Friday, 06 November 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Shikast Ke Bawajood Trump Ba Ikhtiar He Rahe Ga

Shikast Ke Bawajood Trump Ba Ikhtiar He Rahe Ga

امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے لئے ہوئے انتخابات کے نتائج ری پبلکن جماعت نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کی ذات سے نفرت واکتاہٹ کا بھرپور اظہار ہیں۔ ایسا ہی واقعہ 1974ء کے برس امریکی صدر نکسن کے ساتھ ہوا تھا۔ چین کے ساتھ امریکی روابط بڑھاتے ہوئے اس نے تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔ امریکی ریاست کے دائمی ادارے مگر اس خوف میں مبتلا ہوگئے کہ وہ بطور فرد تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے "خودمختار فیصلے" لینا چاہ رہا ہے۔ اس کے خلاف گیم لگانا پڑی اور واٹر گیٹ سکینڈل ہوگیا۔ اس کی بدولت لوگوں کو یہ علم ہوا کہ اقتدار پر کامل قبضہ یقینی بنانے کے لئے نکسن سیاسی مخالفین کی گفتگو ریکارڈ کرنے کے لئے جاسوسی اداروں کو استعمال کررہا تھا۔ بالآخر اس سکینڈل کی وجہ سے اس کو مستعفی ہونا پڑا۔

نکسن کے برعکس ٹرمپ اپنی تمام تر خواہشات کے باوجود تاریخ میں امن کے پیامبر کے طورپر اپنا نام لکھوانے میں ناکام رہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ممکنہ ایٹمی جنگ روکنے کے لئے مئی 2025ء میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی دنیا کے کئی ممالک کے مابین دیرینہ قضیوں کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ انہیں گنواتے ہوئے وہ نوبل کا امن ایوارڈ حاصل کرنا چاہ رہا تھا۔ اسرائیل کو مگر غزہ میں وحشیانہ بمباری سے روک نہ سکا۔ بالآخر بذاتِ خود وینزویلا میں فوجی مداخلت کے ذریعے اس کے صدر کو برطرف کرکے اہلیہ سمیت اسے اغوا کرکے امریکہ لے آیا۔ وینزویلا کا تیل اب امریکہ کے قبضے میں ہے۔

وینزویلا کے وسائل پر قابض ہوجانے کے بعد وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اُکسانے پر رواں برس کے مارچ میں ایران پر چڑھ دوڑا۔ کئی دنوں تک جاری رہی فضائی بمباری کے باوجود مگر اہداف کے حصول میں ناکام رہا۔ بالآخر پاکستان جیسے ممالک کی وجہ سے جنگ بندی ہوئی۔ جنگ بندی کے کئی ماہ گزرجانے کے باوجود امریکہ اور ایران کے مابین دیرپا امن کا معاہدہ نہیں ہوپایا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کو خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی ترسیل تقریباََ ناممکن بنادی ہے۔ دنیا کی واحد سپرطاقت کہلانے کے باوجود امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام رہا۔ طیش میں آکر ایران کی ناکہ بندی کررکھی ہے۔ خطے میں "نہ جنگ نہ امن (No War- No Peace)" کی وجہ سے پاکستان جیسے غریب ممالک ہی نہیں خود امریکہ میں بھی تیل اور گیس کے علاوہ روزمرہ زندگی کے لیے درکار اشیائے صرف کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ ہوچکا ہے۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے امریکی شہریوں کی بے پناہ اکثریت پر نازل ہوئے مہنگائی کے عذاب نے صدر ٹرمپ کی جماعت کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا ہے۔

پاکستان کے معتبر اور مستند گردانے نشریاتی اداروں نے تاہم جس انداز میں امریکہ کے مڈٹرم انتخابات کو رپورٹ کیا ہے اس سے تاثر یہ پھیل رہا ہے کہ صدر ٹرمپ اب کاملاََ مفلوج و بے اختیار ہوجائے گا۔ ٹرمپ کا تقریباََ متعصب ناقد ہونے کے باوجود خبردار کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ اس کی بے اختیاری کا تاثر غلط ہے۔ امریکہ میں پارلیمانی نہیں صدارتی نظام حکومت ہے۔ اس کے صدرکو بے پناہ اختیارات میسر ہیں۔ پارلیمان سے منظور ہوئے قوانین کو وہ "ویٹو" کے استعمال سے ناقابل عمل بناسکتا ہے۔ اس کے ویٹو کے توڑ کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے جو ٹرمپ کے مخالفین کو میسر نہیں۔ اسی طرح اس کا مواخذہ بھی ممکن نہیں۔

امریکہ کے سیاسی نظام کو 1986ء کے برس فلیچر سکول کے ایک پروگرام کی بدولت اس ملک میں 6ماہ گزارنے کے بعد سیکھنے کی کوشش کی۔ جو سیکھا اسے ذہن میں رکھتے ہوئے توقع باندھ رہا ہوں کہ ٹرمپ کو امریکہ کے پارلیمانی اداروں میں احتساب کے نام پر براہِ راست گھسیٹنے کے بجائے 3جنوری 2027ء میں نئی پارلیمان کی تشکیل کے بعد ڈیموکریٹ پارٹی کے منتخب اراکین ٹرمپ کے بیٹوں، داماد اور قریبی دوستوں کے چلائے کاروباری اداروں کے معاملات کی چھان پھٹک کو ترجیح دیں گے۔ امریکی صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد ٹرمپ خاندان کے چلائے دھندوں نے حیران کن منافع کمایا ہے۔ ٹرمپ کے مخالف اراکینِ پارلیمان مختلف کمیٹیوں کو متحرک کرتے ہوئے مذکورہ منافع کی "حقیقی وجوہات" کا سراغ لگانا چاہیں گے۔

ٹرمپ 80برس کا ہوچکا ہے۔ عمر کے اس حصے میں غالباََ وہ اپنے بچوں، داماد اور دوستوں کو بدنام ہوتا دیکھنا نہیں چاہے گا۔ اس کی یہ بھی خواہش ہوگی کہ وہ انہیں پارلیمانی احتساب سے تحفظ دلاسکے۔ بیٹوں، داماد اور قریبی دوستوں کے تحفظ کی خاطر وہ ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکینِ پارلیمان کے ساتھ مل کر ایسے قوانین کی تیاری اور ان پر عملدرآمد کو آمادہ ہوسکتا ہے جو مہنگائی کے سیلاب کے آگے بند باندھ سکیں۔ مڈٹرم انتخابات کے نتائج آجانے کے بعد اس نے ویٹو کے استعمال کی تڑی ایک دو بار ہی لگائی۔ اکثر بیانات میں انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے نئی پارلیمان کے ساتھ مل کر حکومتی معاملات چلانے کی خواہش کا ا ظہار کیا۔ دیکھنا ہوگا کہ "تاریخی فتح" کے حصول کے بعد ڈیموکریٹ جماعت والے فراخ دلی اختیار کرنا چاہیں گے یا نہیں۔ ٹرمپ کے ساتھ مل کر عام امریکی شہری کی مشکلات میں کمی لانے کے بجائے ٹرمپ کے بیٹوں، داماد اور قریبی دوستوں کو احتساب کے شکنجے میں جکڑنے کی خواہش صدر ٹرمپ کو دیوار سے لگاتی محسوس ہوگی۔ ٹرمپ اس سے گھبرا کر ایران کے خلاف بھرپور جنگ کا ایک اور حملہ بھی کرسکتا ہے۔

ٹرمپ کو بے بس ولاچار محسوس کرنے والوں کو یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنا ہوگی کہ وسط مدتی انتخاب کی بدولت جو اراکین منتخب ہوئے ہیں وہ اپنے عہدوں کا حلف اگلے برس کی 3جنوری کے روز اٹھائیں گے۔ رواں مہینے کی 9تاریخ کو پرانے اراکین ہی دوبارہ ملیں گے اور دسمبر کے اختتام تک انہیں قانون سازی کے کامل اختیارات میسر رہیں گے۔ ٹرمپ اور اس کے قریبی ساتھیوں نے اگر محسوس کیا کہ ڈیموکریٹ جماعت انہیں دیوار سے لگانے کو تلی بیٹھی ہے تو اس کی پیش بندی کیلئے نومبر کی 9تاریخ سے شروع ہونے والے پارلیمانی اجلاسوں کے دوران موجودہ کانگریس ہی سے ایسے قانون عجلت میں منظور کروائے جاسکتے ہیں جن کا مقصد امریکہ میں مقیم تارکینِ وطن کی زندگیوں کو مزید اجیرن بنانا ہوگا۔ امریکہ میں دیگر ممالک کے شہریوں کی آمد کو بھی سخت گیر اقدامات کے ذریعے روکا جاسکتا ہے۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ کو پارلیمانی احتساب سے بچانے کے لئے بھی چند حربے متعارف کروائے جاسکتے ہیں۔

امریکہ کے سیاسی نظام کی حرکیات تقاضا کرتی ہیں کہ حال ہی میں منعقد ہوئے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے۔ ان کے نتائج امریکہ ہی نہیں پورے عالم کے لئے کئی حوالوں سے مثبت وحیران کن ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمپ کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکا تصور نہ کریں۔ وہ آئندہ برس تک اپنے ملک کا بااختیار صد ر رہے گا۔ ربّ کریم سے فقط یہ دعا مانگیں کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے دل میں نرمی لائے اور خلقِ خدا کو مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھنے سے اجتناب برتے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.