Monday, 02 November 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Aaghar Nadeem Sahar
  4. Lahore Se Mulaqat

Lahore Se Mulaqat

لاہور ایک ایسا شہر جس کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ صدیوں پر محیط ہے، تاریخی روایات کے مطابق لاہور کی بنیاد راجا رام چندر کے بیٹے راجا لوہ نے رکھی تھی۔ تاریخی کتب میں اس کا ذکر امیر خسرو کے ہاں بھی ملتا ہے اور 982ء میں لکھی گئی کتاب "حدود العالم"میں بھی۔ 1022ء میں محمود غزنوی نے لاہور کو فتح کیا اور اپنے غلام ملک ایاز کو یہاں کا گورنر بنایا جنھوں نے اس شہر میں پہلا پختہ قلعہ بنایا، بعد ازاں یہاں خاندانِ غلاماں، خلجی، تغلق، سید اور لودھی خاندان نے حکومت کی۔ 1526ء میں ظہیر الدین بابر کے بعد مغلوں کا دور آیا، اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب نے اسے اپنا ذیلی دار الحکومت بنایا۔

شاہی قلعہ، شالامار باغ (1641ء)اور بادشاہی مسجد(1673ء) اسی دور کی یادگاریں ہیں، اس زمانے کو ہندوستان کا سب سے سنہرا دور بھی کہاجاتا ہے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کر لیا، 1849ء میں برطانوی راج قائم ہوا جس نے یہاں جدید تعلیمی ادارے اور ریلوے اسٹیشن سمیت کئی اہم عمارات تعمیر کیں۔ برطانوی سامراج کے زیرسایہ ہندوستان نے اگرچہ کچھ نہ کچھ ترقی بھی کی مگر مجموعی طور پر نوآبادیاتی عہد وسائل کی چوری، صنعتوں کی تباہی، معاشی و سماجی استحصال، سیاسی اور فوجی قتل عام، ثقافتی و تعلیمی یلغار سے عبارت ہے، اس عہد میں کئی خوفناک وا ندوہ ناک واقعات رونما ہوئے، ایسے واقعات جنھیں آج بھی یاد کرتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، بالخصوص بعد از غدر، ہندوستان میں جو خوں ریزی ہوئی، اس بنیاد پر نوآبادیاتی عہد میں ہونے والی ترقی بھی پس پشت چلی گئی۔

غزنوی عہد ہو یا پھر مغلیہ دور اور برطانوی سامراج، لاہور ہر دور میں مرکز نگاہ رہا، جو بھی حکمران ہندوستان کا رخ کرتا، اس کی نگاہ دہلی اور لاہور پر ہوتی لہٰذا اس شہر باکمال کو ہر دور میں پذیرائی اور توجہ ملی، یہی وجہ ہے کہ تہذیبی و ثقافتی طور پر اس شہر کو نہ تو فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے حاشیے میں رکھا جا سکتا ہے۔

1882ء میں لکھی گئی کتاب "تاریخ لاہور"میں اس شہر کی تہذیبی و ثقافتی شناخت کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا، اس کتاب کے مصنف کنہا لال ہیں۔ انھوں نے اس کتاب میں لاہور کی عمارتوں، دروزاوں اورتاریخی مقامات پر بھی بات اور لاہور پر گزرنے والے تیرہ (13)صدمات(مختلف عہد میں ہونے والی لاہور پربیرونی یلغاریں) کا بھی ذکر کیا ہے، اس کتاب میں سکھوں کی جانب سے لاہور پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی بڑی تفصیل سے ذکر ہوئے ہیں۔ بیرونی حملہ آوروں کی چیردستیوں کے باوجود لاہور نے بڑے حوصلے سے اپنا سیاسی، سماجی اور تہذیبی سفر جاری رکھا، 1524ء سے 1725ء تک، مغلیہ سلطنت نے اس شہر کی تہذیب و ثقافت پر جو اثرات مرتب کیے، وہ آج بھی دیکھے اور محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

مغلیہ سلطنت میں لاہور بارہ دروازوں کے حصار کے اندر موجود تھا مگر اب اس نے اتنے پائوں پسار لیے ہیں کہ بقول پطرس بخاری"لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقع ہے"۔ اندرون شہر میں جگہ تنگ ہونے کے باعث 1920ء میں پہلی مرتبہ بارہ دروازوں کے باہر بستیاں بسانے پر سنجیدگی سے غور ہونے لگا اور یوں لاہور کی آبادی باہر منتقل ہونا شروع ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور کو ایک بڑی علمی و ادبی روایت منتقل ہوئی، یہ روایت اب کتنی مستحکم ہے، اس پر بات ہونی چاہیے بلکہ ادبی حلقوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ تقسیم سے قبل اکا دکا ادبی تنظیمیں تھی مگر علم و ادب ترویج اور تہذیب و ثقافت کی اشاعت کا بے تحاشا کام ہوا، آج ہر گلی محلے کی اپنی ادبی تنظیم ہے مگر علمی و ادبی روایت دم توڑ رہی ہے، یہ افسوس ناک پہلو ملک بھر کے لکھنے والوں کو دعوت فکر دے رہا ہے۔

2019ء میں یونیسکو نے جب لاہور کو "سٹی آف لٹریچر "کہا تو یہاں لاہور میں پے درپے تقاریب ہوئیں، قلم کاروں نے جشن منایا کہ ہمارا لکھا دنیا بھر میں تسلیم ہونے لگا، سرکاری سطح پر بھی اکا دکا تقریبات ہوئیں اور اس کے بعد یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ 30 جنوری 2026ء کو راقم نے اپنے چند دوستوں کی مدد سے لاہور میں ایک شاندار مشاعرے کا اہتمام کیا جس کا عنوان"جشن لاہور"رکھا، اس مشاعرے میں ملک بھر سے اہم اور نمایاں قلم کار شریک تھے، الحمراء آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد نواز گوندل کی ذاتی دل چسپی اور تعاون نے اس جشن کی مقبولیت میں اضافہ کیا، سوشل میڈیا پر اسے بہت پذیرائی ملی کہ ایک سرکاری ادارے کے تعاون سے ایک اہم جشن ہوا، اس جشن کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایک ایسا شہر جسے "سٹی آف لٹریچر"کہا گیا، اس کا جشن بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے۔ ابھی ہم ایک اور جشن لاہور کا پلان کر رہے تھے کہ قاسم علی شاہ فائونڈیشن کی طرف سے "جشن لاہور"کا دعوت نامہ ملا اور میری خوشی کی انتہا نہ رہی یعنی پہلے میں اس انجمن میں تنہا تھا اور اب میرے رازدانوں میں اضافہ ہوگیاکیوں کہ برادر قاسم علی شاہ کو اسی برس یونیسکو نے "سٹی آف لٹریچر"کا فوکل پرسن بنا دیا ہے، انھوں نے اس یادگار موقع پر جشن لاہور منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔

اس جشن لاہور میں مشاعرہ بھی تھا اور محفل موسیقی بھی، قلم کتاب سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد اس جشن کا حصہ تھے، مختلف سیشنز میں شریک مہمانان گرامی یونیسکو کا بھی شکریہ ادا کر رہے کہ اور فائونڈیشن کا بھی، یونیسکو کا شکریہ اس لیے کہ لاہور کا فوکل پرسن ایک ایسا انسان ہی ہونا چاہیے تھا جو پوری دنیا میں لاہور کی ایک مثبت شناخت ہو لہٰذا یہ انتخاب ہر لحاظ سے شاندار ہے، اس جشن میں اگر ایک سیشن "رفتگاں" کا ہوتا تو اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ تاریخ کے ملبے میں دبا یہ رومانوی شہر ماضی جیسی تابناکی کا منتظر ہے، اب نہ وہ لوگ اور نہ وہ شہر، ہر چیز ماضی کی گرد میں کہیں کھو چکی، ایسے میں جشن لاہور کا اہتمام ایک ایساقدم ہے جس کی تعریف کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں، یہ لاہور کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے والی بات ہے، وہ لاہور واپس لانے کی ایک کوشش ہے جو لاہور قیام پاکستان کے بعد کہیں کھو گیا تھا۔ اب وہ لاہور کہاں ہے، کہاں ہے میرا افسردہ لاہور، خاموش لاہور، سر سبزوشاداب لاہور، باغوں کا شہر، شاعروں کا شہر، موسیقاروں کا شہر، اداکاروں اور فنکاروں کا شہر، یہ میرے لاہور کو کس کی نظر کھا گئی کہ اب نہ وہ لوگ، نہ وہ محافل، نہ وہ ادبی روایت اور نہ زندہ دل لوگ، میں یونیسکو اور قاسم علی فائونڈیشن کا باردگر ممنون ہوں کہ مجھے میرے لاہور سے ملوایا۔ بقول راقم۔۔

اس نے دیکھا ہی کیا ہے دنیا میں
جس نے لاہور بھی نہیں دیکھا