Friday, 04 September 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Qadir Khan Yousafzai
  4. Seyahat Ki Mandi Aur Hamari Intezami Qalabaziyan

Seyahat Ki Mandi Aur Hamari Intezami Qalabaziyan

اسلام آباد کی طویل اور اکثر بے حس راہداریوں میں جب خوشحالی، زرمبادلہ یا معاشی بحالی کا ذکر چھڑتا ہے تو فائلوں کی گرد میں دبے منصوبوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ لیکن قراقرم کی بلندیوں، ہنزہ کی وادیوں، گلگت کے بازاروں، سوات کی سڑکوں اور مکران کے ساحلوں تک جائیں تو ایک مختلف پاکستان نظر آتا ہے۔ یہاں سیاحت محض تفریح نہیں۔ یہ روزگار، مقامی نقل و حمل، رہائش، خوراک، دستکاری اور علاقائی شناخت کی معیشت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ سکیورٹی خدشات، سفارتی تنہائی، سرمایہ کاری کی کمی اور بیرونی دنیا میں منفی تاثر سے دوچار ملک کے لیے سیاحت ایک قابلِ عمل معاشی راستہ بن سکتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس دنیا کے بلند ترین پہاڑ، مذہبی ورثہ، قدیم تہذیبیں، متنوع ثقافتیں، برف پوش وادیاں اور طویل ساحلی پٹی موجود ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں ایک منظم، محفوظ، منصفانہ اور ماحول دوست معاشی نظام میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے دنیا کے لیے اپنے دروازے نسبتاً زیادہ کھولنے کی کوشش کی۔ ویزا پالیسیوں میں نرمی، "برانڈ پاکستان"کی گفتگو، شمالی علاقوں کی ڈیجیٹل تشہیر اور جیو اکنامکس کا بیانیہ اسی سمت کے اشارے تھے۔ اگست 2024 میں 126 ممالک اور خطوں کے شہریوں کے لیے مفت ویزا پریئر ٹو ارائیول، یا وی پی اے، کی سہولت کا اعلان بھی اسی پالیسی کا حصہ تھا۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ پاکستان کاروبار اور سیاحت کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بننا چاہتا ہے۔ تاہم وی پی اے اور ای ویزا ایک ہی چیز نہیں، دونوں کی انتظامی نوعیت الگ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے سیاحت کو قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا ہے، یا چند وادیوں، تصویروں اور عارضی پالیسی اعلانات کو ترقی کا متبادل سمجھ لیا ہے؟ محض ویزا کی شرائط آسان کرنا، سوشل میڈیا پر مناظر دکھانا یا سیاحوں کے ہجوم کو کامیابی قرار دینا کافی نہیں۔ سیاحت تبھی پائیدار معاشی شعبہ بنتی ہے جب ریاست آمد و رفت، رہائش، صفائی، صحت، موسم، سکیورٹی، ریسکیو، تعمیرات، مقامی معیشت اور ماحولیات کو ایک مربوط نظام میں دیکھے۔ بصورتِ دیگر سیاحت ترقی نہیں، قدرتی حسن کے بے ہنگم استعمال کا نام بن جاتی ہے۔

ایک نجی مارکیٹ ریسرچ ادارے کے اندازے کے مطابق پاکستان کی ٹریول اینڈ ٹورازم مارکیٹ 2026 میں تقریباً 4.91 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے اور 2031 تک 8.31 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہ امید افزا اعداد ہیں، مگر یہ سرکاری زرمبادلہ آمدن یا بیرونی سیاحوں سے ہونے والی براہِ راست کمائی کا قطعی پیمانہ نہیں، بلکہ مارکیٹ کے حجم اور ممکنہ نمو کی نجی پیش گوئی ہے۔ عوامی طور پر دستیاب، مکمل اور بین الاقوامی طور پر قابلِ تقابل سالانہ اعداد کی بنیاد پر یہ بات ثابت نہیں کی جا سکتی۔ غیر ملکی آمد میں کاروباری مسافر، بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، مذہبی زائرین اور خاندانی ملاقات کے لیے آنے والے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ہر غیر ملکی آمد سیاحت نہیں اور ہر ویزا منظوری حقیقی سفر نہیں ہوتی۔

اصل سوال یہ ہے کہ اس آمدن سے فائدہ کس کو ہوتا ہے۔ ہوٹل، جیپ ڈرائیور، ٹرانسپورٹر، چھوٹے ریستوران، گائیڈز، پورٹرز، ہوم اسٹے، دکاندار اور دستکاری سے وابستہ افراد سیاحت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر منافع بیرونی سرمایہ کاروں، بڑے ہوٹل مالکان اور زمین کے کاروبار سے وابستہ لوگوں تک محدود ہو جائے، مقامی زمین مہنگی ہو، پانی اور سڑکوں پر دباؤ بڑھے اور نوجوانوں کو کم اجرت کی ملازمتوں تک محدود کر دیا جائے تو یہ ترقی نہیں بلکہ معاشی بیگانگی کا آغاز ہوگا۔ سیاحت کی کامیابی کو گاڑیوں اور ہجوم سے نہیں ناپنا چاہیے۔ پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنے مقامی گھرانوں کی آمدن بڑھی، خواتین کتنی شریک ہوئیں، کتنے نوجوان ہنرمند گائیڈ یا کاروباری بنے، کتنے ہوم اسٹے مقامی ملکیت میں رہے اور ماحول کے تحفظ پر کتنا خرچ ہوا۔ سیاحوں کے واپس جانے کے بعد اگر پانی، جنگل، جھیل، سڑک اور سماجی سکون بدتر حالت میں ہوں تو ہجوم خوشحالی نہیں، تباہی کی پیشگی اطلاع ہے۔

گلگت بلتستان، ہنزہ، سوات، کاغان اور چترال جیسے حساس علاقوں میں سیاحتی دباؤ ماحولیاتی گنجائش کا سوال پیدا کرتا ہے۔ ہر وادی، جھیل، ٹریک اور قصبے کی پانی، کچرے، پارکنگ، رہائش، نکاسی آب، جنگلات اور ہنگامی سہولیات کے اعتبار سے ایک محدود گنجائش ہوتی ہے۔ اس گنجائش سے زیادہ ہجوم ٹریفک، پلاسٹک، غیر قانونی تعمیرات، سیوریج اور پانی کے بحران کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان کی توجہ صرف پہاڑوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ بحیرہ عرب کے کنارے کنڈ ملیر، اورماڑہ، پسنی، گوادر اور سندھ کے ساحلی مقامات قدرتی حسن، مقامی ثقافت، ماہی گیری، سمندری خوراک، کشتی رانی اور ماحولیاتی سیاحت کے امکانات رکھتے ہیں۔ لیکن ساحل کو محض پکنک، غیر منظم کیمپنگ یا رئیل اسٹیٹ کا میدان بنا دینا ایک نئی غلطی ہوگی۔ مکران کی ساحلی سیاحت کے لیے محفوظ سڑکیں، معیاری رہائش، صاف پانی، کچرا انتظام، موبائل نیٹ ورک، طبی امداد، ریسکیو، مقامی گائیڈز، ماحول دوست کیمپنگ اور سمندری حیات کے تحفظ کا نظام ضروری ہے۔

ماہی گیر برادریوں کے حقوق، ساحلی زمین تک مقامی رسائی، بندرگاہی و صنعتی منصوبوں کے اثرات اور سکیورٹی تقاضوں کو بھی پالیسی میں مرکزی جگہ دینی ہوگی۔ ساحلی ترقی تبھی معتبر ہوگی جب مقامی آبادی اسے اپنی روزی اور مستقبل سمجھے، نہ کہ اپنی زمین اور رسائی کے خاتمے کا سبب۔ کوہ پیما اور غیر ملکی سیاح جب قراقرم، کے ٹو یا نانگا پربت کے تجربات اور پاکستانی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہیں تو ملک کا انسانی اور ثقافتی چہرہ دنیا کے سامنے آتا ہے۔ اسی لیے سیاحت اور سکیورٹی کو الگ خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ غیر ملکی سیاح کو خوب صورت منظر کے ساتھ قابلِ اعتماد ویزا طریق کار، واضح سفری معلومات، محفوظ سڑکیں، موسم و لینڈ سلائیڈنگ کی بروقت اطلاع، تربیت یافتہ گائیڈز، طبی امداد، ریسکیو اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام بھی چاہیے۔

پاکستان کو ایسی ویزا پالیسی چاہیے جو کئی برس کے لیے نسبتاً مستحکم ہو، آن لائن طریق کار واضح ہو، ویزا کارروائی کا متوقع وقت قابلِ اعتماد ہو، اہلیت کے قواعد کھلے عام دستیاب ہوں اور بڑی تبدیلیوں کا پیشگی اعلان ہو۔ پاکستان کو مکمل مرکزیت پر مبنی نئی اتھارٹی کے بجائے ایک بااختیار قومی سیاحتی رابطہ، ڈیٹا اور معیار سازی کا نظام درکار ہے۔ صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے اختیارات برقرار رہنے چاہییں، مگر ویزا، عالمی برانڈنگ، سیاحتی ڈیٹا، حفاظتی معیار، ہوٹل درجہ بندی، ماحولیاتی اصول اور بین الصوبائی رابطہ کاری کے لیے مضبوط مرکزی ہم آہنگی ضروری ہے۔

سیاحت کے دروازے کھولنا ضروری تھا، مگر یہ منزل نہیں، آغاز ہے۔ پاکستان کے پاس صرف مناظر نہیں بلکہ تہذیبی، جغرافیائی اور انسانی تجربہ ہے۔ اگر ہم نے اسے مقامی شراکت، ماحولیاتی تحفظ، پالیسی تسلسل، بہتر سہولیات اور قابلِ اعتماد حکمرانی کے ساتھ جوڑا تو سیاحت روزگار، زرمبادلہ اور بہتر عالمی تشخص کا پائیدار راستہ بن سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے نظم و ضبط کے بغیر صرف ہجوم اکٹھا کیا تو پہاڑ کچرے اور بے ہنگم تعمیرات کا بوجھ اٹھائیں گے، ساحل غیر منظم ترقی کی نذر ہوں گے اور مقامی لوگ اپنے ہی علاقوں میں اجنبی ہوتے جائیں گے۔