Tuesday, 26 May 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Trump Chilli Milli Abraham Accord

Trump Chilli Milli Abraham Accord

گزشتہ ہفتے، 23 مئی کی دوپہر امریکی صدر نے فون اٹھایا اور آٹھ مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو ایک ساتھ لائن حاضر کیا۔ پھر بڑے اطمینان سے فرمایا کہ بھائیو، اب وقت آ گیا ہے کہ آپ سب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیں۔ ٹیلیفون لائن پر ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ صدر ٹرمپ نے، جو ہر حال میں خوش رہنے والے مست ملنگ آدمی ہیں، تھوڑی دیر انتظار کے بعد ہنس کر پوچھا کہ بھئی آپ لوگ ابھی موجود ہیں نا، یا فون ڈس کنکٹ ہوگیا ہے؟

یہ منظر، جو ایکسیوس نامی امریکی ویب سائٹ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بیان کیا ہے، دو ہزار چھبیس کا سب سے دلچسپ سفارتی منظر ہے۔ ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ خاموشی کے بعد سب سے پہلے کس نے گلا کھنکارا۔ سعودی فرماں روانے، شاید۔ یا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے، جو ٹرمپ صاحب کی اپنی فہرست کے مطابق پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ یا قطری امیر نے، جن کے پاس وہ بوئنگ سات سو سینتالیس طیارہ ہے جو ٹرمپ صاحب کو حال ہی میں بہت پسند آیا تھا اور جو اب پینٹاگون قبول بھی کر چکا ہے۔ ہمیں صرف اتنا بتایا گیا کہ سعودی، قطری اور پاکستانی سب سے زیادہ حیران اور پریشان ہوئے۔ یہ خود اپنی جگہ ایک حیرت کی بات ہے، کیونکہ یہ تینوں ممالک یقیناً جانتے ہیں کہ ٹرمپ کے ساتھ کال پر کوئی بھی 'کانٹھ' ہوسکتا ہے۔

اور یہاں ایک چھوٹا سا، مگر بہت دلچسپ نکتہ ہے۔ پیر کے روز جب ٹرمپ صاحب نے اپنی پوسٹ میں آٹھ سربراہوں کے نام گنوائے، تو پاکستان کے کالم میں شہباز شریف کا نام نہیں آیا۔ آیا تو فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام آیا اور وزیراعظم صاحب نے، جنہوں نے اسی شام اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ٹرمپ صاحب کو "بہت مفید اور بامقصد ٹیلیفونی گفتگو" پر مبارک باد دی، گویا کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ نام نہ سہی، شکریہ ہم نے ضرور ادا کرنا ہے۔ پاکستان کے سویلین اور غیر سویلین حصے کے درمیان کا یہ خاموش سمجھوتہ، آٹھ ممالک کی سفارتی تاریخ کا سب سے مختصر کلاسیک ڈرامہ ہے۔ امریکی صدر نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان میں فون اٹھانے والا شخص کون ہے اور پاکستان کے وزیراعظم نے، ادب سے، اس فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

پیر کی صبح ٹرمپ نے فیصلہ کر لیا کہ صرف ٹیلی فونی گزارش سے کام نہیں چلے گا۔ اپنی سوشل میڈیا ایپلیکیشن "ٹروتھ سوشل" پر اس نے اعلان کیا کہ اب یہ تمام ممالک کے لیے "لازمی" ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔ یہ ابراہام اکارڈ، یاد رہے، ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ان کے داماد جیرڈ کشنر نے تیار کیا تھا تاکہ اسرائیل کو عرب دنیا میں قابلِ قبول بنایا جا سکے۔ اب اس معاہدے کے دوسرے ایڈیشن کا "فوری دستخط" سعودی عرب اور قطر سے شروع ہونا چاہیے، صدر صاحب نے لکھا، "اور باقی سب پیچھے پیچھے لائن میں آجائیں"۔ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ معاملے کی پیروی کے لیے وہی جیرڈ کشنر اور ساتھ سٹیو وٹکوف صاحب، تشریف لائیں گے۔ یہ دونوں نیویارک کے پراپرٹی ڈیلر ہیں، جنہوں نے زندگی کا بڑا حصہ مین ہٹن میں عمارتوں کے سودے کرتے ہوئے گزارا ہے اور جو اب مل کر مشرقِ وسطیٰ کا سودا "ٹھپیں" گے۔ مقدس سرزمین، جیسا کہ سامنے آ چکا ہے، ان کے لیے صرف ایک اور پوسٹل کوڈ ہے۔ ٹرمپ غزہ والی وڈیو تو آپ نے دیکھ ہی لی ہوگی۔

اصل مزہ اس "لازمی" کے لفظ میں ہے۔ آپ ذرا سوچئے۔ دو خود مختار ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات۔ وہ چیز جس کے لیے ڈپلومیٹ دہائیوں تک خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں، یرغمالیوں کا تبادلہ کرتے ہیں، خفیہ پیغامات بھیجتے ہیں، رات کے دو بجے کسی ہوٹل کے کمرے میں چائے کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ یہی تعلقات اب جمعہ کی شام تک طے ہو جانے چاہئیں، کیونکہ امریکی صدر کا ایران کے ساتھ ہفتہ کچھ زیادہ ہی مشکل گزرا ہے۔ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی کسی پرانی عمارت کے ایک کونے میں ایک بوڑھا سفارت کار بیٹھا ہے، جسے ویانا کنونشن ابھی تک یاد ہے۔ وہ رو رہا ہے۔ کوئی اس کی تسلی کے لیے نہیں جاتا، کیونکہ سب لوگ سی این این کے سامنے بیٹھے ہیں۔

سینیٹر لنڈسی گراہم، جو امریکی خارجہ پالیسی کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو شادی بیاہ میں ایک جوشیلا چچا کرتا ہے، فوراً میدان میں کود پڑے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ٹرمپ کی درخواست ٹھکرانے کے "سنگین نتائج" نکلیں گے۔ یہ منصوبہ، انہوں نے مزید فرمایا، "خطے اور دنیا کے لیے" حد سے بڑھ کر "انقلابی" ثابت ہوگا۔ یہ امریکی سینیٹر ہر اس خیال کو "انقلابی" کہتے ہیں جس کی سرخی سے آگے انہوں نے کچھ نہیں پڑھا ہوتا۔

اب ذرا ان آٹھ صاحبان پر ایک نظر ڈال لیجیے جن کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ محمد بن سلمان، سعودی ولی عہد، جنہوں نے ستمبر دو ہزار تئیس میں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں اشارہ دیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن "ہر گزرتے دن کے ساتھ قریب آ رہی ہے" اور اکتوبر سات کے بعد بالکل خاموش ہو گئے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جن کا نام ہی کافی ہے۔ قطر کے امیر، جنہوں نے گزشتہ دو سال میں حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کی ہے اور جن کے ملک نے امریکی صدر کو ایک ہوائی جہاز تحفہ دیا ہے جو اب پینٹاگون کی جانب سے رنگ کیا جا چکا ہے۔ اردن کے بادشاہ، جو ہاشمی ہیں اور القدس کی مسجدِ اقصیٰ کے ولی ہیں اور اس لحاظ سے غلط میٹنگ میں شامل تھے۔ مصری صدر، جن کا ملک انیس سو اناسی میں اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کر چکا ہے اور اب بظاہر ایک نئی قلم سے دوبارہ دستخط کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ ترک صدر، جو دسمبر دو ہزار تئیس سے ٹیلی ویژن پر اور وقت بے وقت پارلیمنٹ میں بھی، نتن یاہو کو ہٹلر سے بدتر نازی قرار دے چکے ہیں اور اماراتی اور بحرینی حکمران، جو دو ہزار بیس میں ہی دستخط کر چکے ہیں اور غالباً اس کانفرنس کال پر صرف اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے لیے موجود تھے۔ جیسے امتحان پاس کیے ہوئے بھائی جان نئے بچوں کو امتحان ہال کے باہر تسلی دیتے ہیں۔

ابھی جب کہ ایران امریکہ ڈیل ہوا میں ہے اور اس پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں چل رہی ہیں، ٹرمپ نے نیا اور زیادہ شرارتی چوہا چھوڑ دیا ہے۔ ٹرمپ کا دماغ کچھ اس طرح چل رہا ہے کہ ایران والا معاملہ، جو پچھلے تین مہینوں سے امریکی حملوں، ایرانی جوابی حملوں اور آبنائے ہرمز پر ایک کچی پکی مفاہمتی یادداشت کے ساتھ رینگ رہا ہے، تنہا ایک سودا بنانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ تہران سے امن، انہوں نے سوچا ہوگا، اب ایک "بنڈل ڈیل" ہو۔ ہرمز کھولنا چاہتے ہو؟ یہاں دستخط کرو۔ پابندیاں ہٹوانا چاہتے ہو؟ یہاں دستخط کرو۔ بمباری بند کروانا چاہتے ہو؟ یہاں دستخط کرو اور ساتھ اپنے وزیرِ خارجہ کو بھی بلوا لو۔ یہ ایک "ٹرمپانی قدم" ہے، جس میں ایک شخص شادی پر پہنچ کر اعلان کرتا ہے کہ وہ آج وہاں موجود ہر بندی سے ایک ساتھ نکاح فرمائے گا اور سب لائن میں لگ کر انگوٹھے لگا دیں۔

ابراہیمی معاہدے کی تصویر کے بیچ میں، ہمیشہ کی طرح، فلسطینی غائب ہیں۔ ان کے پاس کوئی فون نہیں آیا۔ ان سے کچھ نہیں مانگا گیا۔ ابراہام معاہدہ، یاد رہے، حضرت ابراہیم کے نام پر رکھا گیا تھا، جو یہود، مسیحی اور مسلمانوں کے مشترک پیغمبر ہیں۔ یہ نام اس بندے کی اختراع ہے جس نے زندگی میں شاید ہی کوئی مذہبی کتاب کھولی ہو اور جس نے سوچا کہ "ابراہام" کا لفظ کسی نہ کسی طرح "امن" کی طرح سنائی دیتا ہے۔ پہلے معاہدے میں فلسطینی سوال کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اس نئے "لازمی" ایڈیشن میں بھی نہیں ہے۔ فلسطینی اب اپنی تیسری نسل سے دوسروں کے امن میں فٹ نوٹ بن کر رہ گئے ہیں۔

سعودی عرب نے، جو اپنی بات خود کہتا ہے مگر زیادہ زور سے نہیں، دو سال سے یہ رٹا لگا رکھا ہے کہ "فلسطینی ریاست کا قابلِ اعتبار راستہ" بنے بغیر وہ کسی کاغذ پر دستخط نہیں کرے گا۔ یہ جملہ اب اتنی بار دہرایا جا چکا ہے کہ کسی کارپوریٹ کمپنی کا مشن سٹیٹمنٹ معلوم ہوتا ہے۔ "قابلِ اعتبار" کا کیا مطلب ہے، یہ واضح نہیں۔ "راستے" کا کیا مطلب ہے، یہ بھی واضح نہیں۔ "ریاست" کا تو ویسے بھی کوئی واضح مطلب نہیں رہا، خاص طور پر وہ ریاست جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ پاکستان نے بھی کم و بیش یہی بات دہرائی ہے، اس محتاط زبان میں جو اُن ممالک کو نصیب ہے جنہیں پاسپورٹ پر اسرائیلی مہر کا مسئلہ بھی ہے اور گھر میں مذہبی ووٹ بنک بھی سنبھالنا ہے۔ جنوری دو ہزار چھبیس میں پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ "پاکستان کا موقف نہیں بدلا اور وہ ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا"۔ دونوں ممالک نے اپنی نہ کو ہاں نہیں بنایا اور اپنی ہاں کو نہ بھی نہیں۔ امریکیوں نے اس کا مطلب یہ نکالا ہے کہ ابھی ہاں آنا باقی ہے۔

دو ہزار چھبیس میں چھوٹا ملک ہونا، یا درمیانی سائز کا ملک جسے اپنی اہمیت کے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی ہو، ایک خاص قسم کا تجربہ ہے۔ آپ کی خارجہ پالیسی اب ایک ہوٹل کے سویٹ سے ان لوگوں کی طرف سے ترتیب پاتی ہے جنہیں شام کو واپس کسی پراپرٹی ڈیل پر بھی بات کرنی ہے۔ آپ اعتراض کر سکتے ہیں، لیکن صرف ایسے لہجے میں جو یہ ظاہر کرے کہ آپ پہلے ہی اعتراض کرنے پر غور فرما چکے ہیں اور تول مول کر، اعتراض نہ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ پاکستان اونچی آواز میں نہ نہیں کہہ سکتا۔ وہ نہ اسی طرح کہے گا جس طرح وہ ہر بات کہتا ہے۔ ایک پریس ریلیز کے ذریعے جسے کوئی نہیں پڑھے گا اور جو ایسے ترجمان کے نام سے جاری ہوگی جس کی فائل میں موجود تصویر دو سال پرانی ہے۔

اب آگے کیا ہوگا، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کشنر اور وٹکوف صاحبان "آنے والے ہفتوں" میں ریاض میں اتریں گے، جیسا کہ خود ٹرمپ نے بتایا ہے۔ تصاویر بنیں گی، شہزادوں کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے۔ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا۔ اعلامیے میں "تعمیری بات چیت" اور "خطے کا مشترکہ تصور" جیسے فقرے ہوں گے۔ سعودی عرب کسی کاغذ پر دستخط نہیں کرے گا۔ پاکستان نہیں کرے گا۔ قطر نہیں کرے گا۔ ترکی ٹیلی ویژن پر کوئی نہ کوئی بے ادبی کرے گا۔ ٹرمپ صاحب اعلان کرے گا کہ ڈیل اب پہلے سے کہیں زیادہ نزدیک ہے۔ ایران کے مذاکرات لنگڑاتے ہوئے چلتے رہیں گے۔ غزہ کی "تعمیرِ نو" بھی جاری رہے گی، اس معنی میں کہ ملبہ ایک ڈھیر سے اٹھا کر دوسرے ڈھیر پر رکھا جا رہا ہے اور کہیں مغربی کنارے میں، ایک یہودی آبادکار کسی فلسطینی کا زیتون کا باغ جلائے گا اور یہ خبر اخبار کے ساتویں صفحے تک بھی نہیں پہنچے گی۔

"لازمی امن چلی ملی" کا کمال ہی یہ ہے کہ اس پر کسی کو واقعی دستخط نہیں کرنے ہوتے۔ اصل بات اعلان ہے۔ اصل بات ہوائی اڈے والی تصویر ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اڑتالیس گھنٹے دنیا نے ایک آدمی کو ٹارمک سے ہاتھ ہلاتے دیکھا، جو سب کو امن قائم کرنے کا حکم دے رہا تھا اور دنیا نے، زیادہ تر، دیکھ لیا۔

اور کہیں دور، کسی ایسے ملک میں جسے ان آٹھ سربراہوں میں سے کسی نے فون کرنا گوارا نہیں کیا، ایک پانچ سال کی بچی کسی ڈرون کی آواز میں سونے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ اس کانفرنس کال پر نہیں تھی۔ اس کا کوئی سفیر نہیں ہے۔ اس کا کوئی ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ بھی نہیں ہے۔ اس کے پاس صرف ادھار پر چلنے والی مسلسل سانس ہے جو دو ہزار چھبیس کے سال میں، اپنی ذات میں، ایک پورا معاہدۂ امن ہے۔