جمعیت علمائے اسلام اور جامعة الرشید سے وابستہ حلقوں کے درمیان پچھلے کچھ عرصے سے مختلف قومی اور سیاسی موضوعات پر بحث ومباحثہ جاری ہے۔ افواجِ پاکستان، قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے حوالے سے اختیار کیے گئے مواقف نے اس اختلاف کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ بظاہر دونوں فریق اپنا استدلال رکھتے ہیں اور اپنے مواقف کو دینی اور قومی مفاد سے ہم آہنگ قرار دیتے ہیں لیکن ایک عام آدمی کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون سا مؤقف زیادہ متوازن، حقیقت پسندانہ اور مستقبل کے تناظر میں زیادہ درست ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک طرف مولانا فضل الرحمن ہیں جو ملک کی بڑی دینی اور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ نصف صدی سے زائد عرصہ انہوں نے قومی سیاست میں گزارا ہے، دینی مدارس کی نمائندگی کی ہے، پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دینی طبقات کی آواز بنے ہیں۔ دوسری طرف مفتی عبدالرحیم صاحب ہیں جوایک صاحبِ علم، صاحبِ فکر اور دعوت و اصلاح کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیت ہیں۔ دونوں اہلِ علم ہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ امت کا درد رکھتے ہیں۔ اس لیے جو کچھ عرض کیا جا ئے گا وہ محض ایک رائے اور مشاہدہ ہوگا جس سے مکمل اختلاف کیا جا سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن صاحب نے گزشتہ کچھ عرصے سے ریاستی اداروں خصوصاً افواجِ پاکستان کے حوالے سے نہایت سخت اور جارحانہ لب و لہجہ اختیار کر رکھاہے۔ پنجاب کے مختلف اجتماعات بالخصوص قصور کے جلسے میں ان کی تقریر کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہواہے۔ سیاست میں تنقید کا حق ہر سیاسی رہنما کو حاصل ہے اور ریاستی ادارے بھی تنقید سے بالاتر نہیں لیکن ہر تنقید کا ایک اسلوب، ایک اخلاق اور ایک قومی تناظر بھی ہوتا ہے۔
میری رائے میں ایسے وقت میں جب پاکستان اندرونی اور بیرونی سطح پر مختلف نوعیت کے چیلنجز سے دوچار ہے، زبان اور اندازِ بیان میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اختلاف ضرور ہونا چاہیے مگر ایسا اختلاف جو قومی وحدت کو نقصان نہ پہنچائے اور دشمن کے بیانیے کو تقویت نہ دے۔ دوسری طرف مفتی عبدالرحیم صاحب کا مؤقف یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ہمیں افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوناچاہیے۔ افواج پاکستان اللہ کے بعد اس ملک کی محافظ ہیں اور یہ ملک افواج پاکستان کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ پاکستان جیسی فوج صدیوں بعد پیدا ہوتی ہے اور ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ میری رائے میں موجودہ حالات کے تناظر میں مفتی صاحب کے مؤقف اور بیانیے میں زیادہ وزن ہے۔
میری اس رائے کی بنیاد ایک طویل مشاہدہ ہے۔ میں نے گزشتہ پندرہ سالوں میں جامعة الرشید اور بالخصوص مفتی عبدالرحیم صاحب کے مختلف فکری اور تعلیمی اقدامات کو قریب سے دیکھا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب انہوں نے دینی مدارس میں جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی بات کی، کلیة الشریعہ جیسے اداروں کی بنیاد رکھی اور دینی تعلیم کے ساتھ عصری مہارتوں کو جوڑنے کی کوشش کی تو ابتدا میں شدید مخالفت ہوئی۔ بہت سے لوگوں نے ان اقدامات کو غیر ضروری بلکہ نقصان دہ قرار دیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہی تصورات آہستہ آہستہ دوسرے مدارس میں مقبول ہونے لگے۔ اسی طرح جامعة الرشید نے تخصصات کے نئے شعبے قائم کیے، صحافت، ابلاغ، جدید زبانوں اور ذرائع ابلاغ کو دعوتِ دین کا ذریعہ بنایا۔
ابتدا میں اس طرزِ فکر پر بھی تنقید ہوئی، لیکن بعد ازاں متعدد دینی اداروں نے اسی سمت میں پیش رفت کی۔ آج یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بہت سے مدارس جدید ذرائع ابلاغ استعمال کر رہے ہیں، آن لائن تعلیم دے رہے ہیں اور عصری علوم سے اپنے طلبہ کو آشنا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں جامعة الرشید نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کو بھی اپنے تعلیمی نظام کا حصہ بنایا۔ ابتدا میں اس پر بھی سوالات اٹھائے گئے، لیکن آج مختلف دینی ادارے اپنے نصاب میں عصری تعلیم کو شامل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
میری اس رائے کی ایک وجہ یہ ہے کہ مفتی عبدالرحیم صاحب جب کسی مسئلے پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کی گفتگو میں ایک اضطراب، ایک فکری تشویش اور امت کے مستقبل کے حوالے سے ایک فکر جھلکتی ہے۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے ان کی گفتگو میں مجھے ہمیشہ یہ احساس ہوا کہ وہ بعض معاملات کو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے ایک طویل المدت قومی اور دینی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ دو تین برسوں کے دوران بھی انہوں نے پاکستان کی داخلی سلامتی، خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور قومی یکجہتی کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے کئی خدشات درست ثابت ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اس کے برعکس مولانا فضل الرحمن صاحب نے پچھلے دس پندرہ سال میں جو سیاسی مواقف اپنائے ان میں سے کئی مواقف میں انہوں نے یوٹرن لیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن ایک فعال سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ سیاست کا اپنا ایک دائرہ اور مجبوریاں ہوتی ہیں، انتخابات، سیاسی اتحاد، عوامی جلسے اور اقتدارکا حصول، یہ سب معاملات سیاست کا مستقل حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے سیاست میں بہت سے فیصلے صرف اصولی بنیادوں پر نہیں بلکہ زمینی حقائق، سیاسی مصلحتوں اور عوامی حمایت کو سامنے رکھ کر نا پڑتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اس وقت پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے وہ غیر معمولی ہیں۔ ایک طرف دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، دوسری طرف مشرقی اور مغربی سرحدوں پر مسلسل دباؤ موجود ہے۔ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاست، عالمی طاقتوں کی کشمکش، معاشی مشکلات اور اندرونی سیاسی تقسیم نے ریاست کو ایک نازک مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے حالات میں میری رائے یہ ہے کہ قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی اصلاح کے لیے تعمیری انداز اختیار کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اختلاف ضرور کیا جائے، غلطیوں کی نشاندہی بھی ضرور ہو، لیکن ایسی زبان اور طرزِ عمل سے اجتناب ہونا چاہیے جو قومی اداروں اور عوام کے درمیان مزید فاصلے پیدا کرے۔
مستقبل میں مولانا یا مفتی صاحب کس کا بیانیہ پاکستان کےلئے زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے اس کا فیصلہ تووقت کرے گا لیکن میری رائے میں وہ بیانیہ زیادہ قابلِ قبول ہوگا جو ریاستی استحکام، داخلی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعمیری تعاون کو فروغ دے گا کیونکہ جذباتی نعروں اور سخت سیاسی بیانیوں کے مقابلے میں وہ فکر زیادہ پائیدار ثابت ہوتا ہے جو طویل المدتی، قومی مفاد، تدبر اور اعتدال کو مقدم رکھتا ہے۔