Friday, 20 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. American Senate Committee Ki Hamein Khabardar Karne Ki Koshish

American Senate Committee Ki Hamein Khabardar Karne Ki Koshish

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل نے جب سے وحشیانہ جنگ کا آغاز کیا ہے پاکستان کی اکثریت سوشل میڈیا کے متعدد پلیٹ فارموں پر تواتر سے اس خدشے کا اظہار کرنا شروع ہوگئی ہے کہ اگلا نشانہ وطن عزیز ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کو اگلا نشانہ بیان کرتے تبصرے پڑھتا اور سنتا تو عوام کے دل ودماغ پر چھائی جہالت پریشان کردیتی۔ بسااوقات یہ سوچتا کہ منیر نیازی کی طرح ہم مرنے کے شوق میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خیال بھی ذہن میں آتا کہ اپنی اصل اوقات بھلاکر پھنے خان کی طرح اس گھمنڈ کا شکار ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور ترین ممالک ہم سے گھبرائے ہوئے ہیں۔

ہماری اجتماعی سوچ پر نظر بظاہر چھائی خام خیالی جھٹلانے کے لئے بے شمار کالم لکھے ہیں۔ علم وعقل کے بھرپور استعمال کے ذریعے ان کالموں میں منطقی دلائل کے ذریعے اپنے تئیں لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اپنی اوقات کا دیانتداری سے اعتراف کرتے ہوئے بالآخر دریافت کرلیا جائے کہ امریکہ جیسے ممالک ہم سے کسی بھی نوعیت کا کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ انہیں خبر ہے کہ ہر تین ماہ بعد ہمیں اپنے ریاستی کاروبار کے کھاتے آئی ایم ایف کے سامنے رکھ کر گلشن کا کاروبارمزید تین ماہ تک چلانے کے لئے ایک ارب ڈالر کی قسط درکار ہوتی ہے۔ قرض کی قسطوں سے چلائے ملک سے امریکہ جیسے ملک کیوں گھبرائیں؟

بدھ کی شام سے مگر ذہن پر گزشتہ تین سے زیادہ دہائیوں سے چھائی رعونت کے بارے میں شرمندہ محسوس کررہا ہوں۔ شدت سے احساس ہورہا ہے کہ بلھے شاہ نے علم سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیوں کیا تھا۔ اقبال نے عقل کو ہمیشہ لب بام بیٹھ کر محو تماشہ کیوں پکارا۔ بدھ کی شام ٹی وی شو کے لئے سوشل میڈیا کا پھیرا لگاتے ہوئے کسی انوکھے موضوع کی تلاش میں تھا تو اچانک ایک ویڈیو کلپ پر نگاہ پڑگئی۔

مذکورہ کلپ میں امریکہ کے تمام جاسوسی اداروں کی حتمی سربراہ سینٹ کی محدود افراد پر مشتمل کمیٹی کو ان خطرات سے آگاہ کررہی تھی جو آنے والے دنوں میں اس کے ملک کو درپیش ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کی سلامتی کو ممکنہ طورپر پیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ کے تمام جاسوسی اداروں کی حتمی سربراہ نام جس کا تلسی گیبرڈ ہے سینٹ کی انٹیلی جنس کے معاملات پر نگاہ رکھنے والی کمیٹی کو یہ بتارہی تھی کہ روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے علاوہ پاکستان -جی ہاں پاکستان- بھی ایسے دور مار میزائل کے حصول میں مصروف ہیں جو ایشیائاور یورپ کے ممالک کی فضاں سے گزرکرنے کے بعد سمندروں کے اس پار واقع امریکہ کے شہروں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

فیک نیوز کی بھرمار کے موسم میں مجھے اپنی آنکھوں اور کانوں پر اعتبارنہیں آیا۔ یہ فرض کرلیا کہ پاکستان کے کسی دشمن نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے مذکورہ کلپ تخلیق کی ہوگی۔ مقصد اس کا ہمارے دلوں میں امریکہ کیخلاف بدگمانیاں بھڑکانا ہے۔ ذات کا رپورٹر تحقیق میں مصروف ہوگیا۔ جس وقت وہ کلپ دیکھی واشنگٹن میں بدھ کے دن کا آغاز ہوچکا تھا۔ امریکی سینٹ کی ویب سائٹ پر گیا تو دریافت ہوا کہ سینٹ کی انٹیلی جنس امور پر نگاہ رکھنے والی کمیٹی کا اجلاس بدھ کی صبح واقعتاً دس بجے شروع ہونا تھا۔ امریکی حکومت کی گرانٹ سے چلایا ایک ٹی وی نیٹ ورک ہے۔ C-Span اس کا نام ہے۔ وہاں عموماََ سینٹ یا امریکہ کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس لائیو دکھائے جاتے ہیں۔ مضطرب دل سے موبائل کے بٹن دباتے اس چینل کی براہ راست نشریات تک پہنچ گیا۔ تلسی گیبرڈ وہاں سی آئی اے اور ایف بی آئی کے سربراہان کے ساتھ بیٹھی امریکی سینٹ کی کمیٹی کو بریف کررہی تھی۔ نوجوان ساتھیوں کی مدد سے مذکورہ بریفنگ کو آغاز سے سنا۔ سینیٹروں کے سوالات لینے سے قبل تلسی نے نہایت غوروخوض کے بعد لکھا ایک تحریری بیان پڑھا تھا۔

مذکورہ بیان کے ذریعے امریکی سینٹ کو آگاہ کیا گیا کہ امریکہ کی آئی سی-ICیعنی انٹیلی جنس کمیونٹی یا جاسوسی کارندے مصر ہیں کہ روس اور چین نیوکلیئر ہتھیاروں سے لدے میزائل جب چاہیں واشنگٹن یا نیویارک جیسے شہروں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ ان کے برعکس شمالی کوریا اور ایران بھی ایسی ہی صلاحیت کے حامل میزائل تیار کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان چار ممالک کے بعد ذکر پاکستان کا ہوا۔ آئی سی ہمارے بارے میں اس شک کا اظہار کرتی بتائی گئی کہ ہمارے عسکری تحقیقی ادارے بھی امریکی شہروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حامل میزائل تیار کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔ یہ بات گویا تسلیم کرلی گئی کہ فی الوقت پاکستان کے پاس ایسے میزائل موجود نہیں جو ایٹمی ہتھیاروں سے امریکی شہروں کو نشانہ بناسکیں۔ ہم انہیں تیار کرنے کی مگر صلاحیت حاصل کرنے کی جستجو میں ہیں۔ پاکستان یوں فوری طورپر امریکہ کے لئے خطرناک تو نہیں بتایا گیا۔ ہمیں مگر روس، چین، شمالی کوریا اور ایران جیسے امریکہ کے خلاف منفی عزائم رکھنے والے ممالک کی صف میں کھڑا کردیا گیا ہے۔

تلسی گیبرڈ کی امریکہ کی پارلیمانی کارروائی نشر کرنے کے لئے مختص ٹی وی سکرین پر دکھائی بریفنگ نے مجھے چونکانے کے بعد شرمسار ہونے کو مجبور کردیا۔ نہایت عاجزی سے دل ہی دل میں یہ تسلیم کرنے کو مجبور ہوا کہ ہمارے جاہل عوام کی اکثریت سوشل میڈیا کے متعدد پلیٹ فارموں پر پاکستان کو ایران کے بعد اگلا نشانہ تصور کرنے میں حق بجانب تھی۔ عقل کل ہونے کے خمار میں لیکن عقل کا غلام ہوتے ہوئے میں اپنے عوام کے اجتماعی خدشات کا تمسخراڑاتا رہا۔

بلھے شاہ کی مکدی گل یہ ہے کہ امریکی جاسوسی اداروں کے کارندے ہمارے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی بقائیقینی بنانے کے لئے مختص تصورنہیں کررہے۔ انہیں شبہ ہے کہ پاکستان دورمارمیزائلوں کے جدید ترین ورژن تیار کرنا چاہ رہا ہے۔ جو متعددحساس معاملات پر ہمیں امریکہ کو انکار کے قابل بناسکیں۔

امریکہ کے جاسوسی کارندوں کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر شکوک وشبہات کا برسرعام اظہار عین ان دنوں دہرایا گیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ ایران ہی نہیں اس کے قدرتی وسائل سے مالا مال تمام خلیجی ہمسایوں کو کامل ابتری وانتشار کے سپرد کرنے میں مصروف ہے۔ پاکستان ممکنہ خلفشار روکنے میں ترکی کے ساتھ مل کر اہم کردارادا کرسکتا ہے۔ ہمیں مگر روس، چین، شمالی کوریا اور ایران جیسے امریکہ دشمن ممالک کی صف میں کھڑا کرکے خبردار کرنے کی کوشش ہوئی ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.