Wednesday, 06 May 2026
  1.  Home
  2. Express
  3. Zulfiqar Ahmed Cheema
  4. Lahore Ki Taqreebat

Lahore Ki Taqreebat

اس بارلاہور میں قیام خاصا طویل رہا اور اپریل کے آخری دس روز بے حد مصروف گزرے۔ علامہ اقبال کونسل کے زیراہتمام نومبر میں وفاقی دارالحکومت میں یومِ اقبالؒ کی تقریب منائی جاتی ہے اور اپریل میں یہ تقریب لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل کے ہال نمبر 1 میں منعقد کی جاتی ہے۔ حاضرین پچھلے کچھ سالوں سے اس تقریب کو لاہور بلکہ پنجاب کی سب سے بڑی تقریب قرار دے رہے ہیں۔

لاہور میں اس سال یومِ اقبال کی تقریب کے لیے 23 اپریل کی تاریخ مقرر کردی گئی تھی، مگر اس سے پہلے کئی اور دعوت نامے بھی پہنچ چکے تھے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم سہگل صاحب کی طرف سے 21 اپریل کو چیمبر میں علامہ اقبالؒ کی شخصیّت اور افکار پر تقریر کرنے کی دعوت ملی تھی، NIPA لاہور (جہاں سول سرونٹس کو اگلے گریڈ میں ترقی کے لیے لازمی ٹریننگ کورس کروائے جاتے ہیں) کے ڈائریکٹر جنرل فاروق مظہر بڑے قابل افسر ہیں اور اپنے ادارے میں بہتری لانے اور زیرِ تربیت افسروں کی ٹریننگ کا معیار بلند سے بلند تر کرنے کے لیے ہردم کوشاں رہتے ہیں، اسی لیے وہ مہمان مقرّرین کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور صرف ان سینئر یا ریٹائرڈ سول سرونٹس کو لیکچر کے لیے بلاتے ہیں جن کا ریکارڈ بے داغ رہا ہو اور جنھوں نے سروس کے دوران ذاتی فلاح کی بجائے عوام کی بہبود کے لیے کچھ کام کیا ہو۔

ان کی طرف سے بھی 22 اپریل کو نیپا میں لیکچر کا دعوت نامہ موصول ہوچکا تھا۔ اس سے پہلے ہوم اکنامکس یونیورسٹی کی جانب سے میری نئی کتابوں جہدِ مسلسل اور افکارِ تازہ، کی تقریب پذیرائی منعقد کرنے کا عندیہ دیا جاچکا تھا۔ اس کے علاوہ دو معروف یونیورسٹیوں۔ یو ایم ٹی اور یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب سے بھی دعوت نامے مل چکے تھے۔ چنانچہ میں 20 اپریل کی رات کو لاہور پہنچ گیا۔

21 اپریل 1938کو مفکرِ پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کا یومِ وفات ہے۔ اُس سے اگلے روز کے اخبارات کی سرخیوں اور خبروں پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُس روز لاہور شہر کا ہر بالغ مرد شاعرِ مشرق اور مسلمانوں کے عظیم محسن کے جنازے میں شریک تھا، جسے بادشاہی مسجد تک پہنچانے میں کئی گھنٹے لگ گئے تھے۔

لاہور چیمبر کے صدر فہیم سہگل صاحب خود بھی اقبال شناس ہیں اور حکیم الامت سے بڑی عقیدت رکھتے ہیں، چیمبر میں قریباً 45 منٹ کا خطاب ہوا اور اس کے بعد سوال وجواب کا سیشن بھی ہوا، وہاں اپنے پرانے دوستوں سابق آئی جی مہر ظفر عباس لک، شہباز احمد شیخ اور قاضی اکرام بشیر سے بھی ملاقات ہوئی۔ شہباز شیخ نے چیمبر کے عہدیداروں کو میری نئی کتابیں تحفتاً دیں۔ چائے کے بعد چیمبر کے ارکان نے بڑی گرمجوشی کے ساتھ رخصت کیا۔ 22 اپریل کو صبح 9 بجے نیپا میں ایک پیشہ ورانہ موضوع پر لیکچر تھا جس کے بعد سوال و جواب کا بڑا بھرپور سیشن ہوا۔ اسی روز دوپہر کو ہوم اکنامکس یونیورسٹی میں میری کتابوں کی تقریب پذیرائی منعقد کی گئی۔

جس میں یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر مصباح جبیں اور معروف شاعر اور کالم نگار ڈاکٹر سعدیہ بشیر کے علاوہ انگریزی ادب کی طالبہ سیّدہ فزا نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ آخر میں مجھے بھی اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی، میں نے زیادہ تر افکارِ تازہ کے مضامین کے بارے میں گفتگو کی اور چند مضامین سے اقتباس پڑھ کر سنائے۔ اس کے بعد راقم نے طالبات سے مفکّرِ پاکستان کے بارے میں چند سوالات کیے اور صحیح جواب دینے والی طالبات کو اپنی دستخط شدہ کتابیں انعام کے طور پر دیں۔

23 اپریل کو یومِ اقبال کی تقریب تھی جو الحمرا ہال نمبر 1 میں ہوتی ہے، اس ہال میں سات سو نشستیں ہیں، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس محفل میں بڑوں کے علاوہ نوجوان بھی آئیں، لہٰذا ہم تین سو طلبا وطالبات کو بھی مدعو کرتے ہیں تاکہ وہ بھی فکرِ اقبالؒ سے روشنی حاصل کرسکیں۔

پہلی قطارمیں سابق چیف سیکریٹری، سابق آئی جی، کالجوں کے پرنسپل صاحبان، ویمن چیمبر کی صدر، جی سی اور ایف سی کالج کے پروفیسر صاحبان، اقبال اکیڈیمی کے ڈی جی اور کنیرڈ کالج کی پرنسپل صاحبہ تشریف فرما تھیں۔ اردو زبان کے بے مثل مقرر سیّد تنویر عباس تابش اس تقریب کے اسٹیج سیکریٹری تھے۔ اس بار مہمانِ خصوصی کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو فیصلہ یہ ہوا کہ وقت کے فرعونوں کے سامنے جو واحد مسلم ملک چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑا ہے اس کے نمائیندے کو مہمانِ خصوصی بنایا جائے گا، چنانچہ تقریب کے مہمانِ خصوصی ایران کے قونصل جنرل مہران مواحد فار جب ہال میں داخل ہوئے تو حاضرین نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور کئی منٹ تک تالیاں بجاتے رہے۔ تقریب کی صدارت کے بارے میں ہم نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ یومِ اقبال کی تقریب کی صدارت ایک معلّم یا استاد سے کرائی جائے گی۔

پچھلے سال تقریب کی صدارت جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر چوہدری نے کی جب کہ اس بار اس مجلس کی صدارت سابق وائس چانسلر اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد صاحب کو پیش کی گئی۔ میرے علاوہ دوسرے دونوں مقرّر فارسی دان تھے جنھیں مخصوص عنوانات دیئے گئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمٰی زریں نے علامہ اقبال کی کتاب پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق میں سے مردِ حر کے بارے میں چند اشعار فارسی لہجے میں سنائے اور پھر جب ان کی تشریح کی تو حاضرین نے بڑے پرجوش انداز میں داد دی۔

ڈاکٹر وحید الزّمان طارق ماہر اقبالیات اور کئی کتابوں کے مصنّف بھی ہیں، انھوں نے لندن اور فلسطین کے اجتماعات میں علامہ اقبال کے خطابات کے بارے میں ان کی گفتگو بڑی معلومات افزا تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں ایران کی جرات واستقامت اور ایران کے سپریم لیڈر سیّد علی خامینائی کی اپنے مرشد علامہ اقبالؒ سے عقیدت کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ انھوں نے علامہ اقبال پر بلند ستارۂ شرق، کے نام سے کتاب بھی لکھی تھی۔ راقم نے تقریر میں مزید کہا کہ حکیم الامّت مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ ؎

لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کے قلب وجگر۔ ایران کے پاس ایئرفورس نہیں ہے، امریکا کی طرح جدید ہتھیار بھی نہیں ہیں مگر ایرانیوں کے پاس اسلاف کے قلب وجگر ہیں جن کے زور پر انھوں نے دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کا myth توڑ کر رکھ دیا۔ مہمانِ خصوصی جناب مہران مواحد نے بڑی جاندار اور مدلل تقریر کی اور جنگ کے حوالے سے ایران کا موقف بڑے موثر اور جراتمندانہ انداز میں پیش کیا۔

اُن کی تقریر کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی کہ جنگ کے بعد پاکستان کی سرزمین پر یہ کسی ایرانی نمائیندے کی پہلی Public appearance اور پہلی تقریر تھی۔ انھوں نے جنگ بند کرانے اور دونوں متحارب فریقوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے ضمن میں حکومتِ پاکستان کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ یومِ اقبال کی تقریب میں ہال آخر دم تک بھرا رہا۔ درجنوں شرکاء نے تقریب کے مقررین وحاضرین کے معیار سے لے کر اس کے ڈسپلن اور نظم وضبط کی تعریف کی اور یہ بھی کہا کہ آخر میں چائے اور لوازمات بھی بہت معیاری اور وافر تھے، نوجوان طلباء کو یہ کہتے سنا گیا کہ ہم بہت کچھ سیکھ کر جارہے ہیں۔ سینئر صحافیوں نے اسے اس سال کی سب سے شاندار اور پروقار تقریب قرار دیا۔

25 اپریل کو جی سی کے پرانے طلباء یعنی اولڈ راوینز کا سالانہ عشائیہ تھا، اِ س وقت اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے صدر، نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور جنرل سیکریٹری شہباز شیخ ہیں۔ شہباز شیخ ہر سال بڑے خلوص اور محبّت سے یہ مخفل سجاتے ہیں، جس میں ہر طبقۂ فکرکے نمایاں خواتین و حضرات بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں، اس شاندار تقریب اور راقم کی تقریر کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود کا مکمل آرٹیکل چھپ چکا ہے۔

27 اپریل کو ابراہیم مراد صاحب کی دعوت پر میں نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں فکرِ اقبال پر لیکچر دیا۔ وہاں میرے کیڈٹ کالج کے کلاس فیلو تاشفین (جو یو ایم ٹی میں پروووسٹ ہیں) اور اپنے بزرگ سرفراز چیمہ صاحب کے صاحبزادے ڈاکٹر اعجاز چیمہ سے بھی ملاقات ہوئی جو وہاں پروریکٹر ہیں۔ 28 اپریل کو اپنی خودنوشت کے کمپوزر کے ساتھ ایک طویل نشست رہی اور کتاب کی غلطیوں اور errors کو ٹھیک کیا گیا۔ انشاء اللہ تیسرا ایڈیشن ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہوگا۔

لاہور میں آخری لیکچر یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب میں تھا۔ یو سی پی کے پروووسٹ محمد یعقوب صاحب ایک پڑھے لکھے، خوش گفتار اور بڑے مستعد منتظم ہیں۔ ان کی دعوت پر 29 اپریل کو یونیورسٹی کے خوبصورت آڈیٹوریم میں شاعرِ مشرق اور ان کے افکار پر لیکچر ہوا جو طلبا وطالبات نے بڑی توجہ اور دلچسپی سے سنا۔ راقم نے فکرِ اقبالؒ کے ان پہلوؤں پر زور دیا جس میں انھوں نے محنت، جدوجہد اور کسی بھی صورت میں امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے پر زور دیا ہے، یہ بھی بتایا گیا کہ حکیم الامّت کے نزدیک مسلمانوں کو لاحق سب سے خطرناک بیماری مرعوبیّت اور غلامانہ سوچ ہے، آگے بڑھنا ہے تو اس مرض سے ہر قیمت پر نجات حاصل کرنا ہوگی۔ تقریب کے بعد ایک طالب علم کا میسج موصول ہوا کہ " لیکچر کے دوران لگتا تھا کہ فکرِاقبال کی روشنی سے پورا ہال منوّر ہوگیا ہے"۔