Saturday, 16 May 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Karaman Katibeen Ko Saza Dene Ka Agar Ikhtiyar Hota

Karaman Katibeen Ko Saza Dene Ka Agar Ikhtiyar Hota

کہا جاتا ہے کہ شیر شاہ سوری کا پانچ سالہ دور حکومت1540-45ءبر صغیر کا پرامن عہد تھا، روایت ہے بوڑھی عورت سر پر سونے کے زیورات لے کر رات کے اندھیرے میں بھی سفر کرتی تو اسے لوٹنے کی کوئی ہمت نہ کرتا، ایسا کیوں تھا؟ س لئے کہ بادشاہ نے سخت انتظامی اصلاحات نافذ کیں، عدل و انصاف اور جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی، مگر یہ پالیسی دفتری کاغذوں تک محدود نہ تھی، جرائم کو کنٹرول کرنے کے دو طریقہ کار تاریخ میں رقم ہیں، ایک مقامی ذمہ داری کا اصول دوسرا سخت ترین سزاؤں کا نفاذ۔ ان کے دور میں جس علاقہ میں چوری یا ڈکیتی ہوتی، وہاں کے جاگیردار اور تھانیدار کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا اگر وہ مجرم پکڑنے میں ناکام رہتے تومتاثرہ فرد کا نقصان اپنی جیب سے اداکرتے، غیر جانب داری کا عالم یہ تھاعدل و انصاف کی راہ میں خاندان سے قریب ترین عزیز بھی حائل نہ ہو سکتے۔

تاج برطانیہ نے بھی اسی خطہ میں جرائم کنٹرول کرنے کے لئے منظم طریقہ کار اختیار کیا، 1857 کی جنگ آزادی کے بعد 1861 کا پولیس ایکٹ نافذ کیا، مرکزی اور درجہ وار پولیس فورس بنائی، سخت قوانین اور عدالتی نظام متعارف کروایا، جاسوسی اور سرویلنس کامربوط نیٹ ورک بنایا، مقامی سرگرمیوں، مذہبی راہنماؤں، سیاسی جلسوں پر کڑی نظر رکھی جاتی۔ انگریز دور کا قانون اور طریقہ کار ہماری ریاست میں چند ترامیم کے ساتھ نافذ العمل ہے۔

شیر شاہ سوری کا نظام نافذ کرنے میں مگر قباحت یہ کہ انکے فارمولا کے تحت کہ جن کو جرائم کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ٹھہرانامقصود ہے، انکی غالب اکثریت کا دست شفقت ہی تو جرائم پیشہ وروں کے سر پر ہوتا ہے ریاست میں مثالی امن کے قیام کا دعویٰ کوئی بھی سرکار نہیں کر سکتی۔ سیاسی مخالفین پر بھینس چوری اور عدت میں نکاح کے مقدمات ہماری جگ ہنسائی کے لئے البتہ بے مثل ہیں۔

یار لوگوں نے سوچا کون جاگیر داروں سے دشمنی مول لے اورسنتری بادشاہ کو جرائم کا ذمہ دار قرار دنیا آبیل مجھے مار کے مصداق آتے ہیں، سادہ حل مگریہ نکال لیا کہ مجرم کے نیفے ہی میں از خود پستول چلا دیا جائے بعد ازاں اس کا نزاعی بیان لکھ کر داخل دفتر کر دیا جائے، باقی حیاتی ملزم کیسے گزارے گا معاملہ متاثرہ فرد پر چھوڑ اجائے، اس طرح ایک تیر سے دوشکار کئے جاتے ہیں، ایک تو انتشاری ذہن رکھنے والے متوقع ملزم کو بھی کان ہو جاتے ہیں، کہ آپ کا پستول بھی اپنے کنٹرول میں نہیں رہتا، لہٰذا احتیاط ضروری ہے، البتہ عام شہری یہ سمجھنے سے قاصر ہے، تہہ در تہہ پولیس فورسز کی موجودگی کے باوجود پستول جیسا سنگین ہتھیار ایسے افراد کے ہاتھ لگتا کیسے ہے؟ اس فعل سے کیا جرائم کی دنیا میں کوئی کمی ہوئی ہے؟ جواب آزادذرائع سے ہی ممکن تھا، لیکن جب تعلیمی اداروں میں ہی ریسرچ اور اعدادوشمار کا منظم کلچر آباد نہیں تو کسی بھی محکمہ میں اس کا مستند ڈیٹا کہاں میسر ہوگا۔

تحقیق کئے بغیر گذشتہ سال آرڈیننس کی وساطت سے کرائم کنٹرول کا نیا ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی)وجود میں لایا گیا، چار ہزار افراد کی بھرتی کے ساتھ اس کوسنگین ترین جرائم اور نو گو ایریاز کے خاتمے کا ٹاسک دیا گیا، راوی کے بقول 1980 کے بعد بے گناہ انسانوں کے قتل اور1982 کے بعد اغوا برائے تاوان میں تیزی سے اضافہ نئے ادارہ کے قیام کی ضرورت بن گیا، اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ بہت دیر کی مہربان آتے آتے۔ میڈیا کے مطابق نئی پوسٹوں کی منظوری تک پولیس میں موجود افسران و اہلکارنئے شعبہ میں فرائض منصبی انجام دیں گے، یہاں از خود سوال پیدا ہوتا ہے 80کی دہائی سے اب تلک کس ادارہ یا ہستی نے محکمہ پولیس کو سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سنگین کاروائی سے روکے رکھا، راوی یہ انکشاف کرنے سے قاصر ہے۔

پنجاب ہی میں نئی پیرا فورس وجود میں لائی گئی ہے، اس کے فرائض منصبی میں ناجائز تجاوزات کا خاتمہ، پرائس کنٹرول وغیرہ ہے، کسی زمانہ میں مجسٹریٹی نظام کا طوطی بولتا تھا، تاج برطانیہ کا دیا ہوا افسر شاہی پر مشتمل یہی نظام پرائس کنٹرول، قبضہ مافیا اور جرائم کی بیخ کنی کے استعمال ہوتا تھا اور بہت حد موثر بھی رہا، اب کیوں یہ مفلوج ہے، سرکاری ترجمان ایسی وضاحت دینے سے گریزاں ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز دیکھ کر لگتا ہے کہ پیرا فورسز نے بازاروں میں خوانچہ فروشی کی ریڑھیوں کو الٹانے کے علاوہ کوئی خدمت انجام نہیں دی ہے، گراں فروشی اور گرانی میں کمی اگر آئی ہے تو وہ خوف خدا سے ہی آئی اس فورس کا اس سے کوئی واسطہ نہیں، لیکن بہت سے باریش لوگوں کو ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر واسطہ پاتے ضرور دیکھا گیا، اس فورس کے سینہ میں کیا دل نہیں ہوتا، صوبہ کی انتظامیہ تمام خوانچہ فروشوں کو کاروبار کے لئے جگہ اگر فراہم کر چکی، تب بھی یہ رویہ غیر اخلاقی ہے، یہ دھیان رہے انکی فرعونیت کو عوام، میڈیا کے علاوہ بھی کوئی ہستی دیکھ رہی ہے جسے اونگھ نہیں آتی۔

ایک لمحہ کے لئے سوچئے! اگر کراماً کاتبین کو انسانی اعمال کا حساب رکھنے کے ساتھ ساتھ سزا دینے کا بھی اختیار ہوتا، تو کتنے ہی مجر م دن بھران کے سامنے کان پکڑے کھڑے ہوتے، اہل فلسطین پر پھر بم یوں نہ گرائے جاتے نہ ہی ان کے بچوں کی لاشوں کی فارسفورس سے بے حرمتی کی جاتی، کشمیرمیں ظلم روا نہ رکھا جاتا، ارباب اختیار، سیاست دانوں سے لے کر افسر شاہی تک سب تیر کمان کی طرح سیدھے ہوتے، فون کال پر سیاسی وفاداریاں تبدیل نہ کروائی جاتیں، اسلامی ریاستوں میں نسلی، لسانی، مسلکی گروہ بندی کا شائبہ تک نہ ہوتا، عرب ممالک میں شاہی خاندانوں کی عیاشیاں یوں نہ جاری رہتیں، دنیا میں سماجی، معاشی، تفاوت اور قانونی تفریق نہ ہوتی، جرم کرنے سے قبل مجرم ہزار بار سوچتا کہیں پیٹھ پر کوڑا ہی نہ برس جائے۔

مہلت کو غنیمت جانیں قادر مطلق نے حساب کا معاملہ روز محشر تک اٹھا رکھا ہے، کراماً کاتبین صرف اعمال لکھتے ہیں، مصنوعی اختیا رات دےکر عوام پر فرعون مسلط کرنے سے امن قائم نہیں ہوتا، ریاست میں مثالی امن، خوشحالی اور جرائم کا خاتمہ سب قیام عدل سے عبارت ہے، خلیفہ دوئم ؓکی طرح دن اور رات کے پہر میں گلیوں میں عوام کی خبر گیری کرنا پڑتی ہے، زلزلہ آنے پر اپنا عصا مار کر زمین سے پوچھا بتا تجھ پر عدل قائم نہیں روایت ہے کہ زلزلہ تھم گیا، مصنوعی، نمائشی، عارضی اقدامات سستی شہرت کا ذریعہ تو بن سکتے ہیں، تاریخ میں نام مگرنہیں لکھوا سکتے۔