تحریک انصاف کا لانگ مارچ اور حکومتی منصوبہ بندی، دونوں آمنے سامنے ہیں، راستے کنٹینرز سے بھی بند کیے گئے اور دھمکیوں سے بھی مگر پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت اور اس کے کارکنان، اس بات پر مصر ہیں کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک، پرامن احتجاج اور لانگ مارچ جاری رہے گا، حکومت ان مطالبات کو ماننے کی بجائے غیر مشروط لانگ مارچ کا خاتمہ چاہتی ہے جب کہ سہیل آفریدی گروپ، اپنے مطالبات کی منظوری تک، لانگ مارچ سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا۔
میں نے یہاں سہیل آفریدی کے ساتھ "گروپ "کا لفظ دانستہ لگایا ہے اور اس کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کا وہ صوبائی گروپ ہے جو اس لانگ مارچ کی حمایت نہیں کر رہا، مرکزی قیادت میں بھی کئی اہم لوگ سہیل آفریدی کو لچک دکھانے کا مشورہ دے رہے ہیں مگر سہیل آفریدی پر وزارت اعلیٰ کا جادو، سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ایک ایسی سیاسی پارٹی جس کے ورکرز، قائدین اور سپورٹرز کو دن دیہاڑے ہراساں کیا گیا ہو، انھیں گھروں سے اٹھایا گیاہو۔ جس سیاسی پارٹی نے 2024ء کے الیکشن میں پندرہ سیاسی جماعتوں کا صفایا کر دیا، اس کے چیئرمین، اس کی بیوی، بہنوں، فیملی ممبران اور کزنز، سب کو جیل میں بند کر دیا گیا ہو، ووٹرز اور سپورٹرز پر جو قیامت گزری، وہ الگ کہانی ہے، ایسے میں اس پارٹی کی صوبائی حکومت اگر احتجاج نہیں کرے گی، اپنے سیاسی قیدیوں کی غیر آئینی گرفتاری کی بات نہیں کرے گی، تو کون کرے گا مگر سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت میں موجود چند لوگ اس لانگ مارچ کو سپورٹ کیوں نہیں کر رہے، خیبر پختونخوا کا ایک سیاسی دھڑا، سہیل آفریدی کے مخالف کیوں کھڑا ہے، کیا مسئلہ وزارت اعلیٰ ہے یا سہیل پھر آفریدی کا جنون؟
مذاکراتی ڈرافٹ میں اگر کہیں بھی، کچھ بھی غیر آئینی نہیں لگ رہا، پھر مسئلہ کہاں ہے؟ حکومت کا دعویٰ ہے سہیل آفریدی دہشت گردی کے معاملے میں ریاست کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے جب کہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقبل میں پائیدار امن کے لیے مسلسل اور بامعنی مشاورت کی بات کرتے ہیں، اپوزیشن کے بقول مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ عمران خان اور اس کی فیملی ہے، حکومت چاہتی ہے کہ پہلے غیرمشروط لانگ مارچ ملتوی کیا جائے، اس کے بعد عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں پر بات ہوگی جب کہ اپوزیشن اور بالخصوص سہیل آفریدی کی جانب سے بھیجے گئے ڈرافٹ کے مطابق لانگ مارچ کا خاتمہ یا ملتوی ہونا، ہمارے مطالبات کی منظوری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
حکومت کی ضد اور انا کی وجہ سمجھ نہیں آتی، اگر حکومت واقعی مذاکرات یا بات چیت میں سنجیدہ ہے تو آئینی اور قانونی مطالبات میں پس وپیش کیوں کر رہی ہے، اگر اپوزیشن یہ کہتی ہے کہ "جیل مینول، آئین پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں" تو اس میں کیا مضائقہ ہے، کیا اس سے پہلے پاکستان میں سیاسی قیدیوں کو جیل میں انتہائی غیر معمولی سہولیات میسر نہیں رہیں، کیا پاکستان میں آسمان کے "قریبی سیاست دان" راتوں رات جیل سے دبئی، سعودی عرب اور لندن نہیں پہنچے، کیا سیاست دانوں کی میڈیکل رپورٹس، ڈاکٹرز کی بجائے سیاست دان نہیں بناتے رہے اور اگر یہ سب ہماری بھیانک سیاسی تاریخ کا حصہ ہے تو آج ایک شخص کے لیے یہ سب کیوں نہیں ہو سکتا؟
سیاست، بہرحال سیاست دانوں نے ہی کرنی ہے اور اگر سیاست دان استعمال ہو کر ڈسٹ بن کا حصہ بنتے رہیں گے تو جمہوریت ایسے ہی ہوامیں لٹکتی رہے گی، "چارٹر آف ڈیموکریسی" انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے، ایسا میثاق جس میں تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو گلے سے لگائیں اور ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کریں، کسی بھی غیر سیاسی طاقت یا شخص کو سیاسی و عوامی ایوانوں تک رسائی نہیں ملنی چاہیے، موجودہ سیاسی اور جمہوری بحران کا یہی واحد حل ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ سیاست دانوں کو مکمل جمہوری ہونا چاہیے تو پھر یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون طے کرے گا کہ فلاں شخص یا پارٹی جمہوری ہے یافلاں غیر جمہوری؟ ہماری تو سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھی بھری پڑی ہے جہاں حکومت میں بیٹھے لوگ، اپوزیشن جماعتوں کو ہمیشہ غیر جمہوری، غیر آئینی اور دہشت گرد کہتے آئے ہیں۔ کیا اپوزیشن کا حکومتی بینچوں کی رائے سے اختلاف کا مطلب دہشت گردی ہے، کیا پر امن احتجاج اور پر امن مظاہرے، دہشت گردی اور ریاست دشمنی ہے؟
ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارے سیاست دان، حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہوں تو انھیں سارا نظام جمہوری لگتا ہے اور اگر ہمارے سیاست دان اپوزیشن کے بینچوں پر پہنچ جائیں تو انھیں پورا نظام غیر جمہوری لگنے لگتا ہے، یہ مذاق اور تماشا اب ختم ہونا چاہیے اور اس کا واحد اور بنیادی حل چارٹر آف ڈیموکریسی ہے۔ اگر حکومت اس نظام اوراپنی سیاست بچانے کے لیے درجنوں سیاسی جماعتوں اور لوگوں سے مذاکرات کر سکتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف سے کیوں نہیں، یہ بات تو حکومتی بینچوں پر بیٹھے جمہوری لوگ تسلیم کر رہے ہیں کہ ہم فارم سنتالیس کی پیدوار ہیں۔
آج اگر حکومت انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے ایمرجنسی یا گورنر راج لگاتی ہے تو کیایہ سلسلہ یہاں رک جائے گا؟ خود کو جمہوری چیمپئن کہنے والی پارٹیاں، کیا کسی بھی طرح سے منہ دکھانے کے قابل رہ جائیں گی؟ پہلے پی ڈی ایم کے ذریعے جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا، پھر فروری 2024ء کے الیکشن پر شب خون مارا گیا، پھر اپوزیشن پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، خواتین تک کو معاف نہ کیا گیا، عدالتوں کے تقدس تک کو پامال کیا اور آج یہ حکومت اپنی انا اور تکبر میں اتنی اندھی ہو چکی ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا خواب دیکھ رہی ہے حالانکہ جتنا ظلم پہلے یہاں ہو چکا، ان سب کے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔
مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے انتہائی سینئر لوگ اس بات کا آف دی ریکارڈ درجنوں بار اظہار کر چکے کہ موجودہ سیاسی نظام اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور اس کی تبدیلی آج نہیں تو کل، ہو کر رہے گی۔ وہ سیاست دان جو صبح و شام، حکومتی سٹیٹس، حکومتی عہدے اور شہرت انجوائے کر رہے ہیں، وہ بھی اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہم جس نظام کو تحریک انصاف کے مقابلے میں لائے تھے، وہ اندر سے مکمل طور پر بنجر ہو چکا، ڈائیلاگ، ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا مشورہ حکومت کو اپنے لوگ ہی دے رہے ہیں۔