Saturday, 16 May 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Abdullah Tariq Sohail
  4. Khoya He Khoya, Paya Kuch Nahi

Khoya He Khoya, Paya Kuch Nahi

امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چین سے ایران کو صدمہ ہوا۔ کچھ مایوس چین کے رویہ سے وہ پہلے ہی تھا، دورہ میں جو کچھ چین نے کہا، اس سے یہ مایوسی اور بڑھ گئی۔

دورے کے دوران امریکہ اور چین میں باہمی تعاون بڑھانے کا فیصلہ ہوا اگرچہ تائیوان پر چین کے سخت موقف کا بھی پتہ چلا۔ چینی صدر نے تین باتیں کیں جن پر ایرانی سرکار نے تو کوئی ردّعمل ابھی تک نہیں دیا ہے لیکن ایرانی میڈیا نے یہ لکھا کہ چین نے ہمیں دھوکہ دے دیا۔ حالانکہ یہ دھوکا نہیں ہے، ایران کے مفاد ہی میں کہا ہے۔

ایک یہ کہا کہ آبنائے ہرمز پر کسی ملک کو ٹیکس یا ٹول لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایران کا خیال تھا کہ چونکہ وہ چین کو مفت میں آنے جانے کی اجازت دے رہا ہے اس لئے اگر وہ ایران کے موقف کی کھلی تائید نہ کرے تب بھی خاموش ضرور رہے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔ ہرمز بین الاقوامی سمندری شاہراہ ہے۔ یہاں کنٹرول کی اجازت دے دی گئی تو آبنائے ملاکا، آبنائے جیرالٹر، آبنائے ڈوور، آبنائے باسفورس میں بھی یہی ہو سکتا ہے اور پھر نہر پانامہ اور نہر سویز میں بھی۔ کئی ماہ پہلے لکھا تھا دنیا میں کوئی بھی ملک ایرانی دعوے کی تائید کر ہی نہیں سکتا۔

دوسری بات چین نے یہ کہی کہ ہرمز کو کھلا رکھنا ہوگا۔ فوجی طاقت سے کسی جہاز کو روکنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

گویا ہرمز پر تمام ایرانی دعوے چین نے مسترد کر دئیے۔

***

تیسری بات تو ایسی تھی کہ ایران کو اس کی توقع خواب میں بھی نہیں تھی۔ یہ کہ چین نے کہا، ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک بات اور بھی کہی لیکن وہ ایسی تھی جو چین ماضی میں بھی اپنے تردیدی بیانات کے مافی الضمیر میں کہہ چکا ہے، یہ کہ ایران کو ہتھیار نہیں دئیے جائیں گے۔

ایران کو روس سے بھی مایوسی ہے۔ عالمی ادارے میں ہرمز پر قرارداد کو روس نے ویٹو کیا نہ چین نے۔ بہرحال روس کا رویہ تھوڑا سا مختلف اور ایران کے حق میں ضرور ہے۔ یہ کہ وہ بحیرہ کیسپئن کے راستے ایران کو ڈرون ٹیکنالوجی اور ڈرون طیارے دے رہا ہے۔

اس خبر کا ایک مطلب اور بھی نکلا۔ یہ کہ ایران کے پاس ڈرون طیاروں کی کمی ہوگئی ہے۔ یہ رپورٹیں غلط ہیں یا غلط اندازوں پر مبنی ہیں کہ ایران کے پاس میزائل اور ڈرون طیاروں کے ذخائر 70 فیصد تک محفوظ ہیں، صرف 30 فیصد تباہ ہوئے۔ بظاہر دنیا کو خبردار کرتا ہے کہ ایران اب بھی بہت بڑا خطرہ ہے، مزید حملے ضروری ہیں۔

***

ایران نے آبنائے ہرمز کی جو ناکہ بندی کی تھی، اس کا ذرا بھی فائدہ اسے نہیں ہوا۔ امریکہ نے اس ناکہ بندی کے اوپر اپنی ناکہ بندی کرکے یعنی ڈبل لاک کرکے الٹا ایران کے مصائب ناقابل بیاں حد تک بڑھا دئیے۔ ایران کا تیل برآمد نہیں ہو پا رہا۔ جو بھی جہاز ایران تیل لینے آتا ہے، امریکہ اسے لوٹا دیتا ہے اور تو اور، چین نے دو روز پہلے عراق کی بندرگاہ بصرہ سے عراقی تیل خریدا، ایک بڑا ٹینکر عراقی تیل سے لا کر ہرمز عبور کر تے ہوئے چین روانہ ہوا۔

ایران میں خوراک کی قیمتیں 3 گناہ تک بڑھ گئی ہیں۔ یعنی سو روپے کی شے تین سو میں مل رہی ہے۔ دو وقت کی روٹی محاورتاً نہیں، سچ مچ مشکل ہوگئی ہے۔ اڑھائی ارب ڈالر کی برآمدات تو صرف ایرانی قالینوں کی تھیں جو صفر پر آ گئی ہیں۔ بیشتر برآمدی اشیا بنانے والے کارخانے بند ہو چکے ہیں۔ انفراسٹرکچر بحال نہیں ہو پا رہا۔ سچ یہ ہے کہ ایران نے اس جنگ سے پایا کچھ بھی نہیں، کھویا ہی کھویا ہے۔ ایران عالمی برادری میں تنہا ہے تو اس کی حکومت اپنے ملک میں تنہا۔ عوام کی بھاری ترین اکثریت اس کے خلاف ہے۔ ایرانی کلرجی کے رہنما بنا گارڈز کے گھروں سے نکل ہی نہیں سکتے۔ گارڈز کو ساتھ لے کر بھی کم ہی نکلتے ہیں۔

***

کم سے کم دو عرب ممالک نے ہرمز کو طلاق دے دی ہے۔ ہرمز سے عالمی سپلائی کا 20 فیصد تیل گزرتا تھا۔ اب یہ شرح پہلے جیسی نہیں رہے گی۔

سعودی عرب نے خلیج فارس سے تیل کا رخ پائپ لائن کے ذریعے مغرب میں بحرہ احمر کی طرف کر دیا ہے اور اب تقریباً سارے کا سارا سعودی تیل ادھر ہی سے برآمد ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی ہنگامی بندوبست کرکے پہلے سے بچھی اس پائپ لائن کو متحرک کر دیا ہے جو خلیج فارس کے ساحل سے ہرمز کے پار خلیج اومان کے ساحل پر فجیرہ کی بندرگاہ اور آئل ٹرمینل تک بچھی ہوئی تھی۔ ایران نے فجیرہ کی تنصیبات پر بڑا حملہ کرکے اسے ناکارہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس نقصان کی مرمت کر دی گئی اور اب امارات کا سارا تیل فجیرہ ہی سے جا رہا ہے۔

خطرہ ابھر کر سامنے آیا کہ کھاد کی فراہمی نہ ہونے سے بہت سے ملکوں کی زراعت تباہ ہو جائے گی۔ اب سعودی عرب اور قطر اپنی ساری کھاد سعودیہ کے مغربی ساحل کے ذریعے برآمد کر رہے ہیں۔ بڑی بڑی صحرائی شاہراہوں سے ہنگامی اقدامات کرکے 35 سو بڑے ٹرک ان سڑکوں پر ہمہ وقت دوڑتے پھرتے اور سامان تجارت احمر کی بندرگاہ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ ٹرک کبھی رکتے نہیں، اس کے ڈرائیور بدلتے رہتے ہیں۔ پٹرول بھروایا، مال لادا اور چل پڑے۔ مال اتروایا، پٹرول بھروایا اور واپس لوٹے۔ اس صورتحال کو امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے یوں لکھا کہ عربوں نے معجزہ کر دکھایا۔

عربوں نے معجزہ کر دکھایا، ایران نے کیا کمایا؟

ایران جنگ ختم ہوگئی تو ماسوا ہمارے، سب دنیا کو فائدہ ہوگا۔ ہمارے ہاں بس یہ ہوگا کہ مہنگائی اور بڑھ جائے گی۔