Tuesday, 14 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Brian Lara Ke Sath Aik Shaam

Brian Lara Ke Sath Aik Shaam

کچھ شامیں کیلنڈر میں نہیں، دل کے نہاں خانوں میں درج ہوتی ہیں۔ کچھ ہفتے پہلے جیمز سکول کے مالک سنی ورکی نے اپنے گھر پر ڈنر پر دعوت دی۔ سرے، چرٹسی کے سبزہ زاروں میں چھپا وہ محل نما گھر ایکڑوں پر محیط تھا۔ سنی ورکی کیرالہ کا وہ لڑکا ہے جو دبئی گیا اور اپنے اچھوتے ایجوکیشن سسٹم کی بنیاد پر دنیا کے سب سے بڑے نجی اسکولوں کے سلسلے کا مالک بن گیا۔ آج دنیا بھر میں لاکھوں بچے اُس کے اسکولوں میں پڑھتے ہیں، فوربز اس کی دولت کا تخمینہ پانچ ارب ڈالرز کے آس پاس لگاتا ہے ہر سال وہ دنیا کے بہترین استاد کو دس لاکھ ڈالر کا گلوبل ٹیچر پرائز دیتا ہے۔ جس آدمی نے تعلیم کو سلطنت بنایا، اُس کے دستر خوان پر اُس شام دنیا کے نامی گرامی لوگ مدعو تھے۔ سفیر، فلمی ستارے، کاروباری اور کرکٹر۔

فانوسوں کی روشنی میں چہرے دمک رہے تھے۔ عمران خان کا بیٹا قاسم خان، ہالی ووڈ، بالی ووڈ کے نامور لوگ، کیڈول جیسے ارب پتی، میں نے اپنے بائیں جانب نظر دوڑائی تو ایک دیکھا بھالا چہرہ نظر آیا۔

برائن لارا۔

پرنس آف ٹرینیڈاڈ۔ وہ آدمی جس کے نام کے آگے آج بھی کرکٹ کے دو ایسے ریکارڈ ڑے ہیں جنہیں تیس برس میں کوئی چھو نہیں سکا۔

کھانے کی میز پر ہم اکٹھے تھے۔ زرا قریب سے لارا سے میری پہلی ملاقات تھی۔ درمیانہ قد، دھیمی آواز اور آنکھوں میں وہ ٹھہراؤ جو صرف اُن لوگوں میں آتا ہے جو اپنی جنگ جیت کر میدان سے نکلے ہوں۔

میں نے اُس کی کہانی چھیڑی اور اُس نے دل کھول دیا۔

سانتا کروز، ٹرینیڈاڈ کا ایک گاؤں۔ گیارہ بہن بھائیوں میں دسواں بچہ۔ باپ بنٹی لارا نے چھ برس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور کرکٹ کی مقامی اکیڈمی میں داخل کرا دیا۔ ہر اتوار وہ بیٹے کو خود لے کر جاتا اور پھر قدرت کا وہ ستم جو لارا کی آواز کو آج بھی بھاری کر دیتا ہے۔ 1989 میں، جب برائن انٹرنیشنل کرکٹ کی دہلیز پر کھڑا تھا، باپ دنیا سے چلا گیا۔ چند ہی مہینوں بعد بیٹے نے ٹیسٹ کیپ پہنی۔

"میرے باپ نے مجھے کرکٹر بنایا، مگر مجھے ٹیسٹ کھیلتے کبھی نہیں دیکھا"۔ اُس نے کانٹا پلیٹ میں رکھتے ہوئے کہا۔ "میں نے ہر اننگز اُس کے لیے کھیلی"۔

اور کیا اننگز کھیلیں، دوستو۔ ذرا گنتی سنیے۔

جنوری 1993، سڈنی۔ آسٹریلیا کے خلاف پہلا سنچری بنایا تو 277 رنز۔ اُس اننگز سے اُسے ایسی محبت ہوئی کہ بیٹی پیدا ہوئی تو نام رکھا سڈنی۔ اپریل 1994، اینٹیگا۔ انگلینڈ کے خلاف 375 اور گیری سوبرز کا چھتیس سال پرانا عالمی ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ اِس کے ٹھیک پچاس دن بعد، وارکشائر کی طرف سے 501 ناٹ آؤٹ۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی اننگز، جو بتیس برس بعد آج بھی قائم ہے۔ پھر 2003 میں آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے 380 بنا کر اُس کا ٹیسٹ ریکارڈ چھین لیا۔ چھ مہینے بعد لارا نے اُسی اینٹیگا کے میدان پر، انگلینڈ کے خلاف، 400 ناٹ آؤٹ کھیل کر تاج واپس لے لیا۔ کرکٹ کی پوری تاریخ میں وہ واحد آدمی ہے جس نے کھویا ہوا عالمی ریکارڈ دوبارہ فتح کیا ہو۔

میں نے پوچھا، پوری زندگی میں کس گیند باز سے ڈر لگا؟

اُس نے ایک لمحہ توقف نہیں کیا۔

"وسیم اکرم"۔

میرا سینہ چوڑا ہوگیا۔ اُس نے وضاحت کی۔ "میں نے میکگرا کھیلا، وارن کھیلا، ڈونلڈ اور امبروز کے ساتھ ڈریسنگ روم بانٹا۔ مگر وسیم الگ مخلوق تھا۔ نئی گیند سے خطرناک، پرانی گیند سے قاتل۔ گیند اُس کے ہاتھ سے نکلتی تو مجھے آخری لمحے تک معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اندر آئے گی یا باہر جائے گی۔ باقی گیند بازوں کے خلاف میں پلان بناتا تھا۔ وسیم کے خلاف میں دعا کرتا تھا"۔

میز پر بیٹھے ایک برطانوی سفیر نے قہقہہ لگایا۔ وہ حال ہی میں عرب امارات سے تین سال کی سفارت دے واپس آیا تھا، مگر اسے کرکٹ کی اچھی سمجھ تھی۔ وسیم اکرم کی باؤلنگ کا وہ بھی قتیل تھا۔

پھر لارا نے اپنی نئی اننگز کا ذکر چھیڑا۔ گزشتہ نومبر میں اُس نے ٹرینیڈاڈ کے ملینیم لیکس گالف کلب میں اپنا پہلا ریسٹورنٹ کھولا ہے۔ نام رکھا ہے 277۔

میں نے چھیڑا، تمہارے پاس 375 تھا، 400 تھا، 501 تھا۔ نام 277 کیوں؟

وہ مسکرایا۔ "کیونکہ 277 پہلا تھا۔ وہ دروازہ تھا جس سے میں اندر داخل ہوا۔ باقی سب کمرے بعد میں آئے۔ آدمی کو اپنے پہلے دروازے کی عزت کرنی چاہیے"۔

یہ جملہ میں چرٹسی سے اپنے ساتھ باندھ لایا ہوں۔ اپنی مٹی، اپنی ابتدا، اپنے پہلے دروازے کی عزت۔ ریسٹورنٹ میں انگریز ہیڈ شیف ہے، ہندوستانی پیسٹری شیف ہے اور مینیو میں ٹرینیڈاڈ کے مقامی مصالحے۔ فارم سے سیدھا میز تک۔ اُس نے کہا، "میں چاہتا ہوں لوگ وہاں سے ویسے نکلیں جیسے میری اننگز دیکھ کر نکلتے تھے۔ سیر ہو کر"۔

اب میں نے وہ سوال پوچھا جو ہر پاکستانی کرکٹ پریمی کے دل میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔

برائن، ویسٹ انڈیز کو کیا ہوا؟

ذرا تاریخ یاد کیجیے۔ یہ وہ ٹیم تھی جس نے 1975 اور 1979 کے پہلے دونوں ورلڈ کپ جیتے۔ جو 1980 سے 1995 تک، پورے پندرہ برس، کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری۔ جس کے چار تیز گیند بازوں کے نام سن کر بلے بازوں کی نیندیں اڑ جاتی تھیں اور پچھلی جولائی، وہی ویسٹ انڈیز کنگسٹن میں آسٹریلیا کے خلاف پوری کی پوری 27 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ ستائیس۔ ٹیسٹ کرکٹ کی ایک سو اڑتالیس سالہ تاریخ کی دوسری سب سے چھوٹی اننگز۔

لارا کے چہرے پر ایک سایہ سا آیا۔ اُس نے گلاس میز پر رکھا اور جو کہا، وہ میرے لیے اُس شام کا سب سے قیمتی جملہ تھا۔

"عارف، اب یہ سائبورگز کا کھیل ہے"۔

میں نے وضاحت چاہی۔ بولا، "ہمارے زمانے میں ٹیلنٹ کافی تھا۔ ساحل کی ریت، ناریل کے درخت کے نیچے ٹیپ بال اور خدا کا دیا ہاتھ۔ بس۔ اب ٹیلنٹ صرف خام مال ہے۔ اب کھلاڑی مشینوں سے بنتے ہیں۔ ڈیٹا کے تجزیے، بائیو مکینکس کی تجربہ گاہیں، نیند ناپنے والے آلات، خوراک کے سائنسدان اور وہ سب اضافی چیزیں جو جسم کو انسان سے آگے لے جاتی ہیں۔ خالص فطری صلاحیت اب اکیلی نہیں جیت سکتی، جب تک مشین اُسے بڑھا نہ دے۔ ہمارے جزیروں کے پاس ٹیلنٹ آج بھی ہے، مگر تجربہ گاہیں نہیں۔ ہمارے بہترین بچے اب باسکٹ بال اور فٹبال کھیلتے ہیں کیونکہ وہاں امریکی کالج پیسے دیتے ہیں اور جو کرکٹ کھیلتے ہیں، اُنہیں فرنچائز لیگیں چن لیتی ہیں۔ قومی ٹیم کے پاس بچتا کیا ہے۔ خالی ساحل"۔

میز پر خاموشی چھا گئی۔ کیریبین کے شہزادے نے اپنی سلطنت کا نوحہ پڑھ دیا تھا۔

اور دوستو، واپسی پر گاڑی میں بیٹھے ہوئے میں ساری راہ ایک ہی بات سوچتا رہا۔

لارا نے جس گیند باز کا نام سب سے پہلے لیا، وہ پاکستانی تھا۔ وسیم اکرم، جو لاہور کی گلیوں کے ٹیپ بال سے نکلا۔ یعنی ہماری مٹی میں وہی جادو ہے جو کیریبین کی ریت میں تھا۔ مگر یہی بات ڈرانے والی بھی ہے۔ کیونکہ کیریبین کی ریت میں بھی وہی جادو تھا اور آج وہ 27 رنز پر ڈھیر ہے۔

ویسٹ انڈیز کا زوال کوئی حادثہ نہیں تھا۔ وہ اُس قوم کا انجام تھا جس نے اپنے ٹیلنٹ پر بھروسہ کیا اور اپنے اداروں کو مرنے دیا۔ بورڈ سیاست کھاتی رہی، اکیڈمیاں ویران ہوتی رہیں اور دنیا سائبورگ بنتی رہی۔

پاکستان آج ٹھیک اُسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ہماری گلیوں میں آج بھی وسیم پیدا ہوتے ہیں۔ مگر گلی صرف پیدا کر سکتی ہے، پال نہیں سکتی۔ پالنے کے لیے ادارے چاہئیں۔ ڈیٹا چاہیے، سائنس چاہیے، وہ تجربہ گاہیں چاہئیں جن کا ذکر لارا کر رہا تھا۔ اگر ہم نے اپنے خام سونے کو مشین سے نہ ملایا، تو ایک دن کوئی پاکستانی لارا کسی محل کے دستر خوان پر بیٹھا اپنی ٹیم کا نوحہ پڑھ رہا ہوگا۔

اور اگر ہم نے ادارے بنا لیے، تو یاد رکھیے، دنیا کے سب سے بڑے بلے باز نے جس گیند باز سے پناہ کی دعا مانگی، وہ ہمارا تھا۔ اگلا بھی ہمارا ہو سکتا ہے۔

فیصلہ گلی نہیں کرے گی۔ اگر سیاست کے ڈنگ سے ہماری کرکٹ سلامت رہ گئی تو یہ فیصلہ ہم کر سکتے ہیں۔