تقریباََ 8 ہفتوں سے مجھ جیسے قلم گھسیٹ آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کی بحری ناکہ بندی کے علاوہ کسی اور موضوع پر لکھنے کی ہمت ہی نہیں کر پا رہے۔ دل ودماغ کو فکر مند کرنے والے موضوعات اگرچہ کئی اور بھی ہیں۔ چند ہی دن قبل مثال کے طورپر قارئین کی توجہ بھارتی بنگال کی صوبائی اسمبلی کے لئے ہوئے انتخابات کی جانب مبذول کروانے کی کوشش کی تھی۔ میری دانست میں مذکورہ انتخابات کی تیاری کرتے ہوئے نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندوانتہاپسندی کے بے شمار جارحانہ رحجانات کو بے نقاب کردیا ہے۔ بھارتی بنگال کی آبادی دس کروڑ ہے۔ بھارت کا وہ دوسرا بڑاصوبہ ہے جہاں مسلمان آبادی کے اعتبار سے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ یکجا ہوکر کسی جماعت کی حمایت میں کھڑے ہوجائیں تو اسے صوبائی اسمبلی تشکیل دینے سے روکا ہی نہیں جاسکتا۔
مذکورہ حقیقت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے مودی سرکار کے غلام ہوئے الیکشن کمیشن نے صوبائی انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ہزاروں عذر گھڑتے ہوئے نوے لاکھ (جی ہاں ایک کروڑ سے دس لاکھ کم) افراد ووٹ دینے کے نااہل ٹھہرادئے گئے۔ ہرگز حیران نہ کرنے والااتفاق یہ بھی ہوا کہ ووٹ دینے کو نااہل ٹھہرائے افراد کی نمایاں اور بے پناہ اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔
ٹھوس اعداد و شمار کی بدولت نمایاں ہوئی مذکورہ حقیقت کے باوجود بھارت کے "سیکولر" دانشور لوگوں کو یہ سمجھانے میں ناکام رہے کہ مودی سرکار نہایت ڈھٹائی مگر مہارت سے اپنے ہاں صدیوں سے آباد مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے جنون میں مبتلا ہوچکی ہے۔ بھارت کے "سیکولر" دانشوروں کی مجبوری سمجھی جاسکتی ہے۔ پاکستان کے تبصرہ نگار بھی بھارتی بنگال میں عیاں ہوئے جنون پر توجہ دینے میں ناکام رہے۔ میں نے اس حقیقت کی جانب توجہ دلانے کی غرض سے جو کالم لکھا اسے قارئین کی نسبتاََ محدود تعداد نے پڑھا۔ بہت کم لوگوں نے اسے لائک اور شیئر کے قابل سمجھا۔ تبصروں کی صورت مجھے کماحقہ فیڈ بیک بھی میسر نہ ہوا۔
تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر اخباروں کے لئے لکھتے ہوئے مجھے تین سے زیادہ دہائیاں گزرچکی ہیں۔ جبلی طورپر جان چکا ہوں کہ آپ کا لکھا ہر کالم قارئین کی کثیر تعداد کی توجہ اور ستائش کا مستحق ہونہیں سکتا۔ دیانتداری سے یہ حقیقت تسلیم کرنے کے باوجود میری تمنا تھی کہ بھارتی بنگال پر لکھے میرے کالم کو قارئین کی مؤثر تعداد توجہ سے پڑھنے کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کے ذریعے زیر بحث لائے۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔ بھارتی بنگال پر لکھے کالم سے بے اعتنائی نے بلکہ ہنر ابلاغ کے ماہرین کی اس تحقیق کو سچا ثابت کردیا کہ قارئین صحافی سے "نئے حقائق" جاننے کے خواہاں نہیں ہوتے۔ ان کی لکھی خبر یا کالم کے ذریعے فقط اپنے دل ودماغ میں نسلوں سے موجود تعصبات کی تصدیق کے خواہاں ہوتے ہیں۔
آج سے تقریباََ دو ماہ قبل اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر جو جنگ مسلط کی ہے اس کے نتیجے میں تیل، گیس اور پٹرول کی قیمتیں آسمانوں کو چھورہی ہیں۔ پاکستان جیسے مقروض اور تیل کی درآمد پر کامل انحصار کے عادی ملکوں کے عوام کی اکثریت لہٰذا بے تابی سے آبنائے ہرمز کے کھلنے کی منتظر ہے۔ ہمارے ہمسائے میں امن کی بحالی محض تیل اور گیس کی قیمتوں کو قابل برداشت ہی نہیں رکھے گی۔ اس کے نتیجے میں برادر خلیجی ممالک میں خون پسینہ ایک کرتے پاکستانی مزدور اپنے گھرانوں کو جو رقوم بھیجتے ہیں وہ ہمارے زرمبالہ کے ذخائر کو متوازن رکھنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لاکھوں کنبوں کی معاشی بقاء کے علاوہ ہماری ریاست کو مالیاتی اعتبار سے مستحکم دکھانے کے لئے ریاست پاکستان غیر جانبدار رہتے ہوئے ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان اختلافات کے حل کے لئے ہمہ وقت متحرک رہنے کو مجبور ہے۔ ہماری کاوشوں کا عالمی سطح پر خیرمقدم ہورہا ہے۔ فریقین مگر ابھی تک اتنی لچک دکھانے کو آمادہ نہیں ہورہے جو امن کی جانب پیش رفت کو تیز تر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکے۔
ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر پاکستانیوں کی اکثریت عقلی اعتبار سے ہمارے ہمسائے میں فوری امن چاہتی ہے۔ تھڑے پر بیٹھے اَن پڑھ بندے سے لے کر انتہائی تعلیم یافتہ پاکستانیوں کی اکثریت بھی لیکن جذباتی اعتبار سے ایران کی مزاحمت کو نہایت خلوص سے سراہ رہی ہے۔ انہیں امید نہیں تھی کہ فروری 1979ء سے بتدریج اقتصادی پابندیوں میں گرفتار ہوا ایران اپنے میزائل پروگرام کی بدولت ایٹمی ہتھیار نہ ہوتے ہوئے بھی اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کی بھرپور مزاحمت کے قابل بن چکا ہے۔ حالیہ جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز کے وجود اور اہمیت کا شاید ہمارے گنتی کے چند دانشوروں ہی کو احساس و ادراک تھا۔
امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ نے مگر عام پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت کو بھی سمجھادیا کہ اس کے زیر استعمال تیل اور گیس مذکورہ آبنائے ہرمز سے گزر کر ہی بالآخر اس کے پاس پہنچتا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل مذکورہ آبنائے کی بندش کا خیال دفاعی امور کے ماہرین ترین اذہان میں بھی نہیں آیا تھا۔ ا یران کو جھکانے کی خاطر مسلط کردہ جنگ نے مگر ایران کو وہاں سے گزرتی بحری تجارت پر کامل کنٹرول کے قابل بنادیا ہے۔ نمازبخشوانے گئے اور روزے گلے پڑگئے والا معاملہ ہوگیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے کامل کنٹرول سے جھلاکر امریکہ نے چار بحری بیڑوں کے ذریعے ایران کی ناکہ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔ ناکہ بندی کرتے ہوئے امید یہ باندھی گئی تھی کہ اس کے نتیجے میں ایرانی تیل کی ایک بوند بھی دیگر ممالک جا نہیں پائے گی۔ ایران اس کی بدولت اقتصادی اعتبار سے تین ہفتوں کے بعد روزمرہّ زندگی کے معمولات برقرار رکھنے کے قابل بھی نہیں رہے گا۔
عقل کا غلام بن کر سوچیں تو ایران کی بحری ناکہ بندی کرتے ہوئے امریکہ کے ذہن میں جو اہداف ہیں ان کا حصول ممکن ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بلکہ منگل کی رات سے یہ طے کرچکا ہے کہ ایران بحری ناکہ بندی سے گھبراکر امریکہ کو آبنائے ہرمز کھولنے کے پیغامات مختلف ذرائع سے بھجوانا شروع ہوگیا ہے۔ ایران سرکاری طورپر ایسے پیغامات کی تصدیق نہیں کررہا۔ حقائق کو کامل متضاد نگا ہوں سے جانچنے کے بعد ریاستیں جو فیصلے کرتی ہیں وہ حالتِ جنگ کے نازک وحساس مراحل کے دوران امن کے امکانات کے کامل خاتمے کا باعث بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں ایران اور امریکہ اس وقت ایسے ہی فیصلے لینے کے مراحل میں داخل ہوچکے ہیں۔ پاکستان کے لاکھوں کنبوں کی معاشی بقاء کی خاطر ربّ کریم سے فریاد ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ ان دونوں ملکوں کو درست فیصلے لینے کی ہمت عطا فرمائے۔