Sunday, 02 August 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Azad Kashmir, Nafrat Nahi Muhabbat

Azad Kashmir, Nafrat Nahi Muhabbat

آزاد کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، سیاسی اہمیت اور باشعور عوام کے باعث ہمیشہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے، پاکستان کے عوام اورحکمرانوں نے ہمیشہ اپنے سے زیادہ اس کشمیراوریہاں کے عوام سے پیارکیا۔ پاکستان کابچہ بچہ جس طرح کشمیرپرجان نچھاورکرنے کے لئے تیارہے اسی طرح یہ آزادکشمیرکی فلاح، ترقی اورعوام کی خوشحالی کیلئے بھی ہرقربانی دینے کوتیاررہتے ہیں۔ بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے نہ صرف ریاست کے داخلی ماحول کو متاثر کیا ہے بلکہ ایسے حالات بھی پیدا کردیئے ہیں جن سے بیرونی عناصر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جمہوریت کی روح اختلاف رائے کو تسلیم کرنے میں ہے۔ عوام کو اپنے مطالبات پیش کرنے اور پرامن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سنے، مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور ایسے فیصلے کرے جن سے اعتماد بحال ہو۔ دوسری طرف احتجاج کرنے والوں کابھی یہ فرض بنتاہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حصول کے لئے ایسا طریقہ اختیار کریں جس سے عوام کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو اور ریاستی اداروں کے ساتھ کوئی تصادم پیدا نہ ہو۔ سب کوایک بات یادرکھنی چاہئیے کہ جب بھی کسی معاشرے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ ماردھاڑاورجلاؤگھیراؤمیں سب سے پہلانشانہ ہی عام شہری بنتاہے۔

احتجاج، مظاہروں اورہنگاموں میں عام شہریوں کانشانہ بننے کے ساتھ ان کے معمولات زندگی بھی بری طرح متاثراورتباہ ہوتے ہیں۔ کشیدگی سے بازار ویران، تعلیمی سرگرمیاں معطل اور سرمایہ کاری رک جاتی ہے جس کے باعث روزگار کے مواقع پھر محدود ہونے لگتے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو اختلافات کی شدت میں اضافہ ہونے پر پوری قوم اورنسل ادا کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسائل طاقت اورزورزبردستی کے استعمال سے وقتی طور پر دب تو سکتے ہیں لیکن ان کا دیرپا حل کامیاب مذاکرات، مکالمے، انصاف اور باہمی اعتماد سے ہی نکلتا ہے۔

حکومت اگر عوامی شکایات کو سنجیدگی سے سنے اور احتجاجی قیادت اگر لچک اور بردباری کا مظاہرہ کرے تو بڑے سے بڑے مسئلے کوبھی خوش اسلوبی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام نے ہمیشہ وطن سے محبت، قربانی اور شعور کا ثبوت دیا ہے۔ آج بھی ضرورت اسی بات کی ہے کہ جذبات کے بجائے حکمت، اشتعال کے بجائے برداشت اور تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ یہی راستہ ریاست کے امن، عوام کے مفاد اور قومی وقار کا ضامن ہے۔ اختلافات وقتی ہو سکتے ہیں مگر قومی اتحاد اور ریاستی استحکام مستقل ترجیح رہنے چاہئیں۔ اگر ہم نے اس اصول کو سامنے رکھا تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ بیرونی پراپیگنڈے کو بھی مؤثر انداز میں ناکام بنایا جا سکے گا۔

حکومت اورمظاہرین کے درمیان کشیدگی، اختلافات، دوریوں اورغلط فہمیوں کاسب سے زیادہ نقصان ریاست کاہورہاہے کیونکہ جولوگ پہلے سے ہی ملک کے خلاف سازشی منصوبے بنانے اورپراپیگنڈے کرنے کے لئے تیاربیٹھے ہیں وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس لئے ان تمام صورتحال کا تشویشناک اورافسوسناک پہلو سوشل میڈیا پر ہونے والاوہ بے لگام پراپیگنڈا ہے جس کے ذریعے حکومت اورریاست کوظالم اورامن تباہ کرنے والوں کومظلوم بناکرپیش کیاجارہاہے۔ آج معلومات کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ ایک غیر مصدقہ خبر چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔

ملک دشمن عناصر پرانی ویڈیوز، سیاق و سباق سے ہٹ کر تصاویر اور گمراہ کن بیانیے پھیلا کر حالات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ توسب جانتے ہیں کہ ملک کے دشمنوں کو ہمیشہ ایسے مواقع کی تلاش رہتی ہے جہاں وہ داخلی اختلافات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرسکیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں، گمراہ کن ویڈیوز، پرانی تصاویر اور سیاق و سباق سے ہٹ کر معلومات پھیلا کر عوام میں اشتعال پیدا کرنایہی تودشمن کی سب سے بڑی خواہش اورآرزوہے۔ ایسے پراپیگنڈے کا مقصد نہ صرف عوام کو تقسیم کرنا ہوتا ہے بلکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا منفی تاثردنیاکے سامنے پیش کرنا ہے۔

ہم مانتے ہیں کہ قومی معاملات پر اختلاف رائے کو ملک دشمنی سے تعبیر کرنا مناسب نہیں لیکن حکمرانوں سے اختلافات کو بیرونی پراپیگنڈے اورایجنڈے کا ذریعہ بنانایہ توکسی بھی صورت جائزنہیں۔ حکمران ہوں یااحتجاج کرنے والے مظاہرین ملک وقوم کے عظیم ترمفادمیں دونوں کوایک نہیں دودوقدم پیچھے ہٹناہوگا۔ حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ عوامی تحفظ، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتے ہوئے مسائل کے حل کے لئے مذاکرات، شفافیت اور اعتماد سازی کو ترجیح دے جبکہ احتجاج کرنے والے گروہوں کو چاہیے کہ وہ پرامن اور قانونی طریقہ کار اختیار کریں تاکہ عوامی مشکلات میں اضافہ نہ ہو اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

اس وقت سب سے زیادہ ضرورت جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ ٹھنڈے دل سے سوچنے کی ہے۔ سوشل میڈیا پر آنے والی ہر خبر کو سچ مان لینے کے بجائے اس کی تصدیق کی جائے، اشتعال انگیز مواد سے اجتناب کیا جائے اور قومی معاملات پر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ اختلافات اگر مکالمے کی میز پر حل ہوں تو وہ جمہوریت کو مضبوط کرتے ہیں لیکن اگر وہ تصادم میں بدل جائیں تو اس کا فائدہ صرف وہ قوتیں اٹھاتی ہیں جو ہماری داخلی کمزوریوں سے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ آزاد کشمیر کا امن صرف وہاں کے عوام کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفاد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی قوتوں، حکومتی اداروں، سماجی تنظیموں اور عوام کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو سرخرو کرتی ہے جو اختلاف کے باوجود اتحاد کو برقرار رکھتی ہیں اور بحران کے باوجود مکالمے کا راستہ نہیں چھوڑتیں۔ آزاد کشمیر کے موجودہ حالات بھی اسی حکمت، تحمل اور قومی بصیرت کے متقاضی ہیں۔ اگر دونوں فریق وسیع تر قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے لچک، بردباری اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں تو نہ صرف موجودہ بحران ختم ہو سکتا ہے بلکہ وہ تمام پراپیگنڈے بھی اپنی موت آپ مر جائیں گے جو پاکستان اور آزاد کشمیر کے خلاف نفرت اور بداعتمادی پھیلانے کے لئے کئے جارہے ہیں۔

تاریخ کاایک سبق یہ بھی ہے کہ ریاست اور عوام کا تعلق مقابلے نہیں بلکہ اعتماد کا ہوتا ہے، جب اعتماد کمزور پڑنے لگے تو فاصلے بڑھتے ہیں اور انہی فاصلوں میں پھر وہ عناصر اپنے لئے جگہ بنا لیتے ہیں جو کبھی بھی پاکستان اور آزاد کشمیر کے خیرخواہ نہیں رہے۔ آزادکشمیرکے موجودہ حالات بحران سے زیادہ ہمارے اتحاداوراتفاق کاایک امتحان ہے۔ اس مشکل وقت اورحالات میں ہمیں ایک ہوکراس امتحان سے نکلناہوگاکیونکہ ہمارااتحادہی دشمن کاہاربنے گا۔