Sunday, 02 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Amir Khakwani
  4. Do Eteraf Aur Teesri Khatarnak Warning

Do Eteraf Aur Teesri Khatarnak Warning

دو باتیں بالکل کلیئر اور واضح ہیں۔ ان کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ایران پر حملے میں حملہ آوروں کی زیادتی تھی، امریکہ نے غلط کیا۔ اس نے جنگ شروع کی جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ جناب سید علی خامنائی کو نشانہ بنانا ہر اعتبار سے غلط، غیر قانونی اورظلم تھا۔

دوسرا یہ کہ ایران نے بڑی بہادری، جرات اور عزیمت سے حملوں کا مقابلہ کیا۔ ان کی ٹاپ لیڈر شپ ہٹ ہوگئی، اہم کمانڈر مارے گئے، مگر پوری قوم اکھٹی ہوگئی، مستقل مزاجی سے انہوں نے مقابلہ کیا اور شکست نہیں کھائی۔

ایران نے جنگ نہیں جیتی، مگر کسی سپرپاور سے جنگ میں اگر چھوٹا اور کمزور ملک شکست نہیں کھاتا تو یہ ایک طرح سے اس کی جیت ہی ہوتی ہے۔ ایرانی عزیمت، دلیری اور قربانیوں کے جذبے کو سراہنا چاہیے۔

یہ دو باتیں اپنی جگہ درست ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ ایرانی اصل قیادت جن کے ہاتھ میں کنٹرول ہے یعنی پاسداران انہوں نے تدبر اور حکمت سے کام نہیں لیا۔ امن معاہدہ اور اس کا ایم او یو سائن ہونا ایران کی فتح اور بڑی کامیابی تھی۔ ایران نے اس میں بہت کچھ حاصل کر لیا، اسی وجہ سے دنیا بھر میں ہر جگہ پر اینٹی ایران لابی اس پر سخت پریشان اور تلملا رہی تھی۔ ان کی کوشش تھی کہ معاہدہ سبوتاژ ہوجائے۔

ایرانی ملٹری قیادت اور پاسداران نے وہی کچھ کیا جو ان کے دشمن چاہتے تھے۔

انہوں نے برداشت اور تحمل سے کام نہ لیا اور امریکہ کی جانب سے معمولی خلاف ورزی پر بھڑک کر جہازوں پر حملے شروع کر دئیے جس سے حالات بگڑتے گئے۔ ایران کو بعض چیزوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑے منظرنامے پر نظر رکھنی چاہیے، افسوس کہ سخت گیر، بے لچک اور لگتا ہے کہ خاصی حد تک عقل وفراست سے عاری پاسدارن کمانڈروں نے ایران کو ایک بہت بڑی مشکل میں لا کھڑا کیا ہے۔

اس وقت یوں لگ رہا ہے کہ امریکہ میں سخت گیر ایران مخالف لابی غالب آ رہی ہے اور ایران پر شدید ترین حملے بس شروع ہونے کو ہیں۔ ایسے حملے جو بے پناہ تباہ کن ہوں، جو پورا ایرانی انفراسٹرکچر تباہ کر دیں، ان کے بجلی پیدا کرنے والے پاور سٹیشن اڑا دئیے جائیں، ملک بھر میں بجلی نہ ہو، پانی نہ ملے، کچھ بھی نہ چل پائے اور اگر ضرورت پڑے تو آئل ریفائنریز بھی ہٹ کر دی جائیں۔

ایران جوابی حملے کرنے کی کیپسٹی رکھتا ہے مگر اس میں امریکہ اور اسرائیل کا زیادہ نقصان نہیں ہوگا۔ زیادہ نقصان عربوں کا ہوگا۔ وہاں آگ لگنے سے بھی مسلم ممالک ہی کا نقصان ہے۔ ایران عرب جنگ شروع ہونا کس کے مفاد میں ہے، ہر کوئی جانتا ہے۔

ایرانی قیادت مگر یہ نہیں جانتی کہ وہ اپنے تمام کارڈز کھیل لیں گے، حوثیوں کو بھی ایکٹؤ کر لیں گے، بحیرہ احمد کے راستے بند ہوجائیں گے جبکہ ایران خود ہی آبنائے ہرمذ بند کر دے گا۔ عراق میں موجود ایرانی گروپ، لبنان کی حزب اللہ وغیرہ سب ایکٹؤ ہوجائیں، اس سے آگ پھیل تو جائے گی، مگر اس کی شدت سے سب سے زیادہ ایران خود ہی متاثر ہوگا اور اس کی پراکسیز بھی تباہی کی طرف جائیں گی۔

ایرانیوں کو نجانے کیوں یہ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ دنیا بھر میں تنہا ہو چکے ہیں، ان کی مدد کے لئے شائد روس، چین بھی نہیں آپائے گا، دراصل سب یہ سمجھ چکے ہیں کہ سخت گیر ایرانی ملٹری قیادت کو معقول سبق سکھانا بڑا ضروری ہے تاکہ یہ بندے کے پتر بن کر امن معاہدے کی طرف آئیں۔

تباہی بڑھے گے، آگ پھیلے گی، مگر اس کے نتیجے میں پھر ایران بھی تباہ ہوجائےگا، اس کی پراکسیز بھی تباہ ہوجائیں، ایران کی ملٹری کیپیسٹی پھر ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی کوشش ہوگی، معمولی سی مزاحمت کی قوت بھی باقی نہیں رہنے دی جائے گی۔ جنگ پھر اپنی انتہائی شکل پر جا سکتی ہے۔ اس حد تک جس کا شائد تصور کرنا بھی اس وقت محال ہے۔

میں یہ وہ باتیں کر رہا ہوں جو گھنٹوں کے امریکی، یورپی اخبارات کے مطالعے، تھنک ٹینکس کے تجزیوں اور اہم تجزیہ کاروں کی آرا سننے کے بعد اخذ کی ہیں۔

بہترین راستہ یہی ہے کہ اب بھی اگر پانچ سات فی صد چانس ہے تب بھی اس آل آوٹ وار کو روکا جائے۔ شدید جنگ اور خوفناک تباہی کو روکنے کی کوشش کرنا ہوگا اور یہ ایران خود ہی کر سکتا ہے۔ اس نے اپنے ثالثوں کو بھی پریشان اور رسوا کرایا ہے۔ اب اس کی مدد کرنے والے بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں اور سب تماشا دیکھ رہےہیں کہ اس کے ساتھ اب کچھ ہونا چاہیے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذاکرات ختم ہوگئے، نہیں کچھ نہ کچھ کوشش اب بھی ہو رہی ہے، یہ مغربی سورسز بھی مان رہے ہیں، مگر امکانات ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ کم ہو رہے ہیں۔

اللہ رحم کرے۔ مجھے تو یہ لگ رہا ہے کہ ایران نے اپنی تباہی کو خود دعوت دی ہے۔ پاسداران کے احمق، بے عقل اور جنونی کمانڈروں کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے۔ کاش ایرانی سیاسی قیادت کو حل نکالنے دیں تو اب بھی بہت کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔ کاش ایسا ہوپائے۔