Wednesday, 06 May 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Pak Afghan Taluqat Ka Mustaqbil

Pak Afghan Taluqat Ka Mustaqbil

ایک دوسرے کی ضرورت ہونے کے باوجود پاک افغان تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ دونوں طرف کے عوام کی بدقسمتی ہے جس کی بڑی ذمہ داری طالبان رجیم پر عائد ہوتی ہے جس نے کبھی پاکستان کے تحفظات کو سنجیدہ نہیں لیا اور نہ صرف دہشت گرد گروپوں اور علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی جاری رکھی بلکہ اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں دے کر بھارتی پراکسی کے طور پر پاکستان اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں حصہ دار بنے۔ سوال یہ ہے کہ پاک افغان تعلقات کا مستقبل کیا ہے؟ تو اِس کا سادہ سا جواب ہے کہ جونہی طالبان رجیم نے اپنی غلطیاں تسلیم کر لیں اور درستی کے اقدامات کیے تو تعلقات بہتر اور خوشگوار ہو جائیں گے کیونکہ افغانوں بارے پاکستان کا رویہ ہمیشہ فیاضانہ اور رحمدلانہ رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان دو ایسے ہمسائے ہیں جن میں خوشگوار تعلقات کا عرصہ تلاش کرنا مشکل ہے مذہبی، ثقافتی اور لسانی رشتوں کے باوجود بے اعتباری کی طویل تاریخ ہے جس کا آغاز قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی ہوگیا تھا جب اقوامِ متحدہ کی رُکنیت کے وقت افغانستان نے مخالفت کی اور پھر نوزائیدہ مملکت کے لیے سرحدی مسائل پیدا کیے۔ علیحدگی کی تحریکوں کی سرپرستی کی اِن تمام سازشوں کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ بڑے ظرف کا مظاہرہ کیا۔ وائے افسوس کہ افغانستان نے قدر نہ کی اور ظرف کو کمزوری سمجھ کر بھارت کی خوشنودی کے لیے ہر بار دوستی کے لیے بڑھائے پاکستانی ہاتھ کو نظر انداز کیا یہ کوتاہ اندیشی ہے یا دولت کی ہوس؟ یا دونوں پہلو ہو سکتے ہیں افغان حکمرانوں نے ملک اور خطے کا مفاد قربان کر دیا۔

روس نے حملہ کیا اور اُس کی فوجیں افغانوں کا بے دریغ قتلِ عام کرنے لگیں تو اِس عمل میں بھارت روس کے ساتھ رہا لیکن پاکستان نے نہ صرف افغان لُٹے پُٹے شہریوں کو خوش آمدید کہا بلکہ خوراک اور رہائشی کی سہولتیں دیں جو شہری حملہ آور فوج سے دو دو ہاتھ کرنے کے آرزو مند تھے اُن کا بھی ساتھ دیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب افغان اشرافیہ کی طرف سے پاکستان بارے کلمہ خیر سُننے کو ملا مگر روسی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان اندرونی لڑائی کا شکار ہوگیا جس سے طالبان نے فائدہ اُٹھایا اور ملک پر قابض ہو گئے۔ جلد ہی 9/11 کو جواز بنا کر امریکہ نے نیٹو کی ہمرکابی میں افغانستان پر حملہ کر دیا لیکن روسی اور امریکی و نیٹو فوج کے انخلا سے افغان پانچ ہزار سالہ تاریخ کے خناس کا شکار ہو گئے جو خود فریبی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ساری دنیا متفق ہے کہ افغان حکمرانوں نے حماقتوں سے اپنے ملک کو میدان جنگ ہی بنایا ہے اور اگر پاکستان ساتھ نہ دیتا تو آج افغانستان نام کا شاید ہی ملک دنیا کے نقشے پر موجود ہوتا۔

امریکی قیادت میں نیٹو نے حامد کرزئی اور اشرف غنی جیسے نمونے مسلط کیے جو ملکی مفاد میں پاکستان سے تعلقات بڑھانے کی بجائے بھارت کی طرفداری کرتے رہے یہ نمونے آج تاریخ کے اوراق میں گُم ہیں لیکن بھارت کے لیے حالات اِس حدتک سازگار بنا گئے ہیں کہ آج طالبان بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن اصل میں بھارت کی پراکسی ہیں اور پاکستان جیسے دنیا کے واحد جوہری اسلامی ملک کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں میں دہلی کے آلہ کار ہیں۔

طالبان کے حمایتی گروہ خطے میں چینی شہریوں پر حملوں میں ملوث ہیں لیکن سرحدی خلاف ورزیوں کو روکنے میں طالبان نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا بار بار کی وعدہ خلافیوں پر احتجاج کے جواب میں پانچ ہزار سالہ تاریخ کی کہانیاں سناتے ہیں جب پاکستان نے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر دہشت گردوں کو اُن کی کمین گاہوں میں نشانہ بنایا تو بھی جوابی رویہ حقارت پر مبنی رہا اور مقابلے کی باتیں کی جانے لگیں لیکن چند گھنٹوں کی لڑائی سے ثابت ہوگیا کہ یہ گوریلا لڑائی کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ دونوں ممالک کی سرحدوں پر آمدورفت اور تجارت بند ہے حالانکہ افغانستان جیسے لینڈ لاکڈ ملک کے لیے پاکستانی بندرگاہیں کسی نعمت سے کم نہیں جن کے ذریعے اپنا مال دنیا بھر میں بھجوا سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی افغانستان ایک منافع بخش منڈی ہے لیکن دہشت گردوں کے سرپرست طالبان نے دونوں ممالک کو ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے جس سے پاک افغان عوام کو نقصان تو ہو سکتا ہے فائدہ ہرگز نہیں موجودہ صورتحال صرف بھارت کی آرزو ہے کیونکہ وہ افغانوں کی سرشت سے واقف ہے کہ دولت کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اسی لیے طالبان کو اسلحہ، تربیت اور رقوم دیکر خطے کا امن تباہ کرنے کی کوشش میں ہے بھارت جان چکا ہے کہ جنگ کی صورت میں پاکستان کے مقابلے کی سکت نہیں رکھتا اسی لیے سازشوں پر اُتر آیا ہے۔ طالبان قیادت فہم و دانش کا مظاہرہ کرے تو صورتحال بدل سکتی ہے اور نہ صرف پاک افغان کشیدگی ختم ہو سکتی ہے بلکہ تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے یہ بات چین، ایران، روس اور دیگر وسط ایشیائی ممالک بھی اُنہیں سمجھانے کی کوشش میں ہیں۔

پانچ ہزار سالہ افغان تاریخ میں فتوحات کم اور لوٹ مارکی داستانیں اور بیرونی حملہ آوروں سے مار کھانے کی کہانیاں زیادہ ہیں ممکن ہے۔ طالبان رجیم کو اِس کا کچھ ادراک ہوگیا ہو کیونکہ اب کچھ ایسے اِشارے ملنے لگے ہیں کہ پاک افغان تعلقات میں بہتری کا عمل قریب ہے۔ طالبان کی طرف سے دہشت گردوں سے دوری اختیار کرنے اور انہیں ملک سے ٹھکانے چھوڑنے یا بے دخل کرنے کی تحریری یقین دہانیاں ایک مثبت اور خوش آئند تبدیلی ہے۔

پاک افغان مسائل اور تعلقات کا معاملہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے خطے کے امن و استحکام سے براہ راست منسلک ہے اور خرابی کی صورت میں تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا باعث بنتا ہے۔ وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے پاکستان نے ایرانی حدود استعمال کرنا شروع کر دی جبکہ اِس کے عوض ایران کو سات تجارتی راہداریاں فراہم کر دی ہیں جس سے روابط اور تجارت میں کافی بہتری دیکھی جانے لگی ہے۔ یہ حالات اُسے افغانستان سے بے نیاز کر سکتے ہیں لیکن افغانستان ایسا ملک ہے جس پر کوئی بھی ہمسایہ اعتبار نہیں کرتا لہٰذا طرزِ عمل کا جائزہ لیکر امن کے لیے ایسے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ہمسایہ ممالک کو یقین ہو کہ طالبان رجیم امن کے لیے سنجیدہ ہے۔

اِس طرح بے اعتباری میں کمی آئے گی چینی کہاوت ہے کہ گھر میں لگی آگ دور کے پانی سے نہیں بھجائی جا سکتی بھارت پر انحصار چھوڑ کر طالبان رجیم کے لیے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانا زیادہ فائدہ مند ہے وگرنہ افغانستان میں جنم لیتی متشدد سرگرمیاں، افراتفری، بھوک و افلاس اُن کے اقتدارکے لیے خطرہ بننے کے ساتھ ملکی تقسیم کا بھی باعث بن جائیں گی۔