آج سفارتکاری کے ایک اور ٹوٹکے پر بات کرتے ہیں اور وہ ہے، پوسچرنگ۔ یعنی کہ بڑھک بازی کا بھی سفارتکاری میں اپنا مقام ہے۔ آج رؤوف کلاسرا کی اس موضوع پر شاندار تحریر شیئر کی۔ پوسچرنگ کیا ہوتی ہے؟ وہی مولا جٹ تے نوری نت! نئیں چھڈاں گے، ٹوٹے ٹوٹے کردیاں گے۔ تیینون مچھیاں کھان گیاں۔ ایرانی اور ٹرمپ آج کل دونوں وہی زبان استعمال کر رہے ہیں اور اس موضوع کا طالب علم ہونے کے ناتے میں یہ کہ سکتا ہوں کہ ہم ایران امریکہ ڈیل کے قریب آ رہے ہیں۔
ابھی ابھی ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر تڑیوں بھرا پیغام جاری کیا ہے، ایران کے پل، شہر تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دیں اور ایک جملے میں اصل پیغام بھی دے دیا: میرے سینئر نمائندے مزاکرات کے لیے کل اسلام آباد پہنچ رہے ہیں"۔
پچھلے اڑتالیس گھنٹوں کا سفر دیکھیے۔ بدھ کی صبح فیلڈ مارشل منیر تہران اترے، جنگی وردی میں، وزیر خارجہ عراقچی نے ہوائی اڈے پر ہاتھ ملایا۔ جمعرات کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان دس روزہ جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ جمعہ کی شام عراقچی نے اعلان کیا: "آبنائے ہرمز تجارتی بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے"۔ چند گھنٹے بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: "اسرائیل اب لبنان پر بمباری نہیں کرے گا، امریکہ نے اس پر پابندی لگا دی ہے۔ بس، بہت ہو چکا"۔ ہفتے کی صبح ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران "اعلیٰ افزودہ یورینیم کا کچھ حصہ، سب نہیں" بھیجنے پر غور کر رہا ہے اور اب اتوار کی شام کا انتظار ہے۔ پھر معاملات گڑبڑ ہونے شروع ہوئے۔ ہرمز کا معاملہ پھر پھنس گیا۔ بھارتی جہازوں پر فائرنگ ہوئی۔ خلیجی ممالک کو جہنم بنانے کی باتیں شروع ہوئیں۔ پھر کل سے ایران، امریکہ دونوں نے منہ سے میزائل پھینکنے شروع کردیئے ہیں۔
پوسچرنگ کی نفسیات سمجھ لیں۔ ٹرمپ فاکس بزنس پر سینہ پھلا کر کہتے ہیں: "ہم ان کے سارے پل ایک گھنٹے میں گرا سکتے ہیں"۔ یہ اپنے کلٹ کے لیے بیان ہے۔ پیٹرول 4.12 ڈالر فی گیلن ہے، نومبر میں انتخابات ہیں، ان کے ووٹر غصے میں ہیں، انھیں دکھانا ہے کہ ہاتھ اب بھی بٹن پر ہے۔ ایران کا سپریم کمانڈر میجر جنرل عبداللہی اعلان کرتے ہیں: "ہم خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر تینوں بند کر دیں گے"۔ یہ بھی پوسچرنگ ہے۔ قالیباف کی، پاسداران کی اپنی پوسچرنگ ہے۔ ایرانی قوم کو بتانا ہے کہ قیادت نے گھٹنے نہیں ٹیکے، رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بعد بھی تنے ہوئے ہیں۔ سرد جنگ کے پچاس برسوں میں امرہکہ اور روس یہی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان، بھارت گزشتہ سات عشروں سے یہی کر رہے ہیں کہ ہر بڑھک باز کے سامنے اس کے اپنے تماشائی ہوتے ہیں جو تالیاں بجاتے ہیں۔
پوسچرنگ ہوا میں ہوتی ہے، کام میز کے نیچے۔
اور میز کے نیچے کیا ہو رہا ہے؟ وہ جو فارن پالیسی کے حلقوں میں "سہ جہتی ثالثی" کہلاتی ہے۔ پاکستانی فوجی قیادت ایران سے بات کر رہی ہے، پاکستانی سویلین قیادت خلیجی اور ترک اتحادیوں سے مشاورت کر رہی ہے اور پاکستانی سفارتی چینل واشنگٹن سے پیغام بر پیغام چلا رہا ہے۔ اڑتالیس گھنٹے پہلے شہباز شریف ریاض میں محمد بن سلمان سے ملے، کل قطر کے امیر سے، انطالیہ میں ایردوان سے۔ چار دارالحکومتوں میں ایک مربوط حکمت عملی اور اس کا جوڑ تہران میں منیر کی جنگی وردی پر ہے۔
یہی وہ خاموش کام ہے جو ہو رہا ہے اور اسی خاموشی سے نتیجہ نکلے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگلے ہفتے اسلام آباد میں کیا ہوگا؟ سچ یہ ہے کہ بڑا معاہدہ فوراً نہیں ہوگا۔ نہ ہونا چاہیے۔ ٹرمپ جذباتی ہیں، ایرانی ضدی۔ دونوں میں توازن ایک دن میں طے نہیں ہوتا۔ مگر 22 اپریل سے پہلے، توسیع، یا یورینیم کے ذخیرے کا ایک حصہ کسی اور ملک بھیجنے کا اعلان ہوا، تو یہ خود ایک فتح ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی معاہدہ نہیں ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ عمل جاری رہے۔ کہ ٹیبل نہ ٹوٹے۔ کہ جنگ بندی لمبی ہو۔ کہ "اسلام آباد پراسیس" اگلے اسٹیج میں داخل ہو۔
اور یہاں وہ منظر ہے جو ہر سفارتی مبصر کی آنکھ میں گھومنا شروع ہوگیا ہے۔ اگر بات 80 سے 95 فیصد تک پہنچتی ہے، اگر سودا ہاتھ لگنے کو آتا ہے، تو ٹرمپ خود طیارے پر سوار ہوں گے۔ اگر آخری مصافحہ ہوا تو یہ مصافحہ نور خان ایئر بیس یا سرینا ہوٹل کے لان میں ہوگا اور وہی تصویر نوبیل امن انعام کی درخواست بن جائے گی۔
پاکستانیوں کے لئے ان بری خبروں میں اچھی خبر یہ ہے کہ اسلام آباد کا نام ایک تصور بن چکا ہے۔ اب صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، ایک پروسیس، ایک فریم ورک، ایک سفارتی ڈاکٹرائن۔ "اسلام آباد ٹاکس" کے بعد ابتدائی "اسلام آباد ایم او یو" اور اب "اسلام آباد پراسیس"۔ اگلا مرحلہ "اسلام آباد اکارڈ" ہوگا اور وہ ایک ہی میٹنگ میں طے نہیں ہوگا۔ کئی مہینے لگیں سکتے ہیں۔ مگر ہر دن جو بغیر جنگ کے گزرے، وہ "اسلام آباد پراسیس" کی فتح ہوگا۔
باہر شور ہے، اندر کام۔ شور ٹی وی اسکرینوں کی خوراک ہے، کام تاریخ کی۔ اگر دھماکہ خیز اعلان نہ ہوا، مایوس نہ ہوں۔ اگر صرف اتنا اعلان ہو کہ "ہم دوبارہ ملیں گے"، تو یہی اصل فتح ہے۔ عمل زندہ ہے، دروازہ کھلا ہے، میز اپنی جگہ ہے۔
اور اگر کبھی وہ لمحہ آیا جب دونوں طرف کے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں آ گئے، تو نور خان پر طیارہ اترے گا، سیڑھی لگے گی اور ایک سنہرا سر ائیر فورس ون سے باہر آئے گا۔
تب تک، شور باہر کے لیے، کام اندر کے لیے۔ پوسچرنگ چلتی رہے گی، بڑھکیں وجتی رہیں گی، پراسیس جاری رہے گا۔ کیونکہ "اسلام آباد پراسیس" اب کسی کا ذاتی منصوبہ نہیں، دنیا کی اجتماعی ضرورت ہے۔
72 گھنٹے اور پاکستان ایک بار پھر میز لگانے کو تیار ہے۔