Wednesday, 10 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. 272 Seerhiyan Aur Gunahon Ki Ginti

272 Seerhiyan Aur Gunahon Ki Ginti

گومبک کی صبح کسی پسینے میں بھیگی ہوئی پیشانی کی طرح ہوتی ہے۔ ہوا بھاری۔ سورج نہیں نکلتا، صرف ایک سفید چمک دار پردہ آسمان پر تن جاتا ہے۔ کوالا لمپور سے 13 کلومیٹر شمال، شاہ راہ سے اترتے ہی پہلی چیز جو آپ دیکھتے ہیں، وہ کوئی پہاڑ نہیں ہوتا، نہ کوئی غار۔ پہلی چیز جو نظر آتی ہے، وہ ایک سونے میں ڈوبا ہوا 42.7 میٹر کا انسان ہے، جس کے ہاتھ میں ایک نیزہ ہے اور جس کی آنکھیں آسمان کی طرف دیکھ رہی ہیں۔

یہ مرگن ہے۔ تامل قوم کا جنگجو دیوتا۔ بھگوان شو اور پاروتی کا چھوٹا بیٹا۔

اس کے قدموں میں رنگ برنگی 272 سیڑھیاں اور سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ، سینکڑوں بندر۔

میرے ساتھ ملک حسن اعوان تھے جنہیں میں "مسیر" کہتا ہوں۔ پکے ٹھکے قطب شاہی اعوان جنہوں نے 20 برس قبل ملائشیا کا رخ کیا اور یہاں پر اپنی ہمت سے جھنڈے گاڑ دیے۔ حبیبی ڈاکٹر حسن خلیل کی دعوت پر سڈنی میں ملاقات ہوئی اور پتہ چلا ہم تو "مسیر" ہیں۔ ملک صاحب نے ہمت کی اور رب نے ان کی حرکت میں برکت رکھ دی۔ میں سات کانفرنسز کے میراتھان ٹور پر ملائشیا، انڈونیشیا، ہانگ کانگ، چین، قازقستان، ازبکستان اور ماسکو کے سفر میں سانس لینے کے لئے کوالالمپور میں رکا تھا اور ہندوستان کے باہر دنیا کے سب سے معروف ٹمپل میں، باتو غار میں موجود تھا۔

سیڑھیوں کی بنیاد پر پہنچ کر میں نے اوپر دیکھا۔ 272 سیڑھیاں۔ یہ تعداد اتفاق نہیں۔ ہندو روایت میں 272 وہ گناہ ہیں جو ایک انسان اپنی زندگی میں کر سکتا ہے۔ ہر سیڑھی، ایک گناہ اور یہ یاترا، گناہوں کی اصلاح۔ یعنی پہاڑ پر چڑھنا یہاں محض ورزش نہیں، نفسی غسل ہے۔ گوکہ اپنے گناہ 272 سے بہت زیادہ ہوں گے، مگر رنگ برنگی سیڑھیاں چڑہنے کا کشٹ مزیدار لگا۔

میں نے اپنی جیب سے پانی کی بوتل نکالی۔ پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔

دوسری سیڑھی پر پہنچا۔

تیسویں سیڑھی سے اوپر، ایک بندر نے میری بوتل پر ہاتھ مارا۔

باتو غاروں کے بندر کوئی عام بندر نہیں۔ یہ لمبی دم والے ملائیشیائی میکاک ہیں اور پچھلے بیس سالوں میں انہوں نے ایک نیا فن سیکھا ہے۔ وہ سیاحوں کو ان کے کیمرے سے، ان کے کھانے کے تھیلے سے، ان کے دھوپ کے چشمے سے پہچانتے ہیں۔ یہ ارتقا کی ایک کلاسیکی مثال ہے۔ ایک نسل پر یہ بندر سیڑھیوں کے کنارے پھل کھاتے ہوئے رہتے تھے۔ آج وہ یوٹیوب پر وائرل ہو چکے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ سیاح کس چیز پر مزاحمت کم کرتا ہے اور کس پر گھبراتا ہے۔

ایک امریکی جوڑے کے سامنے ایک بندر نے ان کا آئی فون اٹھا لیا۔ مرد چلایا۔ بندر سیڑھیوں کی منڈیر پر جا بیٹھا، فون اپنے ہاتھ میں الٹا پلٹا۔ مرد بھیک مانگنے لگا۔ "Please، please!" بندر نے اطمینان سے فون کو دیکھا، پھر مرد کو دیکھا، پھر فون کو نیچے رکھا اور ایک کیلا اٹھا کر چبانے لگا۔ مرد نے فون اٹھایا، اسی دوران ہمارے ہمراہی جانی عصمت اللہ بلوچ کا کوک کا کین باندر نے ہاتھ سے چھین لیا تھا۔

میں اس منظر کو دیکھتا رہا۔ یہ ایک مذاکرات تھے اور بندر دونوں اطراف کی شرائط جانتا تھا۔ سفارت کاری کا یہ سبق کسی ٹرمپ کو سکھایا جا سکتا تھا۔

272ویں سیڑھی پر پہنچ کر میں نے اوپر دیکھا اور غار میرے سامنے کھل گیا۔

اور یہاں ایک عجیب چیز ہوتی ہے۔ آپ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے توقع کرتے ہیں کہ کوئی مزار، کوئی مندر، کوئی محراب آئے گی۔ مگر بٹو کا مرکزی غار آپ کا استقبال ایک بہت بڑے خالی شفاف لمحے سے کرتا ہے۔ غار کی چھت 100 میٹر بلند ہے۔ بیچ میں ایک سوراخ ہے، جس سے سورج کی روشنی سیدھی نیچے گرتی ہے، ایک ستون کی صورت۔ پانی دیواروں سے ٹپکتا ہے۔ ہوا میں چونے کی بُو، کسی پرانے قبرستان جیسی۔ آواز جب ٹکراتی ہے، تو پانچ بار واپس آتی ہے۔

یہ غار 400 ملین سال پرانا ہے۔ لائم سٹون۔ ڈائنوسار سے پہلے کی پتھر۔ ان دیواروں نے یہ پوری زمین کو آدمیوں سے پہلے دیکھا تھا۔

اور آج ان دیواروں کے درمیان ایک تامل پُجاری بیٹھا ہے، چندن کی لکڑی جلا رہا ہے اور کسی پوجا کے لیے ایک نوجوان عورت سے سنسکرت کے کچھ الفاظ کہلوا رہا ہے۔

400 ملین سال۔ آدمی کی نسل 200,000 سال۔ یہ غار، ہماری پوری انسانی تہذیب سے 2,000 گنا پرانا ہے اور آج اس میں آدمی ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہیں، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ان کی پکار اوپر پہنچے گی۔

یہ ایمان کا اپنا ایک حسن ہے۔ کہ آدمی، اپنی چھوٹی سی نسل، اپنی چھوٹی سی زندگی، اپنی چھوٹی سی فہم لے کر، ایسے بزرگ پتھر کے سامنے آ کر بھی، اپنی دعا کہنے سے باز نہیں آتا۔

پُجاری کا نام مرلی دھرن تھا۔ 78 سال۔ مدورائی کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوا، 1971 میں ملائیشیا آیا اور 55 سال سے اسی غار میں ہے۔

"یہاں سب سے زیادہ سیاح کہاں سے آتے ہیں؟" میں نے اس سے پوچھا۔

اس نے سوچ کر جواب دیا۔ "اب چینی۔ پہلے انڈین تھے، پھر آسٹریلوی، اب چینی۔ پاکستانی کبھی کبھار آتے ہیں۔ تم لوگ ہندو مندروں سے کتراتے ہو"۔

میں نے یہ بات سن کر کچھ نہیں کہا۔ مگر یہ سچ ہے۔ ہم کتراتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ہم نے کبھی اپنے بچپن میں کسی ہندو مندر کے اندر بیٹھ کر دیکھا ہی نہیں۔ شاید اس لیے کہ ایک نا معلوم سا خوف ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ کر پوچھے گا، "تم یہاں کیوں آئے ہو؟"

مرلی دھرن نے میرے چہرے پر یہ خاموشی دیکھی اور مسکرایا۔ "بیٹا، یہ غار اللہ نے بنایا تھا، 400 ملین سال پہلے۔ ہم نے تو بعد میں اس میں مرگن کی مورتی رکھ دی۔ غار کسی کا نہیں۔ بیٹھو، پانی پیو، سانس لو"۔

میں نے اس کے ساتھ بیٹھ کر پانی پیا۔ غار کی ٹھنڈی ہوا میں۔ بندروں کی چیخوں سے دور۔ تامل عورتوں کی کنگن کی جھنکار کے درمیان۔

نیچے اترتے ہوئے میں نے کاؤڑی کی رسم کے بارے میں سوچا۔ ہر سال جنوری یا فروری میں، تھائی پوسم کے دن، 15 لاکھ ہندو عقیدت مند یہاں آتے ہیں۔ کچھ اپنے گالوں اور زبانوں میں نیزے گاڑ کر آتے ہیں۔ کچھ ننگے پاؤں آگ پر چلتے ہیں۔ کچھ اپنے کندھوں پر بھاری دھاتی ڈھانچے، یعنی کاؤڑی، اٹھائے گومبک کی شاہراہوں پر آٹھ گھنٹے تک پیدل آتے ہیں۔ سب کا مقصد ایک ہے۔ مرگن سے کوئی منت پوری ہونے کا شکریہ ادا کرنا۔

یہ ایمان کی وہ شکل ہے جسے دیکھ کر آدمی پوچھتا ہے، "یہ کیا ہے؟" مگر اگر آدمی ہم سب کے اندر کے اس بچے کو سن لے جو کبھی کسی پیر کے مزار پر چادر چڑھا چکا ہے، یا جس نے کبھی نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر کوئی دعا مانگی ہے، تو وہ سمجھ جاتا ہے۔ یہ اس وقت کی صورت ہے جب آدمی نے یہ مان لیا کہ کچھ چیزیں وہ اپنی طاقت سے نہیں کر سکتا اور وہ لمحہ، چاہے کسی غار میں ہو، کسی مسجد میں، کسی چرچ میں، یا کسی پنجابی پیر کے دروازے پر، ایک ہی لمحہ ہے۔

ہم سب اپنے کاؤڑی اٹھائے پھرتے ہیں۔ کسی کا کاؤڑی دھات کا، کسی کا گوشت کا، کسی کا قرض کا، کسی کی بیماری کا، کسی کے بچے کی غم کا اور ہم سب کسی نہ کسی پہاڑ کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں۔