راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آرایس ایس) جو کہ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سرپرست ہے کا یہ کہنا کہ کچھ عالمی طاقتیں بھارت کی معاشی اور سیاسی طاقت سے خائف ہوکر اِسے کمزور کرنے میں مصروف ہیں بہت حیران کُن ہے۔ آر ایس ایس کے سربرہ موہن بھاگوت کے یہ خدشات حقیقی ہیں اور کیا الزامات کے ٹھوس شواہد ہیں یا یہ خیالات داخلی پالیسی کے بیانیے کا حصہ ہیں؟
اِس سوال کا جواب بھارت کے عالمی تعلقات، تجارتی مفادات اور دفاعی شراکت داروں کا جائزہ لیے بغیر ممکن نہیں۔ ایک حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ جس بھارت کو عالمی طاقتوں کی مبینہ سازشوں کا نشانہ قرار دیا جارہا ہے وہ انھی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کی روش پر گامزن ہے۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر پیش رفت ایک تازہ مثال ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بیس اکتوبر کو بھارتی دورے کے دوران کہا ہے کہ دونوں ممالک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب آچکے محض چند امور باقی ہیں۔ اِس بیان سے واضح ہے کہ تجارتی اختلافات اور سیاسی تنائو کے باوجود واشنگٹن اور نئی دہلی مفاہمت کی کوشش میں ہیں۔
امریکہ اور بھارت کے درمیان ماضی میں تجارتی مزاکرات میں محصولات، منڈیوں تک رسائی اور توانائی کی خریداری جیسے معاملات پر اختلاف رہے پھر بھی دونوں نے فروری 2026 میں عبوری تجارتی معاہدے کا فریم ورک پیش کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی سیاست میں اختلافات کے باوجود تعاون کے راستے بند نہیں۔ اصل میں بھارت کو امریکہ ایک بڑی منڈی، سرمایہ کاری کے اہم مرکز اور ایشیا میں اسٹریٹجک شراکت کے طور پر دیکھتا ہے۔ بھارت بھی امریکی منڈی، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے اگر بھارت کو امریکہ کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتا تو دونوں ملکوں میں تجارتی مزاکرات ہرگز آگے نہ بڑھتے۔ مگر اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ امریکہ اور بھارت کے تمام اختلاف ختم ہو چکے تجارتی معاہدے پر بات چیت کا جاری رہنا دونوں طرف موجود تعاون کی خواہش کاعکاس ہے مگریہ کسی مستقل یا غیر مشروط دوستی کی ضمانت ہر گز نہیں۔
روس کے ساتھ بھارت کے تعلقات ایسا پہلو ہے جو اختلافی مسائل کا باعث ہے۔ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روسی تیل کی خریداری میں اضافہ اور مغربی دبائو کے باوجود اپنے توانائی کے مفادات کو ترجیح دینا ایسے فیصلے تھے جن سے بھارتی اخلاص بارے ابہام پیدا ہوا لیکن نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اُس نے اپنی بڑی آبادی کی ضروریات، توانائی کی فراہمی اور قیمتوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے۔ امریکہ نے روسی تیل کی خریداری کی پاداش میں بھارت پر تجارتی دبائو بڑھایا مگر مزاکرات کی کھڑکی بھی کھلی رکھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنے مفادات کے لیے امریکہ سے اختلاف کرتا ہے مگر تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش بھی جاری رکھتا ہے۔
روس سے تیل خریدنا اور امریکہ سے تجارتی معاہدے کی کوشش کرنا ایک دوسرے کی ضد ہیں بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی کی خصوصیت رکھی ہے کہ وہ مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ کر اپنے لیے زیادہ سے زیادہ گنجائش حاصل کرسکے لیکن بدلتی ہوئی پابندیاں، تجارتی شرائط اور عالمی تنازعات اِس حکمتِ عملی کو اکثر مشکل بنا دیتے ہیں۔ دفاعی شعبے میں بھارت کی یہی پالیسی توازن پیدا کرتی ہے۔ فرانس سے رافیل جنگی طیاروں کا حصول، برطانیہ سے دفاعی تعاون اور روسی ساختہ فوجی سازوسامان پر انحصار اِس حقیقت کی مثالیں ہیں کہ بھارت کسی ایک ملک پر انحصار کرنے کی بجائے تمام دستیاب زرائع سے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرتا ہے۔ فرانس اور برطانیہ کے ساتھ اُس کے تعلقات صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور سفارتی تعاون بھی اہم پہلو ہیں اگر عالمی طاقتیں متحد ہوکر بھارت کو تنہا یاکمزورکرنے کی کوشش میں ہوتیں تو متنوع دفاعی اور اقتصادی شراکت داریوں کی وضاحت میں دقت ہوتی۔
یورپی یونین سے بھارت کے قریبی تعلقات ہیں دونوں نے 27 جنوری 2026کو آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت مکمل کی جو کہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ یہ درست ہے کہ بات چیت مکمل ہونا معاہدے کے نفاز کے برابر نہیں کیونکہ قانونی نظرثانی، دستخط اور متعلقہ منظوریوں جیسے کئی مراحل ابھی درکار ہیں مگر اِس معاہدے سے دونوں جانب کی منڈیوں تک رسائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے یورپی ممالک بھارت سے تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں وہ اِس کی بڑی منڈی اور معاشی امکانات کو اہم سمجھتے ہیں اِس تناظر میں کمزور کرنے کی بات محض الزام تراشی لگتی ہے۔
کواڈ میں بھارت کی شرکت قابلِ توجہ ہے جس میں امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں یہ فورم ہند بحیرہ الکاہل کے خطے میں تعاون، سلامتی اور اقتصادی و تکنیکی اشتراک کو اہم سمجھتا ہے اگرچہ کواڈ کوئی باقاعدہ فوجی اتحاد نہیں اِس کے باوجود بھارت کی اِس میں موجودگی اہم ہے۔ نئی دہلی اِس فورم کے زریعے علاقائی معاملات میں اپنا کردار بڑھانے کی کوشش میں ہے جبکہ امریکہ سمیت دیگر شراکت دار بھارت کو خطے کا اہم فریق تصور کرتے ہیں۔ اِن حقائق کی روشنی میں عالمی طاقتوں پر سازشوں کے عمومی الزامات بے جان لگتے ہیں محض سیاسی اختلافات یا حکومت مخالف احتجاج کو بیرونی طاقتوں کی کاروائی قرار دینا قابلِ اعتماد تجزیے کا ہر گز متبادل نہیں ہوسکتا۔
دراصل بھارت میں معاشی عدم مساوات، بے روزگاری اور شدید سیاسی اختلافات جیسے مسائل ہیں جن کا جائزہ لینے کی بجائے بیرونی سازش سے جوڑ دینا حکومت اور معاشرے کو اصل مسائل ے دور کر سکتا ہے۔ احتجاج میں بیرونی مالی معاونت کو سامنے نہیں لایا جاتا اسی لیے شواہد کے بغیر الزام تراشی سیاسی بیانیہ تو بن سکتی ہے معتبر حقیقت نہیں۔ بھارت بڑی معیشت، بڑی منڈی، دفاعی صلاحیت اور جغرافیائی حثیت کی بناپر اہم ضرورہے مگر معاشی ترقی، اداروں پر اعتماد، سماجی ہم آہنگی اور مستقل خارجہ پالیسی بھی عالمی حثیت مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
امریکہ سے تجارتی بات چیت، روس سے توانائی کی خریداری، فرانس اور برطانیہ سے دفاعی تعاون، یورپی یونین سے آزاد تجات کی طرف پیش رفت اور کواڈ میں شرکت ایسی خارجہ پالیسی ہے جو عالمی طاقتوں سے تعلقات قائم رکھنے میں مددگار ہے مگر ہراندرونی اختلاف کو عالمی سازش قراردیناغلط ہے کیونکہ ایسے کوئی ٹھوس شواہدنہیں یادرہے عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن سے زیادہ اہم مستقل مفادات ہوتے ہیں بھارتی مثال کا بھی یہی سبق ہے کہ کامیاب ریاستیں الزام تراشی کی بجائے اپنے مفادات، داخلی مسائل اور سفارتی امکانات کاحقیقت پسندانہ جائزہ لیتی ہیں۔