Thursday, 01 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Mere Liye Punjabi Mindset Ka Taana

Mere Liye Punjabi Mindset Ka Taana

چند ہفتوں سے سندھ یا خیبرپختونخواہ کے مسائل کے حوالے سے کچھ لکھوں تو سوشل میڈیا پر چھائے متعصب گروہوں کے افراد میری رائے کو پنجابی سوچ" کا اظہار ٹھہرانا شروع ہوجاتے ہیں۔ "پنجابی سوچ" درحقیقت کیا ہے اسے بیان کرنے کی یہ افراد زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ مزید پریشان میں اس لئے بھی ہوجاتا ہوں کہ 1970ء کی دہائی کے آغاز سے اپنے شہر لاہور میں مقیم قریب ترین عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ ہوئے سیاسی موضوعات پر مباحث کے دوران بنگالیوں یا بلوچستان کے احساس محرومی کا ذکر چھیڑتا تو میری حب الوطنی پر سوال اٹھائے جاتے۔

سیاسی سوالات سے ہٹ کر بھی خالصتاََ تہذیبی اور ثقافتی حوالوں سے افراد کی اپنی "شناخت" ہوتی ہے۔ شناخت ان دنوں یورپ کا اہم ترین سوال بن چکی ہے۔ اٹلی اور جرمنی میں اس کے حوالے سے تارکین وطن کے خلاف سیاسی جماعتیں مضبوط سے مضبوط تر ہورہی ہیں۔ حتیٰ کہ انگلستان کے گورے بھی اپنی انفرادیت اجاگرکرنے کو بے چین ہیں۔ یورپی یونین سے علیحدگی کا اصل سبب یہ رجحان ہوا۔ امریکہ میں ٹرمپ "شناخت" بچانے کے نام پر ہی ایک بار پھر برسراقتدار آیا ہے۔ اس کا نائب صدر وینس ایک بھارتی نڑاد خاتون کا شوہر ہونے کے باوجود اپنی مذہبی اور ثقافتی انفرادیت نہایت فخر سے اپناتا ہے۔ یورپی ممالک کو تواتر سے خبردار کرتا ہے کہ وہ تیزی سے "اسلامی غلبے" کی غلامی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

تارکین وطن سے نفرت کی بنیاد پر امریکہ کے علاوہ یورپ کے بیشتر ممالک میں تہذیبی شناخت کے حوالے سے جو تضادات نمایاں ہورہے ہیں فی الوقت میرا دردِ سر نہیں۔ ذہن میں اٹکا سوال قطعاََ ذاتی نوعیت کا ہے۔ اسے نفسیاتی الجھن بھی کہا جاسکتا ہے۔ میرے والد لاہور کے موچی دروازے سے منسلک محلے چوک نواب صاحب میں پیدا ہوئے تھے۔ والدہ نے دلی دروازہ کے اندر حویلی الف شاہ سے جڑی ا یک عمارت میں جنم لیا۔ ان کے حوالے سے اپنی شناخت کا جائزہ لوں تو "جماندرو لاہوری" ہوں۔ لاہور کے بارہ دروازوں میں سے ایک میں پیدا ہوکر بڑا ہوا۔ کانوں کو صرف پنجابی سننے کی عادت تھی۔ مشن ہائی سکول رنگ محل میں داخل ہوا تو کلاس میں اردو اور انگریزی کے استعمال کا تقاضا ہوتا۔ سکول کے دوستوں کے ساتھ مگر ہمیشہ پنجابی ہی میں گفتگو ہوئی۔

پیدائشی لاہوری اور پنجابی زبان کے استعمال کے باوجود مجھے پنجابی کے کسی ایک شاعر کا نام بھی لیکن کالج جانے تک معلوم نہیں تھا۔ سکول میں سیکھا تو بس اتنا کہ اردو کے ایک شاعر میر تقی میر ہوا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ سودا بھی تھے۔ میر آہ کے شاعر تھے اور سودا واہ کے شاعر۔ آہ اور واہ کا فرق سمجھانے کو دو اشعار بھی رٹوائے گئے تھے۔ آہ والے میر کے حوالے سے پڑھایا شعر انہیں روتے روتے سلادیتا تھا۔ سودا کے "خدامِ ادب" البتہ ان کی نیند خراب کرنے والوں کو متنبہ کرتے کہ "ابھی آنکھ لگی ہے"۔ ان دو شاعروں کے علاوہ غالب کے لطائف بھی پڑھائے گئے تھے۔ مولانا الطاف حسین حالی کی مُسدّس کے چند اشعار اور اقبال کی ٹہنی پر تنہابیٹھے جگنو کے بارے لکھی نظم بھی ابھی تک یاد ہے۔

سکول سے کالج گیا تو چائے خانوں میں کچھ دن گزارنے کے بعد علم ہوا کہ پنجابی زبان میں بھی شاعر ہوا کرتے تھے۔ وارث شاہ نے "ہیر" لکھی تھی جو روم کے ہومر اور اٹلی کے دانتے کی لکھی داستانوں کے برابر ہے۔ ہمارے بچپن میں میلہ چراغاں بہت دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ میٹرک پاس کرنے تک فقط یہ جان سکا کہ یہ میلہ مادھولال حسین نامی کسی صوفی کے عرس سے منسوب ہے۔ یہ دریافت کرنے کے لئے بلوغت کا انتظار کرنا پڑا کہ مادھو اور شاہ حسین دو مختلف شخص تھے۔ شاہ حسین لاہور کے ٹیکسالی دروازے سے تعلق رکھتے تھے۔ ذات کے جلاہے تھے۔ راوی کنارے صوفیانہ ریاضتوں میں کئی برس صرف کرنے کے بعد "ملامتی" ہوگئے۔ انہوں نے کافیاں بھی لکھیں۔ جن میں سے ایک حامد علی بیلا کی وجہ سے اکثر ریڈیو پاکستان لاہور کی بدولت سننے کو ملا کرتی۔ جی ہاں "مائے نی میں کِنہوں آکھاں، "والی۔

پنجابی کے ادبی اور ثقافتی ورثے سے اجنبیت میرے لئے سندھ کے دوروں کے دوران اکثر باعث شرمندگی ہوتی۔ وہاں کے قصبوں اور شہروں میں انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کے علاوہ عام افراد بھی اپنی گفتگو کے دوران "ہمارے سائیں نے فرمایا ہے" کہتے ہوئے شاہ بھٹائی کا کوئی شعر دلیل کے طورپر استعمال کرتے۔ خیبرپختونخواہ کے دوست بھی پشتو محاوروں کو اکثر اپنی بات سمجھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مجھے گفتگو کے دوران اپنی بات سمجھانے کے لئے کسی شعر کی ضرورت ہو تو اکثر "غالب" سے رجوع کرتا ہوں۔ منیر نیازی کے اشعار بھی اس کالم کو تسلسل فراہم کرتے ہیں۔ پنجابی کے فقط بلھے شاہ کا کبھی کبھار حوالہ دیتا ہوں۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پنجابی ادب وثقافت کی جڑوں سے قطعی لاتعلق شخص "پنجابی سوچ" کا ترجمان کیوں تصور کیا جاتا ہے۔ چند باعلم دوستوں سے اس ضمن میں رہ نمائی چاہی تو وہ لفظ "پنجابی مائنڈسیٹ" کے ذکر تک محدود رہے۔ یہ "مائنڈسیٹ" کیا ہے اسے سمجھا نہیں پائے۔ میری شدید خواہش ہے کہ میری رائے کو اکثر "پنجابی سوچ" کا اظہار ٹھہراکر مذمت میں مصروف اس "مائنڈ سیٹ" کے نمایاں خدوخال بھی بیان کردیں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.