Wednesday, 29 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Reaya Ke Kashkol Mein Phenka Hukumat Ka Aik Rupiya

Reaya Ke Kashkol Mein Phenka Hukumat Ka Aik Rupiya

تاریخ میں بیان کردہ کئی سفاک بادشاہوں کی طرح میرے اور آپ کے ووٹ سے اقتدار میں آنے کی دعوے دار حکومت ہم رعایا کو بھکاریوں کی طرح ذلیل وخوار کرنا شروع ہوگئی ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں نہایت ہوشیاری سے ہمارے ذہنوں کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کو تیار کیا گیا۔ علم معاشیات کی ناقابل فہم اصطلاحات سے ہمیں یہ سمجھایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی ہر پندرہ دنوں کے بعد قیمتیں تعین کرنے کا رحجان صارف کو نہیں ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ عالمی منڈی کے رحجانات دیکھتے ہوئے ذخیرہ اندوز اوسط ضرورت سے کہیں زیادہ خام تیل درآمد کرلیتے ہیں۔ ساتھ ہی دیگر ممالک کی ریفائنریوں میں صاف کیا پٹرول بھی خرید کر تیل بردار جہازوں میں ہماری بندرگاہوں کے قریب کھڑا کردیا جاتا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ ہوتے ہی ذخیرہ ہوا پٹرول اور ڈیزل بازار میں پھینک کر راتوں رات بے پناہ منافع کمالیا جاتا ہے۔

دنیا بھر کو تیل اور گیس کا 20فی صد فراہم کرنے والے خلیجی ممالک اپنی برآمدات کے لئے ایران کے ساحلوں کو چھوتی آبنائے ہرمز پر انحصارکو مجبور ہیں۔ کئی منڈیوں سے عالمی تجارت کے لئے کھلی رہی اس آبنائے کو مگر مارچ کے آغاز میں ایران اور اسرائیل کے حملے نے متنازعہ بنادیا۔ ایران دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کے آگے سرنگوں ہونے کے بجائے مذکورہ حملے کی مزاحمت کی بدولت آبنائے ہرمز کی راہداری پر کامل اختیار کا حامل ہوگیا۔ اس کی مذکورہ راہ گزر پر اجارہ داری امریکہ ہی نہیں خلیج کے کئی ممالک کو بھی قبول نہ تھی۔ تیل بردار جہازوں کی انشورنس کرنے والی کمپنیوں نے بھی نرخ کئی گنا بڑھادئے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کے حوالے سے بے یقینی پھیل گئی۔ مذکورہ بے یقینی کا ذخیرہ اندوز منافع خور فائدہ اٹھانے کو بے چین تھے۔ انہیں "ناجائز منافع" سے روکنے کے لئے حکومت نے طلب ورسد کی منطق کو بروئے کار لاتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کو روزانہ طے کرنے فیصلہ کرلیا۔

کاش وزیر اعظم کے دفتر سے کوئی ذمہ دار اور صاحب علم اس "خبر" کو جھٹلادے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ طے کرنے کافیصلہ ہوگیا تو وزیر اعظم شہباز شریف کی یہ خواہش تھی کہ تین وزراء اکٹھے بیٹھ کر صحافیوں کے روبرو مذکورہ فیصلے کا اعلان کریں۔ قیمتوں کے روزانہ تعین کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں جو خدشات ہیں ان پر مبنی سوالات کے ٹی وی پر براہ راست دکھائی پریس کانفرنس میں تسلی بخش اور تفصیلی جوابات فراہم کریں۔ قیمتوں کو روزانہ طے کرنے کا فیصلہ مگر جمعہ کے دن ہوا تھا اور اس روز کئی وزراء اپنے پیارے اور میرے آبائی شہر لاہور جانا پسند کرتے ہیں۔ رپورٹروں کی چخ چخ سے جند چھڑانے کے لئے پٹرولیم کے جواں سال وزیر علی پرویز ملک نے وزیر اطلاعات کو ہمراہ بٹھاکر حکومتی فیصلہ ریکارڈ کروایا۔ اسے سوا سات بجے شام ٹی وی چینلوں پر چلایا دیا گیا۔

17جولائی 2026ء سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ روزانہ طے کرنے کا اعلان ہوا تھا۔ اس وقت سے کم از کم ایک ہفتے تک پٹرولیم کی قیمت میں فقط ایک بار 35پیسے (جی ہاں پیسے روپے نہیں) کمی کا اعلان ہوا۔ بقیہ دنوں میں پٹرول کی قیمت اوسطاََ چار سے پانچ روپے روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی رہی۔ یوں محسوس ہوا کہ حکومت ہر صبح ہمیں مہنگائی کا انجکشن لگانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔

رواں ہفتے کا آغاز ہوتے ہی مگر علی پرویز ملک صاحب نے حاتم طائی کا روپ دھارنے کافیصلہ کیا۔ ہمیں خوش کرنے کو خبر سنائی کہ سعودی عرب سے پاکستان بھیجے تیل کے جہاز یمن کے باب المندب سے گزرکر بخیروعافیت پاکستان کی بندرگاہوں تک پہنچنے والے ہیں۔ موصوف نے جاہل عوام کو یہ تفصیل بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ باب المندب سے پاکستان کیلئے تیل لانے والے کتنے جہاز گزرے ہیں۔ اگر ایک جہاز بھی ہے تو وہ کتنے بیرل تیل لے کر ہماری بندرگاہوں میں سے کسی ایک پر اترے گا۔ بادشاہوں کے محلوں کی فصیل کے باہر توجہ وتسلی کی منتظر رعایا کو محض یہ جھانسہ دینا کافی تصور کیا کہ باب المندب سے جہاز گزرجانے کی وجہ سے پیر کی شام اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مناسب کمی کا اعلان ہوسکتا ہے۔

ان کا بیان منظر عام پر آنے کے چند ہی لمحوں بعد مگر حوثی ملیشیا نے اعلان کیا کہ باب المندب سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر حملہ کے بجائے اب اس کے میزائل سعودی عرب کے مشرق میں واقع تیل پیدا کرنے والی تنصیبات پر حملے کررہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا آغاز ہوتے ہی سعودی عرب نے اپنے مشرق میں پیدا ہونے والے تیل کو پائپ لائنوں کے ذریعے اپنے جنوبی شہر ینبع پہنچانا شروع کردیا تھا۔ وہاں کی بندرگاہ سے سعودی عرب کا 70فی صد تیل آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈی تک پہنچ جاتا۔ وہاں سے چلا جہاز پاکستان پہنچنے میں زیادہ سے زیادہ 8دن لگاتا ہے۔ ایران کے شہید رہبر اعلیٰ کی تدفین کے بعد مگر ایران کے حلیف حوثی ملیشیا نے "خون کا بدلہ خون" کا نعرہ بلند کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ اب باب المندب کی گزرگاہ سے بھی کوئی تیل بردار جہاز گزرنے نہیں دیا جائے گا۔

پیر کی سہ پہر مگر اپنے اہداف کو حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے مشرق تک پھیلادیا ہے۔ وفاقی کابینہ کارکن نہ ہونے کے باوجود میں دوٹکے کا رپورٹر سعودی عرب کے مشرق میں ہوئے حملوں کے بعد یہ سوچنے کومجبور ہوا کہ پیر اور منگل کی درمیانی رات ہماری سرکار مائی باپ تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کر نہیں پائے گی۔ حکومت مگر حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کا فیصلہ کرچکی تھی۔ پٹرول کی قیمت میں یکمشت ایک روپے کمی کا اعلان کردیا گیا۔ جس کمی کا اعلان ہوا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔ رعایا کو بلکہ بھکاری تصور کرتے ہوئے ان کی کشکول میں ایک روپیہ پھینک دیا گیا ہے اور میں بے بس اسے ٹھکرانے کے قابل ہی نہیں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.