Monday, 15 June 2026
  1.  Home
  2. Express
  3. Rao Manzar Hayat
  4. Chain He Chain Hai?

Chain He Chain Hai?

سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اصل سچ تو یہ ہے کہ جو انسان، جتنی بے پرکی افواہ سازی کر سکتا ہے، اتنا ہی مقبول معلوم پڑتا ہے۔ سب کچھ اب اتنے دھڑلے سے کیا جاتا ہے، کہ سننے اور دیکھنے والا، صرف لہجہ کے اعتماد پر ہی ذہنی خاکہ بنا لیتا ہے۔

یوٹیوب پر جو موصوف، بغیر شواہد کے ہوا میں تیر چلا رہے ہوتے ہیں، نوبت ہی نہیں آنے دیتے کہ جو فرما رہے ہیں، اس کی صداقت کی بابت معروضات پیش کی جا سکیں۔ اول تو دل ہی نہیں چاہتا کہ سوال پوچھا جائے۔ اگر یہ جسارت کر لیں، تو برگزیدہ یوٹیوبر، فوراً سوال کو کسی سیاسی مخالفت کے سانچے میں فٹ کرکے، تبروں پر آ جائے گا۔ یہ عام سی بات ہے جو ہر سوچنے والے انسان کے ذہن میں موجود ہے۔

ہاں! ایک اور بات، یوٹیوب پر، اپنی گفتگو کا اشتہار اتنا سنسنی خیز بنایا جاتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انسان دیکھنے کی زحمت کر لیتا ہے۔ پھر معلوم پڑتا ہے کہ گفتگو میں کوئی ربط نہیں ہے۔ ویسے سنجیدہ لوگ بھی ہیں جو ٹھوس دلائل کے ساتھ، حقیقت پر مبنی تحقیقی گفتگو کرتے ہیں مگر یہ پڑھے لکھے لوگ، اتنی پذیرائی حاصل نہیں کر سکتے جو بے پرکی اڑانے والے حاصل کرتے رہتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ، کہ ہر واقعہ یا قصہ، خبر نہیں ہوتا، اس پر بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ مگر یہاں تو عالم یہ ہے کہ شاہی قلعے کی دیواروں میں چنی ہوئی اینٹوں کی تعداد کی بابت، جاہلانہ گفتگو سامنے آ جاتی ہے۔ آج بھی، وہ تمام لوگ جو کسی بھی جریدے میں قلم مزدوری کرتے ہیں، ان کا رویہ کافی حد تک ذمے دارانہ ہوتا ہے۔ لکھی ہوئی تحریر قدرے سنجیدہ ہوتی ہے۔ وثوق سے یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ پرنٹ میڈیا میں لکھنے والے سب کچھ درست لکھتے ہیں، اس میں بھی سیاسی دھڑے بازی موجود ہے، واقعات کو اپنی سوچ کا تڑکا لگا کر پیش کرنے کا رجحان بھی ہے۔ مگر پھر بھی، احساس ذمے داری پرنٹ میڈیا میں اب تک موجود ہے۔

عام بات کی جاتی ہے کہ لوگ اب اخبار پڑھتے نہیں ہیں، کتاب کے نزدیک تک نہیں جاتے، اس بات میں صداقت نہیں ہے۔ اخبار اور اس کا اداریہ آج بھی ان گنت لوگ پڑھتے ہیں۔ کتابیں بھی بھرپور طریقے سے پڑھی جاتی ہیں۔ اب اس نکتہ پر آتا ہوں جس کی دھوم مچی ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا پر تبصرے در تبصرے ہو رہے ہیں۔ چند جید کالم نویس بھی، اس سے مرعوب نظر آتے ہیں اور وہ ہے بجٹ کے بعد، مرکزی حکومت کی تبدیلی، اس کے بعد قومی حکومت اور پھر معاشی استحکام کی طرف سفر۔ ستم تو یہ بھی ہے کہ یوٹیوب پر اب تو مہینے اور دن تک بتائے جا چکے ہیں کہ بس اس دن تک، اس حکومت کا خاتمہ بالاخیر ہو جائے گا؟ معلوم نہیں، اتنے وثوق سے یہ دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ مگر ایک چیز تو خدا نے ہمیں عطا فرمائی ہے کہ ہم زمینی حقائق کو ٹھوس طریقے سے دیکھ یا پرکھ لیں۔ قدرت نے تجزیہ اور سوچنے کی استطاعت تو بہرحال ہر ذی شعور کو دی ہے۔

آنکھیں بند کرکے سوچیے! ہمارے ملک میں وزیراعظم کب دربدر ہوتے ہیں؟ سادہ سا راز ہے۔ کوئی بھی وزیراعظم یا صدر، جب مقتدرہ کے بتائے ہوئے راستے سے اختلاف کرتا ہے یا معمولی من مانی کرتا ہے تو پھر ایسا ماحول پیدا کردیا جاتا ہے کہ وہ شخص مسند شاہی سے گرجاتا ہے۔ معاشی بربادی، سیاسی عدم استحکام یا پھر کرپشن، ان عوامل پر کسی بھی حکومت کو آج تک نہیں نکالا گیا۔ ہاں، زیب داستان کے لیے، جواز تقریباً ایسا ہی دیا جاتا ہے۔ یقین فرمائیے، امور سلطنت میں صرف ایک تلخ سچ ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی، بدامنی، دہشت گردی کا عذاب، ان میں سے کوئی جزو بھی حکومت بدلنے کی وجہ نہیں بنتا۔ اچھا یا برا ہے، اس بحث میں بالکل نہیں جانا چاہتا، کیونکہ ان دونوں لفظوں کی کوئی معنویت ہے ہی نہیں۔ آج کا اچھا، کل کا سب سے بگڑا ہوا ہو سکتا ہے۔

موجودہ صورت حال پر غورفرمایئے۔ روز بتایا جاتا ہے کہ مہنگائی سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ گئی ہے، یہ بالکل سچ ہے کہ عام پاکستانی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ٹھہریے! ذرا غور فرمائیے، ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز دونوں وزراء اعظم کے ادوار میں تو مہنگائی برائے نام تھی۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ صنعتی ترقی اور خوشحالی کا دور تھا۔ پھر دونوں کی بلی کیوں چڑھائی گئی؟ شوکت عزیز تو متعدد معاشی بے قاعدگیوں میں مبینہ طور پر شریک تھے۔

توشہ خانہ سے فایدہ اٹھایا۔ مگر مسند شاہی سے صرف ہٹایا گیا۔ کیونکہ ان سے بالادستوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا، وہ اس قابل ہی نہیں تھے کہ کسی قسم کی بے چینی پیدا کر سکتے۔ لہٰذا ان کی بے قاعدگیوں پر بھی خفگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ یقیناً یہی احساس دلایا گیا ہوگا کہ ثبوت موجود ہیں۔ دونوں حضرات خاموشی سے رخصت ہوگئے، یہ تمہید اس لیے باندھی ہے کہ آپ کو اصل کھیل کا تھوڑا سا پتہ چل جائے۔

ویسے پرویز مشرف کے دور میں امریکا نے افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ کیا، یوں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا تھا، بہر حال، جب امریکا نے اپنا کام کروا لیا تو پھر جنرل پرویز مشرف پر بھی زمین تنگ کر دی گئی۔ میاں نواز شریف صاحب وزیراعظم کیوں نہ بن سکے، سمجھنے والے سمجھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں تو مقتدرہ اور وزیراعظم کے درمیان حد درجہ خوشگوار تعلقات قائم ہیں۔

لگ بھگ ایک سال پہلے کی بات ہے، ایک وزیر صاحب دفتر تشریف لائے، اس وقت بھی تبدیلی کی خبریں چلوائی جا رہی تھیں۔ فرمانے لگے کہ حکومت اور مقتدرہ ایک پیج پر ہیں، لہذا موجودہ پانچ برس ہی نہیں بلکہ اگلا دور بھی موجودہ سیٹ آپ کا ہی ہے اور بعینہ یہی ہوا۔ موجودہ حکومت، پوری تمکنت کے ساتھ قائم ہے۔ راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ قومی حکومت کی بات تو بالکل لا یعنی ہے۔ اس وقت بھی قومی حکومت ہے۔ کیونکہ ہر سیاسی فریق اقتدار میں ہے۔ تو پھر بچا کون ہے۔

ویسے برا مت منایئے گا۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن کے مرکزی کردار، پچھلے ادوار میں کیا کیا حکومتی مزے کرتے رہے ہیں۔ گورنری سے لے کر کئی اہم عہدے ان لوگوں کے پاس رہے۔ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ ماضی کی ابتر ساکھ کو بیانات کے ذریعے کیسے بحال کیا جائے؟ تو جناب، ہر طرح کا جمہوری بیان، موصوف موقعہ کی مناسبت سے داغتے رہتے ہیں۔ مگر اندر کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود، ان کے کام ہو رہے ہیں۔ مقتدرہ سے بھی علیک سلیک قائم ہے۔ لہٰذا کوئی گلہ ہے ہی نہیں۔ استدلال یہی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کا یہ "پرمسرت میل جول" سکہ رائج الوقت ہے۔ باقی سب نعرے اور زیب داستان کے لیے حاشیہ برداری کا کام کرتے معلوم پڑتے ہیں۔

مہنگائی، لااینڈ آرڈر کی مخدوش صورت حال، دہشت گردی کے گھمبیر مسائل اب بالکل بھی توجہ طلب نہیں رہے۔ جو بے گناہ خود کش حملوں، بم دھماکوں یا ٹارگٹ کلنگ میں مارے جارہے ہیں، ان سے اس ملک کے بڑے خاندانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے اہل خانہ اور پیسہ دونوں محفوظ ہیں۔ انھیں ہر کام کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ دراصل ملک کی اشرافیہ کو اتنا آئیڈیل ماحول کبھی میسرہی نہیں آیا۔ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچ رہا ہے۔ لہذا تبدیلی اب چند اشخاص کی خواہشیں تو ہو سکتی ہیں، اس کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر مرکزی حکومت مکمل طور پر محفوظ ہے اور اگلے دور کی بھی تیاری کر چکی ہے؟