Friday, 21 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Farhat Abbas Shah
  4. Kahi Se To Koi Khair Ki Khabar Aaye

Kahi Se To Koi Khair Ki Khabar Aaye

اس سے بڑی قیامت اور کیا ہوگی کہ حقیقی تخلیق کار نام نہاد ادیبوں اور شاعروں کے ہاتھوں یرغمال بنا دیے جائیں۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ وہ لوگ جنہیں معاشرے کی فکری رہنمائی، تہذیبی حفاظت اور انسانی احساس کی ترجمانی کرنی تھی، خود ایسے ادبی نظام کا حصہ بن جائیں جہاں تخلیق کی قدر شخصیت، گروہ بندی، تعلقات اور مصلحتوں کے نیچے دفن ہو جائے۔ سلیم طاہر اور حلیم قریشی کی موت کے پیچھے ناقدری کے دکھ کا پورا پورا ہاتھ ہے۔ یہ صرف دو افراد کی موت نہیں، یہ ہمارے ادبی، تہذیبی اور اجتماعی رویوں کے خلاف ایک ایسی فردِ جرم ہے جسے نظرانداز کرنا خود اپنے ضمیر سے فرار کے مترادف ہے۔

ہم نے پہلے سنا تھا کہ شکیب جلالی جیسے حساس شاعر کو حالات نے اس مقام تک پہنچایا جہاں زندگی سے رشتہ توڑنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ ہم نے یہ بھی پڑھا اور سنا کہ ساحر لدھیانوی کو اپنے عہد کے حالات سے بچنے کے لیے یہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔ اس وقت یہ سب واقعات تاریخ کے صفحات پر درج المیے محسوس ہوتے تھے، مگر آج جب اپنے سامنے حقیقی تخلیق کاروں کو بے اعتنائی، تنہائی اور ادبی بے حسی کے ہاتھوں ٹوٹتے دیکھ رہے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تخلیق کار کی موت ہمیشہ ایک لمحے میں واقع نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان پہلے اندر سے مرتا ہے، پھر دنیا اسے جسمانی موت کی صورت میں دیکھتی ہے۔

سلیم طاہر نے اپنی موت سے صرف دو روز پہلے مجھے اپنے دوسرے شعری مجموعے "ماتمِ یک شہرِ آرزو" کی پی ڈی ایف فائل بھیجی تھی۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ان گفتگوؤں میں ایک طرف شعر، کتاب اور ادب تھا اور دوسری طرف مجلس ترقی ادب لاہور کے ذاتی استعمال اور اس کی تباہی کا دکھ۔ ان کا شکوہ کسی ذاتی مفاد کے حصول کا شکوہ نہیں تھا، وہ ایک ایسے ادارے کے زوال پر دل گرفتہ تھے جو کبھی لاہور اور پنجاب کی ادبی شناخت کا معتبر حوالہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک گروہ نے ادبی اداروں، مشاعروں اور دوسری تہذیبی سرگرمیوں کو اس طرح روند کر رکھ دیا ہے کہ ادب کے اصل وارث خود اپنے ہی گھر میں اجنبی دکھائی دینے لگے ہیں۔

یہاں اصل سوال صرف کسی ایک ادارے کی سربراہی کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے ادبی اداروں کا مقصد کیا سمجھ لیا ہے؟ کیا یہ ادارے چند افراد کی شخصی جاگیر ہیں؟ کیا مشاعرے کسی مخصوص حلقے کی سماجی تقریبات ہیں؟ کیا ادبی اعزازات تعلقات کی بنیاد پر تقسیم ہونے والی مراعات ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم ادب کے ادارے نہیں چلا رہے، بلکہ ادب کے نام پر ایک ایسا انتظامی اور گروہی نظام تشکیل دے رہے ہیں جس میں تخلیق کار کی حیثیت سب سے آخر میں رہ جاتی ہے۔

قومی اعزازات کا معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ سول ایوارڈز ہر سال جگ ہنسائی کا باعث بنا دیے جائیں تو مسئلہ صرف چند ناموں کے انتخاب کا نہیں رہتا، بلکہ پورے اعزازاتی نظام کی اخلاقی ساکھ سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ قومی اعزاز کسی حکومت، جماعت یا شخص کی ذاتی پسند کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ریاست کی طرف سے کسی فرد کی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے۔ جب یہ اعزاز حقیقی اہل لوگوں کے بجائے تعلق، سفارش، مصلحت یا گروہی اثر و رسوخ کے زیرِ اثر آتا محسوس ہو تو نقصان صرف ایک شخص کا نہیں، ریاستی وقار کا ہوتا ہے۔

مجھے اس سال باقاعدہ یہ خیال جکڑے ہوئے ہے کہ جو حکومت قومی اعزازات کی حرمت کی پاسداری نہیں کر سکتی، اس سے دیگر حقوق مانگتے ہوئے خود ہمیں شرم آنی چاہیے۔ ریاست سے حقوق کا مطالبہ اسی وقت باوقار معلوم ہوتا ہے جب ہم ریاست کے اداروں اور اعزازات کے وقار کے بارے میں بھی حساس ہوں۔ اگر ہم اپنے ہی علمی، ادبی اور تہذیبی سرمائے کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے تو پھر قومی سطح پر انصاف کے بڑے دعوے کس اخلاقی بنیاد پر کیے جائیں گے؟

پنجاب حکومت کا معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر حکومت کو یہ معلوم نہیں کہ ادب سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد مجلس ترقی ادب کے سربراہ کے طور پر کسی باوقار، معتبر اور اہل ادیب کو دیکھنا چاہتی ہے تو پھر حکومت بیچاری جتنی بھی اشتہاری مہمیں چلا لے، کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اگر حکومت کو سب کچھ معلوم ہے، اہلِ ادب کی آواز بھی سنائی دیتی ہے، ادارے کی تاریخ اور ضرورت کا بھی علم ہے، اس کے باوجود ایسی نامناسب تقرریوں پر مجبور ہے تو پھر کسی کو یہ گلہ بھی نہیں کرنا چاہیے کہ لوگ فارم 47 کی بات بھول کیوں نہیں رہے۔

یہاں مسئلہ کسی ایک تقرری کے حق یا مخالفت سے کہیں بڑا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے ثقافتی اداروں کو ان لوگوں کے سپرد کرے گی جو ادب کو جانتے، سمجھتے اور جیتے ہیں، یا پھر یہ ادارے بھی سیاسی، انتظامی اور گروہی مصلحتوں کے تابع رہیں گے؟ مجلس ترقی ادب جیسا ادارہ محض ایک دفتر، کرسی یا سرکاری عہدہ نہیں۔ یہ ہماری ادبی تاریخ کا ایک تسلسل ہے۔ اس کی سربراہی کے لیے ایسے شخص کی ضرورت ہے جو صرف عہدہ سنبھالنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو بلکہ ادب کے وقار، سنجیدگی اور تخلیقی مزاج کی حفاظت بھی کر سکے۔

تخلیق کار کو سب سے زیادہ ضرورت دولت کی نہیں، شناخت کی نہیں بلکہ اس یقین کی ہوتی ہے کہ اس کی تخلیق کسی باخبر اور حساس معاشرے تک پہنچ رہی ہے۔ جب ایک شاعر یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کے لفظ کی کوئی قیمت نہیں، اس کی کتاب کسی کو درکار نہیں، اس کی آواز کسی ادارے تک نہیں پہنچتی اور اس کی جگہ ایسے لوگ لے رہے ہیں جن کا اصل تخلیقی سرمایہ صرف تعلقات ہیں، تو یہ احساس رفتہ رفتہ اس کی زندگی کے اندر ایک خطرناک خلا پیدا کرتا ہے اور عوام میں گالیاں دینےوالوں اور بدتمیز جتھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔

اس لیے سلیم طاہر اور حلیم قریشی کی موت کو محض ذاتی واقعات سمجھ کر آگے بڑھ جانا آسان بھی ہے اور مجرمانہ بھی۔ ہمیں اپنے ادبی ماحول کا احتساب کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ ہم نے اپنے حقیقی تخلیق کاروں کو کتنا سنا، کتنا پڑھا، کتنا سراہا اور کتنا تنہا چھوڑ دیا۔ کیونکہ قومیں صرف اپنے شاعروں اور ادیبوں کی کتابیں شائع کرکے زندہ نہیں رہتیں، وہ اپنے تخلیق کاروں کے ساتھ اپنے رویوں سے اپنی تہذیبی زندگی کا ثبوت دیتی ہیں۔

اگر ہم نے ادب کو گروہوں سے آزاد نہ کیا، اداروں کو شخصی جاگیروں سے نہ بچایا، اعزازات کو سفارش سے پاک نہ کیا اور حقیقی تخلیق کار کو اس کا جائز مقام نہ دیا تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب ادب مر رہا تھا، شاعر تنہا ہو رہے تھے اور ادارے تباہ کیے جا رہے تھے، اس وقت ہم کہاں تھے؟ شاید اس سوال کا سب سے شرمناک جواب یہی ہوگا کہ ہم سب موجود تھے، مگر کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔

کرم جناب کی جانب سے بھی نظر آئے
کہیں سے تو کبھی کچھ خیر کی خبر آئے