تارکینِ وطن کو خوش آمدید کہنے یا انسانی حقوق کے حوالے سے جو یورپ کبھی بہترین تھا اور خوشحال مستقبل کے متلاشی افراد کی پہلی ترجیح، اُس میں تبدیلی آ چکی ہے یہ تبدیلی صرف حکومتیں بدلنے یا انتخابات میں دائیں بازو کی جماعتوں کے ووٹ بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ سیاسی مزاج، ہجرت اور خود یورپی اتحاد کے بنیادی تصورات پر بھی اثرانداز ہے۔ وہی یورپ جو کبھی کُھلی سرحدوں، آزادانہ نقل حرکت، انسانی حقوق اور کثیر الثقافتی معاشرے کی علامت تھا آج سرحدوں پر باڑ لگانے، پاسپورٹ کی سخت جانچ پڑتال کرنے، ہجرت کے سخت قوانین بنانے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کو ترجیحات میں شامل کر رہا ہے۔
اِس تبدیلی کی وجہ صرف قوم پرستی نہیں بلکہ مقامی آبادی میں جنم لینے والا یہ احساس ہے کہ حکومتیں اُن کے مسائل حل کرنے کی بجائے نئے آنے والوں پر زیادہ توجہ دیتی ہیں مہنگائی، رہائش کا بحران، بے روزگاری، جرائم کے خدشات اور پناہ گزینوں کی بڑھتی تعداد بھی اہم وجہ ہیں دائیں بازو کے لیے یہ مسائل طاقت حاصل کرنے کاقیمتی سرمایہ ہیں اسی بناپر یورپ کے کئی ممالک کی روایتی بائیں بازو کی جماعتیں دفاعی پوزیشن پر ہیں جبکہ قدامت پسند اور قوم پرست جماعتیں پناہ گزینوں کو انتخابی منشور کا مرکزی موضوع بنا کر طاقتور ہوئی ہیں۔
اسپین کے زیرِ انتظام سیوتا میں جولائی کے آخر میں مراکش سے بہتر ہزار افراد کے داخلے نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اِس واقعہ پر اٹلی نے اسپین کے ساتھ فضائی اور بحری سرحدی نگرانی سخت کردی۔ بظاہر یہ اقدامات عارضی نوعیت کے تھے لیکن اِن کی سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ شینگن کے تصور سے جن یورپی ممالک نے اندرونی سرحدیں تقریباََ ختم کردی تھیں وہی اب شینگن نظام کے خلاف ہیں۔ دراصل مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے ہمارے مسائل حل کریں انسانی حقوق کو جواز بناکر تارکین کو خوش آمدید کہنے کا سلسلہ ترک کیا جائے ایک اور تضاد یورپی یونین ایک طرف مشترکہ سرحدی نظام مضبوط کرنے کی خواہاں ہے۔ دوسری طرف رُکن ممالک اپنے اپنے عوامی مزاج اور مفادات کے لیے سرحدوں پر آمدورفت کی سخت جانچ پٹرتال کررہے ہیں۔ جرمنی نے اپنی متعدد زمینی سرحدوں پر کنٹرول برقرار رکھا ہے۔ یہ رجحان اگر مستقل شکل اختیار کرتا ہے تو شینگن کا وہ تصور دم توڑ سکتا ہے جس نے یورپی اتحاد کو عام شہری کی زندگی میں سب سے زیادہ محسوس ہونے والی کامیابی دی تھی۔
یورپی یونین نے جون 2026 میں Migration and Asylum Pact نافذ کیا جس کے تحت بیرونی سرحدوں پر اسکریننگ، غیر قانونی آمد کی رجسٹریشن، تیز تر پناہ کے فیصلے، واپسی کا نظام اور رُکن ممالک کے درمیان ذمہ داری کی تقسیم شامل ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برسلز اب ماضی کی نسبت زیادہ سخت اور منظم امیگریشن پالیسی بنارہا ہے سویڈن اِس کی نمایاں مثال ہے جو ملک کئی عشروں سے انسانی ہمدردی اور آزاد امیگریشن کے حوالے سے یورپ کا نمونہ سمجھا جاتا تھا وہ اب شہریت کے قوانین سخت بنا رہا ہے۔
چھ جون 2026 سے سویڈش شہریت کے لیے درکار مدت پانچ سے بڑھا کر آٹھ برس کردی گئی ہے۔ اِس میں بھی زبان، شہری معلومات اور مالی خود کفالت سے متعلق سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ یورپ میں مستقل رہائش اور شہریت کواب محض چند برس رہنے کے بعد حاصل ہونے والا حق سمجھنے کی بجائے زیادہ سخت ذمہ داریوں سے جوڑا جانے لگا ہے لیکن اِس سارے معاملے کا ایک پہلو ایسا ہے جسے یورپی سیاست میں نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ یورپ کو تاکینِ وطن کی ضرورت ہے۔ یورپ کی آبادی بوڑھی ہورہی مگر شرح پیدائش کم ہے اِس لیے کئی شعبوں میں مقامی کارکن دستیاب نہیں۔ خود یورپی کمیشن تسلیم کرتا ہے کہ آبادیاتی تبدیلی کے باعث یورپ کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے لہذا یورپی معیشت کو اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے غیر یورپی کارکنوں پر انحصار کرنا مجبوری ہے۔ زراعت میں اِس حقیقت کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں فصلوں کی کٹائی، پھل توڑنے اور پیکنگ، خواراک کی پروسیسنگ جیسے کئی موسمی شعبے غیر ملکی کارکنوں کے بغیر مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں صنعت، تعمیرات، ہوٹلنگ، ریستوران، صحت اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے شعبوں میں بھی غیر ملکی افرادی قوت نے اہم خلا پُرکیا ہے۔
پرتگال حکومت نے دائیں بازو اور یورپی یونین کے دباؤ کے باعث امیگریشن کے کئی قوانین سخت کیے جن کے نتائج اچھے نہیں آئے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غیر ملکیوں کا پرتگال کے مالیاتی نظام میں اہم کردار رہا۔ صرف 2024 کے دوران غیر ملکی کارکنوں نے سوشل سیکورٹی میں 2.2 ارب یوروجمع کرائے جبکہ فوائد کی مد میں صرف 38کروڑ لے سکے یعنی نظام میں جتنا حصہ ڈالا اُس کے مقابلے میں وصولی بہت کم کی۔ اب سخت امیگریشن سے پرتگال کی تعمیراتی صنعت میں غیر ملکی کارکنوں کا جو حصہ 30 فیصد ہوچکا تھا نئی پابندیوں سے افرادی قوت میں کمی آئی ہے۔ تعمیراتی شعبے کو موجودہ منصوبے جاری رکھنے کے لیے اسی ہزار اضافی افرادی قوت درکارہے بعض اندازوں کے مطابق بڑے منصوبے شروع ہونے پر یہ کمی ایک لاکھ بیس ہزار تک ہو سکتی ہے۔
ٹیکس کا پہلو بھی اہم ہے اگر تارکینِ وطن کم ہوں گے تو صرف مزدور ہی کم نہیں ہوں گے بلکہ روزگار، اُجرت، انکم ٹیکس، سوشل سیکورٹی اور بلواسطہ ٹیکس اداکرنے کے اہل افراد کی تعداد میں بھی کمی آئے گی۔ اِس لیے امیگریشن کم کرنے کا سیاسی فائدے جتنا معاشی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ بعض حالات میں کم امیگریشن کا مطلب کم افرادی قوت، کم پیداوار، کم ٹیکس آمدن اور حکومتوں کے لیے زیادہ مالی دباؤ کا باعث ہو سکتا ہے۔ تارکینِ وطن کے روزگارکے باعث مقامی کارکنوں کی اُجرت، ملازمتوں اور رہائش پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیکر کم از کم اُجرت، مزدوروں کے حقوق، رہائشی منصوبہ بندی اور مقامی آبادی کے لیے تربیتی پروگراموں کو مضبوط بنا کر تحفظ دیاجاسکتا ہے مگر ساری توجہ تارکینِ وطن کی راہیں بندکرنے پر ہے یہی وہ مقام ہے جہاں یورپ کی موجودہ سیاست ایک مشکل دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
عام شہری چاہتا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن ختم اور سرحدیں محفوظ بنائی جائیں۔ جعلی پناہ کی درخواستوں کی حوصلہ شکنی ہو اور جو شخص قانونی شرائط پوری نہیں کرتا اُسے واپس بھیجا جائے علاوہ ازیں حکومتیں رہائشی بحران، صحت، تعلیم، روزگار اور جرائم کے مسائل حل کریں جبکہ یورپی صنعت کار، کسان، تعمیراتی کمپنیاں اور بعض سروسز کے شعبوں کامطالبہ ہے کہ انھیں مطلوبہ افرادی قوت مہیا کی جائے لہذا تارکینِ وطن اصل مسئلہ نہیں بلکہ قانونی اور غیرقانونی امیگریشن ہے۔ یورپ غیر قانونی انسانی اسمگلنگ سرحدوں کی سخت نگرانی، پناہ کے غلط استعمال کے خلاف قانونی کاروائی سے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو واپس بھیج سکتا ہے لیکن اگر اسی پالیسی کے تحت قانونی، ہُنر مند اور محنت کرنے والے کارکنوں پربھی دروازے بندکردیے تو اِس کا نقصان یورپی معیشت کو ہوگا۔
یورپ کا اصل مسئلہ تارکینِ وطن نہیں بلکہ آبادیاتی حقیقت ہے جو تارکِ وطن تعمیراتی سائٹ پر کام کرتا، کھیت میں فصل کاٹتا، فیکٹری میں مشین چلاتا، ریستوران میں خدمات انجام دیتا اور بزرگوں کی دیکھ بھال کررہا ہے وہ صرف ایک امیگرنٹ نہیں بلکہ یورپی معیشت کا کارکن اور ٹیکس دہندہ بھی ہے۔ یورپی یونین اگر توازن برقرار نہیں رکھتی تو دائیں بازو کا عروج محض سیاسی تبدیلی نہیں رہے گا بلکہ معاشی مسئلہ بھی بن سکتا ہے اگر رُکن ممالک اپنی سرحدیں بند، شینگن اصول محدود اور ایک دوسرے پر تارکینِ وطن کا بوجھ ڈالنے کی کوشش میں لگے رہے تو یورپی اتحاد کی داخلی یکجہتی متاثر ہوسکتی ہے۔ یورپ کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ کتنے تارکینِ وطن کو روکا ہے بلکہ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ کتنے غیر قانونی راستے بند کرتے ہوئے قانونی راستے کھلے رکھے ہیں۔
بوڑھے ہوتے یورپ کے لیے محفوظ سرحدیں ضروری ہیں مگر مضبوط معیشت کے لیے تازہ دم افرادی قوت بھی درکارہے۔ مقامی آبادی کے خدشات، سماجی ہم آہنگی اور سلامتی کے تقاضوں کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا اگر سیاست نے اِن پہلوؤں کو نظر انداز کیا تو آج ووٹ حاصل کرنے کا زریعہ کل یورپ کی صنعت، زراعت، ٹیکس نظام، سماجی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔