Friday, 17 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Brand Pakistan, Aik Soft Power Ka Khwab

Brand Pakistan, Aik Soft Power Ka Khwab

ایک سوال سے آغاز کرتا ہوں جو برطانوی سفارت کار لارڈ پامرسٹن نے 19ویں صدی میں پوچھا تھا: "ایک ملک کی طاقت اس کی بندوقوں سے ماپی جائے یا اس سے کہ اس کی بات کی کتنی وقعت یا ویلیو ہے؟" اس ایک سوال نے اگلے 170 سال کی بین الاقوامی سیاست کا فریم ورک طے کیا۔

1990 میں ہارورڈ کے پروفیسر جوزف نائے نے اس سوال کا جواب دیا اور "سافٹ پاور" کی اصطلاح وضع کی۔ انھوں نے کہا: "سافٹ پاور وہ صلاحیت ہے جس سے آپ دوسروں کو مجبور کیے بغیر، قائل کیے بغیر، بلکہ اپنی کشش سے اپنا گرویدہ بنا لیں"۔ دھمکی نہیں، جاذبیت۔ ہتھیار نہیں، ثقافت۔ پابندی نہیں، پسندیدگی۔ 35 سال بعد یہ تصور دنیا کا سب سے قیمتی اثاثہ بن چکا ہے۔

ہارڈ پاور اور سافٹ پاور کا فرق سمجھیں۔ ہارڈ پاور وہ ہے جو گلوبل فائر پاور انڈیکس 2026 ناپتا ہے۔ 145 ممالک۔ 60 سے زیادہ معیار۔ امریکہ پہلے نمبر پر، روس دوسرے، چین تیسرے، بھارت چوتھے، جنوبی کوریا پانچویں، برطانیہ چھٹے، فرانس ساتویں، جاپان آٹھویں، ترکیہ نویں اور اٹلی دسویں۔ پاکستان بارہویں نمبر پر ہے۔ یہ بندوقیں، طیارے، ٹینک، سپاہی، ایٹم بم شمار کرتا ہے۔ مگر یہ صرف جنگ کی طاقت ہے، امن کی نہیں۔

سافٹ پاور بالکل مختلف کہانی ہے۔ برانڈ فائنانس گلوبل سافٹ پاور انڈیکس 2025 میں 170,000 سے زیادہ لوگوں سے 100 سے زیادہ ممالک میں سروے کیا جاتا ہے۔ 193 اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کی پرکھ۔ 55 معیار۔ 8 ستون۔ 2025 کی رینکنگ: امریکہ پہلے نمبر پر (79.5 پوائنٹس)، چین دوسرے پر (72.8)، برطانیہ تیسرے پر، جاپان چوتھے، جرمنی پانچویں، فرانس چھٹے، کینیڈا ساتویں، سوئٹزرلینڈ آٹھویں، اٹلی نویں اور متحدہ عرب امارات دسویں نمبر پر۔

اصل کہانی یہ نہیں کہ کون پہلے نمبر پر ہے، اصل کہانی یہ ہے کہ برطانیہ چھ سال تک اس فہرست میں مسلسل پہلے نمبر پر اور پھر امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ چین نے 2025 میں پہلی بار اسے پیچھے کیا۔ سوچیں: ایک جزیرہ جس کی آبادی 6 کروڑ ہے، جو امریکہ کے کے مقابلے میں معیشت کا چھٹا حصہ رکھتا ہے، جو چین کے مقابلے میں آبادی کا پچیسواں حصہ ہے، وہ دنیا کی سافٹ پاور رینکنگ میں دوسرے نمبر پر رہتا ہے۔ یہ کیسے؟

برطانیہ کی سافٹ پاور کا راز اس کے آٹھ ستون ہیں۔ پہلا ستون ہے زبان۔ انگریزی دنیا کی لنگوا فرانکا ہے۔ ڈیڑھ ارب لوگ بولتے ہیں۔ انٹرنیٹ کا 60 فیصد انگریزی میں ہے۔ سائنسی جرنلز کا 95 فیصد۔ دوسرا ستون ادب ہے: شیکسپیئر سے جے کے رولنگ تک۔ تیسرا تعلیم ہے: آکسفورڈ، کیمبرج، لندن سکول آف اکنامکس۔ دنیا کے 150 ممالک کے رہنماؤں نے برطانوی یونیورسٹیوں سے تعلیم پائی ہے۔ چوتھا میڈیا ہے: بی بی سی۔ 42 زبانوں میں نشریات۔ 400 ملین لوگ ہر ہفتے دیکھتے سنتے ہیں۔ پانچواں ستون ثقافت ہے: بیٹلز، کوین، ایڈ شیران، ہیری پوٹر، جیمز بانڈ، شیر لاک ہومز۔ چھٹا سفارتکاری ہے: دولت مشترکہ کے 56 ممالک۔ ساتواں قانونی نظام ہے: کامن لا جو 27 ممالک میں رائج ہے۔ آٹھواں برانڈز ہیں: رولز رائس، برٹش ایئرویز، ایچ ایس بی سی، باربری۔

لندن ہی کی بات کریں۔ برانڈ فائنانس گلوبل سٹی انڈیکس میں لگاتار دوسرے سال پہلے نمبر پر۔ لندن کا سینٹرل ایکٹیوٹی زون اکیلا 315 ارب پاؤنڈ کی جی وی اے پیدا کرتا ہے جو برطانیہ کی کل کا 11 فیصد ہے۔ شاہ چارلس کی تاجپوشی دنیا میں 4 ارب لوگوں نے دیکھی۔ شہزادی ڈیانا کی موت کی خبر نے پوری دنیا کو روایا۔ یہ سافٹ پاور ہے: بغیر بندوق چلائے دنیا کو ہلا دینا۔

سافٹ پاور بنتی کیسے ہے؟ یہ ایک ایک اینٹ رکھ کر بنتی ہے۔ ایک ایک صدی لگ جاتی ہے۔ پھر بھی ضمانت نہیں ہوتی۔ نیلسن منڈیلا کی 27 سالہ قید نے جنوبی افریقہ کو اخلاقی طاقت دی۔ گاندھی کی لاٹھی نے بھارت کو تین براعظموں میں احترام دلوایا۔ پھر بالی ووڈ نے شائیننگ اینڈ ڈانسنگ انڈیا کو پوری دنیا کو بیچا۔ نارویجن نوبل کمیٹی نے ناروے کو امن کا مرکز بنایا۔ سنگاپور نے لی کوان یو کی قیادت میں 40 سال میں تیسری دنیا سے پہلی دنیا کا سفر طے کیا۔ سوئٹزرلینڈ نے بینکنگ اور گھڑی سازی سے اپنا نام بنایا اور متحدہ عرب امارات نے 50 سالوں میں صحرا سے برج خلیفہ، مصنوعی جزائر اور ایئر لائن ہب بنا کر خود کو دنیا کا دسواں سب سے نرم طاقت والا ملک بنا لیا۔

مگر سافٹ پاور کا اصل امتحان بحرانوں میں ہوتا ہے۔ جب دنیا خون بہتی دیکھتی ہے اور ایک ملک ثالثی کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ ناروے نے اوسلو معاہدے سے اسرائیل فلسطین کو بات چیت کی میز پر لایا۔ اگرچہ حتمی امن نہیں ہوا مگر ناروے کا نام امن کا مترادف بن گیا۔ سوئٹزرلینڈ نے دو عالمی جنگوں میں غیر جانبداری برقرار رکھ کر اپنا مقام بنایا۔ قطر نے افغان طالبان کو دوحہ میں بٹھا کر امریکہ سے مذاکرات کروائے۔ ترکیہ نے 2022 میں روس یوکرین کو انطالیہ فورم میں ایک میز پر لایا اور 2026 میں یہ موقع پاکستان کے سامنے آیا۔

مگر اس سے پہلے کہ ہم اس موقع کی قدر و قیمت ناپیں، ذرا دو مہینے پیچھے جائیں۔ 6 فروری 2026 جمعہ۔ دوپہر 1 بج کر 38 منٹ۔ اسلام آباد کے مضافات میں ترلائی کلاں کا علاقہ۔ خدیجۃ الکبریٰ مسجد۔ شیعہ مسجد۔ جمعے کی نماز ابھی شروع ہوئی تھی۔ ایک خودکش بمبار سیکورٹی گارڈز سے الجھا، فائر کیا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ 32 شہید ہوئے۔ 170 زخمی ہوئے۔ داعش نے ذمہ داری قبول کی۔ یہ 2008 کے میریٹ ہوٹل دھماکے کے بعد اسلام آباد کا سب سے بڑا دہشت گرد حملہ تھا جس میں 63 لوگ مارے گئے تھے۔

عالمی میڈیا میں پاکستان اس دن کیا تھا؟ ایک ایسا ملک جہاں مسجد میں نماز ادا کرنا خودکشی کے برابر تھا۔ این پی آر نے لکھا کہ یہ "ایک بار پھر ظاہر ہوا کہ پاکستان کی مغرب نواز حکومت شدت پسند حملوں کو روکنے میں ناکام ہے"۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی۔ دنیا نے تعزیت کی۔ مگر جو تصویر بنی وہ یہ تھی: پاکستان ایک ناکام ریاست، ایک خطرناک ملک، ایک ایسا مقام جہاں لوگوں کی جانیں محفوظ نہیں۔

60 دن بعد۔ 7 اپریل 2026 وہی اسلام آباد۔ نور خان ایئر بیس۔ امریکی وائس پریزیڈنٹ اترتے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر اترتے ہیں۔ سرینا ہوٹل میں 21 گھنٹے کے مذاکرات ہوتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز، الجزیرہ، سی این این، بی بی سی، رائٹرز، اے پی، اے ایف پی، تاس، شن ہوا، ٹرٹ ورلڈ، فرانس 24، بلومبرگ، فاکس نیوز، ڈی ڈبلیو، آر ٹی، الاخبار، آئی آر این اے، تسنیم، فارس، سب اسلام آباد سے براہ راست نشر کرتے ہیں۔ "اسلام آباد مذاکرات" دنیا کی ہر زبان میں ٹرینڈ کرتا ہے۔

15 اپریل کو فیلڈ مارشل منیر تہران میں اترتے ہیں۔ اسی دن وزیر اعظم شہباز ریاض روانہ ہوتے ہیں۔ پاکستان بیک وقت دنیا کے دو سب سے اہم دارالحکومتوں میں موجود ہے اور یہ سب کچھ اس ایجنڈے پر جو عالمی تاریخ کے سب سے نازک بحرانوں میں سے ایک ہے۔

سوال یہ ہے: کیا یہ پاکستان کے روزمرہ مسائل حل کرے گا؟

جواب ہے: بالکل نہیں۔

ہمارے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کی فہرست طویل ہے۔ سیاسی تقسیم جو دشمنی میں بدل چکی ہے۔ ملک کے مقبول ترین لیڈر عمران خان جیل میں ہیں۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے درمیان مکالمے کا پل ٹوٹا ہوا ہے۔ سویلین قیادت کا خلا جس میں فوج نے قدم رکھا ہے۔ فیلڈ مارشل منیر کا عالمی کردار جتنا بڑا ہے، سویلین قیادت کا اتنا ہی چھوٹا نظر آتا ہے۔ معیشت۔ 3 اپریل کو پیٹرول 458 روپے فی لیٹر پہنچ گیا، ڈیزل 520 روپے۔ ایک ماہ میں 40 فیصد اضافہ۔ لوڈ شیڈنگ جو گرمیوں میں 12 گھنٹے تک پہنچ جاتی ہے۔ مہنگائی۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی۔ آئی ایم ایف کا پھندا۔ بلوچستان میں بی ایل اے کے حملے۔ خیبرپختونخوا میں ٹی ٹی پی کی کارروائیاں۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی۔ 900 کلومیٹر کی ایرانی سرحد۔ 3100 کلومیٹر کی انڈین سرحد۔ مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر خطرات۔

یہ سب مسائل ثالثی سے حل نہیں ہوں گے۔ یہ غلط فہمی نہ ہو۔ شہباز شریف کے ریاض دورے سے آٹے کا بحران ختم نہیں ہوگا۔ منیر کے تہران دورے سے لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوگی۔ اسلام آباد مذاکرات سے ڈالر 180 روپے کا نہیں ہوگا۔ یہ سارے مسائل اپنی جگہ کھڑے ہیں اور ان کے لیے الگ محنت درکار ہے۔

مگر ایک بات ہوئی ہے جو کسی مارکیٹنگ ایجنسی کے کروڑوں ڈالر سے بھی نہیں ہو سکتی تھی۔ پاکستان کی ایمیج ریپوزیشننگ۔ جذبات بدل گئے، احساسات بدل گئے۔

ایک مثال سے سمجھیں۔ جاپان نے 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم کھایا۔ 1964 تک وہ "جنگی مجرم" کہلاتا تھا۔ پھر ٹوکیو اولمپکس ہوئیں۔ 1970 کی دہائی میں سونی، ٹویوٹا، ہونڈا آئیں۔ 80 کی دہائی میں نینٹینڈو اور منگا۔ 90 کی دہائی میں پوکیمون۔ 2000 کی دہائی میں ہارڈ پاور سے نکل کر سافٹ پاور کا چوتھا بڑا ملک۔ آج جاپان سافٹ پاور انڈیکس میں چوتھے نمبر پر ہے۔ 80 سال کا سفر تھا۔ ایک اولمپکس نے دروازہ کھولا تھا۔

جنوبی کوریا نے 1953 میں کوریائی جنگ کے ملبے سے اٹھنا شروع کیا۔ 1988 کی سیول اولمپکس۔ 2002 کا فٹبال ورلڈ کپ۔ 2012 کا "گنگنم سٹائل"۔ 2019 کی "پیراسائٹ" جس نے آسکر جیتا۔ 2021 کی "سکویڈ گیم" جو دنیا کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی سیریز بنی۔ کے پاپ۔ بی ٹی ایس۔ سام سنگ۔ ایل جی۔ ہنڈائی۔ 70 سال کا سفر۔ آج جنوبی کوریا دنیا کا 15واں سافٹ پاور ملک ہے۔

پاکستان کے پاس کوئی اولمپکس نہیں ہے۔ کوئی بی ٹی ایس نہیں ہے۔ کوئی سونی نہیں ہے۔ مگر اپریل 2026 میں اس کے پاس وہ کچھ ہے جو جاپان اور جنوبی کوریا کے پاس ابتدائی مراحل میں نہیں تھا: اکیسویں صدی کی مہلک ترین جنگ میں عالمی امن کا ثالث ہونے کا تمغہ۔

پچھلے 15 دنوں میں پاکستان دنیا کے 193 ممالک میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ملک رہا ہے۔ ٹاپ ٹرینڈز میں۔ ہیڈ لائنز میں۔ اداریوں میں۔ ٹاک شوز میں۔ سوشل میڈیا پر۔ کوئی بھی پی آر ایجنسی دنیا کی، اگر پاکستان کی حکومت اسے 10 ارب ڈالر بھی دے، اتنی کوریج نہیں خرید سکتی جتنی مفت مل گئی ہے۔ ایڈ ویلیو ایکیوی ویلنٹ کا حساب لگائیں تو یہ اربوں ڈالر کی تشہیر ہے۔ بغیر ایک پیسہ خرچ کیے۔

دوسری بات: پاکستانی ڈائسپورا۔ 150 سے زیادہ ممالک میں۔ 15 ملین سے زیادہ لوگ۔ یہ لوگ برسوں سے شرم کا شکار رہے ہیں۔ جب بھی کوئی پوچھتا "آپ کہاں سے ہیں؟" تو دل ڈوب جاتا۔ "پاکستان" کہنا اتنا آسان نہیں تھا۔ ہم دنیا میں دہشت گرد ایکسپورٹ کرنے کی فیکٹری مشہور رہے ہیں، ہالی ووڈ میں پچھلے 50 سال میں بننے والی فلمیں دیکھ لیں۔ اسامہ ہمارے ایبٹ آباد سے نکلتا ہے۔ جواب میں "طالبان" یا "بم دھماکے" یا "غربت" کی بات ہوتی۔ آج وہی ڈائسپورا فخر سے کہہ سکتا ہے: "ہم اس ملک سے ہیں جو امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی ثالثی کر رہا ہے"۔

لندن میں پاکستانی ڈاکٹر۔ نیویارک میں پاکستانی انجینیئر۔ دبئی میں پاکستانی بزنس مین۔ ٹورنٹو میں پاکستانی پروفیسر۔ سڈنی میں پاکستانی نرس۔ ریاض میں پاکستانی مزدور۔ کوالالمپور میں پاکستانی طالب علم۔ ہر ایک کے لیے ایک نئی شناخت۔ نیا وقار۔ نیا اعتماد۔

تیسری بات: "بھکاری کا کشکول" سے "امن کا پلیٹ فارم"۔ یہ بیانیے کی تبدیلی ہے جو اپنے آپ میں انقلاب ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی فورمز پر آئی ایم ایف سے قرض مانگنے والا ملک سمجھا جاتا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کا ملک۔ ایٹمی پھیلاؤ کا مشتبہ ملک۔ دہشت گردی کی پناہ گاہ کا ملک۔ آج وہی ملک عالمی امن کی بات چیت کا میزبان ہے۔ تبدیلی اتنی تیز ہے کہ کئی مبصرین بھی ہضم نہیں کر پا رہے۔

مگر ایک بات صاف سمجھ لیں: یہ موقع ہے، ضمانت نہیں۔ سافٹ پاور اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب اسے حکمت عملی سے مضبوط کیا جائے۔ محض ایک کامیاب ثالثی سے یہ نہیں بنتی۔ ایک ثالثی کا دروازہ کھولتی ہے، عمارت بنانا الگ کام ہے۔

پاکستان کو اب کئی سٹریٹیجک اہداف ترتیب دینے ہوں گے۔ پہلا: ثالثی کو ادارہ جاتی شکل دینا۔ "اسلام آباد پراسیس" محض نعرہ نہ رہے، ایک باقاعدہ سفارتی ڈاکٹرائن بنے۔ ویانا کنونشن طرز کا۔ اوسلو چینل کی طرح۔ دوسرا: تعلیم۔ دنیا کی ہر بڑی یونیورسٹی میں پاکستان کے مطالعے کا مرکز قائم ہونا چاہیے۔ ہمارے طلبہ باہر جائیں، ان کے طلبہ یہاں آئیں۔ سالانہ کم از کم ایک لاکھ غیر ملکی طلبہ کا ہدف۔ تیسرا: میڈیا۔ پی ٹی وی ورلڈ کو بی بی سی یا الجزیرہ کی سطح پر لے جانا ہوگا۔ پاکستانی بیانیہ پاکستانی زبان میں پاکستان سے نشر ہو۔ چوتھا: ثقافت۔ ہمارے پاس کوک اسٹوڈیو ہے، ہمارے پاس ڈرامے ہیں جو انڈیا تک میں دیکھے جاتے ہیں، ہمارے پاس ہمسایہ، ہم سفر، کبھی میں کبھی تم جیسے ڈرامے ہیں، ہمارے پاس فواد خان جیسے اداکار ہیں، ہمارے پاس علی سیٹھی، مائی دھئی، نورجہاں جیسی گائیکی کی روایت ہے، ہمارے پاس فیض اور پرویں شاکر کی شاعری ہے۔ ان سب کو منظم طریقے سے عالمی سطح پر لانا ہوگا۔ پانچواں: سیاحت۔ ہنزہ، سکردو، دیوسائی، چترال، موہنجوداڑو، ٹیکسلا۔ دنیا کے خوبصورت ترین مقامات ہیں اور عالمی توجہ سے محروم ہیں۔ چھٹا: ڈائسپورا کی منظم تنظیم۔ یہودی لابی کی طرح۔ چینی ڈائسپورا کی طرح۔ بھارتی اوورسیز کی طرح۔ پاکستانی ڈائسپورا کی بہت بڑی لابی ہونی چاہیے۔ ساتواں: برانڈز۔ ہماری کاسمیٹکس، ہماری ٹیکسٹائل، ہمارا کھیلوں کا سامان (سیال کوٹ کے فٹبال تمام فیفا عالمی کپ میں استعمال ہوتے ہیں، مگر کسی کو معلوم ہی نہیں)۔ ان سب کی ری برانڈنگ کی ضرورت ہے۔

آٹھواں اور شاید سب سے اہم: ٹیکنالوجی۔ پاکستان میں 27 کروڑ آبادی ہے، جس میں سے 6 کروڑ نوجوان ہیں۔ اگر ان نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی میں تربیت دی جائے تو پاکستان اگلے 10 سالوں میں بھارت کا متبادل بن سکتا ہے۔ تیسری دنیا کا سلیکان ویلی۔

مگر یہ سب تب ہوگا جب روزمرہ کے مسائل پر توجہ دی جائے۔ سیاسی استحکام۔ معاشی اصلاحات۔ سیکورٹی کی بہتری۔ عدلیہ کی آزادی۔ اظہار رائے کی آزادی۔ شفاف انتخابات۔ اگر یہ نہ ہوا تو سافٹ پاور کی عمارت کھوکھلی رہے گی۔ باہر چمکدار، اندر کھوکھلی۔

برطانیہ کی مثال یاد رکھیں۔ 1945 میں جب دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو برطانیہ کا تاج خالی ہو رہا تھا۔ کالونیاں آزاد ہو رہی تھیں۔ بھارت، پاکستان، مصر، افریقہ، مشرق وسطیٰ۔ 1947 تک سلطنت کا سورج غروب ہو چکا تھا۔ معیشت تباہ تھی۔ امریکہ قرض دے رہا تھا۔ برطانیہ "بیمار آدمی آف یورپ" کہلاتا تھا۔ مگر اس ملک نے کیا کیا؟ اس نے اپنی سلطنت کو "کامن ویلتھ" میں بدل دیا۔ آزاد ملکوں کا رضاکار اتحاد۔ اپنی زبان کو دنیا کی لنگوا فرانکا بنائے رکھا۔ اپنے میڈیا (بی بی سی) کو عالمی معیار رکھا۔ اپنی تعلیمی روایت (آکسفورڈ، کیمبرج) کو دنیا کا سب سے قیمتی اثاثہ بنائے رکھا۔ اپنے قانونی نظام کو 27 ممالک میں رائج رکھا۔ اپنی ثقافت (بیٹلز، ہیری پوٹر، جیمز بانڈ) کو عالمی برآمد بنایا۔

70 سالوں میں برطانیہ نے ہارڈ پاور کھو کر سافٹ پاور میں دوسرا نمبر پایا اور جب چین نے اسے پچھلے سال پچھاڑا تو فوراً "یو کے سافٹ پاور کونسل" قائم کر دی گئی۔ یعنی وہ اپنی جگہ بچانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے جہاں برطانیہ 1945 میں تھا۔ ایک موقع۔ ایک انتخاب۔ یا تو اس موقع کو ضائع کر دو اور دوبارہ "ناکام ریاست" کا تمغہ لگا لو۔ یا اس موقع کو ادارہ جاتی شکل دو اور اگلے 70 سالوں کے لیے خود کو "امن کا ثالث" بنا لو۔

6 فروری سے 15 اپریل۔ صرف 68 دن۔ ایک ایسے ملک کی کہانی جو مسجد کے دھماکے سے شروع ہوئی اور عالمی امن کی ثالثی پر ختم ہوئی۔ یہ خود میں وہ داستان ہے جو کسی فلم کے پلاٹ سے زیادہ ڈرامائی ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ابتدا ہے۔ داستان کا بقیہ حصہ ابھی لکھا جانا ہے۔

ترلائی کلاں کی مسجد کے 32 شہید اب بھی ہماری یاد میں ہیں۔ ان کا خون پوچھتا ہے: کیا تم نے اس موقع کو ضائع کیا یا استعمال کیا؟

بھکاری کا کشکول ایک لمحے میں چھٹ نہیں جاتا اور امن کا تمغہ ایک رات میں نہیں لگتا۔ مگر اپریل 2026 میں پاکستان نے وہ کیا ہے جو بہت کم ممالک کو نصیب ہوتا ہے: اس نے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔

اب سوال یہ نہیں ہے کہ دنیا کیا کہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس توجہ کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

سافٹ پاور کا اصول ہے: جو خود کو مضبوط ثابت کر سکے، دنیا اسے سنتی ہے۔ جو خود کو بہتر بنا سکے، دنیا اس کی پیروی کرتی ہے۔ جو خود کو قابل اعتماد بنا سکے، دنیا اسے ثالث بناتی ہے۔

یہ تینوں شرائط اب پاکستان پر پوری ہونا ہیں۔

چھ دن باقی ہیں 21 اپریل تک۔ مگر اصل گھڑی پچھلے 68 دنوں سے چل رہی ہے اور اگلے 68 دن اس سے بھی اہم ہوں گے۔

برطانیہ کو 170 سال لگے دوسرے نمبر پر پہنچنے میں۔ پاکستان کو 70 سال بھی لگ سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم نیا کشکول نہ اٹھائیں اور پرانا رکھ کر آگے بڑھیں۔

جوزف نائے نے کہا تھا: "سافٹ پاور دوسروں سے وہ کام کروانے کی صلاحیت ہے جو آپ انہیں پیسے دیے بغیر یا بندوق دکھائے بغیر کروا سکتے ہیں"۔

اپریل 2026 میں پاکستان نے یہ صلاحیت دکھائی ہے۔ اب اسے برقرار رکھنا ہے۔

کشکول نہ اٹھانا بڑی جیت ہے۔ کشکول توڑ دینا اس سے بھی بڑی جست ہے۔