Saturday, 31 October 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Tajavzat ka Khatma Ya Tamasha?

Tajavzat ka Khatma Ya Tamasha?

تجاوزات یہ کسی ایک فرداورگھرنہیں بلکہ پورے ملک، قوم اورمعاشرے کامسئلہ ہے۔ تجاوزات کے ہاتھوں کسی دورمیں ہم نے اورہمارے محلے والوں نے جوتکالیف، پریشانیاں اورنقصان اٹھایاوہ حساب سے بھی باہرہے۔ جب لوگ نکاسی آب کے نالوں کوباپ داداکی جاگیرسمجھ کرپنچے گاڑھیں گے توپھرہمارے جیسے لوگوں کواذیت اورآزمائش سے توگزرناہی پڑے گا۔ اب بھی غالباًایسی کوئی جگہ نہیں جواس وباسے پاک اورصاف ہو۔ بازار، مارکیٹ، آبی گزرگاہیں کیا؟

اب توقومی شاہراہیں اورعوامی گزرگاہیں بھی اس عذاب سے محفوظ نہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں جس کاجتناوس اوربس چلتاہے وہ اتناہی عوامی وسرکاری املاک پرکڑک مرغی کی طرح پربچھاکربیٹھ جاتاہے۔ ہم ایبٹ آبادمیں جس جگہ رہے ہیں یہ سرسیدکالونی ایک گنجان علاقہ ہے یہاں ہزاروں افرادرہائش پذیرہیں۔ ہمیں یادہے پہلے مین شاہراہ ریشم سے اس کالونی کوایک نہیں کئی شارٹ راستے آتے تھے جن پرپانچ دس منٹ لگتے تھے لیکن کرتے کرتے وہ سارے راستے زمین سے ایسے غائب ہوگئے جیسے گدھے کے سرسے سینگ۔

کالونی کے کنارے مساجد، مدرسے اورسکول توبن گئے پرعوام کے چلنے اور گزرنے کے لئے شارٹ وضروری راستہ آج تک نہیں بن سکا۔ ایساہی حال پورے ملک کاہے۔ ظالموں نے آبی گزرگاہوں اورعوامی راستوں کوتجاوزات کے ذریعے ایسے غائب کردیاہے کہ اللہ کی پناہ۔ خیبرپختونخوامیں گورنر راج کے بعدہمارے آبائی ضلع بٹگرام سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں اس وقت تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ تجاوزات کے خلاف ایک بار پھر متحرک دکھائی دے رہی ہے اورسرکاری مشینری کئی جگہوں پرمکمل طورپر حرکت میں آ چکی ہے۔

بازاروں، شاہراہوں، گلی محلوں اور نالوں کے اطراف قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لئے کارروائیاں جاری ہیں۔ تجاوزات کے خلاف یہ آپریشن اورایکشن بلاکسی شک وشبہ کے انتہائی خوش آئند اقدام ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی کارروائی کا نشانہ صرف کمزور اور بے بس طبقہ ہی بنے گا یا قانون کی گرفت ان بااثر افراد تک بھی پہنچے گی جن کی سرپرستی میں ناجائز تعمیرات اور قبضوں کا سلسلہ اس ملک میں پروان چڑھتا جارہا ہے؟

تجاوزات محض سڑکوں، فٹ پاتھوں یا بازاروں میں دکانوں اور ریڑھیوں کے پھیلاؤ کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے اثرات براہ راست عام لوگوں کی زندگی پربھی مرتب ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس وباء سے کہیں سڑکیں سکڑ کر رہ جاتی ہیں، کہیں پیدل چلنے والوں کے لئے راستے باقی نہیں رہتے، کہیں گلیاں بند کر دی جاتی ہیں تو کہیں نکاسی آب کے قدرتی راستوں اور نالوں پر تعمیرات کھڑی کر دی جاتی ہیں جس کانتیجہ پھریہ نکلتا ہے کہ بارشوں کے دوران پانی گھروں اور بازاروں میں داخل ہوتا ہے، ٹریفک جام معمول بن جاتا ہے اور شہریوں کو روزانہ ذہنی و جسمانی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ یوں کسی ایک شخص اورگروہ کے ناجائز مفاد کی قیمت پھر پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے پہلے بھی ہر دورحکومت میں نہ صرف ایسے آپریشنز کا اعلان ہوتا رہاہے بلکہ بھاری مشینری بھی میدان میں اتاری گئی، دکانوں کے سامنے قائم تھڑے بھی توڑے گئے اورریڑھی بانوں وچھابڑی فروشوں کوبھی ہٹایا گیالیکن کچھ عرصے بعد حالات دوبارہ پہلے جیسے ہی ہو ئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تجاوزات کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے بجائے اکثر اسے وقتی مہم کے طور پر لیا جاتا ہے۔ چند روز کی کارروائی، کچھ تصاویر، چند بیانات اور پھر خاموشی۔

اس دوران اصل مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کیونکہ ایسے آپریشنزاورکارروائیوں میں اکثربااثراوربڑے بڑے مگرمچھوں پرہاتھ نہیں ڈالاجاتاجس کی وجہ سے آپریشن کے باوجودبھی تجاوزات والامسئلہ جوں کاتوں رہتاہے۔ جن بااثرافراد نے مبینہ طور پر سرکاری زمینوں، نالوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں پر مستقل نوعیت کی تعمیرات کھڑی کر رکھی ہیں۔ ایسے تجاوزات ایک دن میں قائم نہیں ہوتے۔ پہلاسوال تویہ ہے کہ ان کی تعمیر کے دوران متعلقہ ادارے کہاں ہوتے ہیں؟ ان کے نقشے کیسے منظور ہوتے ہیں؟ تعمیراتی کام کس کی اجازت سے جاری رہتا ہے؟ کیا کسی افسر یا اہلکار کی ذمہ داری بھی طے ہوتی ہے؟

اگر یہ سب کچھ برسوں تک انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہاہے تو پھر صرف تعمیرات کرنے والے ہی نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کی غفلت اور ممکنہ ملی بھگت کا معاملہ بھی سامنے آنا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تجاوزات کے خلاف آپریشن کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر ایک غریب کی ریڑھی چند منٹوں میں اٹھائی جا سکتی ہے تو پھر کسی بااثر شخص کی ناجائز تعمیر کو گرانے کے لئے برسوں انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے؟ اگر قانون سب کے لئے برابر ہے تو اس کا اطلاق بھی سب پر یکساں ہونا چاہیے۔ کسی کی سیاسی وابستگی، مالی حیثیت، تعلقات یا سفارش اسے قانون سے بالاتر نہیں بنا سکتی۔

قانون کی اصل طاقت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ کمزور اور طاقتور دونوں کے لئے یکساں ہو۔ حکومت اور انتظامیہ کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تجاوزات کا خاتمہ صرف بھاری مشینری چلانے اور عمارتیں گرانے سے ممکن نہیں۔ اس کے لئے ایک جامع حکمت عملی درکار ہے۔ سب سے پہلے سرکاری اراضی، نالوں، فٹ پاتھوں اور عوامی گزرگاہوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کرکے ان کے مفت میں بننے والے مالکان اور متعلقہ ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کا تعین کیا جائے۔ جہاں قانونی کارروائی بنتی ہو وہاں بلاامتیاز عمل کیا جائے اور آئندہ کسی بھی تجاوز کو ابتدا ہی میں روکنے کا مؤثر نظام بنایا جائے۔ اسی طرح ریڑھی بانوں اور چھوٹے دکانداروں کے لئے پنجاب کی طرح متبادل مقامات مختص کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ شہریوں کے راستے بھی کھلے رہیں اور غریب کا روزگار بھی متاثر نہ ہو۔

شہری منصوبہ بندی، پارکنگ، بازاروں کی تنظیم اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنائے بغیر تجاوزات کے مسئلے سے مکمل نجات ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کا مقصد صرف زمین خالی کرانا نہیں بلکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق واپس دلانا ہونا چاہیے۔ عوام کا حق ہے کہ وہ کھلی سڑکوں پر سفر کریں، فٹ پاتھوں پر چل سکیں، صاف نالوں اور بہتر نکاسی آب کی سہولت حاصل کریں اور اپنے شہروں میں محفوظ زندگی گزار سکیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کو غریب کی ریڑھی سے آگے بڑھا کر ان بااثر افراد تک بھی پہنچایا جائے جنہوں نے عوامی مقامات کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا۔ انتظامیہ اگر واقعی سنجیدہ، شفاف اور غیر جانبدار ہے تو اسے اپنی کارروائیوں سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ورنہ ہر چند ماہ بعد تجاوزات کے خلاف ایک نیا آپریشن ہوگا۔

کچھ ریڑھیاں اٹھائی جائیں گی، چند چھوٹی دکانیں مسمار ہوں گی اور بڑے بڑے قبضے بدستور قائم رہیں گے۔ عوام کو پھر وہی بند راستے، ابلتے نالے اور ٹریفک کے مسائل بھگتنا پڑیں گے۔ راولپنڈی کاراجہ بازاراگرتجاوزات سے پاک ہوسکتاہے توباقی ملک کیو ں نہیں۔ لیکن سوال پھر وہی ہے کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کب غریب کی ریڑھی سے نکل کر بااثر قبضہ مافیا اور ان کے سرپرستوں تک پہنچے گا؟ کیونکہ جب تک بڑے مگرمچھ قانون کی گرفت میں نہیں آئیں گے تب تک ہمارے یہ بازاراورشہرراجہ بازارنہیں بن سکتے۔