Monday, 02 November 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Aabna e Hormuz Ki Tapish, Pakistan Ki Maeeshat Par Asraat

Aabna e Hormuz Ki Tapish, Pakistan Ki Maeeshat Par Asraat

دنیا کی جغرافیائی سیاست میں بعض مقامات اپنی جغرافیائی حدود سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک آبی گزرگاہ ہے، جس کی تنگ سمندری پٹی میں پیدا ہونے والا اضطراب ہزاروں میل دور واقع معیشتوں کے ایوانوں تک لرزش پہنچا دیتا ہے۔ خلیج فارس کو بحیرۂ عمان سے ملانے والی یہ گزرگاہ محض بحری جہازوں کی آمدورفت کا راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ اس کے ذریعے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل میں تعطل پیدا ہو تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں، صنعتی پیداوار، تجارتی توازن اور بالآخر عام صارف کی قوتِ خرید تک منتقل ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی اس جغرافیائی حقیقت سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا، کیونکہ ہماری توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ بیرونی ذرائع اور خلیجی خطے سے وابستہ ہے۔

30 اکتوبر 2026ء کو سامنے آنے والی اطلاعات نے اس حساس آبی گزرگاہ کی صورتِ حال کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے ایک آئل ٹینکرکے بیرونی حصے پر دو دھماکا خیز آلات نصب کیے گئے، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی اور جہاز عارضی طور پر غیر فعال ہوگیا۔ برطانوی بحری نگرانی کے ادارے یو کے ایم ٹی او نے عملے کے محفوظ رہنے اور ماحولیاتی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے تین آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم رائٹرز نے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کی وضاحت بھی کی ہے۔ ان واقعات کی اہمیت محض جہازوں کو پہنچنے والے نقصان تک محدود نہیں اصل مسئلہ سمندری راستوں کے تحفظ، تجارتی جہاز رانی کے اعتماد اور عالمی توانائی کی مسلسل ترسیل کا ہے۔

اس بحران کی وسعت سمجھنے کے لیے یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ آبنائے ہرمز سے 2025ء کی پہلی ششماہی میں روزانہ تقریباً 20.9 ملین بیرل تیل گزرا، جو عالمی سمندری تیل تجارت کا لگ بھگ ایک چوتھائی بنتا ہے۔ اسی راستے سے عالمی مائع قدرتی گیس کی تجارت کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ بھی منتقل ہوتا ہے۔ چنانچہ یہاں پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت محض علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے رسدی خطرہ ہے۔

پاکستان کی صورتِ حال اس اعتبار سے زیادہ حساس ہے کہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ اسلام آباد میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی اکتوبر 2026ء کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26ء میں پاکستان کا مجموعی پٹرولیم درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5.76 فیصد زیادہ ہے۔ اسی مدت میں خام تیل کی درآمدات پر 7.17 ارب ڈالر جبکہ پٹرولیم مصنوعات پر 6.39 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ عالمی توانائی کی منڈی میں معمولی ارتعاش بھی پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن اور زرمبادلہ کے ذخائر پر غیر معمولی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

اس بحران کا ایک اہم معاشی پہلو یہ ہے کہ تیل کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ درآمدی لاگت بڑھنے سے بجلی کی پیداواری لاگت، صنعتی خام مال کی قیمت، مال برداری کے اخراجات اور زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیائے خورونوش سے لے کر تعمیراتی سامان تک تقریباً ہر شعبے میں قیمتوں کا دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ مزید برآں، اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ بحری بیمے، جہازوں کے کرائے اور جنگی خطرات کے اضافی اخراجات بھی بڑھ جائیں تو درآمدی بل پر دوہرا بوجھ پڑتا ہے۔ نتیجتاً روپے کی قدر، افراطِ زر اور صنعتی مسابقت تینوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یوں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والا سمندری اضطراب پاکستان کے اندر معاشی اضطراب کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

تاہم اس صورتِ حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ پاکستان کے لیے متبادل رسدی راستوں کی تلاش کوئی نئی ضرورت نہیں رہی۔ وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق 4 مارچ 2026ء کو پاکستان نے سعودی عرب سے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع کے ذریعے تیل کی فراہمی کے متبادل انتظامات پر بات چیت کی تھی۔ سعودی عرب نے اس راستے سے پاکستان کی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ علاقائی تعاون اور متبادل بحری راستے بحران کے اثرات کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ ہر توانائی کے ذریعے اور ہر درآمدی شے کے لیے متبادل راستہ یکساں طور پر دستیاب نہیں۔ خصوصاً قطر سے آنے والی مائع قدرتی گیس کی سمندری ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت غیر معمولی ہے۔

پاکستان کو اس موقع پر محض ہنگامی خریداری یا عارضی انتظامات تک اپنی حکمتِ عملی محدود نہیں رکھنی چاہیے۔ توانائی کے تحفظ کو قومی سلامتی کے مستقل منصوبے کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور گیس کے مناسب تزویراتی ذخائر قائم کرنے، درآمدی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ طویل مدتی توانائی معاہدوں کو مستحکم کرنے اور بندرگاہی و ذخیرہ جاتی بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ شمسی، ہوائی اور پن بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانا بھی ناگزیر ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بتدریج کم کیا جا سکے۔ توانائی کی بچت، مقامی وسائل کی مؤثر تلاش اور بجلی کی ترسیل میں نقصانات کی روک تھام بھی اسی قومی حکمتِ عملی کے بنیادی اجزا ہونے چاہییں۔

خارجہ پالیسی کے محاذ پر پاکستان کے لیے توازن، تدبر اور سفارتی فعالیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی قوانین کے مطابق آزادانہ بحری آمدورفت، تجارتی جہازوں کے تحفظ اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کرنا پاکستان کے قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ کسی ایک فریق کے ساتھ غیر ضروری محاذ آرائی یا جذباتی سفارتی موقف اختیار کرنے کے بجائے پاکستان کو علاقائی مکالمے، اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب توانائی کی قیمتیں پہلے ہی ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، سفارت کاری کو معاشی تحفظ کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران پاکستان کے لیے محض ایک خارجی واقعہ نہیں بلکہ اپنی معاشی ساخت، توانائی پالیسی اور تزویراتی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ جغرافیائی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں وہی قومیں معاشی استحکام برقرار رکھ سکتی ہیں جو ممکنہ خطرات کا پیشگی ادراک، متبادل راستوں کی منصوبہ بندی اور داخلی وسائل کے مؤثر استعمال کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ہر نئے عالمی بحران کے بعد ہنگامی اقدامات پر انحصار کرے گا یا مستقل اور خودکفیل توانائی نظام کی بنیاد رکھے گا۔ آبنائے ہرمز کی لہروں میں اٹھنے والا اضطراب ہمیں یہی سبق دے رہا ہے کہ معاشی خودمختاری محض سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ قومی بقا، پالیسی کے تسلسل اور دوراندیش منصوبہ بندی سے حاصل ہونے والی عملی قوت ہے۔