Wednesday, 06 May 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. America Iran Kasheedgi, Phir Aane Wali Thaa

America Iran Kasheedgi, Phir Aane Wali Thaa

ستائش کی دیانتداری سے تمنا نہ ہونے کے باوجود میرے جیسے قلم گھسیٹ بھی یہ چاہتے ہیں کہ وہ جو لکھیں اسے لوگوں کی ایک معقول تعداد پڑھے۔ جو موضوع کالم میں زیر بحث آئے اس کے بارے میں بیان کردہ رائے سے اتفاق نہیں تو دلائل پر مبنی اختلاف بھی نصیب ہوجائے۔

انٹرنیٹ کی ایجاد سے قبل اخبارات وجرائد کے لئے باقاعدگی سے لکھنے والوں کو قارئین خطوط لکھ کر اپنی رائے سے آگاہ کیا کرتے تھے۔ فیڈ بیک کا یہ سلسلہ ٹیلی فون نے مزید جاندار بنادیا تھا۔ خطوط اور ٹیلی فون دس یا پندرہ افراد کی جانب سے وصول ہونے کے باوجود لکھاری اس گماں میں مبتلا ہوجاتے کہ "ملک بھر میں پھیلے" لوگوں کی بڑی تعداد نے آپ کے لکھے کو پڑھا اور اس کے بارے میں اپنی رائے لکھاری تک پہنچانے کی کوشش بھی کی۔ انٹرنیٹ نے اس گماں کو خاک میں ملادیا ہے۔

اخبارمیں کالم چھپ جانے کے بعد ویب سائٹ پر بھی لگادیا جاتا ہے۔ جس اخبار کے لئے لکھا ہو اس کی ویب سائٹس پر جائیں تو فوراََ علم ہوجاتا ہے کہ کتنے لوگوں نے آپ کا کالم پڑھا ہے۔ اس کے علاوہ ٹھوس اعداد کی بدولت یہ علم بھی ہوجاتا ہے کہ آپ کے لکھے ہوئے کالم کو کتنے لوگوں نے پڑھنے کے بعد پسند کیا اور دیگر لوگوں تک پہنچانے (Share)کی ضرورت محسوس کی۔ اس کے علاوہ لوگوں کی رائے بھی تبصروں (Comments) کی صورت ویب سائٹ پر ہی میسر ہوجاتی ہے۔

اخباروں کی ویب سائٹس کے علاوہ مجھ ایسے "دانشوروں " نے سوشل میڈیا پر ذاتی اکائونٹس بھی بنارکھے ہیں۔ اخبارات کی ویب سائٹس سے براہِ راست رجوع کرنے کے بجائے باقاعدہ قاری ان اکائونٹس کی بدولت آپ کے لکھے کالم پڑھ لیتے ہیں۔ ستائش کی دیانتداری سے تمنا نہ رکھنے کے باوجود انٹرنیٹ کی بدولت میسر ہوئے باقاعدہ قارئین کی تعداد جی کو تسلی فراہم کردیتی ہے۔ یہ اعتراف کرنے میں مجھے جھجک محسوس نہیں ہوتی کہ انٹرنیٹ کی بدولت میسر ہوئے باقاعدہ قارئین کی معقول تعداد ہی مجھے ہفتے کے پانچ دن روزانہ اٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کو اُکساتی ہے۔

باقاعدہ قارئین کی معقول تعداد کی بدولت ملے حوصلے کے بارے میں احسان مند محسوس کرنے کے باوجود اکثر یہ خیال آتا ہے کہ انٹرنیٹ کی بدولت میسرہوئی قارئین کی تعداد اور ان کی جانب سے چند موضوعات پر لکھے کالم کی پذیرائی کئی حوالوں سے آپ کو محض چند ہی موضوعات کے بارے میں لکھنے کو محدود کردیتی ہے۔ بہت سے موضوعات کو ذاتی طور پر اہم سمجھتے ہوئے بھی آپ باقاعدہ قارئین سے محروم ہوجانے کے خوف سے انہیں زیر بحث نہیں لاتے۔

ستائش سے زیادہ مقبولیت کھوجانے کا خوف لاشعوری طورپر چند موضوعات سے گریز کا عادی بنادیتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر لکھنے کو مجبور شخص کے لئے یہ گریز اس وقت مزید ناقابل برداشت ہوجاتا ہے جب سرکارمائی باپ چند "حساس معاملات" کو میڈیا میں زیر بحث لانے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ فرض کرلیتی ہے کہ حقائق سے ناآشنا "دوٹکے کے رپورٹر" ایسے معاملات پر لکھتے ہوئے "قومی مفادات" کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ "قومی مفادات" کی واضح فہرست مجھے آج تک میسر نہیں ہوئی۔

آج کی نوجوان نسل جسے "جین-زی" کہا جاتا ہے غالباََ اس حقیقت کے بارے میں لاعلم ہوگی کہ اکتوبر1979ء سے کم از کم 6برس تک کسی بھی سیاسی جماعت یا رہ نما کا نام لے کر خبر یا کالم میں ذکر "قومی مفادات" کے منافی تصور ہوتاتھا۔ "قومی مفادات" کو ذہن میں رکھتے ہوئے صحافی عموماََ کسی سماجی تقریب کا ذکر کرتے ہوئے یہ "خبر" دیتے کہ وہاں "کالعدم" پیپلز پارٹی یا تحریک استقلال کے فلاں رہ نما بھی موجود تھے۔ سیاسی جماعتوں سے نفرت کی وجہ ہی سے جنرل ضیاء نے 8سال کے طویل مارشل لاء کے بعد "غیر جماعتی بنیادوں " پر انتخاب کروائے۔ 1985ء میں ہوئے ان انتخابات کا کالعدم ٹھہرائی سیاسی جماعتوں نے بائیکاٹ کردیا۔ کئی گھرانے نسلوں سے چند سیاسی جماعتوں سے وابستگی کے باوجود ان سے "علیحدگی" کا اعلان کرنے کے بعد "ذاتی" حیثیت میں مذکورہ انتخاب میں حصہ لینے کو مجبور ہوئے۔

ستم ظریف تاریخ کی حقیقت یہ بھی ہے کہ نہایت غوروخوض کے بعد "غیر جماعتی انتخابات" کے نتیجے میں قائم ہوئی قومی اسمبلی کے لئے جنرل ضیاء￿ کی جانب سے "نامزد" ہوئے وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی اعلان کردیا کہ مارشل لاء اور جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ مرحوم نے نہایت سرعت سے یہ دریافت بھی کرلیا کہ "آزاد" حیثیت میں منتخب ہوئے اراکین اسمبلی کی مدد سے حکومت چلانا ممکن نہیں۔ یہ مینڈکوں کو ترازو میں تولنے جیسا کٹھن کام ہے۔ "آزاد" اراکین کو نظم وضبط کی لگام ڈالنے کے لئے پا کستان مسلم لیگ کے احیاء کا فیصلہ ہوا۔

جس "مسلم لیگ" کو ترجیح دی گئی وہ 1985ء کے انتخابات تک پیر پگاڑا سے منسوب "کالعدم" مسلم لیگ تھی۔ کالعدم کا لفظ ہٹانے کے لئے پیر پگاڑا کو مذکورہ جماعت کی سربراہی چھوڑنے کو رضا مند کیا گیا۔ وہ رضا مند اس لئے بھی ہوگئے کیونکہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو ان کے مرید تھے اور ان کے روبرو ننگے پائوں حاضر ہوتے تھے۔ بحال ہوئی مسلم لیگ کی سربراہی ان ہی کے سپرد کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ "غیر جماعتی بنیادوں " پر قائم ہوئی قومی اسمبلی کے اراکین نے جب ایک "کالعدم" جماعت بحال کرلی تو 1986ء میں مارشل لاء کے اختتام پر دیگر جماعتیں بھی ازخود بحال ہوگئیں۔

جنرل ضیائکو یہ سب مگر پسند نہ آیا۔ 1988ء میں داخل ہوتے ہی اپنے ہی تشکیل کردہ نظام سے متنفر ہونا شروع ہوگئے۔ جونیجو حکومت کے علاوہ تمام صوبوں کی اسمبلیوں اور منتخب حکومتوں کو بالآخر مئی 1988ء میں برطرف کردیا گیا۔ ان پر بدعنوانی کے سنگین الزامات بھی عائد ہوئے۔ اپنے لگائے پودے کو اکھاڑنے کے بعد کیا کرنا ہے اس کا فیصلہ جنرل ضیاء کر نہ پائے اور گومگو کی حالت ہی میں اگست 1988ء کے فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ المناک حادثے کی بدولت ان کی وفات کے بعد 1988ء کے انتخابات کے ذریعے ملک میں "جمہوریت" بحال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پیپلز پارٹی کی مقبولیت سے نبردآزما ہونے کے لئے تاہم مسلم لیگ سمیت مختلف جماعتوں پر مشتمل "اسلامی جمہوری اتحاد (IJI)" کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس اتحاد نے پیپلز پارٹی کو آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت بنانے سے بازرکھا۔ کئی دہائیاں اور متعدد انتخابات ہوجانے کے باوجود پیپلز پارٹی آج بھی پنجاب میں حکومت بنانے کے قابل نہیں ہے۔

پیپلز پا رٹی کی پنجاب میں صوبائی حکومت بنانے کے حوالے سے ناکامی مگر آج کے کالم کا موضوع نہیں۔ ملکی سیاست بھی زیر بحث لانا مقصود نہ تھا۔ رات سونے سے قبل ارادہ باندھا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے منگل کی صبح اٹھ کر ایران کے ساتھ امریکہ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ایک لفظ نہیں لکھوں گا۔ دو ہفتوں سے مسلسل اس موضوع پر لکھتے ہوئے اکتا گیا ہوں۔ ارادہ تھا کہ بھارتی بنگال کی صوبائی اسمبلی کے لئے ہوئے انتخاب پر توجہ مرکوز رکھوں گا۔ اپنے قارئین سے التجا کروں گا کہ ہندوتوا کی بنگال میں جیت درحقیقت بھارت کو فقط ہندواکثریت کا ملک بنانے کی جانب ا یک تاریخی پیش قدمی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بھارتی بنگال کے تناظر میں ہندو توا کی نمائندہ بی جے پی اور سیکولرازم کی رہی سہی پہچان ممتابنیر جی کے مابین جاری معرکہ کے بارے میں جو کالم لکھا اسے مگر بہت کم قارئین نے توجہ سے پڑھنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔

پیر کی رات سونے سے قبل ایران کی امریکہ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے بارے میں ایک لفظ نہ لکھنے کے عہد پر کاربند رہتے ہوئے بھی بھارتی بنگال میں آئے زلزلے کے بارے میں قارئین کی عدم دلچسپی کے خوف سے ایک لفظ بھی نہیں لکھ پایاہوں۔ آئیں، بائیں، شائیں سے ڈنگ ٹپالیا ہے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ بدھ کی صبح اٹھتے ہی "آنے والی تھاں "یعنی امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں لکھنے کو مجبور ہوجائوں گا۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.