Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Hamle Mein Bach Jaane Walay Trump Ke Mazeed Sakht Geer Hone Ki Tawaqo

Hamle Mein Bach Jaane Walay Trump Ke Mazeed Sakht Geer Hone Ki Tawaqo

وائٹ ہائوس میں ہوئی بریفنگز کو باقاعدگی سے رپورٹ کرنے والے صحافی گزشتہ کئی برسوں سے امریکی صدر کے اعزاز میں سالانہ عشائیے کا اہتمام کرتے ہیں۔ عموماََ اس کا انعقاد واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل کے ایک ہال میں ہوتا ہے۔ عشائیے سے قبل صحافی کسی مشہور کامیڈین کو امریکی صدر کے لئے "خیر مقدمی کلمات" ادا کرنے کے لئے مدعو کرتے ہیں۔ صدر کا "خیر مقدم" کرتے ہوئے وہ کامیڈین اس کی شخصیت اور پالیسیوں کو جگتوں کا نشانہ بناتا ہے۔

اب کے برس ہفتہ 25 اپریل کی شام ہوئے عشائیے میں شرکت کے لئے مگر صدر ٹرمپ نے یہ شرط عائد کردی تھی کہ وہ کسی کامیڈین کو اپنے "خیرمقدم" کی اجازت نہیں دے گا۔ حکم تھا کہ عشائیہ کی تقریب شروع ہوتے ہی اسے خطاب کے لئے مدعو کرلیا جائے۔ اپنے خطاب کے ذریعے امریکہ کے نامی گرامی اخبارات اور نشریاتی اداروں کے پرخچے اڑانے کے لئے ایک طویل تقریر تیار کرلی گئی تھی۔ اس کا واحد مقصد صحافیوں کو یہ بتانا تھا کہ وہ "فیک نیوز" پھیلاتے ہیں اور امریکی عوام کو ابھی تک یہ سمجھانے میں مستقل ناکام ہورہے ہیں کہ ٹرمپ کی صورت انہیں کتنا عظیم صدر ملا ہے۔

شومئی قسمت کہ ٹرمپ کو اپنے صحافتی ناقدین کی بھداڑانے کا موقعہ میسر نہ ہوا۔ تقریب کا آغاز ہوتے ہی ایک بندوق بردار شخص امریکی صدر پر حملے کے ارادے سے ہوٹل میں گھس آیا۔ ٹرمپ کی حفاظت پر مامور خفیہ اداروں اور پولیس کے اہلکاروں نے متاثر کن سرعت سے اس کے ارادے پھانپ لئے۔ اسے گرفتار کرلیاگیا۔

امریکی صدر کی جان لینے کے ارادے سے ہوٹل میں در آئے شخص کی گرفتاری نے واشنگٹن میں سراسیمگی پھیلادی۔ ٹرمپ کو اس کی حفاظت پر مامور اہلکار گھیرے میں لے کر وائٹ ہائوس لوٹ آئے۔ وائٹ ہائوس لوٹنے کے باوجود امریکی صدر مصررہا کہ سالانہ عشائیے کی تقریب جاری رکھی جائے اور سکیورٹی کلیرنس کے بعد اسے خطاب کے لئے وہاں واپس لے جایا جائے۔ بڑی منت سماجت کے بعد بالآخر وائٹ ہائوس ہی میں کھڑے ہوکر صحافیوں کے ذہنوں میں اٹھے سوالات کے جواب فراہم کرنے کو رضا مند ہوا۔

ٹرمپ کی شخصیت اور پالیسیوں کا میں دیرینہ ناقدہوں۔ اس کے باوجود دیانتداری سے یہ تسلیم کرنے کو مجبورہوں کہ وہ اپنے پر ہوئے دوسرے قاتلانہ حملے سے ہرگز پریشان نظر نہیں آیا۔ وائٹ ہائوس میں کھڑے ہوکر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے واضح انداز میں بلکہ یہ پیغام دیتا سنائی دیا کہ وہ امریکہ کو واقعتا "عظیم تر" بنارہا ہے۔ اسی باعث اس کی جان لینے کی کوشش ہوتی ہے۔ حملہ آور کی انتہائی سرعت سے نشاندہی اور گرفتاری نے اسے بے پناہ اعتماد بخشا ہے۔ ٹرمپ دل سے قائل ہوگیا ہے کہ اسے قدرت نے "تاریخ بنانے کیلئے"امریکہ کا دوسری بار صدر منتخب کروایا اور قاتلانہ حملوں سے محفوظ رکھا۔ ہفتے کی شام ہوئے حملے کی کوشش ناکام ہوجانے کی بدولت اس کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ وہ اپنی کسی بھی پالیسی سے رجوع کرنے کو آمادہ نہیں ہوگا۔

ایک حوالے سے "نئی زندگی" مل جانے کے بعد ٹرمپ ایران کے حوالے سے بھی مزید جارحانہ رویہ اختیار کرتا نظر آئے گا۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے بے تحاشہ صحافی اور تجزیہ کار اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پارہے کہ عوامی سطح پر مقبول ترین سوچ کے قطعاََ برعکس ڈونلڈٹرمپ دل کی گہرائی سے یہ سوچتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔ جنگ بندی پر آمادہ ہونے کے باوجود اسی سوچ کے تحت اس نے ایران کی بحری ناکہ بندی کا فیصلہ کیا۔ مذکورہ ناکہ بندی کے بغیر امریکہ اگر دیرپاامن کی تلاش میں مذاکرات کی میز پر بیٹھا تو اس کے ہاتھ میں موجود پتے کمزور دکھائی دیں گے۔

ریاست ایران کا حکومتی بندوبست رہبر اعلیٰ کی شہادت کے باوجود برقرار ہے۔ ا علیٰ سطح کے فوجی، سیاسی اور جاسوس اداروں کے سربراہان کی پراسرار ہلاکتیں بھی ایران کو کمزور نہیں کرپائیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے خلاف ایران نے اپنے میزائل پروگرام کے طفیل حیران کن مزاحمت دکھائی۔ اپنے ملک پر ہوئے حملوں کے جواب میں بلکہ اپنے ہمسائیہ عرب ملکوں میں بے یقینی کا ماحول بنادیا۔ اپنے میزائل پروگرام کی تقریباََ برتری ثابت کرنے کے بعد ایران مضبوط پتوں کے ساتھ امریکہ سے مذاکرات کیلئے بیٹھنے کو رضامند تھا۔ ٹرمپ نے مگر کمزور پتوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنے سے گریز کیا۔

جنگ بندی کے باوجود ایران کی بحری ناکہ بندی کو و ہ بھرپور انداز میں مؤثر دکھانا چاہ رہا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ ایرانی تیل کی ایک بوند بھی عالمی منڈی میں فروخت کے قابل نہ رہے۔ اس کے مشیروں نے کئی دنوں کی تحقیق کے بعد یہ رائے دی ہے کہ اگر ایران کو عالمی منڈی سے کاملاََ کاٹ دیا جائے تو معاشی اعتبار سے وہ مزاحمت برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہے گا۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لئے اب فقط ایران کے قریبی سمندر ہی میں نہیں بلکہ سری لنکا سے انڈونیشیا تک پھیلے سمندری پانیوں میں بھی ایسے جہاز امریکی نیوی قبضے میں لے رہی ہے جو ایرانی تیل سے لدے ہوئے ہیں۔

ایران جاتے جہازوں کی بھی تلاشی اور کڑی جانچ ہورہی ہے۔ ٹرمپ کو گماں ہے کہ تین بحری بیڑوں کی بدولت مسلط کی ناکہ بندی بالآخر ایران کو جھکادے گی۔ اسی سوچ کے تحت اس نے ایران کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے بعد اپنے داماد کے علاوہ قریبی دوست اور خصوصی سفیر سٹیووٹکوف کو امن کی تلاش میں ہوئے مذاکرات کی خاطر پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا۔ اسلام آباد میں کئی دنوں سے مقیم اور ٹرمپ کی خواہش پر مذاکرات کے دوسرے دور کا انتظار کرتی نیویارک پوسٹ کی صحافی کیٹلن ڈورنبوس کو بھی ہفتے کی شام امریکہ لوٹنے کا پیغام بھیج دیا۔

ہفتے کی شام خود پر ہوئے حملے کی کوشش ناکام ہوجانے کے بعد وائٹ ہائوس میں امریکی صدر نے صحافیوں سے جو گفتگو کی واضح انداز میں یہ عندیہ دیتی رہی کہ "نئی زندگی" پانے کے بعد ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنی سوچ میں لچک ہرگز نہیں دکھائے گا۔ خود کو یقین دلاتا رہے گا کہ قدرت نے اسے "عظیم کارنامے" سرانجام دینے کے لئے چنا ہے اور ایران کے ایٹمی پروگرام کی کامل تباہی بھی اس کی سوچ کے مطابق قدرت نے اس کے لئے چنے "کارناموں " میں شامل کررکھی ہے۔ "نئی زندگی" پانے کے بعد امریکی صدر خطرناک حد تک جارحانہ، سخت گیر اور بے لچک ہوجائے گا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.