بین الاقوامی امور کا شاہد اور طالب علم ہوتے ہوئے میں بارہا متنبہ کرتارہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات سے کسی حتمی معاہدے کی امید نہ رکھی جائے۔ اطمینان بخش حقیقت اگرچہ یہ ہے کہ عمان کی وساطت سے ہوئے مذاکرات سے "مثبت خبریں" آنے کے باوجود اسرائیل اور امریکہ نے باہم مل کر ایران پر جوجنگ مسلط کردی تھی اس کے چھ ہفتے گزرنے کے بعد ایران اور امریکہ ایک بارپھر مذاکرات کوآمادہ ہوگئے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے باہم مل کر ان دونوں کو اسلام آباد آنے کورضا مند کیا۔ دو ہفتوں کی جنگ بندی بھی یقینی بنائی۔ اس کے علاوہ امریکی صدر کے نائب جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک وفد یہاں آیا۔ ایران کے 14رکنی وفد کی قیادت وہاں کی قومی اسمبلی کے سپیکرنے کی جو پاسدارانِ انقلاب کی صفوں سے ابھرے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے مابین تنازعات کا آغاز فروری 1979ئکے اسلامی انقلاب کے فوری بعد شروع ہوگیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا گیا۔ لاعلاج خوش فہمی ہی سوچنے کو اُکساسکتی تھی کہ اسلام آباد میں محض چند گھنٹوں کی ملاقات کے بعدیہ دونوں ملک پانچویں دہائی میں داخل ہوئی مخاصمت کوبھلاکردوستی کی شاہراہ پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کرچلنا شروع ہوجائیں گے۔ عقل کی محتاجی پر مبنی اس سوچ کے ہوتے ہوئے بھی دل خوش فہم مگر توقع باندھے رہا کہ اتوار کی صبح اٹھوں گا توخیر کی خبرمل جائے گی۔ خیر کی خبر کی امید باندھتے ہوئے ہفتے کی رات دل مضطر کوفشارخون سے محفوظ رکھنے اور ذہن کو اطمینان دینے والی دوائیں کھاکر بسترمیں گھس گیا۔ 8بجے کے قریب مگر سرہانے رکھا موبائل گوں گوں کی مسلسل آوازوں سے جگانا شروع ہوگیا۔ اسے اٹھایا تو ٹیلی وژن سے تبصرے کا تقاضہ ہوا۔ مجھے بتایا گیا کہ امریکی نائب صدر نے اسلام آباد میں ہوئے راؤنڈ کی ناکامی کا اعلان کردیا ہے۔ وہ اپنے وطن لوٹ رہا ہے۔
پریشانی کے عالم میں واٹس ایپ کی بدولت آئے پیغامات پڑھنا شروع کردئے۔ ان میں سے اکثر میں وہ بیان وصول ہوا تھا جو امریکی نائب صدرنے مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے دیا تھا۔ مختصربیان کے بعد صحافیوں سے فقط دوتین سوالات ہی لئے۔ خیر کی خبر نہ ملنے کے باوجود یہ سوچتے ہوئے اطمینان ہوا کہ اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات کے پہلے رائونڈ کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے بھی امریکی نائب صدر نے جنگ بندی کو فی الوقت بغیر کوئی لفظ کہے برقرار رکھا ہے۔ دل خوش فہم کوایک بارپھر یہ امید ہے کہ مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ناکام ہوجانے کے باوجود پاکستان اپنے دوست ممالک کی معاونت سے دونوں ملکوں کو جنگ بندی کے وقفے میں طوالت کوقائل کرلے گا۔ جنگ بندی کے وقفے میں طوالت مذاکرات کے ایک ا ور راؤنڈ کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔
امریکی نائب صدر کے بیان پر توجہ دیں تو وہ یہ دعویٰ کرتاسنائی دیتا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کا سبب ایران کا اس امر پر اصرار ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام پرکوئی لچک دکھانے کو آمادہ نہیں۔ یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا اوراس کے پرامن مقاصد کے لئے نہیں بلکہ جنگی استعمال کے قابل بھی بنانا چاہے گا۔ رپورٹر کی جبلت لیکن مجھے یہ لکھنے کو مجبور کررہی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فی الوقت امریکہ اور اسرائیل کے مابین کلیدی تنازعہ نہیں ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ہوئے بغیر ایران نے محض اپنے میزائلوں اورڈرونز کی مدد سے 6ہفتوں تک نہ صرف مزاحمت برقرار رکھی بلکہ اپنے ہمسائیہ ممالک میں تیل کی تنصیبات کوبھی نشانہ بناتا رہا۔ اس کے میزائل اور ڈرونزاسرائیل کی حفاظت کے لئے بنائے جدید ترین نظام کوغچہ دے کر صہیونی ریاست کے چند "حساس ترین" مقامات کے قریب بھی پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی عدم موجودگی کے باوجود وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوئی تجارت پر کامل کنٹرول کے قابل ہوگیا۔
میری دانست میں اسلام آباد میں جو مذاکرات ہوئے ہیں ان کے دوران امریکہ دو نکات پر لچک کا تقاضہ کرتا رہا۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کی صلاحیت اور تعداد کو محدود کرنے کا یقین دلائے۔ میزائل پروگرام کے علاوہ آبنائے ہرمز کو بحری تجارت کے لئے کھلارکھنا بھی درکار تھا۔ ایران کے لئے ان دونوں معاملات پر لچک دکھانا اب ممکن نہیں رہا۔ وہ یہ سوچنے میں حق بجانب ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے بغیربھی وہ فقط اپنے میزائل پروگرام کی وجہ ہی سے امریکہ کو مذاکرات کی میز پرلانے کے قابل ہوا۔ اس کی مزاحمت نے آبنائے ہرمز پراس کا کنٹرول بھی اجاگرکردیا ہے۔ وہ اب وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے راہداری وصول کرنا اپنا حق تصورکرتا ہے۔
آبنائے ہرمز پرایران کا کامل کنٹرول مگر خود کو دنیا کی واحد سپرطاقت کہلواتے ملک کے لئے قابل قبول نہیں۔ یہاں سے عالمی ضرورت کا 20 فیصد تیل اور گیس کے علاوہ زمین کو ذرخیز بنانیوالی کھاد اورکمپیوٹر کو جدید تربنانے والے کیمیائی عناصر بھی دنیا بھر کو جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے ہوئی بحری تجارت پر ایران کا کامل کنٹرول اسے مشرق وسطیٰ کا سب سے طاقتور ملک بنا دے گا۔ تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک اس کی جی حضوری کومجبور ہوجائیں گے۔
آبنائے ہرمز پرایران کا کنٹرول مگرامریکہ نے اس ملک پر جنگ مسلط کرتے ہوئے ممکن بنایا ہے۔ اس کی بندش امریکہ کی بطور سپرطاقت ساکھ کوشدید ضرب لگائے گی۔ آبنائے ہرمز سے بحری تجارت کو تحفظ فراہم کرنے کا مگرفی الوقت کوئی فوجی حل میسر نہیں ہے۔ اس کے مختلف مقامات پر بارودی سرنگیں لگادی گئی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے تیل بردار جہازوں کو انشورنس کے نام پر بھاری بھر کم رقم ادا کرنا ہوگی۔ یوں دس ڈالر فی بیرل خریدا تیل بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بعد ناقابل برداشت حد تک مہنگا ہوجائے گا۔
آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس اکٹھا کرتے ہوئے ایران خود پرمسلط ہوئی جنگ سے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہے گا۔ امریکہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس لینے سے روکنے کے لئے فقط اسی صورت رضا مندکرسکتا ہے کہ اس کے اربوں ڈالر جو غیر ملکی بینکوں میں منجمد کردئے گئے ہیں ایرانی استعمال کے لئے کھولے جائیں۔ غالباََ اس خواہش کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہی ایرانی وفد میں وہاں کے سٹیٹ بینک کے گورنربھی شامل تھے۔
پاکستان سے فلپائن تک پھیلے کروڑوں انسانوں کو مہنگائی، کساد بازاری اور قحط بنگال جیسی قیامتوں سے بچانے کے لئے لازمی ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کا نظام جلد از جلد بحال ہو۔ اس بحالی پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لئے لازمی ہے کہ جنگ بندی کے وقفے میں طوالت کا اعلان کیا جائے۔ امریکی نائب صدر کے واشنگٹن پہنچتے ہی ایران پر دوبارہ جنگ مسلط کرنے سے گریز ہو۔
کالم کے اختتام سے قبل یہ فریاد کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات میں ناکامی کا ہرگز ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ شروع دن سے التجا کرتا رہا ہوں کہ ہم امریکہ اور ایران کے مابین "ثالث" کا کردار ادا نہیں کرسکتے۔ ہم ان دونوں کے درمیان ملاقات ومذاکرات کے "سہولت کار" تھے اور ہم نے نہایت خلوص، دیانتداری اور ثابت قدمی سے یہ کردار نبھایا ہے۔ مذاکرات اگرناکام ہونے کے بعد دنیا کو ایک بار پھر جنگ کی جانب دھکیل دیں گے تواس کے ذمہ دارایران اور امریکہ ہوں گے پاکستان نہیں۔