پاکستان میں نظریاتی اور اصولوں کی سیاست کو دفن ہوئے زمانہ گزر گیا۔ اب تو شاید ہماری سیاسی لغت سے "نظریہ" بھی ریٹائر ہو چکا ہے اور دائیں بائیں بازو کی سیاست کا حال یہ ہے کہ نئی نسل سے پوچھیں تو ممکن ہے وہ سمجھیں کسی پرانے زمانے کے دو سیاسی جانوروں کے نام ہیں۔ کبھی سیاست نظریات کے لیے ہوتی تھی، اب نظریات سیاست کے لیے ہوتے ہیں اور جب اقتدار ہاتھ آ جائے تو نظریات کو عینک اتار کر کسی دراز میں رکھ دیا جاتا ہے تاکہ حکومت کرتے ہوئے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔
اب سیاست بڑی حد تک اقتدار کی سیاست رہ گئی ہے اور اپوزیشن بھی اکثر اصولوں کی جنگ سے زیادہ گالی گلوچ، الزام تراشی اور ایک دوسرے کی سیاسی قبر کھودنے کا فن معلوم ہوتی ہے۔ کل تک جو جماعت جس بات کو جمہوریت کے خلاف قرار دیتی تھی، آج وہی بات اپنے مفاد میں ہو تو جمہوریت کی روح بن جاتی ہے۔ اصول بھی عجیب مخلوق ہیں، حکومت میں ہوں تو خاموش، اپوزیشن میں ہوں تو بہت بلند آواز۔
اسی لیے جب چھوٹے صوبوں یا نئی انتظامی اکائیوں کی بات ہوتی ہے تو سیاسی جماعتوں کے ماتھے پر شکنیں ضرور آتی ہیں، مگر ان شکنوں کے پیچھے نظریاتی تشویش کم اور اپنی سلطنت کے رقبے کا غم زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ بڑے صوبے کا مطلب بڑا سیاسی میدان، زیادہ حلقے، زیادہ عہدے، زیادہ سیاسی اثرورسوخ اور زیادہ "اپنے لوگ"۔ اب اگر یہ سلطنت چھوٹی ہو جائے تو بادشاہت کی شان میں کچھ تو فرق پڑے گا۔
لیکن وقت کا مزاج بدل رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو آہستہ آہستہ یہ حقیقت سمجھ آ رہی ہے کہ جب بھی ایک طرف عوام کو بہتر انتظامیہ، فوری انصاف، مقامی ترقی اور اپنی دہلیز پر ریاستی سہولت ملنے کی بات کی جائے اوردوسری طرف صوبے کو بڑا رکھنے پر اصرار جاری رہے تو پھر یہ سوال بھی پوچھا جائے گا کہ اتنا بڑا صوبہ آخر کس کام کا ہے؟
بلکہ سچ پوچھیں تو ہماری سیاست اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں کل کوئی سیاسی جماعت یہ اعلان بھی کر سکتی ہے کہ حکومت ہمیں ملنی چاہیے صوبے چاہے محلے کی سطح پر ہی بنا دیے جائیں۔ آخر سیاست نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ اصولوں پر قائم رہنا مشکل ہو تو اصول بدل لینا سب سے آسان راستہ ہے۔
مگر اصل سوال یہ نہیں کہ صوبے کتنے ہوں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کہاں ہوگا؟
اگر صوبہ چھوٹا ہو جائے، نقشہ خوبصورت ہو جائے، نیا دارالحکومت بن جائے، نئی اسمبلی بن جائے، نئی وزارتیں قائم ہو جائیں، نئی گاڑیاں آجائیں، نئی تختیاں لگ جائیں اور پرانی سیاسی اشرافیہ نئی کرسیوں پر بیٹھ جائے تو عام آدمی کو اس سے کیا ملے گا؟
اسے پھر بھی تھانے میں سفارش چاہیے، ہسپتال میں بستر کے لیے تعلق چاہیے، نوکری کے لیے میرٹ کے ساتھ کوئی "اور چیز" چاہیے، زمین کے مسئلے کے لیے برسوں دفتر کے چکر لگانے پڑیں اور انصاف کے لیے عدالت کے دروازے پر اپنی زندگی گزارنی پڑے تو پھر صوبہ چھوٹا ہونے کا جشن کس بات کا؟ یہاں سے اصل بحث شروع ہوتی ہے۔
لوکل گورنمنٹ ہو یا چھوٹا صوبہ، اس کا بنیادی فلسفہ صرف انتظامی نقشہ بدلنا نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ کم کرنا ہے۔ ریاست اگر پہلے بھی دور تھی اور نئے صوبے کے بعد بھی دور رہی تو پھر ہم نے صرف نقشے پر ایک نئی لکیر کھینچی ہے، عوام کی زندگی میں نہیں۔ ایک چھوٹا صوبہ اسی وقت بڑی کامیابی بن سکتا ہے جب اس کے ساتھ اختیار عوام کے قریب منتقل ہو۔ بجٹ کا اختیار، ترقیاتی ترجیحات کا اختیار، مقامی منصوبہ بندی کا اختیار، بنیادی خدمات کی نگرانی کا اختیار اور سب سے بڑھ کر اپنے مسائل کے حل کا اختیار۔
ورنہ خدشہ یہ ہے کہ اسلام آباد سے کوئٹہ کا فاصلہ کم کرنے کے بجائے کوئٹہ سے نئے صوبائی دارالحکومت کا فاصلہ پیدا کر دیا جائے گا اور عوام کو بتایا جائے گا کہ مبارک ہو، آپ کے لیے حکومت پہلے سے بہت قریب آ گئی ہے۔ عوام کہیں گے، جناب! حکومت کہاں قریب آئی ہے، یہ تو صرف سرکاری گاڑی کی نمبر پلیٹ بدلی ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی اسی بحث کا بنیادی حصہ ہے۔ اگر کسی علاقے کے وسائل وہاں کے لوگوں کی زندگی بہتر نہیں بناتے تو صرف یہ بتا دینا کہ وسائل اب "آپ کے اپنے صوبے" کے پاس ہیں، کافی نہیں۔ عوام کو حساب چاہیے، حصہ چاہیے، روزگار چاہیے، تعلیم چاہیے، صحت چاہیے اور یہ یقین چاہیے کہ ان کے بچے بھی میرٹ پر آگے بڑھ سکتے ہیں ورنہ بڑے صوبے کا لولی پاپ چھوٹے صوبے کے لولی پاپ سے بدل تو جائے گا لیکن ذائقہ وہی رہے گا۔
یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ چھوٹے صوبے کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔ انتظامی تقسیم بدعنوانی ختم نہیں کرتی، صرف بدعنوانی کا دفتر چھوٹا کر سکتی ہے۔ نیا صوبہ انصاف کی ضمانت نہیں دیتا، جب تک ادارے آزاد اور جواب دہ نہ ہوں۔ نئی اسمبلی میرٹ پیدا نہیں کرتی، جب تک سیاسی بھرتیاں ختم نہ ہوں۔ نیا سیکرٹریٹ عوام کو سہولت نہیں دیتا، جب تک افسر شاہی عوام کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔ اس لیے چھوٹے صوبوں کی بحث کو جذباتی نعروں سے نکال کر انتظامی فلسفے میں تبدیل کرنا ہوگا۔ ہمیں پوچھنا ہوگا کہ کیا نیا صوبہ واقعی عوام کے قریب ہوگا؟ کیا اس کا بجٹ عوام کی ترجیحات پر خرچ ہوگا؟ کیا مقامی حکومتیں بااختیار ہوں گی؟ کیا ترقیاتی منصوبے مقامی ضرورت کے مطابق بنیں گے؟ کیا نوکریاں سفارش کے بجائے میرٹ پر ملیں گی؟ کیا پولیس شہری کے لیے خوف کی علامت کی بجائے تحفظ کی علامت بنے گی؟ کیا عدالت تک پہنچنا غریب کے لیے بھی اتنا ہی ممکن ہوگا جتنا طاقتور کے لیے؟
اگر ان سوالوں کا جواب "ہاں" ہے تو چھوٹے صوبے صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کے انتظامی مستقبل کی ایک اہم سمت ہیں اور اگر جواب "نہیں" ہے تو پھر صوبے بنانے والوں کو ابھی سے عوام کے لیے ایک اور لولی پاپ تیار رکھنا ہوگا۔