پاکستان کا سیاسی درجہ حرارت غیرمعمولی طور پہ تغیر سے گزر رہا ہے، ایک طرف جماعت اسلامی کا مارچ دار الحکومت کی طرف گامزن ہے اور دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر، کسان ملین مارچ اورپاکستان تحریک انصاف کا انصاف مارچ شہر اقتدار کے دروازے پہ دستک دے رہا ہے۔
حکومت کو جماعت اسلامی، عوامی ایکشن کمیٹی اور کسانوں سے اتنا خطرہ نہیں، جتنا انصاف مارچ کے مظاہرین سے ہے اور اس کا ایک منظر ہم نے پنجاب میں دیکھ بھی لیا جب سہیل آفریدی سٹریٹ موومنٹ کے لیے پنجاب کے دورے پہ تھے۔
27 ستمبر کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے حکومت سے جو بن پڑا، کرے گی اور اس کا واضح اشارہ وزیر داخلہ دے چکے۔ جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ہو یا پھر دیگر احتجاج اور مظاہرے، حکومت کو سب جمہوری اور عین شرعی لگتے ہیں اور جوں ہی "ایک مردود"جماعت یہ کام کرتی ہے، حکومت بندوقیں، آنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن لے کر چڑھ دوڑھتی ہے، کیا یہ ناانصافی، منافقت اور زیادتی نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہیے، اگر تحریک انصاف کسی بھی طرح کا دھرنا نہیں دے سکتی تو پھر جماعت اسلامی کا احتجاج اور دھرنا جائز کیسے ہے۔
میں نے یہی سوال اپنے ایک محب وطن دوست سے کیا جو ان دنوں جماعت اسلامی کے دھرنے میں انقلابی ترانے گاتے نظر آ رہے ہیں، انھوں نے میرے اس سوال کے جواب میں صرف اتنا کہا کہ جماعت اسلامی کا ہر مارچ اور دھرنا"ہومیوپیتھک "ہوتا ہے جب کہ تحریک انصاف کا ہر دھرنااور مارچ، اقتدار کے ایوانوں کے درودیوار ہلا دیتا ہے۔
میں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بالکل نہیں، جماعت اسلامی بھی ایک سیاسی جماعت ہے اور اس کے مارچ سے ہی لیوی ختم ہوگی، جب میں نے یہ عرض کی تو انھوں نے غصے سے میز پہ مکا مارا اور گویا ہوئے"ایک ہفتے میں پیٹرول پچاس روپے بڑھا یا نہیں؟"، میں نے سلام کیا اور رخصت ہوگیا۔
دوستو! میں ہر اس مظاہرے کی حمایت کرتا ہوں جو جمہوری انداز میں شہر اقتدار پہنچے مگر مسئلہ یہ ہے کہ احتجاج جمہوری ہے یا غیر جمہوری، یہ فیصلہ کون کرے گا، کیا اقتدار کے مزے لوٹتی، جہاز میں جھولے جھولتی اور عوام کا خون پیتی حکومت یہ فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے کہ کون سا احتجاج جمہوری ہے اور کون سا غیر جمہوری۔
حکومتی وزراء کی ببانگ دہل دھمکیاں، پولیس کا چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کا کھیل، مقدمات، گرفتاریاں اور گولیاں، کیا یہ سب جمہوری طریقہ ہے احتجاج یا مظاہرے سے نمٹنے کا، کیا کسی بھی جمہوری حکومت کو کبھی مظاہروں یا لانگ مارچ کا خوف رہا ہے؟ جو حکومت عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں آتی ہے، اسے علم ہوتا ہے کہ ہمیں کسی بھی طرح کا مظاہرہ اور لانگ مارچ نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر یہاں معاملہ ہی الٹ ہے۔
اس اپاہج نظام کی بنیاد رکھنے والے ہی اس سے تنگ آ چکے ہیں، حکومتی سپورٹرز اور ووٹرز منہ چھپاتے پھر رہے ہیں، پیپلز پارٹی جس نے پی ڈی ایم ون اور ٹو(موجودہ نظام) کو بیساکھیاں فراہم کیں، اس کے ارکان بھی موجودہ حکومت کو فارم سینتالیس کا طعنے دینے لگے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ موجودہ نظام جو راتوں رات بنایا گیا تھا، اب اپنے اقتدار کی آخری سانسیں لے رہا ہے۔
چار لانگ مارچ، شہر اقتدار کے دروازے پہ پہنچ رہے ہیں، حکومت ان مظاہرین سے بات کرتی، ان کے تحفظات سنتی اور انھیں جمہوری انداز میں ڈیل کرتی مگر کیا کریں جمہوریت کا لفظ تو اس ملک میں مذاق بن چکا ہے، یہاں صرف وہی جمہوری ہے جس کی اجازت "آسمان "سے مل جائے، وہ کام، وہ احتجاج، وہ نعرے، وہ سیاسی پارٹیاں اور وہ مذہبی جلوس، سب غیر جمہوری ہیں جو اجازت کے بغیر نقل و حرکت کرتے ہیں، اجازت کا سوال بھی بہت عجیب و غریب ہے جس پر بات کرنا مجھ جیسے کمزور قلمی مزدور کے لیے خاصا مشکل ہے۔
ہر کالم، ہر ٹویٹ، ہر پوسٹ اور ہر وی لاگ، عوام تک پہنچانے سے پہلے درجنوں پر دیکھتے ہیں کہ کہیں کوئی ایسا جملہ، کوئی ایسی بات ایسی نہ کر دوں جو بادشاہ سلامت کی طبع نازک پر گراں گزرے، یہ گرانی ہم پہ پہاڑ بن کر گر سکتی ہے۔ بادشاہ سلامت تو گہری نیند میں ہے، شہر اقتدار کے باہر ڈندا بردار کھڑے ہیں، جو بھی اندر جانے کی کوشش کرے گا، بادشاہ سلامت کی نیند میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے گا، اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
وفاق ہو یا پھر صوبائی حکومتیں، سب خوف زدہ ہیں، سب جانتے ہیں کہ اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے، جس ایک سیاسی پارٹی کو دیوار سے لگانے کے لیے ہمیں متحد کیا گیا تھا، ہمیں یکجہتی کا درس دیا گیا تھا، وہ شخص دیوار سے نہیں لگ سکا، وہ آج بھی اتنا ہی پاپولر جتنا پہلے تھا، اس کے پاس آج بھی عوامی مینڈٹ اور عوامی طاقت موجود ہے، جس دن اشارہ ہوا، اجازت ملی، یہ ٹولہ اپنے اپنے ملکوں کو واپس لوٹ جائے گا اور نظام بدل جائے گا۔