ایک بارمرکزاورتین بارخیبرپختونخوامیں حکومت اوراقتدارہاتھ میں آنے کے باوجودانصاف عام، احتساب سرعام اوراقتدارمیں عوام کاخواب پورانہ ہوسکا۔ یہ وہ نعرہ تھاجسے پی ٹی آئی نے اپنامنشوربنایااوراسی نعرے پرخیبرپختونخواکے عوام نے ایک اوردونہیں بلکہ تین بارصوبے کی حکمرانی تحریک انصاف کی جھولی میں ڈالی لیکن انصاف کی نظرسے اگردیکھااورپرکھاجائے توپی ٹی آئی نے مجموعی طورپران تین واریوں میں یہاں کے عوام کومایوسی اورپسماندگی کے سواکچھ نہیں دیا۔ ماناکہ پی ٹی آئی کے پہلے دورمیں بلدیاتی نظام کے ذریعے چھوٹے موٹے کام ضرورہوئے لیکن اس کے بعدپھرخاموشی ہی رہی۔
پی ٹی آئی کی اسی وقتی تبدیلی سے عوام توبیزارتھے ہی پراب کپتان کے اپنے کھلاڑی بھی اس نام نہادتبدیلی سے مایوس دکھائی دینے لگے ہیں۔ خیبرپختونخوامیں بلدیاتی نظام کے اختتام پرتحریک انصاف کے اپنے ہی بلدیاتی ممبران، ناظمین اورچیئرمینوں کے چہروں پرمایوسی اورپریشانی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ لبوں پرشکوے اورشکایتوں کے انبارلئے ہرممبراورچیئرمین تبدیلی سے ایسامایوس نظرآیاکہ جیسااس کاتعلق کسی اورپارٹی سے ہو۔
دراصل خیبر پختونخواوہ واحدصوبہ ہے جہاں تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی نظام کو اپنی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا اور اسے جمہوریت کی مضبوطی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا عملی نمونہ قرار دیالیکن ان کے تیسرے دوراقتدارمیں بلدیاتی مدت کے اختتام پرپی ٹی آئی کے اپنے ہی ممبران کے لٹکتے چہروں کودیکھ کرایک سوال باربار سامنے آرہاہے کہ تحریک انصاف کے دوراقتدارمیں کیا واقعی مقامی حکومتوں کو وہ اختیارات، وسائل اور خودمختاری دی گئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟ الوداع کہنے والے ممبران یہ سوال سن کرآبدیدہ ہوجاتے ہیں۔
جمہوریت کی اصل روح اقتدارمیں عوام کی شمولیت اور ان کے مسائل کا مقامی سطح پر حل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں کو ریاستی نظام کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی شروع سے لیکرآخرتک یہ مؤقف اختیار کیا کہ مرکزیت زدہ نظام عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ ہے اور اقتدار کو گاؤں، محلوں اور یونین کونسلوں تک منتقل کئے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں اوریہ حقیقت بھی ہے لیکن خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا تجربہ اس دعوے سے مختلف بلکہ بہت مختلف نظر آتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد ہزاروں منتخب ممبران، چیئرمینوں، کونسلروں اور دیگر نمائندوں نے اپنے علاقوں میں عوامی خدمت کے خواب کے ساتھ ذمہ داریاں سنبھالیں۔
لوگوں نے ان سے امیدیں وابستہ کیں کہ وہ بنیادی سہولیات کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر، نکاسی آب، صاف پانی، گلیوں کی پختگی اور دیگر مقامی مسائل کے حل میں کردار ادا کریں گے مگرحالیہ بلدیاتی دوراورمدت میں عملی طور پر بیشتر نمائندے وسائل کی کمی اورمسائل کاایسا شکار رہے کہ اقتدارکے پورے عرصے میں وہ اپنے ووٹروں اورسپورٹروں کودوبین میں بھی نظرنہیں آئے۔ ترقیاتی فنڈز کی عدم دستیابی بلدیاتی نظام کی سب سے بڑی کمزوری بن کر سامنے آئی۔
متعدد علاقوں میں منتخب نمائندے اپنی مدت پوری کرنے کے باوجود کوئی نمایاں ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کر سکے۔ اس کی بنیادی وجہ ان کی نااہلی نہیں بلکہ وسائل اور اختیارات کی کمی تھی۔ جب منتخب نمائندے کے پاس عوامی مسائل کے حل کے لئے فنڈز ہی موجود نہ ہوں توپھروہ صرف وعدوں اور سفارشات تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان بلدیاتی نمائندوں کی سیاسی اور سماجی ساکھ کو پہنچا۔ عوام کے نزدیک نمائندہ ہی جوابدہ ہوتا ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ فنڈز کہاں سے آتے ہیں یا اختیارات کس کے پاس ہیں؟ بلکہ وہ اپنے منتخب نمائندے سے نتائج چاہتے ہیں۔
چنانچہ جب بلدیاتی نظام کے ذریعے ترقیاتی کام نہیں ہوئے تو عوامی تنقید کا رخ بھی انہی نمائندوں کی طرف ہوا۔ بہت سے ممبران اپنے حلقوں میں شرمندگی، مایوسی اور سیاسی دباؤ کا شکار رہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے دعوؤں کے باوجود صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کا اثر و رسوخ برقرار رہا۔ متعدد معاملات میں مقامی حکومتوں کو مکمل انتظامی آزادی حاصل نہ تھی جس کے باعث عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی رہیں۔
اختیارات کی حقیقی منتقلی صرف انتخابات کرانے سے نہیں ہوتی بلکہ مالی اور انتظامی خودمختاری سے ممکن ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک منتخب بلدیاتی نمائندہ اپنے علاقے میں ایک نالی، ایک سڑک یا ایک واٹر سپلائی سکیم تک مکمل نہ کروا سکے تو عوام کے نزدیک اس کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ پھر ایسی صورت حال میں بلدیاتی ادارے عوامی خدمت کے مراکز کے بجائے محض سیاسی نمائندگی کی علامت بن کر رہ جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کا تجربہ کئی اہم اسباق چھوڑ گیا ہے۔
سب سے اہم سبق یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو صرف آئینی ضرورت یا سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ حکمرانی کے ایک مؤثر نظام کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ مقامی حکومتوں کو مستقل مالی وسائل، ترقیاتی فنڈز، منصوبہ بندی کے اختیارات اور انتظامی خودمختاری فراہم کئے بغیر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ ہماراتومشورہ یہ ہے کہ نئی بلدیاتی مدت کے آغاز سے قبل ماضی کی کمزوریوں کا دیانتداری سے جائزہ لیا جائے۔
اگر عوام کے منتخب نمائندوں کو وسائل اور اختیارات فراہم کئے جائیں تو وہ نہ صرف مقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ہوتے ہیں۔ اگر اس نرسری کو پانی، وسائل اور توجہ نہ دی جائے تو جمہوریت کا درخت کبھی تناور نہیں ہو سکتا۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کی گزری ہوئی مدت اسی حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ اختیارات کے بغیر نمائندگی اور وسائل کے بغیر ذمہ داری دونوں مل کر جمہوریت کو کمزور کرتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ نعروں سے آگے بڑھ کر مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے تاکہ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے۔ بلدیاتی نظام کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یہ نہ صرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کاغریب عوام سے وعدہ ہے بلکہ ایک دیرینہ خواب بھی، ملک کی ترقی اورعوام کی خوشحالی کے لئے اسے ہرحال میں پوراہوناچاہئیے۔