئے منطقی دلائل اور جذباتی توانائی کا بھرپور استعمال کیا۔ انگریزی محاورے والا نقصان (Damage) مگر ہوچکا ہے۔