Saturday, 25 July 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Tawanai Ka Bohan, Awam Ke Liye Tufan

Tawanai Ka Bohan, Awam Ke Liye Tufan

پٹرول والامسئلہ دردسرتوتھاہی پراب یہ درددل بھی بنتاجارہاہے۔ پٹرول ہی توہے جس نے اس وقت کسی ایک شخص اورفردنہیں بلکہ پوری قوم کی ناک میں دم کررکھاہے۔ اس کمبخت کی ایک چھلانگ سے نہ جانے کتنوں کی راتوں کی نیندیں اڑاوردن کاسکون غارت ہوتاہے۔ یہ نہ امیردیکھتاہے اورنہ غریب سب کوساتھ بہاکرلے جارہاہے کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی رکھنے والوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر اس شخص کا مسئلہ ہے جو روزمرہ استعمال کی اشیاء خریدتا ہے۔

سب جانتے ہیں کہ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو سامان کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے جس کا براہ راست اثر آٹے، چینی، سبزی، پھل، دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ نتیجتاً مہنگائی کا ایک ایسا طوفان آتا ہے جس میں ایک ایک کرکے پھرسب بہنے لگتے ہیں۔ دنیا اس وقت سیاسی اور معاشی بے یقینی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی کے خدشات نے کئی ممالک کو معاشی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ہر عالمی بحران کا سب سے زیادہ اوربڑا بوجھ ہمیشہ عام آدمی کے کندھوں پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟ پاکستان میں تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل اب ایک معمول بن چکا ہے۔ جیسے ہی قیمتوں میں اضافے کا اعلان ہوتا ہے عوام کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔

ایک طرف مہنگائی پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہے دوسری طرف پٹرول کی نئی قیمتیں گویا عوام پر ایک اور "پٹرول بم" بن کر گرتی ہیں۔ اس بم کی آواز شائد ایوانوں تک نہ پہنچے مگر اس کی گونج ہر اس گھر میں سنائی دیتی ہے جہاں محدود آمدنی میں پورا مہینہ گزارنے کی جدوجہد جاری رہتی ہے۔ پٹرول صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کی شہ رگ ہے۔ اس کی قیمت بڑھتی ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اورمہنگائی کاایک ایساطوفان آتاہے جس کے سامنے عوام پھربے بس دکھائی دیتے ہیں۔

اس تناظرمیں دیکھااورسوچاجائے توپٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا ایک فیصلہ لاکھوں خاندانوں کے بجٹ کوایسا متاثر کر دیتا ہے کہ جنہیں پھراس مشکل سے نکلنے کاکوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ عام شہری کی آمدنی میں وہ رفتار نہیں جس رفتار سے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ اس ملک میں سرکاری ملازم، نجی اداروں کے کارکن، مزدور، ریڑھی بان اور دیہاڑی دار طبقہ پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے لئے ہر نیا اضافہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے ایک اور سمجھوتے کا نام بن جاتا ہے۔ کوئی بچوں کی تعلیم کا خرچ کم کرتا ہے، کوئی علاج مؤخر کرتا ہے تو کوئی اپنی روزمرہ خوراک میں کمی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

توانائی بحران اوربڑھتی قیمتوں پرحکومت کا مؤقف اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے مقامی قیمتوں پر بھی اثر پڑتا ہے لیکن عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہوتا ہے تو اس کا مکمل فائدہ انہیں کیوں نہیں ملتا؟ اگر عالمی حالات کا حوالہ دے کر قیمتیں بڑھائی جا سکتی ہیں تو عوامی ریلیف بھی اسی رفتار سے ملنا چاہیے۔ عالمی منڈی میں جب تیل مہنگاہوتاہے توہمارے حکمرانوں اورذمہ داروں کوتوایک سیکنڈمیں پتہ لگ جاتاہے، ادھرتیل کی قیمتیں بڑھنے کی باتیں شروع ہوتی ہیں اورادھریہ اضافہ کردیتے ہیں لیکن جب اسی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم اورگرتی ہیں توپھریہ سب ایسے گونگے اوربہرے بن جاتے ہیں کہ جیسے ان کوکوئی پتہ ہی نہ ہو۔

ٹھیک ہے عالمی منڈی کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوناچاہئیے کیونکہ یہ حکومت کی مجبوری ہے اس کے سواکوئی چارہ نہیں لیکن جتنی تیزی حکومت اضافے میں دکھاتی ہے پھراتنی ہی جلدی عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آنے پردکھانی چاہئیے۔ عالمی منڈی میں جب تیل سستاہوتاہے توپھر اس کا پورا فائدہ بھی عوام تک بروقت پہنچنا چاہیے۔ ہردوسرے دن پٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل اوراضافہ یہ مسئلے کاحل نہیں۔ جب امریکہ اورایران کی کشیدگی اوررویوں سے یقین ہوگیاہے کہ یہ مسئلہ اتناجلدحل ہونے والانہیں توپھرہرروزپٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے اس کے لئے کوئی مستقل حل کیوں تلاش نہیں کیاجارہا؟ کیاہماری زندگیاں اب اسی طرح ہردوسرے دن پٹرول کی قیمتیں بڑھنے اورکم ہونے کے اعلانات سننے میں گزریں گی؟

ریاست کی اصل ذمہ داری صرف معاشی اعداد و شمار کو بہتر دکھانا نہیں بلکہ عوام کے معیارزندگی کو بہتر بنانا بھی ہے۔ اگر ہر چنددن اور ہفتوں بعد اسی طرح پٹرول بم گرتا رہا اور عوام کی قوت خرید اسی طرح کم ہوتی رہی تو صرف معیشت ہی نہیں پھرمعاشرتی استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لئے متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصاًشمسی توانائی، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے۔ عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بناکرغیر ضروری سرکاری اخراجات میں فوراًکمی لائی جائے اور ایسی معاشی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جو مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔

ہفتے دواورتین چھٹیاں یہ بھی مسئلے کاحل نہیں نہ ہی اس موقع پرصرف غریب عوام کوقربانی کابکرابناناکوئی انصاف ہے۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، مشکل اورآزمائش کامقابلہ اگرعوام اورحکمران مل کرکریں گے توتب ہی کوئی کنارہ ملے گا۔ صرف عوام کے کندھوں پرسارابوجھ ڈالنے سے یہ حالات اورمعاملات پھرزیادہ دیرتک نہیں چلیں گے۔ عوام نے پہلے بھی ہرمشکل اوربحران میں قربانیاں دیں اوریہ اب بھی دے رہے ہیں لیکن سوال صرف یہ ہے کہ بے چارے عوام اکیلے میں آخرکب تک قربانیاں دیتے رہیں گے؟ یہ توحکمران بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اصلاحات کا بوجھ صرف عوام پر ڈالا جائے اور حکومت خود کفایت شعاری کا مظاہرہ نہ کرے تو اعتماد کا رشتہ پھر مضبوط نہیں رہتا۔

عوام اگر مسلسل مہنگائی، بے یقینی اور معاشی دباؤ کا شکار رہیں تو اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ سماجی استحکام، قومی یکجہتی اور مستقبل کی امیدوں پر بھی یہ منفی اثر ڈالتے ہیں۔ اس لئے عالمی حالات کا ادراک کرتے ہوئے ایسے فیصلے کئے جائیں کہ جن میں عوامی مشکلات کو اولین ترجیح دی جائے، حکومتی فیصلے اوراصلاحات ایسے ہوں کہ جو خزانے کے ساتھ عوام کے گھروں میں بھی آسانی اور امید لے کر آئیں۔ اس مشکل وقت میں اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے، قیمتوں میں استحکام لانے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں کامیاب ہوگئی تو یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ بصورت دیگرہر نئے پٹرول بم کے ساتھ عوام کی زندگی مزیددشوار ہوگی کیونکہ یہ محض توانائی کا ایک بحران نہیں بلکہ مہنگائی کاایک طوفان بھی ہے۔