Monday, 27 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Habs Aur Jabr Riyaston Ke Hathiyar Hain

Habs Aur Jabr Riyaston Ke Hathiyar Hain

بھارت میں پیپر لیک پر شروع ہوئے احتجاج کے سامنے مرکزی وزیر تعلیم دھر میندر پردھان ڈھیر (مستعفی) ہوگئے۔ دھرمیندر نے مستعفی ہونے کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ مظاہرین کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوگی، وزیرتعلیم کے مستعفی ہونے کی اطلاع ملتے ہیں دہلی میں احتجاج کے مقام "جنتر منتر" پر گزشتہ شب جشن کا سماں رہا۔ پیپر لیک پر احتجاج منظم کرنے والی "سی جے پی" کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے ہم نے جو کہا وہ کردیکھایا سی جے پی کے سربراہ دیپکے نے نئی نسل کو کاکروچ قرار دینے پر بھارتی چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کا اکثریتی حصہ طلبا تحریک کے دوران جنوبی ایشیاء کے دوسرے ممالک کے میڈیا کی طرح حکومت کی چاپلوسی کے ریکارڈ بناتا رہا احتجاجی طلبا نے سوشل میڈیا کو اپنی طاقت بنایا اور بھارت سمیت دنیا کو اپنی جانب متوجہ کیا دہلی میں احجتاجی طلبا کے مورچے کی ایک ترجمان مس نیہا بورا نے اپنے انٹرویو میں کہا

"ہم صرف انسان اور ہندوستانی ہیں ہم جانتے ہیں کہ دوسروں پر ہوتے مظالم پر خاموش رہنے والے ایک دن خود ظلم کا شکار ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ظلم کے خلاف ذات پات دھرم عقیدے اور طبقاتی امتیاز کے بغیر آواز بلند کرنی چاہئے"۔

جنتر منتر طلبا مورچے کی ترجمان طالبہ نیہا بورا نے یہ بھی کہا کہ "ظلم سرینگر سے سنٹرل دہلی تک اس لئے پہنچ پایا کہ لوگ حکومتی پروپیگنڈہ سے متاثر ہوئے مگر آج جب طلبا اور نوجوانوں کے احتجاجی مورچے میں شریک افراد کو حکومت نے ملک دشمن پاکستانی ایجنٹ اور دہشتگرد قرار دیا تو سمجھ میں آیا کہ حکومت سرینگر سے سنٹرل دہلی تک جھوٹ بولتی آرہی ہے اس کے برعکس ہر مظلوم سچ بول رہا تھا اور سچ ہی بول رہا ہے یہی آج کے بھارت کا سچ ہے"۔

بھارتی طلبا اور نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے منتظمین کا کہنا ہے کہ "پیپر لیک کے واقعات کے بعد خود کشیاں کرنے والوں اور دہلی میں پولیس تشدد سے جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے۔ دہلی سمیت ملک بھر میں احتجاج کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کیئے جائیں گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے زخمیوں کا حکومت مکمل علاج کرائے منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپر لیک مافیا کا بی جے پی یوتھ ونگ اور آر ایس ایس سے تعلق ثابت ہوچکا ان مافیاز کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو پھر احتجاج کریں گے"۔

دہلی میں 37 دن سے جاری دھرنے نے 20 جولائی کے پولیس تشدد کے بعد ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کرلی اس احتجاجی تحریک کا سب سے خوبصورت پہلو یہ رہا کہ طلبا اور نوجوانوں نے مودی اور بی جےپی کے ہندوتوا کی ہنڈیا سڑکوں پر پاش پاش کردی۔ حکومت نواز میڈیا لاکھ کوششوں کے باوجود احتجاج کو ہندو مسلم منافرت میں بدلنے میں ناکام رہا۔ دوسری طرف یہ تحریک مذہبی طبقاتی اور ذات پات کے تعصبات پر ایسی کاری ضرب لگانے میں کامیاب رہی جس نے بی جے پی اور مودی کے ہندو خطرے میں ہے کے تعصب کو"چھٹی کا دودھ" یاد کروادیا طلبا اور نوجوانوں کی اس کامیاب تحریک نے دوعشروں کی فرقہ پرست سیاست کیلئے قبر کھود دی ہے۔ کیا سیکولر ازم کی سیاسی سوچ رکھنے والی بھارتی جماعتیں طلبا و نوجوانوں کی تحریک کے اس فیض کو سنبھال سکیں گی؟ یہ بہرطور اہم سوال ہے۔

37 دن دہلی کے جنتر منتر کے باہر نعرے لگاتے پولیس تشدد سہتے سڑکوں پر سوتے رقص کرتے گیت گاتے طلبا اور نوجوانوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ وہ لمحہ موجود کے بھارت کا چہرہ ہیں۔ اس احتجاج کے دوران چند نامناسب نعروں اور الفاظوں کو لے کر ہمارے یہاں "لُچ" تلنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ بھارت میں گالم گلوچ اور مودی ناگزیر ہے کی سیاست کی علمبردار بی جے پی ہی ہے یہ گھٹیا طرز عمل سیاست میں بھارتی ریاست گجرات سے مودی نے متعارف کروایا تھا جسے بی جے پی نے آر ایس ایس کے ذریعے پورے بھارت میں پھیلایا۔

بھارتی طلبا اور نوجوانوں کی کامیاب تحریک سمجھاتی ہے کہ شخصیات نہیں مقصد اہم ہوتا ہے اور مقصد تبھی حاصل ہوتا ہے جب اتحاد کی طاقت سے جدوجہد کی جائے یہ نہیں کہ ایک وقت میں اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ رہا جائے اور گود سے اتار پھینکے جانے کے بعد اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا ناٹک کیا جائے۔ ہمارے ہاں (پاکستان میں) اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کے ناٹکوں اور کرداروں کی طویل تاریخ اور فہرست موجود ہے انتظار کیجے کہ جو آج اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھے ہیں یہ کب اینٹی اسٹیبلشمنٹ ناٹک میں کردار ادا کرنے کیلئے سیاسی میدانوں میں پہنچیں گے۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بھارتی سماج کی طرح کی خامیاں شخصیت پرستی فرقہ واریت ذات پات کے تعصبات اور طبقاتی امتیازات ہمارے یہاں بھی وافر مقدار میں ہیں کیا ہم اپنی نئی نسل کو ان برائیوں اور تعصبات سے عصری شعور کے ساتھ لڑنے کیلئے تیار کر پائے یا تیار کر سکیں گے؟

یہ بنیادی نوعیت کا اہم سوال ہے اس پر ٹھنڈے دل سے غور کیجے گا اور اس پر بھی کہ آج ہمارے ملک میں کونسی سیاسی جماعت اپنے منشور سمیت سیکولر جماعت ہے اور کیوں تعلیمی اداروں میں طلبا یونینز بحال نہیں ہوپاتیں کے سیاسی عمل کو باشعور نئی نسل مل سکے؟

بھارتی طلبا اور نوجوانوں کی 37 دن کی احتجاجی تحریک اس لئے بھی کامیاب ہوئی کہ تحریک چلانے والوں کے پیش نظر اپنے مقاصد اور آئندہ نسلوں کا مستقبل تھا۔

جبکہ اس کے برعکس یہاں ہم ساری خدائی اپنی پسندیدہ شخصیت اور اس کی ملکیتی جماعت میں دیکھنے سمجھنے و پوجنے کی بیماری میں نسل در نسل مبتلا ہیں۔ اس بیماری سے محفوظ لوگ تعداد میں کم ہیں اسی بیماری نے اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط تر ہوتے چلے جانے کے مواقع عطا فرمائے۔

ہماری دانست میں نئی نسل کے کھوکھلے پن شخصیت پرستی اور دوسرے مسائل کے دیگر ذمہ داروں کے علاوہ ایک ذمہ دار بلکہ مجرم ہمارا نظام تعلیم اور تعلیمی نصاب بھی ہے مسلط نصاب تعلیم میں کتنے ہیرو مقامی اور کتنے غیر ملکی حملہ آور ہیں نیز یہ کہ کیا یہ جدید خطوط پر مرتب ہوا؟

ایک لمحے کو اگر ہم 1947 کے بٹوارے کو تحریک آزادی کی منزل مان بھی لیں تو بتا دیجئے کہ اس تحریک آزادی کے ثمرات برطانوی سامراج کے ٹوڈی طبقات و خاندانوں تک کیوں محدود رہے؟

تحریر نویس قلم مزدور کو احساس ہے کالم کے اس حصے کے دو سوال الگ موضوعات ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دو مسلکوں میں کسی ایک معاملے پر اپنے اپنے انداز میں رسومات کی ادائیگی کو سماجی ایکتا کا نام نہیں دیا جاسکتا سماجی یکتائی چیزِ دیگر است۔

خیر ان باتوں کو اٹھا رکھیئے فی الوقت عرض یہ ہے کہ ہمارے ہاں موجود سیاسی حبس اور ریاستی جبر جیسا حبس اور جبر بھارت میں بھی ہے دہلی میں دھرنے کے شرکا کیلئے کھانا پانی اور مشروبات فراہم اور تقسیم کرنے والے درجنوں افراد کے خاندانوں کے خلاف ریاستی جبر کے واقعات ریکارڈ پر ہیں۔ رضاکارانہ طور پر دھرنے کے شرکا کی خدمت کرنے والے درجنوں افراد کے خاندان پولیس گردی کا شکار اور گرفتار ہوچکے جبروستم اور کالے ڈالے صرف ہمارے ہاں ہی نہیں ہوتے پورے جنوبی ایشیاء میں یہی صورتحال ہے۔