Sunday, 19 July 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Mehangai Ka Tufan Ya Hukumrano Ka Imtihan

Mehangai Ka Tufan Ya Hukumrano Ka Imtihan

پچھلے ہفتے ایک پروگرام میں شرکت کے لئے ہم ایبٹ آبادسے ٹانڈہ بجنہ گئے۔ واپسی پرراستے میں ایک جگہ نمازکیلئے رکے۔ یہ مانسہرہ اوربٹگرام کے درمیان کوئی علاقہ تھاجوبفہ سے کچھ ہی دورتھا۔ امام صاحب نے جونہی سلام پھیراایک اسی سالہ بزرگ مصلے پرکھڑے ہوئے۔ اس کے چہرے سے نورانیت ٹپک رہی تھی۔ آہوں اورسسکیوں میں نمازیوں سے گویاہوئے۔ میرے گھرمیں فاقے ہے۔ اللہ کی قسم بچوں نے دودن سے کچھ نہیں کھایاہے۔

میں بھیک مانگنے نہیں اپنے بچوں کے لئے راشن مانگنے آیاہوں۔ اللہ کے گھرمیں ایک نورانی چہرے والے بزرگ کی یہ فریادسن کرہماری آنکھیں نم ہوگئیں۔ باہربازاروں، مارکیٹوں اورشاہراہوں پربھیک مانگنے کے لئے ہرکس وناکس سے لپکنے والوں میں اکثریت کوروایتی اورخاندانی بھکاری سمجھ کرہم نظراندازکردیتے ہیں اوران میں اکثرہوتے بھی پیشہ وربھکاری ہیں لیکن اللہ کے گھرمیں اسی سال کی عمراورنورانی چہرہ لئے کوئی بزرگ نہ توپیشہ وربھکاری ہوسکتاہے اورنہ ہی کوئی جھوٹا۔

موجودہ حالات نے اس بزرگ جیسے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں اورخاندانوں کاجیناحرام اورنظام درہم برہم کردیاہے۔ معقول آمدن اورماہانہ لاکھوں کی تنخواہیں اورمراعات لینے والوں کوتوہمارے حکمرانوں کی طرح حالات نارمل نظرآرہے ہیں لیکن حقیقت میں ایسانہیں۔ مہنگائی، غربت، بیروزگاری اوربھوک وافلاس کی جن راہوں پرغریبوں کاروزانہ مارچ ہوتاہے ان راہوں پرامیرزادوں اورحکمرانوں کاکبھی گزربھی نہیں ہوا۔ ایسے میں غریبوں کے دکھ اوردردکویہ کیاجانیں؟

اسی لئے توکہتے ہیں کہ جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔ سنگ مرمرسے بنے محلات میں خراٹے مارنے والوں پرکبھی گزری نہیں تو انہیں پھراس دردکااحساس کیسے ہوگا؟ کاش ہمارے سرمایہ دار، امراء اورحکمران ذرہ بھی کوئی احساس کرتے توعوام بھی باربارفاقوں کے اس درداورکرب سے کبھی نہ گزرتے۔ مہنگائی، غربت اوربیروزگاری یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اصل درد وہی محسوس کرتا ہے جسے اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لئے روزانہ ہزاروں جتن کرنے پڑتے ہیں۔

اعداد و شمار، معاشی رپورٹس اور حکومتی دعوے اپنی جگہ لیکن عام آدمی کی زندگی کی اصل تصویرگھروں میں بجھے چولہوں، بازاروں، دکانوں اور خالی جیبوں میں ہرکسی کودکھائی دیتی ہے۔ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں مگر آج حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ نہ صرف چادر روز بروز سکڑتی جارہی ہے بلکہ سچ تویہ ہے کہ غریبوں کے پاس کوئی چادراب بچی ہی نہیں جبکہ ضروریات زندگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ متوسط طبقہ جو کبھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، اب دو وقت کی عزت کی روٹی کے لئے بھی پریشان دکھائی دے رہاہے۔

تنخواہیں اپنی جگہ کھڑی ہیں، آمدن ہے نہیں جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں روز نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ آئی ٹی کے ایکسپرٹ ہمارے ایک دوست ہیں اعزازاحمدسرحدی اپنے پاس ایک دومہمانوں کودیکھ کراکثروہ استاداورشاگردکاایک مکالمہ سنانے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں ایک بارکسی استاد نے اپنے شاگرد سے پوچھااگر تمہارے پاس سو روپے ہوں اور بازار جا کر صرف آدھا سامان خرید سکو تو اس کا کیا مطلب ہے؟ شاگرد جواب دیتاہے۔

استاد محترم اس کا مطلب ہے کہ یا تو مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے یا پھر میری آمدنی کم ہوگئی ہے۔ استاد مسکرا کر کہتاہے۔ بیٹاجب دونوں باتیں ایک ساتھ ہو جائیں تو اسے عوام کی آزمائش کہتے ہیں۔ اس ملک کے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں عوام آج اسی آزمائش سے گزررہے ہیں۔ مہنگائی صرف جیب پر اثر نہیں ڈالتی بلکہ انسانی نفسیات، خاندانی تعلقات اور معاشرتی رویوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب گھر کا سربراہ بچوں کی خواہش پوری نہ کر سکے۔ ماں اپنے بجٹ میں دودھ، پھل اور دواؤں کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہو۔ جب نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود باعزت روزگار نہ پا سکے توپھرصرف معیشت نہیں بلکہ امید بھی کمزور ہونے لگتی ہے۔

مہنگائی اورغربت کی وجہ سے جب بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں توپھراچھے بھلے انسانوں کی توجہ بھی تعلیم، صحت، تہذیب اور ترقی سے ہٹ کر صرف زندہ رہنے کی جدوجہد تک محدود ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مہنگائی کوصرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ اسے ایک سماجی اور اخلاقی چیلنج بھی کہاجاتا ہے۔ حکمرانوں کے ساتھ ہم سب کویہ حقیقت جان لینی چاہئیے کہ جب انسان کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں توپھروہ سکون اور اطمینان کے ساتھ کبھی زندگی نہیں گزار سکتا۔ آج کے دور میں مہنگائی نے اس حقیقت کو ہر گھر کی کہانی بنا دیا ہے۔

آج بہت سے والدین اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر مزدور، دیہاڑی دار اور کم آمدنی والے افراد پر پڑتا ہے۔ وہ دن بھر محنت کرنے کے باوجود اپنے اہل خانہ کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل سے کر پاتے ہیں۔ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بجلی اور گیس کے بل، کرایوں میں اضافہ اور ایندھن کی مہنگی قیمتیں عوام کی پریشانیوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔

اس صورت حال نے بیروزگاری، ذہنی دباؤ اور معاشرتی بے چینی کو اس وقت معاشرے میں عام کردیا ہے۔ ماناکہ مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں آبادی میں اضافہ، بیروزگاری، بدعنوانی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، ناقص معاشی پالیسیاں اور عالمی معاشی بحران شامل ہیں لیکن ان سب کے باوجودحکمرانوں کی بے حسی اورلاپرواہی کونظراندازنہیں کیاجاسکتا، مہنگائی کے ان اکثروجوہات کا ڈائریکٹ حکمرانوں سے تعلق ہے۔ حکمرانوں کواچھی طرح اندازہ اورپتہ ہے کہ اگر ان مسائل پر قابو نہ پایا جائے تو معاشرے میں غربت اور معاشی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے لیکن اس کے باوجودوہ ان مسائل پرقابوپانے کے لئے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھارہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مؤثر معاشی پالیسیاں اختیار کرکے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرے، بھوک سے بلکنے والے غریبوں کی پہلی اورآخری امیدہی یہ حکمران ہیں، مہنگائی کایہ طوفان دراصل ہمارے حکمرانوں کاامتحان ہے۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکمران ان کے لئے کیاکرتے ہیں ویسے اب بھی اگراس طوفان کے آگے بندنہ باندھاگیاتومہنگائی کایہ جن غریبوں کے ساتھ اچھے بھلوں کوبھی نگل جائے گا۔