علی لاریجانی کی اسرائیل کے فضائی حملوں کے ذریعے شہادت واضح انداز میں یہ پیغام دیتی ہے کہ نیتن یاہو اور اس کے امریکی اتحادی ایران پر مسلط کردہ جنگ کو جلد ختم کرنا نہیں چاہ رہے۔ ان کا حتمی ہدف طویل جنگ کے ذریعے ایران کو کامل انتشار وابتری کے سپرد کرنا ہے جو ریاستی رٹ اور یگانگت کی بحالی ناممکن بنادے۔ نہایت سوچ بچار کے بعد چنے جنگی اہداف کے حصول کے بعد ایران کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو مجبور کرنے کی خواہش ہوتی تو علی لاریجانی کو ٹارگٹ کلنگ سے محفوظ رکھا جاتا۔
سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی سازشی کہانیوں پر عقل کا غلام ہوا ذہن توجہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ گزرے جمعہ مگر ایران بھر میں نئے رہبر اعلیٰ اور روحانی رہ نما مجتبیٰ خمینائی کی ہدایت پر فلسطینیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئے لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ تہران کی مرکزی شاہراہ پر رواں ایک جلوس میں علی لاریجانی بھی نمایاں طورپر موجود تھے۔ ان کی ویڈیو دیکھتے ہی میرے دل سے بے ساختہ "اللہ خیرکرے" کی دُعا نکلی۔
چند گھنٹے گزرنے کے بعد فون اٹھاکر ایکس اکائونٹ کا پھیرالگایا تو ایک اسرائیلی اکائونٹ پر علی لاریجانی کی تہران میں نکالے جلوس میں شرکت کی تصویر لگی تھی۔ اسے لگانے والے نے دعویٰ کیا کہ علی لاریجانی کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں نے "نشان زد" کرلیا ہے۔ یہ ہفتہ ان کے لئے حیران کن خبرلاسکتا ہے۔ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد مذکورہ اکائونٹ سے وہی تصویر دوبارہ پوسٹ کرنے کے بعد علی لاریجانی سے چند ہی قدم پیچھے چلنے والی ایک شخصیت کے چہرے پر گول دائرہ لگاتے ہوئے دعویٰ ہوا کہ وہ اسرائیلی ایجنٹ ہے۔ جاسوسی ہتھکنڈوں سے قطعی لاعلم ہوتے ہوئے میرے لئے یہ طے کرنا ناممکن ہے کہ علی لاریجانی کی ایک جلوس میں شرکت اسرائیل کے جاسوسی اداروں کو ان کی ٹارگٹ کلنگ کے قابل کیسے بناسکتی ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں سے مگر Body Heat (جسم کی حرارت) کا ذکر سن رہا ہوں۔ جدید تحقیق کی بدولت کسی فرد کی مخصوص جسمانی حرارت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ ڈرون طیاروں یا دور مار میزائل میں نصب بارودی مواد فضا میں اچھالے جانے کے بعد اس حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ گزرے جمعہ کو گویا علی لاریجانی کی جسمانی حرارت ریکارڈ کرلی گئی تھی۔ کیوں اور کیسے؟ اس سوال کا جواب فراہم کرنا میرے بس میں نہیں۔ "جسمانی حرارت" مگر ریکارڈ ہوسکتی ہے جو دشمن کے ہاتھوں کسی فرد کا دور مارہتھیاروں سے قتل ممکن بناسکتی ہے۔ غالباََ اسی باعث افواہوں کے بھرپور طوفان کے باوجود اسرائیل کا وزیر اعظم اپنی ہلاکت کی تردید کرنے کیلئے عوامی اجتماعات میں شرکت سے گھبراتا رہا۔ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد مگر وہ اپنے فوجی اور جاسوسی اداروں کے سربراہوں کو دائیں اور بائیں کھڑاکرکے ایرانی عوام کو نوروزتہوار کی پیشگی مبارک دینے لگا۔
اس کالم کے ذریعے میں کم علم آپ کو سمجھا نہیں سکتا کہ نشان زد ہوجانے کے بعد علی لاریجانی کیسے شہید ہوئے۔ عالمی امور وسیاست کا دیرینہ طالب علم ہوتے ہوئے تاہم ان کی شہادت کے عواقب پر توجہ دلانا مقصود ہے۔ گھنٹوں کے غوروفکرکے بعد یہ لکھنا لازمی تصور کرتا ہوں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے ریاستی ڈھانچے میں سے ایسی قابل اعتماد اور مو†ر قیادت ڈھونڈنے میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتے جس کے ساتھ جنگی اہداف کے حصول کے بعد دیرپا امن کے لئے مذاکرات کئے جاسکتے ہیں۔ جنگی اہداف کے جلد از جلد حصول کے بعد ایرانی ریاست کی یگانگ اور ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے کسی مو†ر شخصیت سے گفتگو کی خواہش ہوتی تو علی لاریجانی کو نشان زد کرنے کے بعد شہید نہ کیا جاتا۔
آیت اللہ خمینائی کی شہادت کے بعد وہ ایران کی ریاستی ڈھانچے کے سیاسی اعتبار سے طاقتور ترین شخص تھے۔ تعلق ان کا شمالی ایران کے ایک بااثر مذہبی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد دینی تعلیم کے کٹر مراحل سے گزرکر1930ء کی دہائی کا آغاز ہوتے ہی آیت اللہ کا منصب حاصل کرچکے تھے۔ مرزا ہاشم ان کا نام تھا۔ رضا شاہ اوّل مگر اس دہائی میں اقتدار پر قابض ہوا تو اتاترک کی طرح اپنائی سخت گیر "روشن خیالی" کے سبب بااثر علماء کی جان کے درپے ہوگیا۔ مرزا ہاشم اس کے غضب کا برسوں نشانہ رہے۔ وہ انہیں ایران کے کسی ایک شہر میں ٹکنے نہیں دیتا تھا۔ بالآخرجان بچانے وہ عراق کے نجف شہر چلے گئے اور 30سال تک وہاں کے مرکزی مدرسے میں طالب علموں کی دینی تربت میں مصروف رہے۔ علی لاریجانی اس باعث نجف ہی میں پیدا ہوئے تھے۔ نجف میں 30سال گزارنے کے بعد عراق میں "بعث انقلاب" کے نتیجے میں قدامت پرست مرزا ہاشم کو ایران کے شہرہ آفاق مدرسے قم لوٹنا پڑا۔ وہاں تاحیات دینی تعلیم وتدریس میں مصروف رہے۔
اپنے والد کی مذہبی اور قدامت پرست حلقوں میں کئی نسلوں سے موجود عزت وتکریم کی وجہ سے علی لاریجانی مغربی فلاسفی کے طالب علم ہونے کے باوجود نہایت اثر کے حامل تھے۔ مغربی تعلیم حاصل کرنے کی بدولت وہ ابلاغ کے ہنر پر بھی حیران کن گرفت کے حامل تھے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد وہاں کے ریڈیو، ٹیلی وڑن اور ابلاغ کے دیگر اداروں کے ذریعے "ذہن سازی" کی حکمت عملی ان ہی نے مرتب کی تھی۔ 12برس تک ایران کی قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہے اور اس حیثیت میں اہم سیاست دانوں سے گہرے روابط استوار کئے۔ آیت اللہ خمینائی شہید نے انہیں ایران کی طاقتور ترین قومی سلامتی کونسل کا سیکرٹری جنرل تعینات کیا تھا۔ پاسداران انقلاب رہبر اعلیٰ کے احکامات اس منصب کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ علی لاریجانی خود بھی عراق-ایران جنگ کے آٹھ سالوں کے دوران پاسداران انقلاب کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔
مذہبی، عسکری اور سیاسی حلقوں میں یکساں طورپر موثر ہونے کی وجہ علی لاریجانی نے امریکہ کے ساتھ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہوئے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس کی بدولت بالآخر اوبامہ حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا جس پر کاربند رہا جاتا تو آج ایران سمیت خلیجی ممالک بے یقینی کے بحران کا سامنا نہ کررہے ہوتے۔ 2016ء میں اقتدار سنبھالتے ہی مگر ٹرمپ نے وہ معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔
امریکہ اور اسرائیل رواں مہینے کے آغاز کے ساتھ ایران پر مسلط کردہ جنگ کو طول دینے کے بجائے جلد ختم کرنے کے خواہاں ہوتے تو جنگ بندی کے بعد علی لاریجانی ہی دیرپاامن کی خاطر ہوئے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے کے اہل تھے۔ انہیں مگر نشان زد کرنے کے بعد شہید کردیا گیا ہے۔ ذہنی اعتبار سے لہٰذا ایران پر مسلط ہوئی جنگ کی طوالت کے لئے تیار رہیں جو فقط ایران ہی نہیں اس کے تمام ہمسایہ ملکوں کو آنے والے کئی برسوں تک کامل ابتری وخلفشار کا نشانہ بنانے کو بضد نظر آرہی ہے۔