Saturday, 31 October 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Abdullah Tariq Sohail
  4. Khawaja Asif Andhere Se Ujale Tak

Khawaja Asif Andhere Se Ujale Tak

گزشتہ روز پارلیمان کا یادگار اجلاس ہوا۔ یعنی اس میں غیر پارلیمانی زبان اس شدت کے ساتھ چلائی گئی کہ یاد رہے گی۔ یوں یہ اجلاس یادگار ہوگیا۔ دوستوں کی نشست میں اس پر اظہار خیال ہو رہا تھا۔ ایک دوست نے ایسی غیر پارلیمانی زبان پر حیرت ظاہر کی، دوسرے نے کہا، کچھ حیرت

نہیں۔ ہماری یہ پارلیمان کچھ برسوں سے غیر پارلیمان ہوگئی ہے۔ پارلیمان کی زبان پارلیمانی، غیر پارلیمان کی زبان غیر پارلیمانی' قدرتی بات ہے۔

پوچھا غیر پارلیمان کیسے ہوگئی۔ کہنے لگے جو قرارداد پاس کرتی ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ یہ قرارداد کہاں سے آئی، کس نے تیار کی، حتی کہ اس قرارداد میں ہے کیا، کچھ پتہ نہیں، پھر بھی پاس کر دیتی ہے۔

***

اجلاس میں حقیقی وزیر اعظم (جن کا تخلص وزیر داخلہ ہے) نے اپوزیشن کے ایک لیڈر کے بارے میں کہا کہ ان کی تقریریں غلیظ ہوتی ہیں۔ اس پر ہلّڑ سا مچ گیا۔ سپیکر یا چیئرمین نے یہ لفظ حذف کر دیا۔

لفظ غلیظ پر ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ کئی عشرے پہلے کی بات ہے۔ احباب میں ایک صاحب "معرب" اردو بولا کرتے تھے۔ یعنی ایسی اردو جس میں عربی الفاظ کی کثرت ہوتی تھی۔ دودھ میں ملاوٹ کا ذکر ہوا تو کہنے لگے، فلاں گوالے سے دودھ خریدا کرو، بہت غلیظ دودھ بیچتا ہے، غلیظ مطلق۔

اس پر بھن بھن سی ہوگئی۔ ایک دوست نے کہا، کیا بات کرتے ہو، غلیظ دودھ کیوں خریدیں اور یہ جو غلیظ دودھ بیچتا ہے اسے اب تک کسی نے پکڑا کیوں نہیں ہے۔

"معرب" اُردو بولنے والے نے کہا، میاں لبنِ خالص ہمیشہ غلیظ ہوتا ہے، کیونکہ اس میں پانی جو نہیں ملایا ہوتا۔

غلیظ یعنی گاڑھا۔۔ غلاظت یعنی گاڑھا پن۔

دودھ خریدنے سے پہلے اسے چیک کرو، غلاظت مطلوبہ معیار کی ہے یا نہیں۔

***

ہو سکتا ہے وزیر اعظم (حقیقی) المتخلّص بہ وزیر داخلہ نے بھی "غلیظ" اسی معنے میں استعمال کیا ہو، یعنی ان کا مطلب ہو کہ موصوف کی تقریر بہت گاڑھی ہوتی ہے، بہت بھاری بھرکم اور "وزنی" ہوتی ہے، ہماری سمجھ اور فہم سے اوپر اوپر نکل جاتی ہے، حضرت سے درخواست ہے کہ وہ کم غلیظ زبان یعنی سلیس اور آسان فہم اردو میں تقریر کیا کریں۔

***

زمانہ بہت بدل گیا ہے اور اب ہر گوالے کا دودھ نہایت "غلیظ" ہوتا ہے، غلاظت کی مطلوبہ سطح سے بھی زیادہ غلیظ۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ گوالوں نے دودھ میں پانی ملانا بند کر دیا ہے۔ پانی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ ملا رہے ہیں۔ دراصل ہوا یہ کہ دودھ کو "غلیظ" بنانے والے کچھ کیمیکل دریافت ہو گئے۔ چند چٹکی کیمیکل دھوڑ دینے سے دودھ اتنا غلیظ ہو جاتا ہے کہ گاہک ایک گھونٹ پی کر خوشی سے سبحان اللہ پکار اٹھتے ہیں کہ ماشاءاللہ، اتنا غلیظ دودھ، ایماندار ہو تو ایسا ہو جیسا یہ گوالا ہے۔

***

غیر پارلیمان کے اس غیر پارلیمانی اجلاس میں کچھ تصحیحات بھی ہوگئیں۔ یعنی کچھ غلط یا خوش فہمیوں کا ازالہ ہوگیا۔

مثلاً پچھلے ہفتے وزیر اعظم (حقیقی) المتخلّص وزیر داخلہ ایران گئے لیکن وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کو ساتھ نہیں لے گئے۔ اس پر کئی لوگوں نے تنقید کی اور کچھ سخت زبان استعمال کی۔ وزیر اعظم (حقیقی) المتخلّص وزیر داخلہ نے اس تنقید اور اعتراض کا مسکت جواب دیا۔ فرمایا، وزیر دفاع کو کیوں لے جاتے؟ یہ کوئی دفاع سے متعلقہ معاملہ تھا ہی نہیں۔

وقت کی کمی کی وجہ سے انہوں نے وزیر خارجہ کے حوالے سے وضاحت نہیں کی۔ وقت ہوتا تو وہ بتا دیتے کہ وزیر خارجہ کو کیوں لے جاتے، ایران امریکہ یا یمن والے معاملے خارجہ امور میں آتے ہی نہیں۔

یوں یہ "تصحیح" ہوگئی کہ عالمی امور وزارت داخلہ کے قلمدان میں آتے ہیں۔

ممکن ہے آنے والے وقت میں اس طرح کی مزید تصحیحات ہو جائیں، مثلاً یہ کہ حج اور عمرہ کے امور کا کوئی تعلق وزارت مذہبی امور سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ وزارت پٹرولیم کا شعبہ ہیں، اس لئے کہ حج ہو یا عمرہ، جہاز ہوائی ہو کہ بحری، پٹرول خرچ ہوتا ہے اور بڑی مقدار میں خرچ ہوتا ہے۔

***

سب سے "اہم" تقریر خواجہ آصف کی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے ایک یادگار تقریر کی تھی جس میں جمہوریت کی حمایت اور وکالت کی گئی تھی۔ ان کے ناقد اکثر ان کی اس تقریر کا ذکر کرتے ہیں اور طعنہ دیتے ہیں کہ ماضی میں جمہوریت کی اتنی سخت گیر حمایت کرنے والا آج کل "ہائبرڈ" کا مدح خواں کیوں بنا ہوا ہے۔

خواجہ آصف نے ماضی کی اس تقریر سے "بریت" ظاہر کی اور کہا کہ ماضی میں سب سے غلطیاں ہوتی رہی ہیں، مجھ سے بھی ہوئی۔ براہ کرم ماضی کو بھول جائیں۔

ع: میرے ماضی میں "اندھیرے" کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔ اب تو میں اجالے میں آ گیا ہوں جمہوریت سے تائب، مشرف بہ ہائبرڈ ہوگیا، خدارا ماضی کے قصّے مت چھیڑو!