Friday, 14 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Shahbaz Sharif Ka March 1990 Ho Chuka Ya Nahi?

Shahbaz Sharif Ka March 1990 Ho Chuka Ya Nahi?

دوسرے تک اپنے خیالات پہنچانے والے ذرائع ابلاغ اور ان کی حرکیات کا بغور مطالعہ کرنے والے سماجی علوم کے مختلف ماہرین کے ساتھ مل کر ان دنوں یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ سوشل میڈیا کے اب تک متعارف ہوئے پلیٹ فارموں کے نتیجے میں انسان معاشرتی زندگی کے سنگین مسائل پر سنجیدہ غوروفکرکے بالآخر قابل رہ پائے گا یا نہیں۔ مذکورہ سوال کا جواب ابھی تک حوصلہ شکن مل رہا ہے۔ مصنوعی یا صنعتی ذہانت کی دریافت بلکہ ذہنِ انسانی کے مزید "کاہل" ہوجانے کا خوف اجاگر کرنا شروع ہوگئی ہے۔

فلسفے کا نصابی طالب علم رہا ہوں۔ اس مضمون کا مگر ڈگری لینے کے لئے ہی استعمال کیا تھا۔ تعلیم "مکمل" ہوتے ہی صحافت کل وقتی پیشے کے طورپر اپنالی۔ اس نے کئی دہائیوں تک ضرورت سے زیادہ عزت، تھوڑی شہرت اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے والی آمدنی کے قابل بنادیا۔ زندگی ان تینوں کے ساتھ یوں ہی گزرہی جاتی مگر 2011ء سے ایک کرشمہ ساز شخصیت کی بنائی جماعت نے سوشل میڈیا پر کامل اجارہ قائم کرلیا۔ فیس بک اور ٹویٹر پاکستان کو غلامی اور تباہی کے گرداب میں دھکیلنے والے کرداروں کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہوگئے۔ ان کی بدولت مجھے علم ہوا کہ سکول سے کالج داخلے کے وقفے کے دوران "انقلابی" ہوا یہ خاکسار "لفافہ" ہے۔ حکمرانوں سے "ٹوکریاں " وصول کرنے کے علاوہ پراپرٹی کے دھندے سے مشہور ہوئے ایک سیٹھ سے قیمتی پلاٹ اور لاکھوں روپے بھی وصول کرچکا ہے۔ "کاش، " کی تمنا کے ساتھ دل ٹوٹ گیا۔ ڈھیٹ ہڈی نے مگر جلد ہی خود کو سنبھال لیا۔

آواز سگاں سے گھبرا کر گوشہ نشینی اختیار کرنا میرے بس میں نہیں۔ زندہ رہنے کے لئے صحافت کے سوا کسی اور ہنر سے آگاہ ہی نہیں۔ اس حوالے سے "چکی کی مشقت" جاری رکھنا ضروری ہے۔ میری ڈھٹائی سے اکتاکر سوشل میڈیا کے تلنگے بتدریج مجھے بھلاناشروع ہوگئے۔ گزشتہ چند دنوں سے مگر انہیں دوبارہ یاد آنا شروع ہوگیا ہوں۔ وجہ اس کی وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب کا سیٹھوں کی جانب سے ملک سنوارنے کے ذرائع ڈھونڈنے کے لئے نہایت اہتمام سے منعقد ہوئی تقریب کے خطاب سے تھا۔ مذکورہ خطاب کی بدولت نقوی صاحب نے لگی لپٹی رکھے بغیر پیغام دیا کہ حکومتی بندوبست -جس کا وہ خود بھی اہم اور طاقتور حصہ ہیں۔ گل سڑچکا ہے۔ اسے ری سیٹ کرنا ہوگا۔

نقوی صاحب کے خطاب کو طاقتور حلقوں کی جانب سے آئی "وارننگ" تصور کرتے ہوئے ریگولر اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی ذہن سازی میں مصروف بقراط نئے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹوں کی افادیت اجاگر کرنا شروع ہوگئے۔ مکدی گل کرنے والوں نے ایسی مشقت سے پرہیز کیا۔ لڈیاں ڈالتے یہ دعویٰ کرنا شروع ہوگئے کہ شہباز حکومت کو بستر لپیٹنے کا پیغام نقوی صاحب کی تقریر کے ذریعے پہنچادیا گیا ہے۔ چند ہی دنوں میں نقوی صاحب نے مگر اپنی پسند کے دو صحافیوں کے ساتھ "سرِ راہ" گفتگو کرتے ہوئے مضطرب دلوں کو یہ کہتے ہوئے تسلی دی کہ شہباز حکومت کہیں نہیں جارہی۔ آئینی مدت پوری کرے گی۔

نقوی صاحب کے سنسنی پھیلادینے والے خطاب پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے میں نے گریز کیا۔ اس کے بجائے مئی 1988ء سے اپریل 2022ء تک مختلف حکومتوں کی فراغت کو نہایت قریب سے دیکھ کر رپورٹ کرتے ہوئے مشاہدات کی بدولت چند بنیادی نکات پر توجہ دلانے کی کوشش کی۔ متعدد کالم مذکورہ نکات کو ذاتی مشاہدات کے تفصیلی ذکرکے ساتھ بیان کرنے کی نذر کردئے۔

بنیادی پیغام تھا کہ وطن عزیز میں "گلے سڑے نظام" کو "ری سیٹ" کرنے کی خواہش نئی نہیں۔ 1958ء میں جنرل ایوب خان کے لائے "انقلاب" کا جواز ہی "ری سیٹ" بتایا گیا تھا۔ جنرل ضیاء ملک میں "خانہ جنگی" رکوانے کے نام پر اقتدار میں آئے تھے۔ اقتدار مستحکم کرتے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دلوائی۔ ضلعی حکومتوں کے ذریعے لوگوں کے گھروں تک حکومتی خدمات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ بعدازاں مغربی جمہوریت کا "اسلامی متبادل"تلاش کرنا شروع ہوگئے۔ اس جانب مگر کامل توجہ نہ دے پائے۔

دسمبر1979ء میں سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو وہ امریکہ اور یورپ کے "اہل کتاب" کے ساتھ مل کر "افغان جہاد" کی سرپرستی میں مصروف ہوگئے۔ جنرل مشرف بھی مرتے دم تک مصر رہے کہ وہ اقتدار سنبھالنا نہیں چاہ رہے تھے۔ نواز شریف کی جانب سے ان کی سری لنکا سے پاکستان آتی پرواز کے دوران برطرفی نے مگر انہیں 12اکتوبر 1999ئکے روز اقتدار سنبھالنے کو مجبور کردیا۔ اقتدار سنبھالا تو احساس ہوا کہ وطن عزیز کو "قومی تعمیر نو" کی ضرورت ہے۔ اسے فراہم کرنے کی تگ و دو میں لگے تھے کہ نائن الیون ہوگیا اور افغانستان سے "دہشت گردوں " کا صفایا "افغان جہاد" کے سابق پشت پناہوں کے لئے لازمی ہوگیا۔

مذکورہ نکتے پر توجہ دلانے کے بعد اس نکتے کو اجاگر کرنا بھی ضروری سمجھا کہ حکومتیں "اچانک" فارغ نہیں ہوا کرتیں۔ ان کی رخصت کی تیاری میں کئی ماہ صرف ہوجاتے ہیں۔ حکمرانی کے خمارمیں طاقتور عہدوں پر براجمان افراد مگر اپنے خلاف پکتی ہانڈی کی خوشبو سونگھنے کی حس سے محروم نظر آتے رہے ہیں۔ مذکورہ نکتے پر مزید توجہ دلانے کے لئے 6اگست 1990ء کے دن محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی فراغت سے مختص ذہن میں موجود چند یادوں کو بیان کردیا۔

نقوی صاحب کے خطاب پر "ایہہ منظور تے ایہہ نا منظور" والا رویہ اختیار کرنے کے بجائے اس کے اسباب اور مضمرات پر توجہ نے یک سطری جوابات کے منتظر سوشل میڈیائی تلنگوں کو مشتعل بنادیا۔ نقوی صاحب کے خطاب کے بعد لکھے کالم سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوتے ہی ان کا ایک گروہ اس بزدل اور بکا? صحافی کو حق سچ بیان کرنے سے گریز کے طعنے دینا شروع کردیتا۔ ستر برس سے بڑی عمر والے قائدکے عاشقان "بڈھے لفافی" کو ریٹائر ہونے کے مشورے بھی دینے لگے۔ چند تلنگوں کی اس حوالے سے استعمال ہوئی زبان نے اکثر مجھے یہ سوچنے کو مجبور کردیا کہ شاید انہوں نے اپنے بوڑھے والد کو ناکارہ تصور کرتے ہوئے کُچلا دے کر دنیا سے رخصت کردیا ہوگا۔

غوغائے رقیباں مگر اس ڈھیٹ ہڈی کو نقوی صاحب کی زبانی دئے "ری سیٹ" والے پیغام کو نظرانداز کرنے کو مجبور کر نہیں سکتا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی فراغت کا تذکرہ کرتے ہوئے میں نے فروری 1989ء میں سوویت افواج کی افغانستان سے رخصت کا ذکر کیا تھا۔ سردجنگ میں امریکہ کا حریف کمیونسٹ روس افغانستان سے دم دباکر رخصت ہوگیا تو افغان مجاہدین کو حریت پسندی کی علامات ٹھہراتے امریکہ کو یہ مجاہد "دہشت گرد" نظر آنے لگے۔ پاکستان کے افغانستان کی "آزادی" میں کردار کو سراہنے کے بجائے اسلام آباد واشنگٹن کی نگاہ میں مارچ 1990ء تک یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے "ریڈ لائن کراس" کرچکا تھا۔ اسے باز رکھنے کے لئے ان دنوں امریکی صدر کے قومی سلامتی کے امور کے بارے میں نائب معاون -رابرٹ گیٹس- ہنگامی دورے پر اسلام آباد آیا۔ اس کی آمد کا مقصد بھانپ کر محترمہ بیرون ملک روانہ ہوگئیں۔ ان کی عدم موجودگی میں رابرٹ گیٹس کو صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف مرزا اسلم بیگ سے ملاقاتیں کرنا پڑیں۔ مختصر الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو عملی اعتبار سے مارچ 1990ء ہی میں فارغ ہوگئی تھیں۔ اس کا رسمی اعلان اگرچہ اگست 1990ء میں ہوا۔ اس جانب توجہ دلاتے ہوئے یہ خاکسار محض یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ شہباز شریف صاحب کا "مارچ 1990" ہوچکا ہے یا نہیں۔ اگرہوچکا ہے تو ہمیں اس کی خبر کیوں نہ ہوئی؟

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.