پاکستان جب سے معرضِ وجود میں آیا ہے، اسے بے شمار داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ کبھی معاشی مشکلات نے اس کی راہ روکی، کبھی سیاسی عدم استحکام نے قومی ترقی کو متاثر کیا اور کبھی دہشت گردی و انتہا پسندی نے امن کو نقصان پہنچایا۔ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین پر ایسے غیر معمولی انسان بھی پیدا کیے جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ حکیم محمد سعید، عبدالستار ایدھی اور ان جیسے بے شمار لوگ ہماری قومی تاریخ کے روشن کردار ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ قوموں کی اصل عظمت ان کے وسائل اور اقتدار کے ایوانوں میں نہیں بلکہ ان انسانوں میں ہوتی ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں اور اپنی زندگی دوسروں کی آسانیوں کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔
اسی روشن انسانی روایت کا ایک قابلِ قدر تسلسل برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن (Birth Defects Foundation) کے چیئرمین ڈاکٹر انصر جاوید کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ انہوں نے ایک ایسے شعبے میں اپنی جدوجہد مرکوز کی ہے جس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں آج بھی معلومات کی کمی، سماجی خوف، شرمندگی اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ پیدائشی جنسی نشوونما کے مسائل سے متاثرہ افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانا ایک غیر معمولی انسانی خدمت ہے۔ ہمارے ہاں بعض والدین اپنے بچوں کی غیر معمولی جسمانی کیفیت کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ کس ڈاکٹر سے رجوع کریں اور علاج کہاں ممکن ہے۔ نتیجتاً بعض خاندان مسائل چھپاتے رہتے ہیں، بروقت طبی معائنہ نہیں کرواتے اور بچے احساسِ محرومی اور سماجی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بنیادی طبی حقیقت سمجھنا ضروری ہے۔ انٹرسیکس (Intersex) اور ٹرانس جینڈر (Transgender) دو الگ اصطلاحات ہیں۔ انٹرسیکس ان افراد کے لیے استعمال ہوتی ہے جن میں پیدائش سے ہی جنسی جسمانی خصوصیات، کروموسومز، ہارمونز یا تولیدی اعضا کی نشوونما عمومی مردانہ یا زنانہ نمونوں سے مختلف ہو سکتی ہے۔ جدید طب میں ان کی بعض کیفیات کو جنسی نشوونما کے اختلافات (Differences of Sex Development) کہا جاتا ہے۔ ان میں سے متعدد کیفیات کی تشخیص، ہارمونل علاج اور بعض صورتوں میں اصلاحی سرجری ممکن ہے۔ تاہم ہر مریض کی کیفیت مختلف ہوتی ہے اور علاج کا فیصلہ مستند طبی معائنے کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔
دوسری طرف ٹرانس جینڈر کی اصطلاح بنیادی طور پر صنفی شناخت سے متعلق ہے، نہ کہ لازماً کسی پیدائشی جسمانی نقص سے۔ کسی شخص کی صنفی شناخت اور پیدائش کے وقت متعین کی گئی جنس میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے ٹرانس جینڈر افراد کو انٹرسیکس سمجھنا یا ان کی شناخت کو پیدائشی جسمانی نقص قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔ اسی طرح ہر ٹرانس جینڈر فرد کے لیے سرجری یا ہارمونل علاج کو لازمی یا شناخت کی تبدیلی کا طریقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے افراد کو ضرورت کے مطابق مستند نفسیاتی رہنمائی، خاندانی تعاون اور مناسب طبی مشاورت فراہم کرنا ضروری ہے۔ انٹرسیکس بچوں کے معاملے میں بھی سرجری کا فیصلہ جلد بازی یا معاشرتی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ بچے کی صحت، طبی ضرورت، مستقبل کے مفادات اور مناسب رضامندی کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر انصر جاوید اور ان کی ٹیم کی کوششوں کا اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کو خاموشی اور سماجی تعصب کے دائرے سے نکال کر طبی اور انسانی خدمت کا موضوع بنایا ہے۔ برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے مطابق ادارہ انٹرسیکس اور پیدائشی جنسی نشوونما کے مسائل سے متاثرہ افراد کو مفت طبی معائنہ، اصلاحی سرجری، ضرورت کے مطابق ہارمونل ادویات اور نفسیاتی مشاورت فراہم کر رہا ہے۔ ادارے کے مطابق اس شعبے میں سینکڑوں افراد کا علاج کیا جا چکا ہے۔ بعض مریضوں کو طویل المدت بلکہ تاحیات ادویات کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو سمیت دیگر پیدائشی نقائص کے علاج میں بھی سرگرم عمل ہے۔ یہ خدمات ان خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہیں جو مالی وسائل کی کمی کے باعث اپنے بچوں کا علاج نہیں کروا سکتے۔
اس ضمن میں اسلامی نظریاتی کونسل کی 242ویں نشست سے متعلق فاؤنڈیشن کی فراہم کردہ معلومات بھی اہمیت رکھتی ہیں، جن کے مطابق انٹرسیکس افراد کے پیدائشی طبی مسائل کی اصلاح کے لیے طبی ضرورت کے تحت اصلاحی سرجری کی اجازت سے متعلق قرارداد منظور کی گئی۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ پیدائشی جسمانی مسئلے کا علاج انسانی وقار اور دینی اقدار کے منافی نہیں۔ اسلام انسانی جان، صحت، عزت اور تکریم کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ بیماری کا علاج کروانا اور جسمانی مسائل سے متاثرہ انسانوں کی مدد کرنا ایک قابلِ تحسین عمل ہے۔ تاہم مذہبی رہنمائی اور طبی فیصلوں میں مستند ماہرین کی رائے اور مریض کے بہترین مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔
ڈاکٹر انصر جاوید کی جدوجہد کا ایک اور اہم پہلو نفسیاتی بحالی اور خاندانی رہنمائی ہے۔ کسی بچے کی زندگی صرف آپریشن یا دوا سے تبدیل نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک ایسا خاندان، تعلیمی ماحول اور معاشرہ بھی درکار ہوتا ہے جو اسے عزت اور اعتماد کے ساتھ قبول کرے۔ والدین کو سمجھنا چاہیے کہ پیدائشی طبی مسئلے کی وجہ سے ان کا بچہ کسی شرمندگی کا باعث نہیں۔ اسے چھپانے یا اس سے فاصلہ اختیار کرنے کے بجائے بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی طرف بڑھنا چاہیے۔ بچے کی شخصیت اور ذہنی نشوونما کے لیے محبت، تحفظ اور قبولیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں صحت کی سہولتیں ہر شہری کی پہنچ میں نہیں۔ غریب خاندانوں کے لیے مہنگے ٹیسٹ، ماہر سرجنز کی خدمات اور طویل المدت علاج کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں فلاحی ادارے ریاستی نظامِ صحت کے لیے اہم معاون کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، نجی طبی ادارے، جامعات، ماہرینِ نفسیات اور سماجی تنظیمیں مل کر ایسا مربوط نظام تشکیل دیں جس میں پیدائش کے بعد ضروری طبی معائنے، درست تشخیص، والدین کی رہنمائی اور علاج کی سہولت میسر ہو۔ میڈیکل کالجوں میں بھی اس موضوع پر جدید تحقیق اور تربیت کو فروغ دینا چاہیے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بچے کا مستقبل صرف اس کی جسمانی کیفیت سے طے نہیں ہوتا بلکہ خاندان اور معاشرے کا رویہ بھی اس میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ کسی بھی غیر معمولی جسمانی کیفیت کی صورت میں مستند ماہرین سے رجوع کریں اور غیر مستند علاج یا معاشرتی دباؤ میں آ کر کوئی ناقابلِ واپسی فیصلہ نہ کریں۔ معلومات کی کمی کو علم، خوف کو اعتماد اور تعصب کو انسان دوستی سے بدلنا ہوگا۔
پاکستان کو آج بھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔ حکیم محمد سعید نے علم اور صحت کی خدمت کو مقصد بنایا، عبدالستار ایدھی نے بے سہارا انسانوں کو اپنی آغوش میں جگہ دی اور ڈاکٹر انصر جاوید جیسے لوگ پیدائشی طبی مسائل سے متاثرہ بچوں اور خاندانوں کے لیے امید اور سہارا بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان شخصیات کے کردار میں ایک مشترک قدر موجود ہے اور وہ ہے انسان سے محبت۔ ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور ان کے کام کو انفرادی کوشش کے بجائے قومی ذمہ داری بنانا چاہیے۔
میرا یقین ہے کہ کسی قوم کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے کمزور ترین شہری کو بھی علاج، تعلیم اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں کوئی بچہ اپنے پیدائشی مسئلے کی وجہ سے تنہا نہ ہو، کوئی والدین اپنے بچے کے علاج کے لیے بے بس نہ ہوں اور کوئی انسان اپنی جسمانی کیفیت یا شناخت کی وجہ سے تحقیر کا سامنا نہ کرے۔ یہی انسانیت ہے، یہی ہماری دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے اور یہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔