جمعرات کی صبح نو بج کر اٹھارہ منٹ پر یہ کالم لکھنے کو قلم اٹھایا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت طے کرتے مستند اداروں میں سے نمایاں ترین برطانیہ کا برنٹ Brentہے۔ وہاں تیل کے ایک بیرل کی قیمت 121ڈالر کو چھونے والی تھی۔ بدھ کی دوپہر ایک بیرل کی قیمت نے 115ڈالر کی حد پارکرلی تھی۔ اس کے بعد سے تقریباََ ہر پانچ یا دس منٹ بعد اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اپنی "کالی زبان" سے گھبراتا ہوں۔ یہ لکھنے کو اس کے باوجود مجبور محسوس کررہا ہوں کہ آپ تک یہ کالم پہنچنے تک خام تیل کاایک بیرل برنٹ کے حساب سے 130ڈالر سے بھی زیادہ مہنگا ہوسکتا ہے۔
جمعہ کے دن حکومتِ پاکستان نے بھی نئے ہفتے کا آغاز ہونے سے چند گھنٹے قبل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا جائزہ لینا ہے۔ برنٹ کے فراہم کردہ اعدادوشمار نگاہ میں رکھتے ہوئے ناقابل علاج حد تک خوش فہم ذہن ہی یہ دعویٰ کرنے کی حماقت کرسکتا ہے کہ حکومتِ پاکستان پٹرول اور ڈیزل کے ایک لیٹر کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے اعلان سے گریز اختیار کرے گی۔ بدھ کے دن وفاقی حکومت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف صاحب نے تیل اور پٹرول کے حوالے سے جو کلمات ادا کئے انہیں خصوصی طورپر ٹی وی سکرینوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا گیا تھا۔ فکر مند لہجے میں ادا ہوئے الفاظ واضح انداز میں عندیہ دے رہے تھے کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو مزید ناقابل برداشت بنانے کو مجبور ہوگی۔
ملکی خزانے سے تیل کی درآمد کے لئے ہر ہفتے اب ایران کے خلاف جنگ کا آغاز ہونے کے پہلے ہفتے کے مقابلے میں 3گنا زیادہ ڈالر ادا کرنا پڑرہے ہیں۔ 30کروڑ ڈالر سے معاملہ 80کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت کے لئے ناممکن ہے کہ وہ تیل کی گرانی کا بوجھ عام صارفین کو منتقل نہ کرے۔ اضافی قیمتوں کا بوجھ صارفین کو منتقل ہوگیا تو روزمرہّ زندگی کے لئے لازمی اشیاء کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ہماری محدود آمدنی مزید سکڑجائے گی۔ کم تنخواہ پانے والے ملازمین اور دیہاڑی دار خود کو غربت کی لکیر سے کہیں نیچے پھینکا ہوا محسوس کریں گے۔
حکومتوں کا دفاع کرنے کی مجھے عادت نہیں۔ یہ ہنر سیکھ لیا ہوتا تو عمر کے اس حصے میں کونے میں بیٹھا اپنی پسند کی کتابیں پڑھ رہا ہوتا۔ ان ممالک کے چکر لگاتا جہاں کی تاریخ اور ثقافت بچپن سے مسحور بناتی رہی ہے۔ ہفتے کے پانچ دن مگر صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھنا پڑتا ہے۔ ٹی وی کے لئے شو کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اپنے وجود کا احساس دلانا لازمی ہے۔ حکومتوں کے دفاع سے مستقل مزاج گریز کے باوجود شہباز حکومت کو تیل کے بحران کی وجہ سے نازل ہوئے مہنگائی کے نئے عذاب کا یک وتنہا ذمہ دار ٹھہرانہیں سکتا۔
ہم پہ نازل ہوئے عذاب کے اصل ذمہ دار اسرائیل اور امریکہ ہیں جنہوں نے یکم مارچ کا سورج طلوع ہونے سے قبل ا یران پر جنگ مسلط کردی۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینائی کو فضائی حملے سے شہید کرتے ہوئے یہ فرض کرلیا کہ ان کی وفات مذہبی قیادت کو بوکھلادے گی۔ سیاسی قیادت حتمی فیصلہ سازی کے حق سے محروم رکھی گئی ہے۔ مذہبی قیادت کے متوازی اختیارات پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہیں۔ وہ روایتی فوج نہیں اسلامی انقلاب کے "نظریاتی سپاہی" ہیں جو وطن اور اسلامی انقلاب کے تحفظ کے لئے انتہائی نوجوانی کے دنوں میں 8سالہ عراق یا ایران جنگ کے دوران میدانِ جنگ میں سرہتھیلی پر رکھے متحرک رہے۔ نظریاتی اعتبار سے وہ بہت سخت گیر ہیں۔ انہیں مختلف گروہوں میں بانٹ کر "خود مختار یونٹوں" میں بدل دیا گیا ہے۔ کمانڈ اور کنٹرول کا روایتی عسکری نظام ان پر لاگو نہیں ہوتا۔
اسرائیل نے ایران کی مذہبی، سیاسی اور عسکری قیادت کے معتبر وبااثر رہ نمائوں کو چن چن کر قتل کیا۔ خمینائی کی جگہ ان کے فرزند رہبر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ اپنے والد کی شہادت کے روز ہوئے حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ کئی ہفتوں کے علاج کے بعد ہی کامل توجہ سے اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دے پائیں گے۔ ہر حوالے سے صحت مند اور چاک وچوبند ہوتے تب بھی انہیں اپنی جان کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے زیر زمین رہنا پڑتا۔ موبائل فون کے استعمال سے پرہیز بھی درکار ہے۔ آئینی اعتبار سے لیکن وہ ایران کے حتمی فیصلہ ساز ہیں۔ ان کی ہدایت کے بغیر ایران کا کوئی سیاسی، مذہبی اور عسکری رہ نما جنگ وامن کے کلیدی فیصلے کرنے کا اختیار نہیں رکھتا اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق وہ امریکہ کے ساتھ صلح کو آمادہ نہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کی اس سوچ کی تائید کرتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت ہر صورت برقرار رکھی جائے۔
امریکہ اور اسرائیل کو گماں تھا کہ رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بعد ایران میں قیادت کا جو خلا پیدا ہوگا اسے مبینہ طورپر فروری 1979ء سے قائم ہوئے حکومتی بندوبست سے اُکسائے عوام سڑکوں پر نکل کر نئی قیادت متعارف کرواتے ہوئے پُرکردیں گے۔ مؤثر ومعتبر سیاسی وعسکری رہنمائوں کو سازشی انداز میں قتل کرتے ہوئے فرض کرلیا گیا کہ ان کے جانشین مزاحمت برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے یہ تمام اندازے مگر غلط ثابت ہوئے۔ ایران نے نہ صرف مزاحمت دکھائی بلکہ جوابی حملوں کے ذریعے ہمسایہ عرب ملکوں میں بھی بے یقینی اورمعاشی عدم استحکام کی فضا قائم کردی۔
دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور گیس کا 20فیصد سے زیادہ ایران اور اس کے ہمسائے ملکوں سے آبنائے ہرمز کے راستے پاکستان سے لے کر بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا ہی نہیں بلکہ فلپائن، تھائی لینڈ اور ویت نام سے ہوتا ہوا جاپان اور چین بھی جاتا ہے۔ چین کے سوا بقیہ ممالک اب آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں تیل کی ہر بوند کو سونے کے بھائو خریدنے کو مجبور ہورہے ہیں۔ کروڑوں گھرانوں کی بقاء آبنائے ہرمز سے ہوئی بحری تجارت کی مرہون منت ہے۔ ایران نے اس ٹریفک پر کامل کنٹرول حاصل کرلیا تو امریکہ نے خفت مٹانے کو دیوہیکل بحری جہازوں کے ذریعے آبنائے ہرمز کے گرد ناکہ بندی کا حصار کھڑا کردیا۔
امید یہ باندھی کہ بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کسی بھی شے کی درآمد یا برآمد کے قابل نہیں رہے گا۔ اس کے نتیجے میں جو اقتصادی بحران آئے گا وہ ایران کی کامل شکست یقینی بنادے گا۔ بحری ناکہ بندی قدیم دور کی وہ جنگیں یاددلاتی ہے جہاں قلعہ بند ہوئے شہریوں کو حملہ آوروں کے لشکر کئی دنوں کے حصار کے بعد تباہ وبرباد کردیا کرتے تھے۔ منگول لشکروں کی یاددلاتی ناکہ بندی کے ممکنہ نتائج برآمد ہونے سے قبل مگر ایران اپنے پاس موجود ڈرون طیاروں اور میزائلوں کے ذخیروں کو خودکش انداز میں استعمال کرنے سے پہل دکھاسکتا ہے۔ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی، والے ارادے کے ساتھ۔
پاکستان سے فلپائن تک پھیلے میرے اور آپ جیسے کروڑوں افراد ایران اور امریکہ کو تخت یا تختہ کی صورت حال میں دھکیلنے کے ذمہ دار نہیں۔ ان دونوں کے مابین کئی دہائیوں سے جاری مخاصمت مگر ہماری زندگیاں عذاب بنارہی ہیں اور ہم کسی بھی صورت ان دو ممالک کو لچک دکھانے کو مجبور نہیں کرسکتے۔ رواں ہفتے کا آخری کالم لکھتے ہوئے میرے دل ودماغ آپ کو خیر کی امید دلانے کا ایک فقرہ بھی سوچنے کے قابل نہیں۔