Sunday, 19 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Arif Anis Malik
  4. 70 Ghante Abhi Baqi Hain

70 Ghante Abhi Baqi Hain

سفارت کاری کا ایک قدیم اصول ہے: جب باہر کی دنیا سب سے زیادہ ساکت دکھائی دے، عین اسی لمحے مذاکرات کی میزوں پر آندھیاں چل رہی ہوتی ہیں۔

آج اٹھارہ اپریل ہے۔ تین دن بعد جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی ہے اور دنیا کا ہر اسٹاک مارکیٹ، تیل کا ہر تاجر، ہر بڑا سفارت خانہ، تہران کا ہر وارڈ اور واشنگٹن کا ہر تھنک ٹینک ایک ہی سوال پر سانس روکے بیٹھا ہے: کیا سوموار کو اسلام آباد میں دوسرا دور ہوگا؟ اور اگر ہوا تو کیا معاہدہ طے پائے گا؟ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کی دھمکیاں ہیں، ایران کے ڈٹ جانے کی خبریں ہیں، دنیا دم سادے کھڑی ہے۔

این پی آر نے آج صبح ایک نادر رپورٹ شائع کی۔ سکاٹ نیومن نے ان تینوں لوگوں سے بات کی جنھوں نے ایرانیوں کے ساتھ اصل مذاکرات کی میز پر برسوں گزارے ہیں۔ وینڈی شرمین، 2015 کے جے سی پی او اے کی امریکی سربراہ مذاکرات کار۔ روب میلی، اوبامہ اور بائیڈن کے دور میں ایران کے خصوصی مندوب۔ جان فائنر، وزیر خارجہ جان کیری کے چیف آف اسٹاف۔ تینوں کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا: ایرانیوں سے ایک ہفتے میں معاہدہ نہیں ہو سکتا۔

شرمین نے دو ٹوک کہا: "ایران سے مذاکرات ایک دن کا کام نہیں۔ ایک ہفتے کا بھی نہیں۔ جے سی پی او اے تک پہنچنے میں ہمیں پورے اٹھارہ ماہ لگے تھے"۔ فائنر نے بتایا کہ کیری اور ظریف اٹھارہ مختلف تاریخوں پر گیارہ مختلف شہروں میں ملاقی ہوئے۔ کبھی ایک ہی دن میں دو دو بار اور سب سے آخری دور وینا کے کوبرگ محل میں انیس دن تک مسلسل چلا۔

میلی نے اصل بات یوں کہی کہ سارا مضمون اسی ایک جملے پر کھڑا ہے: "ٹرمپ جذباتی ہیں، متلون مزاج ہیں۔ ایرانی قیادت ضدی ہے، ثابت قدم ہے"۔ یہ دو طرزوں کا تصادم ہے۔ ایک فریق کو فوری نتیجہ چاہیے، دوسرے کو وقت۔ ایک کو "گرینڈ بارگین" کی شہ سرخی درکار ہے، دوسرے کو تین سو صفحوں کا وہ ضمیمہ جس کا ہر جملہ، ہر کوما، ہر نقطہ طے ہو۔

فائنر نے ایک ایسا انکشاف کیا جو پڑھنے والے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ایرانی مذاکرات کار کیا کرتے تھے؟"وہ لیکچر دیتے تھے۔ کہتے تھے: پہلے میں آپ کو ایرانی تہذیب کی پانچ ہزار سالہ تاریخ سناتا ہوں"۔ پانچ ہزار سال کا درس اور کیری خاموشی سے سنتے رہتے تھے، پھر نکتے پر لوٹ آتے۔ فائنر کے الفاظ میں: "ایرانیوں کی چال یہ تھی کہ ہر بات پر نہ کہو اور دیکھو کہ امریکہ کے لیے کون سی چیز واقعی اہم ہے۔ جو سب سے آخر میں بچتی تھی، اس پر رعایت دیتے تھے"۔ یہی وہ بازاری چال ہے جو ایرانی قالین فروش صدیوں سے برتتے آ رہے ہیں۔

فائنر نے کھل کر اعتراف بھی کیا: "وہ پاگل کر دینے کی حد تک مشکل لوگ تھے۔ ایک ہی مسئلے پر دس بارہ بار لوٹنا پڑتا تھا، ہفتے بلکہ مہینے لگتے تھے، تب کہیں ایک قدم آگے بڑھتا تھا"۔ مگر ساتھ ہی انھوں نے ان کے ہنر کا اعتراف بھی کر لیا: "یہ غیر معمولی لوگ ہیں۔ ہمارے پاس کمرے کے باہر ماہرین کا پورا لشکر بیٹھا ہوتا تھا۔ ان کے پاس کوئی نہیں تھا۔ پھر بھی یہ ایٹمی ہتھیاروں کی باریکیوں، افزودگی کی سطحوں اور امریکی پابندیوں کی جزیات پر عبور رکھتے تھے اور یہ سب اپنی مادری زبان میں نہیں۔ سیکڑوں صفحوں کی دستاویزات انگریزی میں طے ہوتی تھیں"۔

تاریخ میں ایسے لمحے بار بار آئے ہیں جب سب کچھ ڈوبتا دکھائی دیا اور آخری منٹ پر کشتی کنارے لگ گئی۔ 1962 کا کیوبا میزائل بحران تیرہ دن چلا۔ کینیڈی اور خروشچیف کے درمیان خفیہ خطوط کا تبادلہ چلتا رہا۔ رابرٹ کینیڈی راتوں کو سوویت سفیر سے ملاقی ہوتے تھے۔ ترکی سے امریکی میزائل ہٹانے کا وہ راز جو بیس سال بعد کھلا۔ جمعرات کی صبح دنیا کو یقین تھا کہ جنگ ہو کر رہے گی۔ جمعے کی شام امن کا اعلان ہوگیا۔ کیمپ ڈیوڈ 1978 میں بھی تیرہ دن چلا۔ سادات نے گیارہویں روز بیگ پیک کر لیے تھے۔ کارٹر ان کے کمرے میں داخل ہوئے اور صرف ایک جملہ کہا: "آپ چلے جائیں تو یہ ثابت ہوگا کہ آپ نے کوشش کی۔ آپ رک جائیں تو امن ثابت ہوگا"۔ سادات رک گئے۔ اگلے دن دستخط ہو گئے۔

مگر تاریخ صرف کامیابیوں کی کتاب نہیں ہے۔ 2012 کا "لیپ ڈے ڈیل" جو اوبامہ اور شمالی کوریا کے درمیان طے ہوا تھا، صرف سولہ ہفتے چلا۔ پیانگ یانگ نے ایک راکٹ کا تجربہ کیا اور معاہدہ ہوا میں تحلیل ہوگیا۔ میونخ 1938 میں چیمبرلین لندن واپس لوٹ کر "ہمارے زمانے کا امن" کا نعرہ لگا رہے تھے۔ ایک سال بعد دوسری جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی۔ پیرس امن مذاکرات 1968 سے 1973 تک پانچ سال جاری رہے۔ ابتدا اس بحث سے ہوئی کہ میز گول ہو یا چوکور۔ جب میز کی شکل طے ہوگئی تب کہیں اصل مسئلے کی باری آئی۔

اب 2026 کی طرف لوٹیے۔ پچھلے چھیانوے گھنٹوں میں جو کچھ ہوا ہے، وہ سفارت کاری کی قسط وار چال کا کلاسیکی نمونہ ہے۔ پہلی قسط: فیلڈ مارشل منیر جنگی وردی میں تہران اترتے ہیں۔ دوسری: عراقچی آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کرتے ہیں۔ تیسری: ٹرمپ اسرائیل پر لبنان جنگ بندی مسلط کرتے ہیں۔ چوتھی: ایرانی ذرائع رائٹرز کو بتاتے ہیں کہ تہران "اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا ایک حصہ، سب نہیں" باہر بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ پانچویں: اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کہتے ہیں ہم "محتاط انداز میں پرامید" ہیں۔ چھٹی: ٹرمپ لاس ویگاس میں بیان دیتے ہیں: "یہ جنگ جلد ہی ختم ہو جانی چاہیے"۔

یہی تو اصل سفارت کاری ہے۔ چھوٹے چھوٹے اشارے، قسط وار رعایتیں، پردے کے پیچھے سودے بازی۔ میلی کی وہ بات یاد رکھیے جو سب سے اہم ہے: "ایک بار یہ اپنا ذخیرہ چھوڑ دیں تو دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے"۔ یہی وہ گرہ ہے جہاں سارا معاملہ اٹکا ہوا ہے۔ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بناتا، مگر ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی صلاحیت اس کی طاقت ہے۔ اگر آج چھوڑ دے تو دوبارہ حاصل کرنے میں بیس سال لگیں گے۔ اسی لیے ایران پورا ذخیرہ حوالے نہیں کرے گا۔ شاید آدھا دے دے، شاید دو تہائی۔ مگر کچھ حصہ اپنے سینے سے لگائے رکھے گا۔ بطور ضمانت، بطور بیمے، بطور اس سرخ لکیر کے کہ کل کسی نے دوبارہ حملہ کیا تو ایک ماہ میں ہتھیار تیار ہو سکے۔

جان کیری اور جواد ظریف کی کہانی پڑھیے۔ 2015 میں جب معاہدہ ہوا، کیری اسّی کے تھے، ظریف ستر کے۔ دونوں نے اپنی آنکھوں سے پچاس سال کی دشمنی دیکھی تھی۔ دونوں کو اپنی اپنی ٹیم کی مزاحمت جھیلنی پڑی۔ کیری کا پاؤں کچھ ماہ پہلے ٹوٹ چکا تھا، وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر مذاکرات کرتے تھے۔ ظریف دل کے پرانے مریض تھے۔ مگر دونوں نے ٹھان لی تھی کہ معاہدہ ہو کر رہے گا۔ کوبرگ محل کے ایک سیشن میں ظریف نے کہا تھا: "میرے پیچھے چھیاسی ملین ایرانی کھڑے ہیں"۔ کیری نے جواب دیا: "میرے پیچھے تین سو تیس ملین امریکی"۔ دونوں ہنس پڑے اور بات آگے چل پڑی۔

آج فرق یہ ہے کہ ظریف نہیں ہیں۔ خامنہ ای شہید ہو چکے ہیں۔ ان کی جگہ نئے چہرے ہیں: غالیباف، عراقچی اور پردے کے پیچھے مجتبیٰ۔ میلی نے اسی خدشے کی طرف اشارہ کیا: "ماضی کے اسباق کو بہت احتیاط سے دیکھنا ہوگا۔ بہت کچھ بدل چکا ہے"۔ بات سچ ہے۔ جو وفد 2015 میں مذاکرات کرتا تھا، وہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ختم ہو چکا ہے۔ جو قیادت معاہدہ کرتی تھی، وہ قبر میں ہے۔ نیا وفد وہ نہیں جانتا جو پرانا جانتا تھا۔ مگر نیا وفد ایک بات پرانے سے زیادہ جانتا ہے: اس کے بزرگ شہید ہوئے ہیں اور دشمن نے مذاکرات کے عین بیچ میں چھرا گھونپا تھا۔ اعتماد آج تاریخ کی پست ترین سطح پر ہے۔

اسپین میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار انٹیگریٹڈ ٹرانزیشنز کے سربراہ مارک فری مین نے این پی آر سے جو کہا، آج کی تحریر کا مغز یہی ہے: "کمزور فریق محض مذاکرات کی میز پر آ بیٹھنے سے طاقت حاصل کر لیتا ہے"۔ آج ایران میز پر ہے اور میز پر ہونا خود ایک فتح ہے۔ دنیا اسے تسلیم کر رہی ہے۔ دنیا اس سے بات کر رہی ہے۔ دنیا اس پر بم پھینک کر نہیں، اس سے بات چیت کرکے مسئلہ حل کرنا چاہ رہی ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایرانی جیت ہے۔

فری مین نے دوسری بات بھی نہایت اہم کہی: "جب ایک فریق محسوس کرے کہ دوسرے کو معاہدے کی زیادہ ضرورت ہے، تو پوری گفت و شنید کا توازن بدل جاتا ہے"۔ آج کس کو زیادہ ضرورت ہے؟ ٹرمپ کو۔ پیٹرول 4.12 ڈالر فی گیلن ہے۔ نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہیں۔ اتحادیوں میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ اسرائیل کو تاریخ میں پہلی بار علانیہ امریکی ڈانٹ پڑی ہے۔ ایران یہ سب دیکھ رہا ہے اور ایرانی بازاری جانتا ہے کہ جلدی میں خریدار کو قیمت چکانی پڑتی ہے، بیچنے والے کو نہیں۔

تو سوموار کو کیا ہوگا؟

شاید کچھ بھی نہیں۔ شاید صرف اتنا اعلان کہ "ہم دوبارہ ملیں گے"۔ شاید صرف ایک ٹائم ٹیبل۔ شاید ایک ماہ کی توسیع۔ شاید اعلیٰ افزودہ یورینیم کا کچھ حصہ بین الاقوامی نگرانی میں روس کے حوالے۔ شاید کچھ منجمد اثاثوں کی واپسی۔ "چھوٹا اور لین دین والا" معاہدہ، جیسا اٹلانٹک کاؤنسل کے نیٹ سوانسن نے پیش گوئی کی تھی۔

مگر چھوٹا معاہدہ بھی تاریخ بن سکتا ہے۔ 1962 کا معاہدہ چھوٹا تھا، مگر دنیا ایٹمی جنگ سے بچ گئی۔ 2012 کا لیپ ڈے ڈیل بھی چھوٹا تھا، مگر ناکام ہوگیا۔ 1978 کا کیمپ ڈیوڈ بڑا تھا اور کامیاب ہوا۔ سائز کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا، نیت ہوتی ہے۔

آج رات تہران میں مذاکرات کار سو نہیں پائیں گے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی روشنیاں دیر تک جلیں گی۔ اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے دفاتر مصروف ہیں۔ ریاض میں محمد بن سلمان منظر نامے کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ انطالیہ میں ایردوان اور شہباز کی ملاقات جاری ہے۔ بیجنگ میں شی جن پنگ اپنی مخصوص خاموشی کے ساتھ ہر حرکت ناپ رہے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب پوری دنیا سانس روکے کھڑی ہے۔

اور یہی لمحہ سفارت کاری کے اس قدیم اصول کی تصدیق کرتا ہے: آخری منٹ سب سے فیصلہ کن ہوتا ہے، کیونکہ اسی لمحے دونوں فریق محسوس کرتے ہیں کہ ناکامی کی قیمت کامیابی کی قیمت سے زیادہ مہنگی پڑے گی۔

بہتر ہے ہاتھ پکڑ کر نکل جاؤ، بجائے اس کے کہ آگے بڑھ کر غرق ہو۔ مذاکرات کاری میں اصل فن یہ ہے کہ آدمی جان لے کہ کون سا لمحہ جانے کا ہے اور کون سا ٹھہرنے کا ہے۔ اگر یہ جنگ دوبارہ آن ہوتی ہے تو پہلے سے زیادہ خون بہے گا اور یہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لے آئے گی۔

بہتر ہے ہمیں کچھ اور انتظار کر لینا چاہیے۔

بہتر ہے دونوں فریق رک جائیں۔

72 گھنٹے باقی ہیں۔