Thursday, 11 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. Do Minaron Ke Darmiyan Jhoomta Pul

Do Minaron Ke Darmiyan Jhoomta Pul

کوالا لمپور پر کوئی کوئی صبح ایسے اترتی ہے جیسے کسی نے آسمان پر گیلا کپڑا نچوڑ دیا ہو۔ کبھی بادل نیچے ہیں، مینار اوپر ہے۔ پیٹروناس کے جڑواں مینار دھند میں آدھے چھپے، آدھے دمکتے ہوئے اور اکتالیسویں منزل پر، زمین سے ایک سو ستر میٹر بلند، دونوں میناروں کے درمیان وہ پل ہے جس پر میں کھڑا تھا۔

گائیڈ نے ایک ایسی بات کہی جو میرے ساتھ ابھی تک چپکی ہوئی ہے۔

"سر، یہ پل دونوں میناروں کے ساتھ جوڑا نہیں گیا۔ یہ معلق ہے۔ سرکتا ہے۔ ہوا چلتی ہے تو مینار جھولتے ہیں اور پل دونوں کے بیچ کھسکتا رہتا ہے۔ اگر اسے سختی سے باندھ دیتے تو پہلی آندھی میں ٹوٹ جاتا"۔

میں نے سوچا، یہ پل نہیں، ملائیشیا کی پوری کہانی ہے۔ تین قومیں، ایک ملک اور بیچ میں ایک ایسا بندوبست جو جڑا ہوا نہیں، معلق ہے۔ جھیلتا ہے، سرکتا ہے اور اسی لیے انہتر برس سے قائم ہے۔

مسیر حسن ملک نے شہر سے گزرتے ہوئے ایک پرانے اسٹیڈیم کی طرف اشارہ کیا۔

"یہ اسٹیڈیم مرڈیکا ہے۔ یہاں ملائیشیا آزاد ہوا تھا"۔ میں حیران، پریشان ہوا، نہ کوئی جنگ آزادی، نہ کوئی غدر۔ اسٹیڈیم میں آزادی؟ جیسے کوئی میچ یا کانسرٹ ہوا ہو۔

اکتیس اگست انیس سو ستاون۔ اس اسٹیڈیم میں ٹنکو عبدالرحمن نے بازو بلند کرکے سات بار پکارا تھا۔ مرڈیکا۔ مرڈیکا۔ مرڈیکا۔ آزادی۔ سات بار۔ کیڈاہ کے سلطان کا یہ بیٹا کیمبرج قانون پڑھنے گیا تھا اور ڈگری مکمل کرنے میں اسے کوئی پچیس برس لگے، کیونکہ گھڑ دوڑ اور فٹ بال کتابوں سے زیادہ دلچسپ تھے۔ انیس سو بیس میں ولایت پہنچا، انیس سو انچاس میں بیرسٹر بنا اور پھر اسی سست رفتار شہزادے نے وہ کام کیا جو ہم سے دس برس پہلے دس لاکھ لاشوں پر ہوا تھا۔ اس نے آزادی ایک میز پر لے لی۔ گولی چلے بغیر۔ ٹرین کٹے بغیر۔ کنواں بھرے بغیر۔

ہمیں آزادی قبروں نے دی، انہیں دستخطوں نے۔ خون ہمیشہ قیمت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی خون صرف خون ہوتا ہے۔

مگر یہ مت سمجھیے کہ اس ملک کی پیشانی پر کوئی زخم نہیں۔ زخم ہے اور گہرا ہے اور اسی زخم پر اس ملک کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

تیرہ مئی انیس سو انہتر کے عام انتخابات میں چینی نژاد جماعتیں غیر متوقع طور پر جیت گئیں۔ کوالا لمپور کی گلیوں میں جلوس نکلے، جوابی جلوس نکلے اور پھر چھریاں نکل آئیں۔ سرکاری گنتی میں ایک سو چھیانوے لاشیں گریں۔ غیر سرکاری اندازے کئی سو بتاتے ہیں۔ یہی گلیاں جہاں آج میں ناریل کا پانی پی رہا ہوں، اس روز خون سے بھری تھیں۔ ٹنکو کا دل ٹوٹ گیا اور سال بھر میں وہ اقتدار چھوڑ گیا۔

اب وہ موڑ آتا ہے جہاں ملائیشیا نے وہ کام کیا جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا تھا۔

انیس سو اکہتر میں نئی اقتصادی پالیسی آئی۔ تاریخ کا واحد کوٹہ نظام جو اقلیت کے لیے نہیں، اکثریت کے لیے بنایا گیا۔ ملائی آبادی کا ساٹھ فیصد سے زیادہ تھے مگر کارپوریٹ دولت کا بمشکل ڈھائی فیصد ان کے ہاتھ میں تھا۔ دکانیں چینیوں کی، بینک چینیوں کے، کانیں اور باغات انگریز کمپنیوں کے۔ ملائی صرف دھان کے کھیت میں تھا۔ ریاست نے طے کیا کہ دھرتی کے بیٹے کو، بومی پترا کو، یونیورسٹی سے لے کر کاروباری لائسنس تک ہر دروازے پر پہلا حق ملے گا۔

دنیا نے ناک چڑھائی۔ ماہرین نے معیشت کے بیٹھنے کی پیش گوئیاں کیں۔ چینی ناراض ہوئے اور لاکھوں ہجرت کر گئے۔ انیس سو ستاون میں چینی آبادی کا سینتیس فیصد تھے، آج تیئیس فیصد رہ گئے ہیں۔ مگر ملک نہیں ٹوٹا۔ خانہ جنگی نہیں ہوئی۔ سری لنکا نہیں بنا، روانڈا نہیں بنا اور انیس سو اکہتر کا پاکستان بھی نہیں بنا۔ جس سال انہوں نے اپنے زخم کو پالیسی میں ڈھالا، اسی سال ہم نے اپنی اکثریت کو کوٹہ نہیں، فوج بھیجی تھی۔

یہ موازنہ تکلیف دیتا ہے۔ مگر سفر اور تکلیف کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

پھر وہ آدمی آیا جس نے اس ملک کو مٹھی میں لے لیا۔ مہاتیر محمد۔ کیڈاہ کا ایک ڈاکٹر، جو بائیس برس وزیراعظم رہا اور پھر اٹھانوے برس کی دہلیز پر، بیانوے سال کی عمر میں، دوبارہ لوٹ کر دنیا کا معمر ترین منتخب حکمران بنا۔ اس نے قوم سے کہا، مغرب کی طرف دیکھنا چھوڑو، مشرق کی طرف دیکھو۔ جاپان سے سیکھو، کوریا سے سیکھو، اپنے جیسے ایشیائی سے سیکھو جس نے راکھ سے فولاد بنایا۔ اس نے قومی گاڑی بنائی، پروٹون ساگا۔ اس نے یہ جڑواں مینار بنوائے اور ان کی تعمیر میں بھی اس کی شرارت جھلکتی ہے۔ ایک مینار جاپانی کمپنی کو دیا، دوسرا کورین کو اور دونوں کو آمنے سامنے دوڑا دیا۔ کورین ایک مہینہ دیر سے شروع ہو کر پہلے ختم ہوئے۔ دنیا کی بلند ترین عمارت دو حریفوں کی ضد سے کھڑی ہوئی اور بیچ کا پل کسی سے باندھا نہیں گیا۔

مگر مہاتیر کا اصل امتحان انیس سو اٹھانوے میں آیا۔ ایشیائی مالیاتی بحران میں تھائی لینڈ گرا، انڈونیشیا گرا، کوریا گرا اور سب آئی ایم ایف کے دروازے پر صف باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ رنگٹ آدھا رہ گیا۔ دنیا نے کہا، اب ملائیشیا بھی گھٹنوں پر آئے گا۔

مہاتیر نے دنیا کو انکار کر دیا۔

یکم ستمبر کو اس نے سرمائے کے دروازے بند کیے، رنگٹ کو تین اعشاریہ اسی پر باندھ دیا اور سٹے بازوں کو ملک بدر کر دیا۔ جارج سوروس کو، جو کرنسیوں کا سب سے بڑا شکاری تھا، علی الاعلان احمق کہا۔ سوروس نے جواب میں اسے اپنے ہی ملک کے لیے خطرہ قرار دیا۔ آئی ایم ایف نے تنبیہیں جاری کیں، مغربی اخباروں نے مرثیے لکھے۔ دو برس بعد ملائیشیا بحران سے نکل چکا تھا، آئی ایم ایف کے ایک ڈالر کے بغیر اور بعد کے برسوں میں خود آئی ایم ایف کے ماہرین نے دبی زبان میں مان لیا کہ اس ضدی ڈاکٹر کا نسخہ غلط نہیں تھا۔

ہم اسی آئی ایم ایف کے پاس اب تک کوئی دو درجن بار جا چکے ہیں۔ مگر انکار کی بھی ایک شرط ہوتی ہے۔ انکار وہی کرتا ہے جس کے پاس اپنا کچھ ہو۔ مہاتیر کے پیچھے پیٹروناس کا تیل تھا، پینانگ کی فیکٹریاں تھیں، برآمدات کا چلتا ہوا پہیہ تھا۔ خودداری تقریر سے نہیں آتی۔ خودداری پیداوار سے آتی ہے۔

اور پھر اسی مہاتیر کی کہانی کا سیاہ باب۔ اسی ستمبر میں، جس مہینے اس نے سوروس کو شکست دی، اس نے اپنے نائب وزیراعظم انور ابراہیم کو نکال باہر کیا۔ انور بحران میں آئی ایم ایف والا راستہ چاہتا تھا، مہاتیر اپنا۔ اختلاف دشمنی بنا، دشمنی مقدمہ بنی اور پھر وہ تصویر آئی جو پوری دنیا نے دیکھی۔ انور عدالت میں پیش ہوا تو اس کی آنکھ پر سیاہ نشان تھا۔ ملک کے پولیس سربراہ نے ہتھکڑی لگے قیدی کو اپنے ہاتھ سے مارا تھا۔

اس سیاہ آنکھ سے ایک تحریک نکلی اور اس تحریک سے ایشیا کی سب سے حیران کن سیاسی کہانی۔ انور چھ برس قید رہا۔ نکلا۔ پھر قید ہوا۔ پھر وہ ہوا جس پر تاریخ آج تک مسکراتی ہے۔ بیانوے سالہ مہاتیر نے، جس نے اسے پہلی بار جیل بھیجا تھا، واپس آ کر اسی سے اتحاد کیا اور اسی کی رہائی کا راستہ کھولا۔ قید کرنے والا ہی چابی بن گیا اور چوبیس نومبر دو ہزار بائیس کو، پچہتر برس کی عمر میں، چوبیس برس کی جدوجہد کے بعد، انور ابراہیم وزیراعظم بنا۔ آج بھی ہے۔ نائب وزیراعظم سے قیدی، قیدی سے قیدی اور قیدی سے وزیراعظم۔ صبر بھی ایک سیاسی نظریہ ہے اور انور اس نظریے کا پروفیسر ہے۔

دو برس قبل مہاتیر محمد کے ساتھ لندن میں ڈنر کیا تو خوب گپ شپ لگی اور ننانوے سالہ چوکس ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ لمبا اور اچھا جینے کا نسخہ بس بھوکا رہنا ہے۔

مگر ٹھہریے۔ اس سے پہلے کہ آپ اس ملک کو فرشتوں کی بستی سمجھ لیں، ایک اور قصہ سن لیجیے، جو شاید اس صدی کی سب سے فلمی مالی واردات ہے۔

ایک سرکاری فنڈ تھا، ون ایم ڈی بی، جو ملکی ترقی کے لیے بنا تھا۔ اس میں سے ساڑھے چار ارب ڈالر اڑا لیے گئے۔ اڑانے والوں میں ملک کا وزیراعظم نجیب رزاق شامل تھا، جس کے ذاتی کھاتے میں اڑسٹھ کروڑ ڈالر کی ایک ہی منتقلی پکڑی گئی۔ سہولت کار ایک نوجوان چینی ملائیشیائی تھا، جھو لو، جو آج تک مفرور ہے۔ چوری کے مال سے پچیس کروڑ ڈالر کی کشتی خریدی گئی، پکاسو کی پینٹنگز خریدی گئیں، ہیروں کے ہار اور نیویارک کے پینٹ ہاؤس خریدے گئے اور ہالی وڈ کی ایک فلم بنائی گئی۔ کون سی فلم؟ وولف آف وال سٹریٹ۔ مالی فراڈ پر بننے والی دنیا کی مشہور ترین فلم خود ایک مالی فراڈ کے پیسے سے بنی۔ نجیب کے سوتیلے بیٹے کی کمپنی نے اس میں سرمایہ لگایا اور اداکار کو تحفے میں مارلن برانڈو کا آسکر ملا، جو بعد میں امریکی حکومت کو لوٹانا پڑا۔

مگر اس قصے کا وہ حصہ سنیے جو پاکستانی کان کے لیے سب سے بھاری ہے۔

نجیب رزاق آج جیل میں ہے۔ سابق وزیراعظم۔ ملک کے دوسرے وزیراعظم تون عبدالرزاق کا بیٹا۔ اشرافیہ کی اشرافیہ۔ پہلے مقدمے میں بارہ برس ملے، جو معافی بورڈ نے نصف کر دیے۔ پھر گزشتہ دسمبر میں مرکزی مقدمے میں پندرہ برس مزید سنا دیے گئے۔ پچھلے مہینے اس نے گھر میں نظربندی کی اپیل بھی واپس لے لی۔ وہ کاجنگ جیل میں بیٹھا ہے اور بہتر برس کی عمر میں اس کی رہائی کا کوئی قریبی امکان نہیں۔ گولڈ مین سیکس جیسے عالمی بینک کو ملائیشیا کے ہاتھ تین ارب نوے کروڑ ڈالر ہرجانہ بھرنا پڑا۔

ہمارے ہاں بھی وزرائے اعظم پر مقدمے بنتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ ہمارے مقدمے موسموں کے ساتھ بدلتے ہیں اور سزائیں لندن اور جدہ کی پروازوں میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔ ملائیشیا کا نظام بھی فرشتہ نہیں، نجیب کی سزا میں بھی سیاست کے رنگ ڈھونڈے جا سکتے ہیں، مگر ادھورا احتساب بھی صفر احتساب سے بہتر ہوتا ہے۔

واپسی پر ہمارے تامل ڈرائیور نے گاڑی ایک پرانے ربڑ کے باغ کے کنارے روک دی۔ قطار در قطار درخت، ہر تنے پر ایک ترچھا زخم اور ہر زخم کے نیچے ایک پیالہ۔

"صاب، یہ وہ درخت ہے جس کے لیے میرے پردادا لائے گئے تھے"۔

اور یہیں وہ بات ہے جو ملائیشیا کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ربڑ کا درخت ملائیشیائی نہیں ہے۔ ربڑ برازیل کا پودا ہے۔ اٹھارہ سو چھہتر میں ہنری وکہم نامی ایک انگریز ایمیزون کے جنگلوں سے ستر ہزار بیج چرا کر لندن کے کیو گارڈنز پہنچا اور وہیں سے پنیری سنگاپور اور ملایا بھیجی گئی۔ جس درخت پر ملایا کی پوری نوآبادیاتی معیشت کھڑی ہوئی، جس کے لیے راج کے بزرگ چنئی سے اور چینی مزدور فوجیان سے لائے گئے، وہ درخت خود چوری ہو کر آیا تھا اور پام کا درخت، جو آج اس ملک کی پہچان ہے اور جس کا تیل دنیا کے ہر بسکٹ اور ہر صابن میں موجود ہے، وہ مغربی افریقہ سے آیا۔

یہاں ایک گالی چلتی ہے۔ پنداتانگ۔ باہر سے آیا ہوا۔ ملائی قوم پرست یہ لفظ چینیوں اور تاملوں پر پھینکتے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ اس ملک میں سب کچھ پنداتانگ ہے۔ ربڑ برازیل سے، پام افریقہ سے، تامل ہندوستان سے، چینی فوجیان سے اور خود ملائی بھی صدیوں پہلے سماٹرا اور جزائر سے کشتیوں میں اترے تھے۔ اس مٹی میں صرف مٹی مقامی ہے۔ باقی سب مہمان ہیں۔ اس ملک کا کمال یہ ہے کہ اس نے مہمانوں کے پسینے کو قبرستان نہیں، وفاق بنا دیا۔

ایک اور انوکھی بات، جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ اس ملک کے نو بادشاہ ہیں۔ نو ریاستوں کے نو سلطان اور ہر پانچ برس بعد وہ اپنے میں سے ایک کو تخت پر بٹھاتے ہیں۔ باری باری۔ تخت ایک گھومتی ہوئی کرسی ہے۔ آج کل جوہر کا سلطان ابراہیم بادشاہ ہے، ایک ارب پتی جس کی اپنی ذاتی فوج ہے، اٹھارہ سو چھیاسی سے قائم۔ پہلی نظر میں یہ بندوبست مضحکہ خیز لگتا ہے۔ مگر ذرا حساب کیجیے۔ انہتر برس میں اس ملک نے ایک بھی فوجی بغاوت نہیں دیکھی۔ ایک بھی مارشل لا نہیں۔ بادشاہ ہر پانچ برس بدل جاتا ہے، اس لیے کوئی بادشاہ جڑ نہیں پکڑتا۔ فوج بیرکوں میں رہی، سلطان محلوں میں گھومتے رہے اور سیاستدان پارلیمان اور عدالتوں میں لڑتے رہے۔ ہم نے اسی عرصے میں چار مارشل لا اٹھائے۔ ان کا تخت گھومتا ہے، ہمارے گرد سب کچھ گھومتا رہا۔

آخری شام میں انہی میناروں کے نیچے پارک میں بیٹھا تھا۔ فوارے رنگ بدل رہے تھے۔ ایک ملائی ماں حجاب میں بچوں کو آئس کریم دلا رہی تھی، ایک چینی بزرگ آہستہ آہستہ ورزش کر رہا تھا، تامل بچے گیند کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔

آج کا ملائیشیا جنت نہیں ہے۔ نسلی سیاست زندہ ہے، کوٹے کا جھگڑا جاری ہے، چینی نوجوان اب بھی ہجرت کرتے ہیں اور مذہبی سختی کی بحث ہر انتخاب میں لوٹ آتی ہے۔ مگر اعداد و شمار اپنی زبان میں بولتے ہیں۔ ساڑھے تین کروڑ کے قریب آبادی کا یہ ملک چار سو بائیس ارب ڈالر کی معیشت بنا چکا ہے۔ ہم چوبیس کروڑ ہیں اور ہماری معیشت اس سے چھوٹی ہے۔ فی کس آمدنی ان کی بارہ ہزار ڈالر کے قریب، ہماری پندرہ سو۔ آٹھ گنا فاصلہ۔ دنیا کی چپ اسمبلی اور جانچ کا تقریباً تیرہ فیصد آج پینانگ اور اس کے گرد کے کارخانوں میں ہوتا ہے اور پچھلے اکتوبر اسی شہر میں امریکی صدر آ کر بیٹھا اور تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کروا گیا۔ جو ملک کل ربڑ کے تنوں سے دودھ نچوڑتا تھا، آج وہ سپر پاورز کی میزبانی کرتا ہے۔

انیس سو ستاون میں ہم ان سے دس برس پرانے تھے، تجربے میں بڑے اور دعووں میں کہیں آگے۔ آج وہ ہم سے آٹھ گنا آگے ہیں۔ فرق کیا تھا؟ انہوں نے اپنے زخم کو پالیسی بنایا، ہم نے زخم کو پہچان بنا لیا۔ انہوں نے ایک بار کشکول توڑا، ہم نے کشکول کو قومی ورثہ بنا لیا۔ ان کا تخت گھومتا رہا، ہمارے گرد بندوق گھومتی رہی اور ان کے مینار الگ الگ کھڑے ہیں مگر بیچ کا پل معلق رکھا گیا، سرکنے کی گنجائش کے ساتھ۔ ہم نے ہر پل کو ویلڈ کرنا چاہا اور ہر آندھی میں کوئی نہ کوئی پل توڑ بیٹھے۔