Sunday, 22 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Hossein Dehghan, Naam Yaad Rakhen

Hossein Dehghan, Naam Yaad Rakhen

اصفہان کے ضلع دہاقان میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، پودہ۔ دو مارچ انیس سو ستاون کو وہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ حسین دہغانی پودہ۔ نام میں گاؤں کا نام شامل ہے۔ یہ بندہ اپنی مٹی کا نام کبھی نہیں چھوڑتا۔

نہ خاندان نامور۔ نہ جاگیر۔ نہ سیاسی وراثت۔ ایک عام دیہاتی گھرانہ۔ لڑکے نے پہلے دھات سازی میں ماسٹرز کیا۔ پھر تہران یونیورسٹی سے مینجمنٹ سائنسز میں پی ایچ ڈی کی۔ دھاتیں پگھلانے والا آدمی بعد میں ریاستیں پگھلانے لگا۔ مگر یہ بات بعد کی ہے۔

انیس سو اناسی۔ خمینی انقلاب۔ حسین دہغان بائیس سال کا ہے۔ تہران یونیورسٹی کا طالب علم۔ انقلاب آتا ہے تو کتابیں رکھ کر پاسداران انقلاب میں شامل ہو جاتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں۔ جب تنظیم بن رہی تھی، ڈھانچہ کھڑا ہو رہا تھا، اسی وقت۔

چار نومبر انیس سو اناسی۔ تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوا۔ باون امریکی سفارتکار یرغمال بنائے گئے۔ چار سو چوالیس دن قید رکھا گیا۔ حسین دہغان اس حملے میں شریک تھے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بعد میں ان کی تصویر شائع کی جس میں وہ آنکھوں پر پٹی بندھے ایک امریکی سفارتکار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انقلابی اسناد کے طور پر۔ گویا یہ تصویر ان کا تعارف نامہ ہے۔

اس کے فوراً بعد تیئس سال کی عمر میں پاسداران انقلاب کے تہران ڈویژن کا کمانڈر بنا دیا گیا۔ انیس سو اسی سے بیاسی تک۔ اس دور میں نئی اسلامی جمہوریہ کے مخالفین کے خلاف سخت کارروائی ہوئی۔ دہغان اس کارروائی کی نگرانی کرنے والوں میں شامل تھے۔ بہت سے مخالفین کو سزائے موت دی گئی۔

یہاں ایک لمحہ رک کر سوچو۔ تیئس سال کی عمر۔ دارالحکومت کا فوجی کمانڈر۔ زندگی اور موت کے فیصلے۔ دنیا کے بیشتر نوجوان اس عمر میں یونیورسٹی کی ڈگری لے رہے ہوتے ہیں۔ یہ بندہ ریاست کے دشمنوں کا فیصلہ کر رہا تھا۔

انیس سو بیاسی۔ اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا۔ ایران نے دہغان کو لبنان اور شام بھیج دیا۔ وادی بقاع میں۔ عمر پچیس سال۔ وہاں پاسداران انقلاب کی تربیتی فورس کا کمانڈر بنا۔ اسی دور میں جو تنظیم بن رہی تھی جسے بعد میں دنیا حزب اللہ کے نام سے جانے لگی، اس کی بنیاد رکھنے والوں میں دہغان کا نام آتا ہے۔ اس نے حزب اللہ کو پاسداران انقلاب کے سانچے میں ڈھالا۔ حسن لقیص کو اپنا بیورو چیف مقرر کیا جو آگے چل کر حزب اللہ کے اعلیٰ ترین کمانڈرز میں شمار ہوئے۔

اب اصل واقعہ۔

تیئس اکتوبر انیس سو تراسی۔ بیروت۔ صبح کا وقت۔ امریکی بحری پیادہ فوج کی بیرکس پر ایک ٹرک بم پھٹا۔ دو سو اکتالیس امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اسی دن فرانسیسی فوجی بیرکس پر الگ حملہ ہوا۔ اڑسٹھ فرانسیسی مارے گئے۔ عالمی سیاست کا رخ بدل گیا۔ امریکہ کو لبنان سے نکلنا پڑا۔

یروشلم سینٹر فار پبلک افیئرز کے ماہر شمعون شپیرا کی تحقیق کے مطابق دہغان اور لقیص نے مل کر اس حملے کی منصوبہ بندی اور تکمیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکی محکمہ خزانہ نے انیس سو انیس میں دہغان پر اسی بنیاد پر پابندیاں عائد کیں۔ پابندیوں کی دستاویز میں صاف لکھا ہے کہ دہغان انیس سو تراسی میں لبنان اور شام میں پاسداران انقلاب کا کمانڈر تھا جب بیروت میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ ہوا۔

یہاں سے دہغان کی زندگی ایک عجیب موڑ لیتی ہے۔

ایران عراق جنگ شروع ہو چکی تھی۔ دہغان واپس آیا اور پاسداران انقلاب کے فیصلہ ساز کمانڈرز میں شامل ہوگیا۔ محسن رضائی، رحیم صفوی، علی شمخانی کے ساتھ۔ انھیں آیت اللہ کے تیرہ جرنیلوں میں شمار کیا جاتا ہے جنھوں نے آٹھ سالہ جنگ کی تقدیر لکھی۔ چھیاسی میں پاسداران کی فضائیہ کا نائب کمانڈر بنا۔ نوے میں کمانڈر۔ بیانوے میں مشترکہ عسکری عملے کا نائب سربراہ۔ بریگیڈیئر جنرل کا عہدہ ملا۔

اب عجیب بات یہ ہے۔

ایران میں سیاسی دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اصلاح پسند اور سخت گیر۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔ لیکن حسین دہغان وہ شاذ و نادر شخصیت ہے جس پر دونوں دھڑوں کو اعتماد ہے۔ صدر محمد خاتمی کے دور میں وزیر دفاع کے نائب رہے۔ صدر احمدی نژاد کے دور میں نائب صدر اور بنیاد شہید کے سربراہ بنے۔ پھر احمدی نژاد سے اختلاف کیا، الگ ہوئے، اعتدال پسند حسن روحانی کی جماعت میں شامل ہو گئے۔ دو ہزار تیرہ میں روحانی نے انھیں وزیر دفاع بنایا۔ مجلس میں دو سو انہتر ووٹ حق میں آئے۔ صرف دس خلاف۔ یہ اعتماد کی سطح غیر معمولی ہے۔

جب کسی نے پوچھا کہ روحانی نے دوسری مدت میں دوبارہ وزیر دفاع کیوں نہیں بنایا تو دہغان نے کہا: "خدمت مقصد ہو تو رنجش بے معنی ہے"۔ یہ جملہ یاد رکھنا۔ اس جملے میں آدمی کا مزاج چھپا ہے۔

وزارت دفاع کے دوران دو ہزار سولہ میں چین کے ساتھ انسداد دہشت گردی معاہدہ کیا۔ اسی سال روس سے اسلحے کا سودا کیا۔ مجلس نے تفصیلات مانگیں تو جواب دینے سے انکار کر دیا۔ اس وقت مجلس کے اسپیکر علی لاریجانی تھے۔ لاریجانی نے دہغان پر مجلس کی توہین کا الزام لگایا۔ بعد میں دہغان نے روس کے ساتھ فوجی تعاون ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ایرانی تجزیہ نگاروں کے مطابق دہغان کو روس پسند نہیں ہے۔

سعودی عرب کو دھمکی دی کہ اگر کوئی نادانی کی تو مکہ اور مدینہ کے علاوہ کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔

دو ہزار بیس میں جب قاسم سلیمانی امریکی حملے میں مارے گئے تو آیت اللہ خامنہ ای نے جوابی کارروائی کی تیاری دہغان کی نگرانی میں کروائی۔ وہ اس وقت خامنہ ای کے اعلیٰ ترین فوجی مشیر تھے۔ امریکی خبر رساں ادارے سی این این کو انٹرویو دیا تو کہا: "اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ امریکیوں کو اتنا ہی بڑا جھٹکا لگے جتنا انھوں نے ہمیں دیا ہے" اور واضح کیا کہ نشانہ صرف فوجی اڈے ہوں گے۔

دو ہزار اکیس میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ تنقید ہوئی کہ فوجی آدمی صدر بنا تو سیاست میں فوج کا عمل دخل بڑھے گا۔ لیکن امریکی تھنک ٹینک نے لکھا کہ دہغان کی سوانح حیات ایران کے "مکمل سلامتی افسر" کی جامع فہرست ہے۔ ہر دور میں، ہر حکومت میں، ہر محاذ پر موجود رہے۔

اور اب سب سے دلچسپ بات۔

دو ہزار تیئس سے دہغان بنیاد مستضعفان کے سربراہ ہیں۔ یہ ایران کی قومی تیل کمپنی کے بعد ملک کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی ادارہ ہے۔ مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی ہولڈنگ کمپنی۔ ساڑھے تین سو سے زائد ذیلی کمپنیاں۔ دو لاکھ سے زائد ملازمین۔ کان کنی، زراعت، تعمیرات، توانائی، سیاحت، نقل و حمل، بینکاری سب شامل ہے۔ ایران کے چالیس فیصد مشروبات اسی بنیاد کے تحت بنتے ہیں۔ دو بڑے اخبارات اطلاعات اور کیہان اسی کے زیر انتظام ہیں۔ اس بنیاد کے اثاثے ایک دہائی بعد بیس ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ براہ راست آیت اللہ کے ماتحت ہے۔ نہ حکومت کا عمل دخل، نہ مجلس کی نگرانی۔

گاؤں پودہ کا لڑکا اب ایران کی سب سے بڑی معاشی سلطنت چلا رہا تھا۔

اور اب انیس مارچ دو ہزار چھبیس۔ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد اسی بندے کو سپریم قومی سلامتی کونسل کا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔

ذرا پیچھے ہٹ کر پوری تصویر دیکھو۔

اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس۔ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ۔ امریکی مرکزی خفیہ ادارے نے مقامات بتائے، اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی۔ آیت اللہ خامنہ ای مارے گئے۔ وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ مارے گئے۔ مسلح افواج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی مارے گئے۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور مارے گئے۔ دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی مارے گئے۔ ایٹمی سائنس دان مارے گئے۔ امریکی خبر رساں ادارے سی بی ایس نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے چالیس اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ ٹرمپ نے اڑتالیس کا دعویٰ کیا۔ پھر سترہ مارچ کو لاریجانی اور بسیج کمانڈر غلام رضا سلیمانی۔ اٹھارہ مارچ کو وزیر اطلاعات اسماعیل خطیب۔

جون دو ہزار پچیس کی بارہ روزہ جنگ الگ۔ اس میں بھی کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر مارے جا چکے تھے۔

دنیا کی کون سی قوم ہے جس کا سب سے بڑا رہنما مارا جائے، وزیر دفاع مارا جائے، فوج کا سربراہ مارا جائے، خفیہ اداروں کا سربراہ مارا جائے، سلامتی کونسل کا سربراہ مارا جائے، ایٹمی سائنس دان مارے جائیں اور وہ نہ ڈگمگائے؟

ایران نے ایک ہفتے میں نیا آیت اللہ بنا دیا۔ نیا پاسداران کمانڈر لگا دیا اور اب حسین دہغان سلامتی کونسل کے سربراہ بیٹھ گیا ہے۔

یار اب ذرا فرق سمجھو۔

لاریجانی کون تھے؟ تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں تعلیم یافتہ۔ بارہ سال مجلس کے اسپیکر۔ مذاکرات کار۔ وہ آدمی جس کے ذریعے بیرونی دنیا ایران سے بات کر سکتی تھی۔ بین الاقوامی ادارہ برائے امن کے صدر زید رعد الحسین نے کہا کہ لاریجانی واحد شخص تھے جن سے ہو کر بیرونی دنیا پاسداران انقلاب سے مکالمہ کر سکتی تھی۔ جنوری دو ہزار چھبیس سے ایران کے عملی حکمران۔

اب ان کی جگہ کون آیا ہے؟ وہ بندہ جو بائیس سال کی عمر میں امریکی سفارت خانے پر حملے میں شریک تھا۔ جس نے پچیس سال کی عمر میں حزب اللہ کی بنیاد رکھوائی۔ جو بیروت بمباری کے کلیدی منصوبہ سازوں میں سے تھا۔ جس پر امریکی پابندیاں عائد ہیں۔ جس نے سعودی عرب کو دھمکی دی کہ مکہ اور مدینہ کے سوا کہیں محفوظ نہیں۔ جس نے کہا کہ امریکہ کو اتنا ہی بڑا جھٹکا ملنا چاہیے جتنا اس نے دیا ہے۔

ایران کا پیغام صاف ہے۔ تم نے ہمارا مذاکرات کار مارا؟ ہم نے جنگجو بھیج دیا۔

وجوہات؟

پہلی وجہ۔ ایران چالیس سال سے اس جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ صف اول کے پیچھے دوسری صف تیار تھی۔ دوسری کے پیچھے تیسری۔ ہر عہدے کا متبادل پہلے سے طے تھا۔ یہ جانشینی کی منصوبہ بندی ہے جو دنیا کے اکثر ممالک کے پاس نہیں۔

دوسری وجہ۔ ایران میں وڈیروں کی سیاست نہیں ہے۔ دہغان خود اس کا ثبوت ہے۔ اصفہان کے ایک گاؤں کا لڑکا۔ نہ سیاسی خاندان، نہ جاگیر، نہ فوجی وراثت۔ دھات سازی پڑھی۔ پاسداران میں گیا۔ میدان میں کام دکھایا۔ اوپر آیا۔ یہی وجہ ہے کہ متبادل لوگوں کا ذخیرہ گہرا ہے۔

تیسری وجہ۔ آیت اللہ کا ادارہ۔ یہ محض سیاسی عہدہ نہیں، مذہبی اقتدار ہے۔ ادارے اس اقتدار کے تحت اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ باہمی ٹکراؤ جو بحران کے وقت ممالک کو تباہ کرتا ہے، ایران میں اس کی شدت کم ہے۔ اداروں میں انضباط ہے۔

لیکن اس پر رومانوی نظر سے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔

جنوری دو ہزار چھبیس میں اسی ایرانی حکومت نے اپنے ہی عوام پر فائرنگ کروائی۔ ہزاروں مظاہرین مارے گئے۔ خود لاریجانی اس کریک ڈاؤن کے مرکزی منصوبہ ساز تھے۔ یہ کوئی مثالی ریاست نہیں ہے۔ اندر سے بہت کچھ ٹوٹا ہوا ہے۔

لیکن ایک حقیقت حقیقت ہے۔

قومیں لیڈروں سے نہیں بنتیں۔ نظاموں سے بنتی ہیں۔ جب نظام مضبوط ہو تو لیڈر مارا جائے، نظام نہیں مرتا۔ جب نظام کمزور ہو تو ایک بندہ اٹھ جائے اور سب بکھر جائے۔

گاؤں پودہ کا لڑکا آج اڑسٹھ سال کا ہے۔ نصف صدی کا جنگی، سیاسی اور انتظامی تجربہ ساتھ لایا ہے۔ مریم تاج زادہ سے شادی ہے۔ تین بچے ہیں۔ ایران کی سب سے بڑی معاشی سلطنت چلا چکا ہے۔ سات صدور کے ساتھ کام کر چکا ہے۔ اصلاح پسندوں اور سخت گیروں دونوں کا اعتماد رکھتا ہے جو ایران میں تقریباً ناممکن ہے۔ دو ہزار نو میں جب سبز تحریک عروج پر تھی تو اس نے میر حسین موسوی کو مشورہ دیا کہ انتخابی نتائج قبول کرو اور خامنہ ای کو خط لکھو۔ سخت گیر ہے مگر سیاسی شعور رکھتا ہے۔

ایرانی تجزیہ نگار اس کے بارے میں تین غیر معمولی باتیں کہتے ہیں۔ پہلی یہ کہ اسے دکھاوے سے نفرت ہے۔ دوسری یہ کہ اسے روس پسند نہیں۔ تیسری یہ کہ امام رضاسے عجیب عقیدت رکھتا ہے۔

یار بات صاف ہے۔

تم ایک مارتے ہو تو جو اگلا آتا ہے وہ پچھلے سے دو ہاتھ آگے ہوتا ہے۔ لاریجانی فلسفی تھے۔ دہغان جنگجو ہے۔ لاریجانی بات کر سکتے تھے۔ مزاکرات کا دروازہ کھول سکتے تھے، دہغان مزاکرات کا دروازہ کھولنے سے زیادہ توپ کا دہانہ کھولنے والا بندہ ہے۔

حسین دہغان - نام یاد رکھیں!