پاکستان کا ریگولر اور سوشل میڈیا بچگانہ بے تابی کے ساتھ ریاست اور مولانا فضل الرحمن کے مابین تخت یا تختہ والی جنگ کا منتظر ہے۔ ممکنہ شوڈائون کو فیصلہ کن مراحل میں دھکیلنے کے لئے فریقین کی حمایت ومخالفت میں دلائل بھی اچھالے جارہے ہیں۔ چند ہفتے قبل تک ایسی ہی بے چینی اور بے تابی بالآخر خیبرپختون خوا کے معطل ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اسلام آباد پر لانگ مارچ کے حوالے سے بھی دکھائی جارہی تھی۔ جس تماشے کی توقع باندھی گئی وہ مگرہونہ سکا۔ گورنر راج پلس ہنگامی حالات کے نفاذ نے بلکہ تحریک انصاف کو 13برس بعد پاکستان کے ایک اہم اور حساس ترین صوبے کی حکومت سے محروم کردیا۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سیاسی معاملات کو زیر غور لاتے ہوئے افغانستان کو نظرانداز کرنا حماقت ہے۔ بطور فاتح 2021ء میں کابل لوٹنے کے بعد افغان طالبان "اسلام" کو فقط اپنے ملک تک محدود رکھنا نہیں چاہ رہے۔ پاکستان کو بھی فی الفور اس سے "فیض یاب" ہوتا دیکھنا چاہ رہے ہیں۔ ان کی پشت پناہی سے یہاں مقیم ان کے نظریاتی ساتھی خیبرپختونخوا کے پاکستان اور افغانستان سے متصل علاقوں میں ریاست کے متوازی ریاست کے قیام کو متحرک ہیں۔ طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے بعد بھارت کابل میں اپنے سفارتخانے کو پاکستان دشمن کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور حوصلہ افزائی کے لئے استعمال کررہا ہے۔ بھارتی میڈیا میں تبصرہ نگاروں کا ایک گروہ تواتر سے کابل میں براجمان طالبان کو بھارتی اسلحہ فراہم کرنے کے جواز بھی گھڑ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر لکھے پیغامات کے ذریعے افغان نڑاد "امریکی" زلمے خلیل زاد اس سوچ کی حمایت کررہا ہے۔ ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کو دیوار سے لگانے سے قبل میری عاجزانہ رائے میں حکومتی بندوبست کے کرتا دھرتا افراد کو ٹھنڈے دل سے بارہا سوچنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن کسی بھی سیاستدان کی طرح چند مفادات کے اسیر ہوسکتے ہیں۔ اس حقیقت کو مگر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ آئینِ پاکستان کی بالادستی مستقل مزاجی سے تسلیم کرتے ہوئے پارلیمانی طرز سیاست سے روگردانی کو کبھی آمادہ نہیں ہوئے۔ اسی باعث ان کے نظریاتی مکتبہ فکر کی انتہا پسند سوچ کی بدولت متشدد ہوئے گروہوں نے کئی باران پر قاتلانہ حملے کئے۔ جے یو آئی کے معتبر رہ نمائوں کو دہشت گردی کے ذریعے ان کے علاقوں میں بے اثر بنادیا گیا۔ ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمن کو روایتی سیاستدانوں کی طرح حریص ومفادپرست ثابت کرنے کے بعد سیاسی میدان میں بے اثر بنادینے سے اس انتہا پسند سوچ کو تقویت ملے گی جو پارلیمانی جمہوریت کو "شیطانی" سمجھتے ہوئے بندوق کے زور پر "حقیقی اسلام" کا نفاذ چاہتی ہے۔ اپنی رائے کے دیانتدارانہ اظہار کے باوجود اگرچہ اس وقت مجھے مولانا اور حکومتی بندوبست کے مابین معاملات ٹھنڈے ہوتے نظر نہیں آرہے۔
گزشتہ دو روز سے مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائے قضیے پر غور کرتے ہوئے ماضی کے متحرک رپورٹر کو 2002ء کا اکتوبر یاد آتا رہا۔ 24برس قبل آئے اس اکتوبر کی 10تاریخ کو جنرل مشرف نے تین برس کے نیم مارشل لاء کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیاں بحال کرنے کے لئے انتخابات منعقد کروائے تھے۔ ریاست کے دائمی اداروں نے مذکورہ انتخابات کے انعقاد سے قبل تمام تر توجہ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں قائم ہوئی کنگز پارٹی-پاکستان مسلم لیگ (ق)- کو نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کا متبادل بنانے پر مرکوز رکھی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف "آزاد" وڈیروں کو توانا بنایا گیا۔ وہ منظم جماعت کی صورت پیپلز پارٹی کا متبادل نہ بن سکے۔ خیبرپختونخوا ور بلوچستان کو تقریباََ نظرانداز کردیا گیا۔
نائن الیون کے بعد افغان پر مسلط ہوئی "وار آن ٹیرر" پر رپورٹنگ کے لیے میں ان دو صوبوں سے ہوتے ہوئے اکثر افغانستان جایا کرتا تھا۔ وہاں کے شہروں اور قصبوں میں قیام کے دوران احساس ہوا کہ ان صوبوں میں عوام کی اکثریت دہشت گردی کے خلاف برپا جنگ کو امریکہ کی "اسلام دشمنی" تصور کرتی ہے۔ اس مشاہدے کی بنا پر2002ء کے انتخابات کے قریب لکھنا شروع کردیا کہ جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے اسلام کے اتحاد سے قائم ہوئی متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) رائے دہندگان کی اکثریت کی حمایت حاصل کرے گی۔ انگریزی اخبار میں تواتر سے لکھے اس دعویٰ کو چند امریکی اور یورپی سفارتکاروں نے ناپسند کیا۔ کم ازکم 3 امریکی سفارتکار بلکہ نجی ملاقاتوں میں اس شبے کا اظہار شروع ہوگئے کہ نام نہاد "ڈبل گیم" کھیلتے ہوئے جنرل مشرف کی حکومت جان بوجھ کر ان دنوں کے سرحد اور بلوچستان میں مذہبی جماعتوں کی پشت پناہی کررہی ہے۔ اپنے دل ودماغ میں موجود تعصبات کی وجہ سے وہ دو ٹکے کے رپورٹر کے مشاہدات پر توجہ دینے کو آمادہ ہی نہیں تھے۔
دس اکتوبر2002ء کے روز ہوئے انتخابات کے نتائج نے مگر مجھے درست ثابت کردیا۔ نتائج آجانے کے دو روز بعد ایک سفارتی تقریب میں ان دنوں امریکہ کی اسلام آباد میں تعینات سفیر نینسی پاول نے مجھے دیکھا تو نسبتاََایک خاموش گوشے میں لے گئی۔ نینسی سفیر تعینات ہونے سے چند سال قبل اسلام آباد ہی میں سیاسی معاملات پر بطور امریکی سفارت کار نگاہ رکھا کرتی تھی۔ ان دنوں کی وجہ سے میرے ساتھ اس کے بے تکلفانہ مراسم تھے۔ نینسی ان دنوں کے صوبہ سرحد اور بلوچستان سے آئے نتائج سے سخت پریشان تھی۔ زرد چہرے اور پریشان کن لہجے میں دہراتی رہی کہ ان دو صوبوں میں ایم ایم اے کی حکومت امریکہ کی افغانستان میں جاری جنگ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے بحث کا موقع نہیں تھا۔ نہایت صبر سے فقط یہ عرض کرتا رہا کہ دینی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کو سرحد اور بلوچستان میں حکومت سازی کے عمل میں باہر رکھنا پاکستان کے ان صوبوں میں جمہوری اور پارلیمانی طرز سیاست کو منافقانہ ثابت کرتے ہوئے "جہادی" سوچ کو پروان چڑھائے گا۔ چند دنوں بعد خوش قسمتی سے مختلف سفارتکاروں سے ملنے کے بعد یہ دریافت ہوا کہ برطانوی سفارتکار بھی اس سوچ کے حامی ہیں کہ ایم ایم اے کو پارلیمانی اور حکومت سازی کے عمل سے باہر نہ رکھا جائے۔
حیران کن خبر مگر یہ ملی کہ جیل میں قید آصف علی زرداری سوچ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم کو بطور وزیر اعظم میدان میں اتارنے کے بجائے مولانا فضل الرحمن کو پاکستان مسلم لیگ (ق) کے نامزد کردہ میر ظفر اللہ جمالی کے مقابلے میں اپوزیشن کا متحدہ امیدوار اپنالیا جائے۔ امریکی اور کئی یورپی سفارت کار یہ خبر سن کر پریشان ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کے "لبرل" حامی بھی مذکورہ فیصلے کو اپنی "تاریخی شناخت" سے روگردانی قرار دینے لگے۔ افراتفری کے اس عالم میں پیپلز پارٹی کے محترمہ بے نظیر بھٹو کے مخدوم امین فہیم کی وجہ سے قریب ہوئے میرے مرنجاں مرنج دوست مرحوم انور بیگ متحرک ہوئے۔ سفارتکاروں سے اپنے روابط کو مہارت سے استعمال کیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو قائل کردیا کہ امریکہ اور یورپ پیپلز پارٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کی بطور وزیر اعظم نامزدگی معاف نہیں کر پائیں گے۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی سے "پیٹریاٹ" کے نام پر کئی نامور افراد کی جدائی کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا تھا۔ وزیر اعظم کا انتخاب ہوا۔ مسلم لیگ (ق) کے نامزد کردہ میر ظفر اللہ جمالی 172ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ مولانا فضل الرحمن 86ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے اور پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ شاہ محمود قریشی نے 70ووٹ حاصل کئے۔ سرحد کی وزارت اعلیٰ جے یو آئی کو ملی۔ بلوچستان میں اسے جثے سے بڑھ کر حصہ ملا۔ بات مگر یہاں ختم نہ ہوئی۔
عوامی ووٹوں کے حوالے سے 10اکتوبر کے دن پیپلز پارٹی واحد اکثریتی جماعت ثابت ہوئی تھی۔ اس حقیقت کے باوجود مولانا فضل الرحمن کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تسلیم کرلیا گیا۔ جواز اس کا یہ بتایا گیا کہ وزارت عظمیٰ کے انتخاب کے دوران وہ 86ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ قائد حزب اختلاف کی حیثیت میں مولانا نے مقتدرہ کے نمائندوں سے "جمہوریت کی بحالی" کیلئے مذاکرات کئے اور ان کے نتیجے میں جنرل مشرف جیسے "روشن خیال" 2008 تک وردی سمیت پاکستان کے منتخب صدر تسلیم کر لیے گئے۔ مولانا کی "ذہانت اور سیاسی اثر" نے اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ریاست کے دائمی ادارے اب اس "ذہانت اور سیاسی اثر "کو ہمیشہ کیلئے کھونا کیوں چاہیں گے۔