اتوار کی صبح اٹھتے ہی جو کالم لکھا وہ حارث خلیق کے ذکر سے شروع ہوا تھا۔ ہم جیسے قلم گھسیٹوں کے لکھے پر بھی کڑی نگاہ رکھنے والے حارث نے چند روز قبل لگی لپٹی رکھے بغیر متنبہ کیا کہ میرے کالم مستقل بے بسی اور ناامیدی کا اظہار کئے جارہے ہیں۔ مجھے آگاہ کرنے کے بعد موصوف نے رجائیت کی جانب مائل کرنے کی کوشش نہ کی۔ مجھے فقط خبردارکیا۔ اس سے ملاقات کے بعد میں کئی گھنٹے یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ ٹھوس وجوہات کے نتیجے میں بھی دل ددماغ پر چھائی مایوسی اور ناامیدی کا مسلسل اظہار قارئین کو یقیناََ اکتادے گا۔ خود سے وعدہ کیا کہ اب حالاتِ حاضرہ ہی پر توجہ مبذول رکھی جائے گی۔
کالم لکھ کر دفتر بھجوانے کے بعد گھر آئے اخبارات کا پلندہ اٹھاتے ہی جی کو خوش کرنے کے لئے عطاءالحق قاسمی صاحب کا کالم پڑھا۔ اتوار کے روز چھپے کالم میں ویسے بھی لاہوریوں کا ذکر تھا اور ان کی "رنگ بازی" قاسمی صاحب کے علاوہ کسی اور کے قلم سے بیان ہو نہیں سکتی۔ قاسمی صاحب کے طفیل طبیعت کوجو شگفتگی نصیب ہوئی تھی وہ مگر انگریزی اخبارات کا رخ کرتے ہی غارت ہوگئی۔ اتوار کے دن میرے دیرینہ اور غم وخوشی کے ساتھی عباس ناصر کا ڈان اخبار کیلئے آخری کالم چھپاتھا۔
عباس غالباََ 1986ءکے برس کراچی سے اسلام آباد آیا تھا۔ بچپن میں پولیو کا شکار ہوا مگر نہایت ہمت وحوصلہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد صحافت کو بطور پیشہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ بے تکلف محفلوں میں بیٹھ کر اکثر شرمندہ محسوس کرتا۔ وجہ اس کی میرا لاہوری پھکڑپن تھا جو بسااوقات بازاری رنگ اختیار کرلیتا۔ عباس مگر بے تکلف محفلوں میں بھی نہایت مہذب انداز میں محض ایک فقرہ ادا کرتے ہوئے ہم سب کو بلند آہنگ قہقہے لگانے کو مجبور کردیتا۔
میں ان دنوں "دی نیشن" اسلام آباد کا بیورو چیف تھا۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس کے بارے میں پارلیمانی ڈائری لکھتا۔ مجھے برجستہ لکھنے کی عادت ہے۔ زبان وبیان پر توجہ دینے کی بجائے محلاتی سازشوں کے ذکر سے دھندا چلانے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ میری زبان وبیان کے حوالے سے کوتاہیاں عباس نے ایک بار بھی نشان ز د کرکے مجھے شرمندہ نہیں کیا۔ فارغ ہوتا تو ہر دوسرے دن میرے دفتر آجاتا۔ میں کالم لکھ رہا ہوتا تو ٹائپ ہوئے کاغذ کو اٹھاکر ہاتھ میں قلم لے کر مجھ بے ہنر کی تحریر ادب آمیز بنادیتا۔ اس کے غیر اعلانیہ استاد ہونے کا اعتراف آج کرنے کو مجبور ہوا ہوں کیونکہ اتوار کے دن اس کے چھپے کالم سے اطلاع ملی ہے کہ اس کا ادارہ معاشی مشکلات کی وجہ سے اس کا ہفتے وار کالم چھاپنے کا متحمل نہیں رہا۔
کامل محنت و لگن سے حکمرانوں اور اشرافیہ کے روبرو جھکے بغیر عباس ڈان اخبار کا مدیر ہوا تھا۔ وہاں سے بی بی سی نے اسے اچک لیا۔ مقامی اور عالمی سطح پر قابل تقلید تسلیم ہوئے صحافی کی معاشی مشکلات کی وجہ سے فراغت نے مجھ جیسے بے ہنر کے اوسان خطا کردئے۔ حارث خلیق کے متنبہ کرنے کے باوجود دل کی اداسی کے ذکر سے لہٰذا ایک اور کالم کا آغاز کرنے کو مجبور ہوگیا ہوں۔ ہر حوالے سے قلم گھسیٹ ہوں۔ ترکی کا مگر ایک ناول نگار ہے۔ نام ہے اس کا اورحان پامک۔ اس کو اپنے آبائی شہر استنبول سے عشق ہے۔ اس شہر کا عاشق ہوتے ہوئے بھی مگر وہ اصرار کرتا ہے کہ "حزن (اداسی)" استنبول کا کلیدی وصف ہے اور "حزن"ہی نے اس شہر کو یکتا بنایا ہے۔
استنبول کا ذکر چھڑا تو ان دنوں سوشل میڈیا پر اس شہر کے جنوب میں واقع آبنائے دردانیلز(جسے ہمارے بزرگ غالباََ درہّ دانیال پکارتے رہے ہیں) کا بہت ذکر ہورہا ہے۔ مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ گفتار کے دائمی غازی ہوتے ہوئے ہمارے عوام کی اکثریت یہ طے کربیٹھی ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ پنگالے کر اپنے ملک کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ عوامی جذبات کے اثبات کے لئے گیلی پولی کے قریب واقع آبنائے دردانیلز کا ذکر ہورہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی طرح یہ بھی سمندر کی ایک تنگ پٹی ہے جو روس اور تر کی کے مابین بحری تجارت کا واحد ذریعہ ہے۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ اور فرانس باہم مل کر جرمنی کو شکست دینا چاہ رہے تھے۔ خلافتِ عثمانیہ کا ترکی جرمنی کا اتحادی تھا۔ روس بھی جرمنی اور ترکی سے خوف محسوس کرتا تھا۔ بعدازاں برطانیہ کا وزیر اعظم ہوا ونسٹن چرچل ان دنوں برطانوی کابینہ میں وزیر نیوی تھا۔ یاد رہے کہ برطانوی ایمپائر کی اصل قوت اس کی بری نہیں بلکہ بحری فوج تھی۔ اس فوج کا ایڈمرل ہوتے ہوئے چرچل نے فیصلہ کیا کہ ترکی کو روس سے کاٹنے کے لے آبنائے دردانیلزپر قبضہ کرلیا جائے۔ خلافت عثمانیہ اس آبنائے سے محروم ہوجانے کے بعد روس کے ساتھ تجارت کے قابل نہیں رہے گی۔ اس کی شکست کے نتیجے میں یونان اور بلغاریہ بھی اتحادی افواج کا حصہ بن جائیں گے۔
تاریخی اتفاق یہ بھی ہے کہ چرچل نے 1915ءکے اپریل ہی میں مذکورہ آبنائے پر حملے کا حکم دیا۔ اتاترک ان دنوں عثمانی خلافت میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھے۔ آبنائے درد انیلز پر حملے کے فوری بعد انہوں نے نہایت جرات اور بہادری سے اپنے کمانڈرعزت پاشا سے وعدہ کیا کہ وہ کسی بھی صورت اتحادی افواج کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہیں مطلوبہ فریضہ نبھانے کا کامل اختیار فراہم کر دیا گیا۔
اتحادی افواج اپریل میں اس آبنائے پر اترگئیں تو اتاترک نے مزاحمت کا آغاز کیا۔ مزاحمت کی قیادت کرتے ہوئے اپنے سپاہیوں کو واضح الفاظ میں بتادیا کہ میں تمہیں "دشمن پر حملے کا نہیں بلکہ مرنے کا حکم دے رہا ہوں"۔ ترک افواج کی مزاحمت جنوری 1916ءتک جاری رہی۔ اس کے دوران کم از کم 56ہزار اور زیادہ سے ز یادہ 87ہزار ترک سپاہیوں کے جاں بحق ہونے کی داستان ہے۔ اتحادی افواج اس جنگ میں 58ہزار فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کرتی ہیں۔ ترک مزاحمت کے آگے مگر انہیں سرنگوں ہونا پڑا۔ دم دباکر اتحادی فوجی میدانِ جنگ سے دست بردار ہوگئے۔ چرچل کو خفت مٹانے کے لئے مستعفی ہونا پڑا۔
گیلی پولی میں اتاترک کی قیادت میں ہوئی مزاحمت نے تاریخ بدل دی تھی۔ برطانیہ اور فرانس اس کی بدولت ناقابل تسخیر ہونے کی شہرت سے محروم ہوگئے۔ زارروس کی اوقات بھی عیاں ہوگئی جس نے اکتوبر 1917ءمیں پہلی کمیونسٹ انقلاب کی راہ ہموار کی۔ اسی جنگ کے نتیجے میں عثمانیہ خلافت بھی بالآخر اپنا وجود برقرار نہ رکھ پائی۔ گیلی پولی کے ہیرو اتاترک نے اس کی جگہ "جمہوریہ" کی بنیاد کھڑی کردی۔
عثمانیہ سلطنت کے زوال نے دنیا کے نقشے پر متعدد عرب ممالک نمودار کئے۔ ان میں سے خلیج سے جڑے ممالک ان دنوں ایران کے اوپراسرائیل اور امریکہ کی مسلط کردہ جنگ میں پھنسادئے گئے ہیں۔ پاکستان کے بے شمار "ذہن ساز" مصر ہیں کہ اگر ٹرمپ نے واقعتا آبنائے ہرمز پر فوجیں اتارنے کا فیصلہ کیا تو اس کا حشر بھی چرچل جیسا ہوسکتا ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ بھولا دِکھتا مگر حقیقتاََ بہت کائیاں ٹرمپ آبنائے ہرمز کھلوانے میں نہیں بلکہ ا یران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کے لئے فضائی حملوں ہی پر انحصار کو ترجیح دے گا۔ اس کی تقاریر اور پیغامات تواتر سے اب ایران میں رجیم چینج نہیں بلکہ پوری ایرانی قوم کو بلااستثناءفروری 1979ءسے امریکہ کو مسلسل ذلت کا نشانہ بنانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے بدلہ لینے کا اظہار ہیں۔ ایران کی کامل تباہی وبربادی اس کا حتمی ہدف بن چکی ہے۔